Tuesday, 30 June 2015

فضائل و مناقب حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ 30 جس کا میں مولا ہوں اس کا علی مولا ہے

عَنْ عُمَيْرَةَ بْنِ سَعْدٍ رضی الله عنه، أنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا رضی الله عنه وَ هُوَ يَنْشُدُ فِي الرَّحْبَةِ : مَنْ سَمِعَ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ : مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ؟ فَقَامَ سِتَّةُ نَفَرٍ فَشَهِدُوْا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْمُعْجَمِ الْأَوْسَطِ.
’’عمیرہ بن سعد سے روایت ہے کہ اُنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کھلے میدان میں قسم دیتے ہوئے سنا کہ کس نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : جس کا میں مولا ہوں، اُس کا علی مولا ہے؟ تو (اِس پر) چھ (6) افراد نے کھڑے ہو کر گواہی دی۔ اس حدیث کوامام طبرانی نے المعجم الاوسط میں روایت کیا ہے۔‘‘
الحديث رقم 39 : أخرجه الطبرانی في المعجم الاوسط، 3 / 134، الحديث رقم : 2275، و الطبرانی في المعجم الصغير، 1 / 64، 65، و النسائی في خصائص امير المؤمنين علی بن ابی طالب رضی الله عنه : 89، 91، الحديث رقم : 82، 85، و الهيثميفي مجمع الزوائد، 9 / 108، و البيهقی في السنن الکبری، 5 / 132، و ابن عساکر في تاريخ دمشق الکبير، 45 / 159، و مزی في تهذيب الکمال، 22 / 397، 398

No comments:

Post a Comment

غیرت کے نام پر قتل کی شرعی حیثیت و حکم

غیرت کے نام پر قتل کی شرعی حیثیت و حکم محترم قارئینِ کرام : جمہور ائمہ اربعہ علیہم الرحمہ کے نزدیک  قتل غیرت  دیانۃ جائز ہے ، لیکن قاتل پر ق...