Friday, 19 June 2015

فضائل مناقب سیّدہ فاطمۃ الزھراء رضی اللہ تعالیٰ عنھا ( 21 )

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما : أنَّ النَّبِيَّ صلي الله عليه وآله وسلم کَانَ إِذَا سَافَرَ کَانَ آخِرُ النَّاسِ عَهْدًا بِهِ فَاطِمَة، وَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ کَانَ أوَّلُ النَّاسِ بِهِ عَهْدًا فَاطِمَة رضي اﷲ عنها فَقَالَ لَهَا رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : فِدَاکِ أبِي وَ أُمِّي. رَوَاهُ الْحَاکِمُ. ’’حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنے اہل و عیال میں سے سب کے بعد جس سے گفتگو کر کے سفر پر روانہ ہوتے وہ سیدہ فاطمہ سلام اﷲ علیہا ہوتیں، اور سفر سے واپسی پر سب سے پہلے جس کے پاس تشریف لاتے وہ بھی حضرت فاطمہ سلام اﷲ علیہا ہی ہوتیں، اور یہ کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ فاطمہ سلام اﷲ علیہا سے فرماتے : (فاطمہ!) میرے ماں باپ تجھ پر قربان ہوں۔‘‘ اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا ہے۔
الحديث رقم 21 : أخرجه الحاکم في المستدرک، 3 / 169، 170، الرقم : 4739، 4740، وابن حبان في الصحيح، 2 / 470، 471، الرقم : 696، والهيثمي في موارد الظمآن : 631، الرقم : 2540، وابن عساکر في ’تاريخ دمشق الکبير، 43 / 141.

No comments:

Post a Comment

صدیقِ اکبر و فاروقِ اعظم کون ہے ؟ کہنے والوں کو یہ ارشاداتِ مبارکہ ٹھنڈے دل سے ایک بار ضرور پڑھنا چاہیے

صدیقِ اکبر و فاروقِ اعظم کون ہے ؟ کہنے والوں کو یہ ارشاداتِ مبارکہ ٹھنڈے دل سے ایک بار ضرور پڑھنا چاہیے اور پھر سوچنا چاہیے کہ مرشدِ گرامی ع...