Friday, 19 June 2015

فضائل مناقب سیّدہ فاطمۃ الزھراء رضی اللہ تعالیٰ عنھا ( 19 )

عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِيْنَ عَائِشَة رضي اﷲ عنها : أنَّهَا قَالَتْ : کَانَتْ (فَاطِمَة) إِذَا دَخَلَتْ عَلَيْهِ صلي الله عليه وآله وسلم رَحَّبَ بِهَا وَقَامَ إِلَيْهَا فَأخَذَ بِيَدِهَا فَقَبَّلَهَا وَ أَجْلَسَهَا فِي مَجْلَسِهِ. رَواهُ الْحَاکِمُ.
’’ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب سیدہ فاطمہ سلام اﷲ علیہا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوتیں تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ سلام اﷲ علیہا کو خوش آمدید کہتے، کھڑے ہو کر ان کا استقبال کرتے، ان کا ہاتھ پکڑ کر بوسہ دیتے اور انہیں اپنی نشست پر بٹھا لیتے۔‘‘ اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا ہے۔
الحديث رقم 19 : أخرجه الحاکم في المستدرک، 3 / 167، الرقم : 4732، و النسائي في فضائل الصحابة، 1 / 78، الرقم : 264، و ابن راهوية في المسند، 1 / 8، الرقم : 6، و البيهقي في السنن الکبري، 7 / 101، و في شعب الإيمان، 6 / 467، الرقم : 8927، و المقري في تقبيل اليد، 1 / 91، و العسقلاني في فتح الباري، 11 / 50.

No comments:

Post a Comment

صدیقِ اکبر و فاروقِ اعظم کون ہے ؟ کہنے والوں کو یہ ارشاداتِ مبارکہ ٹھنڈے دل سے ایک بار ضرور پڑھنا چاہیے

صدیقِ اکبر و فاروقِ اعظم کون ہے ؟ کہنے والوں کو یہ ارشاداتِ مبارکہ ٹھنڈے دل سے ایک بار ضرور پڑھنا چاہیے اور پھر سوچنا چاہیے کہ مرشدِ گرامی ع...