فضائل و مناقب حضرت سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ
محترم قارئینِ کرام : حضرت سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کا یوم شہادت سات (7) صفر المظفر کو ہے ۔ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ عظیم المرتب صحابی رسول رضی اللہ عنہ ہیں ، حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے دور اسلام کے شروع میں ہی اسلام قبول کر لیا تھا ، بعض روایات کے مطابق پہلے سات افراد جنہوں نے اسلام قبول کیا ان میں سے ایک حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بھی ہیں ۔ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے والد محترم حضرت یاسر رضی اللہ عنہ اور والدہ محترمہ حضرت بی بی سمیہ رضی اللہ عنہا کا شمار اسلام کے پہلے شہیدوں میں ہوتا ہے ، ابوجہل اور دیگر مشرکین کے حکم پر حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کے والد کو تازیانے مار مار کر شہید کیا گیا اور ان کی والدہ محترمہ حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا کے دونوں پیروں کو دو اونٹوں سے باندھ کر مختلف سمتوں میں دوڑایا گیا یہاں تک کہ ان کے جسم مبارک کے دوٹکڑے ہوگئے ۔
آپ کا نام و نسب یہ ہے : عمار بن یاسر بن عامر رضی اللہ عنہما بن مالک بن کنانہ بن قیس بن وذیم ۔
آپ کی کنیت : ابو یقظان تھی ۔
آپ کی نسبت : عنسی ہے ۔
مکہ کے رہنے والے اور بنی مخزوم کے موالی میں سے تھے ۔
آپ کا شمار ابتدائے اسلام میں مسلمان ہونے والے ان چند مسلمانوں میں ہوتا ہے جو جنگ بدر میں شامل ہوئے تھے ، آپ کی والدہ محترمہ کا نام سمیہ رضی اللہ عنہا تھا ، آپ بھی بنی مخزوم کے موالی میں شامل تھیں ، اور آپ کی والدہ کا شمار بھی عظیم صحابیات میں ہوتا ہے ۔
عرب کی سرزمین اسلام کی نورانی کرنوں سے مُنوّر ہوئی توآپ کے ساتھ ساتھ والد ماجد حضرت یاسر اور والدہ ماجدہ حضرت بی بی سُمَیَّہ اور بھائی حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہم کا سینہ بھی ایمان کی کِرنوں سے جگمگانے لگا ۔ (طبقات ابن سعد جلد 3 صفحہ 186)
چونکہ یہ مقدس گھرانا غلامی کی زندگی بسر کررہا تھا اس لیے کفارِ قریش پورے گھرانے کو طرح طرح کی اذیتیں اور تکالیف دینے لگے ، حضرت بی بی سمیہ رضی اللہ عنہا ایک نِڈر اور بہادر خاتون تھیں ایک مرتبہ ابوجہل نے گالیاں بکتے ہوئے حضرت بی بی سمیہ رضی اللہ عنہا کی ناف کے نیچے اس زور سے نیزہ مارا کہ وہ خون میں لَت پَت ہو کر گرپڑیں اور اسلام کی سب سے پہلی شہید خاتون ہونے کا اعزاز حاصل کیا ۔ (تاریخ ابن عساکر جلد 43 صفحہ 367)
پھر والد ماجد حضرت یاسر اور بھائی حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہما بھی کفار و مُشرکین کا ظلم و ستم سہتے سہتے جامِ شہادت سے سیراب ہوکر اَبدی میٹھی نیند سو گئے ۔ (الاصابہ،ج6ص500،چشتی)
ان مقدس حضرات کی شہادت کے بعد بھی کفارِ مکہ کو حضرت عمار رضی اللہ عنہ پر رحم نہ آیا کبھی ایمان سے لبریز سینے پر بھاری پتھر (Stone) رکھ دیتے تو کبھی پانی میں غوطے دے کر بے حال کر دیتے اور کبھی آگ سے جسم داغدار کرکے نڈھال کر دیتے تھے ۔ [الکامل لابن اثیر،ج 1،ص589]
یہاں تک کہ آپ رضی اللہ عنہ کی پیٹھ مبارک ان زخموں سے بھر گئی ، بعد میں کسی نے آپ کی پیٹھ کو دیکھا تو پوچھا : یہ کیسے نشانات ہیں ؟ ارشاد فرمایا : کفارِ قریش مجھے مکہ کی تپتی ہوئی پتھریلی زمین پر ننگی پیٹھ لٹاتے اور سخت اذیتیں اور تکالیف پہنچاتے تھے ، یہ ان زخموں کے نشانات ہیں ۔ [طبقات ابن سعد،ج 3،ص188]
عمر بن حکم کہتے ہیں کہ : عمار رضی اللہ عنہ کو اتنی سزائیں دی جاتیں کہ انہیں خود معلوم نہیں ہوتا تھا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ، یہی حال صہیب رضی اللہ عنہ کا تھا ، انہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : وَالَّذِينَ هَاجَرُوا فِي اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا . جن لوگوں نے ظلم ڈھائے جانے کے بعد راہِ الہی میں ہجرت کی ۔ (النحل : 41)
عمار رضی اللہ عنہ نے بدر سمیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تمام غزوات میں شرکت کی ، آپ نے پہلے حبشہ کی جانب ہجرت کی اور پھر مدینہ کی جانب ہجرت کی ۔ (سير أعلام النبلاء" (3/ 247)
آپ رضی اللہ عنہ کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جنہیں اللہ تعالی نے شیطان سے پناہ دی ہوئی تھی : صحیح بخاری : (3287) میں علقمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں ملک شام گیا، تو وہاں جا کر میں نے پوچھا : یہاں کون (سی نامور شخصیت) موجود ہے ؟ تو انہوں نے بتلایا : ابو درداء رضی اللہ عنہ ہیں ، پھر انہوں نے کہا : کیا تم میں ایسا شخص نہیں ہے جسے اللہ تعالی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبانی شیطان سے پناہ دی ہے ؟ ان کی مراد عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ تھے ۔
آپ رضی اللہ عنہ سراپا ایمان تھے ، آپ کی رگ رگ، گوشت پوست اور ہڈی ہڈی ایمان سے لبریز تھی : امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ نے روایت کیا ہے کہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام میں سے ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : (عمار مشاشہ (ہڈی کا وہ نرم حصہ جسے چبایا جا سکتا ہے) تک ایمان سے بھرا ہوا ہے ۔ اسے ناصر البانی نے "صحیح ابن ماجہ" میں صحیح قرار دیا ہے ۔
امام مناوی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں : ایمان عمار رضی اللہ عنہ کے رگ و پے ، اور ہڈیوں میں اس طرح رچ بس گیا کہ اسے اب جدا کرنا ناممکن ہے ، اس لیے کفارہ مکہ کی طرف سے دی جانے والی شدید جسمانی سزاؤں کی وجہ سے مجبورا کلمہ کفر انہیں نقصان نہیں دے گا ، اور "فتح الباری" میں ہے کہ : یہ خوبی صرف اسی شخص میں پیدا ہوسکتی ہے جسے اللہ تعالی شیطان مردود سے محفوظ فرما لے" انتہی ۔ (فيض القدير" (6/ 4)،چشتی)
بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کو عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کے نقش قدم پر چلنے ، اور ان کا طریقہ اپنانے کی رہنمائی فرمائی : جامع ترمذی میں حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیساتھ بیٹھے ہوئے تھے ، تو آپ نے فرمایا : مجھے نہیں معلوم کہ میں تمہارے درمیان کتنی دیر رہوں گا ؛ چنانچہ تم میرے بعد لوگوں کی اقتدا کرنا - آپ نے ابو بکر اور عمر کی جانب اشارہ فرمایا ۔ اور عمار کے طریقے کو اپنانا ، اور جو تمہیں ابن مسعود احادیث بیان کریں، ان کی تصدیق کرنا ۔ شیخ ناصر البانی نے اسے "صحیح ترمذی" میں صحیح قرار دیا ہے ۔
صاحب کتاب تحفۃ الأحوذی کہتے ہیں : حدیث میں مذکور عربی لفظ "ھدی" سے مراد سیرت اور طریقہ ہے ، مطلب یہ ہے کہ : عمار کے طریقے کے مطابق چلو ، اور اسی کا انداز اپناؤ" انتہی ۔
عمار رضی اللہ عنہ فقیہ اور زاہد تھے : ⏬
امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں : عمار رضی اللہ عنہ سے ایک مسئلے کے بارے میں پوچھا گیا ، تو انہوں نے وضاحت طلب کی : کیا یہ مسئلہ در پیش ہو چکا ہے ؟ لوگوں نے کہا : "نہیں" تو آپ نے جواب دیا : اسےچھوڑدو ! جب پیش آئے گا تو دیکھ لیں گے ، اور تمہیں اس کا حکم بھی بتلا دیں گے ۔
عبد اللہ بن ابو ہذیل رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں : میں نے عمار رضی اللہ عنہ کو ایک درہم کے بدلے راشن خریدتے ہوئے دیکھا ، پھر انہوں نے راشن اپنی کمر پر اٹھا لیا ، حالانکہ وہ اس وقت کوفہ کے امیر تھے ۔
ابو نوفل بن ابو عقرب کہتے ہیں : عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما بہت کم بات کرتے اور زیادہ خاموش رہتے تھے ۔ (سير أعلام النبلاء" (3/ 256))
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ پیشین گوئی کی تھی کہ عمار رضی اللہ عنہ کو ایک باغی گروہ قتل کریگا : ⏬
بخاری شریف کے اندر یہ حدیث شریف موجود ہے کہ مسجد نبوی کی تعمیر میں جب حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ دو دو پتھر اٹھا کر لارہے تھے ، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ عمار کو ایک باغی جماعت قتل کرے گی ، جو عمار کو جہنم کی طرف بلا رہی ہوگی اور عمار ان کو جنت کی طرف بلا رہے ہوںگے ۔
عن عکرمۃ قال : قال لي ابن عباس ولابنہ علی : انطلقا إلی أبي سعید فاسمعا من حدیثہ، فانطلقنا، فإذا ہو في حائط یصلحہ، فأخذہ رداء ہ فاحتبي، ثم أنشأ یحدثنا حتی أتی علی ذکر بناء المسجد، فقال: کنا نحمل لبنۃ لبنۃ وعمار لبنتین لبنتین، فرأہ النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، فجعل ینفض التراب عنہ، ویقول: ویح عمار تقتلہ الفئۃ الباغیۃ یدعوہم إلی الجنۃ ویدعونہ إلی النار، قال: یقول عمار: أعوذ باللہ من الفتن۔ (بخاري شریف، کتاب الصلاۃ، باب التعاون في بناء المسجد، النسخۃ الہندیۃ ۱/ ۶۴، رقم: ۴۴۲، ف: ۴۴۷، وکذا في کتاب الجہاد، باب مسح الغبار عن الرأس ۱/ ۳۹۴، رقم : ۲۷۲۸، ف: ۲۸۱۲،چشتی)
یہ پیشگوئی اس طرح پوری ہوئی کہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ جنگ صفین کے دن حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کے ہاتھ سے شہید ہوئے ۔ اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ جنگ صفین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ یقیناً حق پر تھے اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا گروہ یقیناً خطا کا مرتکب تھا ۔ لیکن چونکہ ان لوگوں کی خطا اجتہادی تھی لہٰذا یہ لوگ گنہگار نہ ہوں گے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ : عن عمرو بن العاص أنہ سمع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یقول : إذا حکم الحاکم فاجتہد ، ثم أصاب ، فلہ أجران ، وإذا حکم فاجتہد ثم خطأ ، فلہ أجر ۔ کوئی مجتہد اگر اپنے اجتہاد میں صحیح اور درست مسئلہ تک پہنچ گیا تو اس کو دوگنا ثواب ملے گا اور اگر مجتہد نے اپنے اجتہاد میں خطا کی جب بھی اس کو ایک ثواب ملے گا ۔ (بخاري، کتاب الاعتصام، باب أجر الحاکم إذا اجتہد، النسخۃ الہندیۃ ۲/ ۱۰۹۲، رقم: ۷۰۵۵، ف: ۷۳۵۲،چشتی)،(حاشيه بخاری بحواله کرمانی جلد ۱ ص ۵۰۹ باب علامات النبوة) ۔
اس لیے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی شان میں لعن طعن ہرگز ہرگز جائز نہیں کیونکہ بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس جنگ میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے ۔ پھر یہ بات بھی یہاں ذہن میں رکھنی ضروری ہے کہ مصری باغیوں کا گروہ جنہوں نے حضرت امیرالمؤمنین عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کر کے ان کو شہید کر دیا تھا یہ لوگ جنگ صفین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں شامل ہو کر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے لڑ رہے تھے تو ممکن ہے کہ گھمسان کی جنگ میں انہی باغیوں کے ہاتھ سے حضرت عمار رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے ہوں ۔ اس صورت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد بالکل صحیح ہوگا کہ ” افسوس اے عمار ! تجھ کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا ” اور اس قتل کی ذمہ داری سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا دامن پاک رہے گا ۔ ِ وﷲ تعالیٰ اعلم ۔ بہر حال حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی شان میں لعن طعن کرنا رافضیوں کا مذہب ہے حضرات اہل سنت کو اس سے پرہیز کرنا لازم و ضروری ہے ۔ (اس پر ہم تفصیل سے لکھ چکے ہیں جسے آپ اس لنک میں پڑھ سکتے ہیں :⏬
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2019/09/blog-post_88.html
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اور ان کے والدین کو جنت کی خوشخبری بھی سنائی : چنانچہ حاکم : (5666) کی روایت کے مطابق جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمار اور ان کے اہل خانہ کے پاس سے گزرے ، انہیں سزائیں دی جا رہی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : (آل عمار اور آل یاسر خوش ہو جاؤ ، تمہارے ساتھ جنت کا وعدہ ہے)" حاکم رحمہ اللہ نے اسے نقل کرنے کے بعد کہا یہ حدیث صحیح مسلم کی شرائط ہے ، اور بخاری و مسلم نے اسے روایت نہیں کیا " ان کی اس بات پر امام ذہبی رحمہ اللہ نے بھی موافقت کی ہے ۔
امام ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں : تمام مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ آپ علی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ جنگ صفین میں سن 37 ہجری میں داغِ مفارقت دے گئے ، ان کی اس وقت 93 سال عمر تھی ، اس بات پر بھی اس کا اتفاق ہے کہ آپ ہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ( إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمانِ) النحل/ 106" انتہی ۔ مزید کےلیے دیکھیں : "سير أعلام النبلاء" (3/ 245-259) ، " الإصابة" (4/473-474) ، "تهذيب الكمال" (21/215-221،چشتی)
حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے جنگ بدر سمیت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تمام غزوات میں شرکت کی ، آپ انتہائی بہادرتھے ، کسی بھی موقع پر آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کبھی پشت نہیں کی اور نہ ہی کبھی جنگ سے فرار کیا ، کیونکہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں شیطان سے پناہ کی ضمانت دی ہوئی تھی ۔ (صحیح بخاری 3287)
آپ رضی اللہ عنہ کا مقبرہ شام کے شہر رقہ میں موجود ہے ، جس کو حال ہی میں خارجی داعشی گروہ نے پہلے راکٹ سے نقصان پہنچایا اور پھر بم دھماکے سے مکمل شہید کر دیا تھا ۔
حضرت عمار رضی اللہ عنہ فرمانے لگے : میں نے رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہمراہی میں شیطان اور انسان سے جنگ لڑی ہے ، کسی نے حیرت سے پوچھا : انسان سے جنگ لڑی ہے یہ تو سمجھ میں آتا ہے مگر شیطان سے کس طرح جنگ لڑی ؟
ارشاد فرمایا : ایک مرتبہ ہم نے دورانِ سفر کسی جگہ پڑاؤ کیا تو میں نے اپنا مشکیزہ اٹھایا اور پانی بھرنے کےلیے چل پڑا ، مجھے دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کوئی تمہارے پاس آئے گا اور پانی بھرنے سے روکے گا۔ جب میں کنویں کے قریب پہنچا توایک کالا کلَوٹا شخص بڑی تیزی سے میری جانب لپکا اور کہنے لگا : جب تک کوئی گناہ نہیں کروگے میں پانی نہیں بھرنے دوں گا، یہاں تک کہ ہم دونوں میں لڑائی شروع ہوگئی اچانک میں نے اس کوپچھاڑ دیا اور قریب پڑا ہوا پتھر اٹھا کر اس پر دے مارا جس کی وجہ سے اس کی ناک ٹوٹ گئی اور چہرہ بگڑ گیا ، اس کے بعد مشکیزے میں پانی بھرا اور بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہوگیا ، پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا : کیا تمہارے پاس کوئی آیا تھا ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں! اور پورا قصہ گوش گزار کردیا ، ارشاد فرمایا : کیا تم جانتے ہو وہ کون تھا ؟ عرض کی : جی نہیں ، فرمایا : وہ شیطان تھا ۔ (طبقات ابن سعد،ج 3،ص190)
شیطان سے جنگ کرنے ، اس کا حلیہ بگاڑنے والے یہ جاں نثار ، وفادار اور فرمانبردار صحابی رسول حضرت سیّدنا اَبُو الیَقظان عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما تھے ۔
فضائل و مناقب : ⏬
جنت عمار رضی اللہ عنہ کی مُشتاق ہے ۔ [ترمذی،ج 5،ص438، حدیث:3822]
جس نے عمار رضی اللہ عنہ سے بغض رکھا اللہ تَعَالٰی نے اسے مبغوض رکھا ۔ [مسند امام احمد،ج 6،ص6، حدیث:16814]
ایک بار شانِ عمار رضی اللہ عنہ کا یوں ذکر فرمایا : کتنے ہی ایسے کمبل پوش ہیں کہ لوگ جن کی کوئی پروا نہیں کرتے لیکن اگر وہ کسی بات کی قسم کھالیں تو اللہ تَعَالٰی ضروران کی قسم کو پوری فرمادیتاہے اور ان ہی لوگوں میں عمار بن یاسرکا شمار ہوتا ہے ۔ [معجم اوسط،ج4،ص194، حدیث: 5686]
ایک مرتبہ یوں فرمایا : اللہ عَزَّوَجَلَّ نے عمار رضی اللہ عنہ کو سر سے لے کر پاؤں تک ایمان سے بھر دیا ہے، عمار کے خون اور گوشت میں ایمان سرایت کرچکا ہے ۔ [تاریخ ابن عساکر،ج43،ص393]
آپ رضی اللہ عنہ کی گفتگو بہت ہی کم اور خاموشی طویل ہواکرتی تھی جبکہ اکثر و بیشتر خوفِ خدا میں ڈوبے رہتے اور آنے والے فتنوں سے پناہ مانگا کرتے تھے ۔ [تاریخ ابن عساکر،ج 43،ص456]
آپ رضی اللہ عنہ روزانہ مغرب کی نماز کے بعد چھ (6) رکعت نفل ضرور پڑھتے تھے کسی نے وجہ پوچھی تو فرمایا : میں نے اپنے محبوب آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مغرب کے بعد چھ رکعتیں ادا کرتے دیکھا تو انہوں نے ارشاد فرمایا کہ جو مغر ب کے بعد چھ رکعتیں ادا کرے گا اس کے گناہ معاف کردیے جائیں گے اگرچہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں ۔ [معجمِ اوسط،ج7،ص255، حدیث: 7245،چشتی]
ایک مرتبہ آپ رضی اللہ عنہ کا گزر ایک ایسی جگہ سے ہوا جہاں ایک مکان تعمیر ہورہا تھا مالک ِمکان نے آپ کو دیکھا توکہا : آئیے اور میرا گھردیکھ کر بتائیے کہ کیسا بنا ہے ؟ گھر دیکھنے کے بعد آپ نے فرمایا : بڑا مضبوط بنایا ہے ، خوب غور و خوض بھی کیا ہے لیکن عنقریب تمہیں موت کے شکنجے میں پھنس جانا ہے ۔ [تاریخ ابن عساکر،ج 43،ص445]
ایک بار کچھ لوگ آپ رضی اللہ عنہ کے گرد حلقہ بنائے بیٹھے تھے کہ بیماری کا تذکرہ ہواتوایک دیہاتی نے فخریہ اندا ز میں کہا : میں تو کبھی بیمار نہیں ہوا ، یہ سنتے ہی آپ نے فرمایا : تُو ہم میں سے نہیں ہے کیونکہ کامل ایمان والے کو مصیبتوں کے ذریعے آزمایا جاتا ہے اور اس کے گناہ اس طرح گرتے ہیں جس طرح درخت کے پتے جھڑتے ہیں ۔ [شعب الایمان،ج 7،ص178، حدیث:9913]
آپ رضی اللہ عنہ سے چند اشعار بھی منقول ہیں چنانچہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو خرید کر آزاد کیا تو سردار بن سردار عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے اشعار کہے (پہلے شعر کا ترجمہ یہ ہے) ۔ اللہ جزائے خیر دے بلال اور ان کے ساتھیوں کی طرف سے ابوبکر کو ، اور اُمَیّہ اور ابوجہل کو رُسوا کرے ۔ [فتاویٰ رضویہ ،ج 28،ص511،ماخوذاً]
آپ رضی اللہ عنہ سرکارِ کل عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تمام غزوات میں شریک ہوئے ۔ [تاریخ ابن عساکر،ج43،ص356]
جنگِ یمامہ میں ایک موقع پر مسلمانوں میں کھلبلی مچ گئی تو آپ ٹِیلے پر چڑھ گئے اور بلند آواز سے کہا : اے مسلمانوں کے گروہ! جنت تو امن والی جگہ ہے ، بھاگتے کہاں ہو ؟ میری طرف آؤ !میں عمار بن یاسر ہوں ، اس دوران ایک کافر نے آپ رضی اللہ عنہ پر حملہ کیا تو آپ کا ایک کان کَٹ کر زمین پر گرا اور پھڑکنے لگا ، اس کے باوجود آپ رضی اللہ عنہ نہایت جوش و خروش سے جہاد میں مصروف رہے ۔ [طبقات ابن سعد،ج 3،ص192]
ایک مرتبہ کسی نے آپ کو کٹے ہوئے کان پر طعنہ دیا تو آ پ نے فرمایا : تم مجھےطعنہ دے رہے ہو حالانکہ یہی کٹا ہوا کان مجھے زیادہ اچھا لگتا ہے کیونکہ یہ راہِ خدا میں قربان ہوا ہے ۔
آپ رضی اللہ عنہ نے امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں 21 مہینے تک کوفہ کی گورنری کے فرائض سر انجام دئیے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے بروز بدھ 7 صفر المظفر سن 37 ہجری میں جنگِ صِفِّین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دفاع میں لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش فرمایا ، اس وقت آپ کی عمر مبارک 93 سال تھی ۔ [تاریخ ابن عساکر،ج43،ص443، 449،359] ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

https://www.facebook.com/groups/1770067606605266/permalink/2655572174721467/
ReplyDelete