ہم تو کیے ہی جائیں گے میلاد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیان اے نسلِ ابلیس
محترم قارئینِ کرام : حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی گواہی کہ حرمین مقدسہ پر نجدیوں کے قبضہ سے پہلے اہل مکّہ بڑی دھوم دھام سے میلاد مناتے تھے کیا نجدی قابضوں کا عمل ہمارے لیے بہتر ہے یا 13 سو سالہ مسلمانوں اور اکابرین ملت اسلامیہ علیہم الرّحمہ کا عمل مبارک فیصلہ خود کیجیے ۔
اپنے اسلاف پر اعتماد کرنا اور ان کے ساتھ حسن ظن کا معاملہ رکھنا وہ دولت ہے جس کے صدقہ میں آج دین اپنی صحیح شکل میں ہمارے ہاتھوں میں محفوظ ہے اسی بات کو حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے بیان فرمایا ہے : معرفت شریعت میں تمام امت نے بالاتفاق سلف گزشتہ پر اعتماد کیا ہے ، چنانچہ تابعین نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تبع تابعین نے تابعین پر اعتماد کیا اسی طرح بعد والے علماء اپنے متقدمین پر اعتماد کرتے آئے ۔ اور عقل سلیم بھی اسی کو اچھا سمجھتی ہے کیونکہ شریعت بغیر نقل اور استنباط کے معلوم نہیں ہو سکتی اور نقل اسی وقت صحیح ہو گی جب بعد والے پہلوں سے اتصال کے ساتھ لیتے چلے آئیں ۔ (عقدالجید مترجم اردو صفحہ 99 ، 100 مطبوعہ شریعہ اکیڈمی اسلام آباد)
حضرت شاہ عبد الرحیم دہلوی (1054۔ 1131ھ) قطب الدین احمد شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (1114۔ 1174ھ) کے والد گرامی شاہ عبد الرحیم دہلوی علیہما الرّحمہ فرماتے ہیں : کنت أصنع في أيام المولد طعاماً صلة بالنبي صلي الله عليه وآله وسلم ، فلم يفتح لي سنة من السنين شيء أصنع به طعاماً، فلم أجد إلا حمصًا مقليا فقسمته بين الناس ، فرأيته صلي الله عليه وآله وسلم وبين يديه هذا الحمص متبهجاً بشاشا ۔
ترجمہ : میں ہر سال حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد کے موقع پر کھانے کا اہتمام کرتا تھا ، لیکن ایک سال (بوجہ عسرت شاندار) کھانے کا اہتمام نہ کر سکا ، تومیں نے کچھ بھنے ہوئے چنے لے کر میلاد کی خوشی میں لوگوں میں تقسیم کر دیئے ۔ رات کو میں نے خواب میں دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے وہی چنے رکھے ہوئے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خوش و خرم تشریف فرما ہیں ۔ (الدر الثمين فی مبشرات النبی الامين صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صفحہ 162 مطبوعہ اویسی دارالکتاب دیوبند،چشتی)(الدر الثمين فی مبشرات النبی الامين صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صفحہ 40)
حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کے والد حضرت شاہ عبد الرحیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : میں ہر سال حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد کے موقع پر کھانے کا اہتمام کرتا تھا ، لیکن ایک سال (بوجہ عسرت شاندار) کھانے کا اہتمام نہ کر سکا ، تومیں نے کچھ بھنے ہوئے چنے لے کر میلاد کی خوشی میں لوگوں میں تقسیم کر دیئے ۔ رات کو میں نے خواب میں دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے وہی چنے رکھے ہوئے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خوش و خرم تشریف فرما ہیں ۔ (انفاس العارفین صفحہ نمبر 118 ، 119 مطبوعہ فرید بکسٹال اردو بازار لاہور)(انفاس العارفین مترجم دیوبندی صفحہ نمبر 160 مطبوعہ سہارنپور یوپی انڈیا)
برصغیر میں ہر مسلک اور طبقہ فکر میں یکساں مقبول و مستند ہستی شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کا اپنے والد گرامی کا یہ عمل اور خواب بیان کرنا اِس کی صحت اور حسبِ اِستطاعت میلاد شریف منانے کا جواز ثابت کرتا ہے ۔
قطب الدین احمد شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (1703۔ 1762ء ) علیہ الرحمہ اپنے والد گرامی اور صلحاء و عاشقان کی راہ پر چلتے ہوئے میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محافل میں شریک ہوتے تھے ۔ آپ مکہ مکرمہ میں اپنے قیام کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : وکنت قبل ذلک بمکة المعظمة في مولد النبي صلي الله عليه وآله وسلم في يوم ولادته، والناس يصلون علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم ويذکرون إرهاصاته التي ظهرت في ولادته ومشاهدة قبل بعثته، فرأيت أنواراً سطعت دفعة وحداة لا أقول إني أدرکتها ببصر الجسد، ولا أقول أدرکتها ببصر الروح فقط، واﷲ أعلم کيف کان الأمر بين هذا وذلک، فتأملت تلک الأنوار فوجدتها من قبل الملائکة المؤکلين بأمثال هذه المشاهد وبأمثال هذه المجالس، ورأيت يخالطه أنوار الملائکة أنوار الرحمة ۔
ترجمہ : اس سے پہلے میں مکہ مکرمہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت کے دن ایک ایسی میلاد کی محفل میں شریک ہوا جس میں لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہِ اقدس میں ہدیۂ درود و سلام عرض کر رہے تھے اور وہ واقعات بیان کر رہے تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کے موقعہ پر ظاہر ہوئے اور جن کا مشاہدہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے پہلے ہوا ۔ اچانک میں نے دیکھا کہ اس محفل پر انوار و تجلیات کی برسات شروع ہو گئی ۔ میں نہیں کہتا کہ میں نے یہ منظر صرف جسم کی آنکھ سے دیکھا تھا ، نہ یہ کہتا ہوں کہ فقط روحانی نظر سے دیکھا تھا ، اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان دو میں سے کون سا معاملہ تھا ۔ بہرحال میں نے ان انوار میں غور و خوض کیا تو مجھ پر یہ حقیقت منکشف ہوئی کہ یہ انوار ان ملائکہ کے ہیں جو ایسی مجالس اور مشاہد میں شرکت پر مامور و مقرر ہوتے ہیں۔ میں نے دیکھا کہ اَنوارِ ملائکہ کے ساتھ ساتھ اَنوارِ رحمت کا نزول بھی ہو رہا تھا ۔ (فيوض الحرمين صفحہ 33 ، 34 مطبوعہ شاہ ولی اللہ اکیڈمی حیدر آباد،چشتی)
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ جیسی ہستی کا یومِ میلاد کے موقع پر مکہ مکرمہ میں ہونے والی محفلِ میلاد میں شرکت کرنا محفلِ میلاد کا جائز اور مستحب ہونا ثابت کرتا ہے ۔ ثانیاً اِس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حرمین شریفین میں بھی محافلِ میلاد منعقد ہوتی رہی ہیں۔ اگر آج وہاں اِعلانیہ طور پر ایسی محافل منعقد نہیں ہوتیں تو اِس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہاں کبھی ایسی محافل ہوئی نہیں تھیں ۔ اہلِ عشق و محبت تو آج بھی وہاں محبتِ اِلٰہی اور عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ترانے الاپ رہے ہیں ۔
شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ (1159 ۔ 1239ھ) ۔ خاندان ولی اللہ کے آفتابِ روشن شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ (1745۔ 1822ء) اپنے فتاوٰی عزیزی میں لکھتے ہیں : وبرکة ربيع الأول بمولد النبي صلي الله عليه وآله وسلم فيه ابتداء وبنشر برکاته صلي الله عليه وآله وسلم علي الأمة حسب ما يبلغ عليه من هدايا الصلٰوة والإطعامات معا ۔
ترجمہ : اور ماہِ ربیع الاول کی برکت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی میلاد شریف کی وجہ سے ہے ۔ جتنا امت کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں ہدیۂ درود و سلام اور طعاموں کا نذرانہ پیش کیا جائے اتنا ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکتوں کا اُن پر نزول ہوتا ہے ۔ (فتاویٰ عزیزی جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 163 فارسی)
حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں سال میں دو محفلیں کرتا ہوں محفل میلاد اور دوسری ذکر شہداء اور لنگر بھی تقسیم ہوتا ہے ۔ (فتاویٰ عزیزی صفحہ 199 ، 200 مترجم اردو مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی)
میں تو کیے ہی جاؤں گا میلاد مصطفیٰ ﷺ بیان
ارے اس کو کبھی نہ چھیڑنا سنی بڑا دبنگ ہے
خاک ہوجایں عدو جل کر مگر ہم تو رضا
دم میں جب تک دم ہے ذکر انکا سناتے جایں گے
سب سے پہلے چند باتیں ذہن نشین کرلیں
میلاد کا مطلب کیا ہے ؟
دلیل کے اعتبار سے اس کو کرنے کا کیا حکم ہے ؟
جو نہ کر سکے اس کےلیے کیا حکم ہے ؟
معترض کے ہر اعتراض کا جواب ان تین باتوں کی روشنی میں بآسانی دیا جاسکتا ہے ہم اس موضوع میں ہر بات کو مختصر اور واضح طور پر بیان کرنے کی کوشش کریں گے لہٰذا تمام پڑھنے والوں کی بارگاہ میں عرض ہے کے تمام دلائل کو اپنے پاس کاپی کرلیں تا کہ معترض کو خود ہی جواب مل جائے ۔
میلاد کا مطلب ہے پیدائش یا ولادت اسکا سادہ سا مفہوم یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کے بلخصوص ولادت کے واقعات بیان کرنا اور بالعموم آپکی سیرت نسب آپ کے کمالات و برکات و معجزات و واقعات کو بیان کرنا اس مفہوم کو بھی اچھی طرح ذھن نشین فرمالیں ۔
میلاد کا حکم شرعی : ⏬
مستحب ہے اور یہ شریعت کے اصولوں میں سے ایک ہے
مستحب : ⏬
وہ کام ہےجس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کبھی کیا ہو اور اس کو سلف صالحین نے پسند کیا ہو ( شامی ج ١ ص ٥١١ ) اس کےکرنے میں ثواب نہ کرنے میں گناہ بھی نہیں اس کو نفل مندوب اور تطوع بھی کہتے ہیں ۔ والنفل و منہ المندوب یثاب فاعلہ ولا یسیئی تارکہ(شامی ج ١ ص٥٩) ۔ مطلب یہ ہے کہ میلاد 1 مستحب عمل ہے جس کے کرنے پر ثواب ہے اور نہ کرنے پر گناہ نہیں جو کوئی کام میں مشغولیت کی وجہ سے نہ کرسکے تو اس پر ملامت نہیں نہ ہی اس سے سوال کیا جاےگا کہ کیوں نہ کیا ؟
میلاد کا مطلب اور اسکو کرنے اور نہ کرنے کا حکم بھی ہم نے بیان کردیا اب سوال یہ ہے کہ میلاد ثابت کہاں سے ہے تو جواب یہ ہے کہ مستحب عمل کے لئے دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی اور یہ تمام بحث آپ کتاب سعید الحق شرح جاء الحق کے باب بدعت میں پڑھ سکتے ہیں کہ کس طرح کوئی عمل اگر شریعت کے خلاف نہ ہو تو اسے کرنے کا ثواب ہے اور نہ کرنے کا گناہ نہیں ۔
اب ان شاء اللہ عزوجل ہم میلاد کے ثبوت و دلائل پیش کریں گے جس کے لئے پہلے بیان کی گئی 3 باتوں کا ذھن نشین ہونا بہت ضروری ہے ۔
سوال : ابھی تو اپ نے کہا کہ مستحب عمل پر دلیل کی حاجت نہیں پھر خود ہی دلائل کی بات کر رہے ہیں ؟
جواب : ہم یہ باتیں اسلئے بیان کر رہے ہیں کہ ہمارے سنی بھائیوں کے عقائد مضبوط ہوں اور ان سے بدمذ ھبی دور ہو اور انھیں عقائد اہل سنت سے متعلق آگاہی حاصل ہو ورنہ بدمذہبوں پر ان دلائل کا کچھ اثر نہ ہوگا ۔
قرآن مجید سے دلائل : ⏬
ﷲ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے : اور اپنے رب کی نعمت کے خوب چرچے کرو ۔ (سورۂ وَٱلضُّحَىٰ :11)
معلوم ہوا کہ ﷲ تعالیٰ حکم دے رہا ہے کہ جو تمہیں میں نے نعمتیں دی ہیں ، ان کا خوب چرچا کرو، ان پر خوشیاں مناؤ۔ ہمارے پاس ﷲ تعالیٰ کی دی ہوئی بے شمار نعمتیں ہیں ۔ کان، ہاتھ، پاؤں ، جسم ، پانی ، ہوا ، مٹی وغیرہ اور اتنی زیادہ نعمتیں ہیں کہ ہم ساری زندگی ان کو گن نہیں سکتے ۔ خود ﷲ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے ترجمہ ’’اور اگر ﷲ کی نعمتیں گنو تو شمار نہ کرسکو گے‘‘ ۔ (النحل:18)
معلوم ہوا کہ ﷲ تعالیٰ کی نعمتوں کی گنتی ہم سے نہیں ہوسکتی ۔ تو پھر ہم کن کن نعمتوں کا پرچار کریں ۔ عقل کہتی ہے کہ جب گنتی معلوم نہ ہوسکے تو سب سے بڑی چیز کو ہی سامنے رکھا جاتا ہے ۔ کیونکہ وہی نمایاں ہوتی ہے ۔ اسی طرح ہم سے بھی ﷲ پاک کی نعمتوں کی گنتی نہ ہوسکی تو یہ فیصلہ کیا کہ جو نعمت سب سے بڑی ہے اس کا پرچار کریں ۔ اسی پر خوشاں منائیں تاکہ ﷲ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل ہوسکے ۔ سب سے بڑی نعمت کون سی ہے ؟ آیئے قرآن مجید سے پوچھتے ہیں ترجمہ ’’ﷲ کا بڑا احسان ہوا مومنوں پر کہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا۔ جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے‘‘ ۔ (سورۂ آل عمران آیت 164)
ﷲ تعالیٰ نے ہمیں بے شمار نعمتیں عطا فرمائیں مگر کسی نعمت پر بھی احسان نہ جتلایا ۔ قابل غور بات یہ ہے کہ ﷲ تعالیٰ نے کسی اور نعمت پر احسان کیوں نہیں جتلایا ۔ صرف ایک نعمت پر ہی احسان کیوں جتلایا ؟ ثابت ہوا کہ ﷲ تعالیٰ کی عطا کردہ ان گنت نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت آخری نبی کرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم ہیں اور قرآن کے مطابق ہر مسلمان کو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی آمد پر خوشیاں منانی چاہئیں ۔
قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے۔ ترجمہ ’’تم فرماؤ ﷲ عزوجل ہی کے فضل اور اسی کی رحمت، اسی پر چاہئے کہ وہ خوشی کریں۔ وہ ان کے سب دھن و دولت سے بہتر ہے‘‘ ۔ (سورۃ یونس آیت 58)
لیجئے ! اس آیت میں تو ﷲ تعالیٰ صاف الفاظ میں جشن منانے کا حکم فرما رہا ہے ۔ کہ اس کے فضل اور رحمت کے حصول پر خوشی منائیں ۔ قرآن نے فیصلہ کردیا کہ نبی کی آمد کا جشن مناؤ کیونکہ ﷲ کے نبی صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ و صحبہ وسلّم سے بڑھ کر کائنات میں کوئی رحمت نہیں۔ خود ﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ترجمہ ’’اور ہم نے تم کو نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہاں کے لئے‘‘ ۔ (الانبیاء :107)
مسلمان اگر رحمتہ للعالمین کی آمد کی خوشی نہیں منائیں گے تو اور کون سی رحمت پر منائیں گے ۔ لازم ہے کہ مسلمان رحمت دوعالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی آمد کا جشن منائیں ۔
میلاد کو عید کہنا کیسا ؟ : ⏬
ترجمہ : عیسیٰ بن مریم نے عرض کی، اے اللہ! اے رب ہمارے ! ہم پر آسمان سے ایک خوان اُتار کہ وہ ہمارے لیے عید ہو ہمارے اگلے پچھلوں کی اور تیری طرف سے نشانی اور ہمیں رزق دے اور تو سب سے بہتر روزی دینے والا ہے ۔ (المائدة:114)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے آسمان سے خوان یعنی نعمت اترنے کے دن کو عید کہا اپنے اگلے پچھلوں کے لئے تو وہ نبی جو تمام کائنات کے لئے رحمت و نعمت ہو انکی تشریف آواری کا دن کیوں نہ عید ہو ؟؟؟ بلکہ وہ تو عیدوں کی عید ہے ۔
میلاد بدعت نہیں : ⏬
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے خود اپنا نسب اور پیدائش کا تذکرہ ممبر پر کھڑے ہوکر بیان فرمایا ۔ (ترمذی ج 2 ص201 )
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی پیدائش کے ساتھ دیگر نبیوں کی پیدائش کا ذکر فرمایا ۔ (مسلم ج2 ص245،چشتی) غزوہ تبوک سے واپسی پر حضرت ابن عباس رضی اللّه عنہ نے آقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ میں عرض کی میرا دل چاہتا ہے کہ آپ کی تعریف کروں ارشاد ہوا بیان کرو اللّه تمھارے منہ کو ہر آفت سے بچائے پس انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی پیدائش کا حال بیان کیا ۔ (دلائل النبوت لالبیہقی ج5 ص47،48)
کیا وہ کام جس پر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دعا دیں بدعت ہوسکتا ہے ؟
اپنی آمد کا جشن تو خود آقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے منایا ہے ۔ تو ان کے غلام کیوں نہ منائیں ؟ چنانچہ حضرت سیدنا ابو قتادہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ بارگاہ رسالت میں عرض کی گئی کہ ’’یارسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ پیر کا روزہ کیوں رکھتے ہیں ؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے جواب دیا ’’اسی دن میں پیدا ہوا اور اسی دن مجھ پر وحی نازل ہوئی‘‘ ۔ (صحیح مسلم شریف جلد 1ص 7، مشکوٰۃ شریف ص 179)
مخالفین کہتے ہیں کہ کیا میلاد صحابہ رضی اللہ عنہم نے منایا ؟ ہم پوچھتے ہیں کہ جب آقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اپنی آمد کا جشن خود منائیں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عمل کافی نہیں ؟
نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا چچا ابولہب جوکہ پکا کافر تھا۔ جب اسے اس کے بھائی حضرت عبد ﷲ رضی ﷲ عنہ کے یہاں بیٹے کی ولادت کی خوشخبری ملی تو بھتیجے کی آمد کی خوشخبری لانے والی کنیز ’’ثویبہ‘‘ کو اس نے انگلی کا اشارہ کرکے آزاد کردیا ۔ ابولہب کے مرنے کے بعد حضرت عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے اسے خواب میں دیکھا کہ وہ بڑے برے حال میں ہے تو اس سے پوچھا کیا گزری ؟ ابولہب نے جواب دیا ’’مرنے کے بعد کوئی بہتری نہ مل سکی ہاں مجھے اس انگلی سے پانی ملتا ہے کیونکہ میں نے ثویبہ لونڈی کو آزاد کیا تھا‘‘ ۔ (بخاری شریف جلد 2ص 764،چشتی)
اسی روایت کے مطابق ہمارے اسلاف جوکہ اپنے دور کے مستند مفسر ، محدث اور محقق رہے ہیں ان کے خیالات پڑھئے اور سوچئے کہ اس سے بڑھ کر جشن ولادت منانے کے اور کیا دلائل ہوں گے ؟
حضرت علامہ مولانا حافظ الحدیث ابن الجزری رحمۃ ﷲ علیہ کا فرمان مبارک : جب ابولہب کافر جس کی مذمت میں قرآن پاک نازل ہوا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی ولادت کی خوشی میں جزا نیک مل گئی (عذاب میں تخفیف) تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی امت کے مسلمان موحد کا کیا حال ہوگا۔ جو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی ولادت کی خوشی مناتا ہو اور حضور کی محبت میں حسب طاقت خرچ کرتا ہو ۔ مجھے اپنی جان کی قسم ﷲ کریم سے اس کی جزا یہ ہے کہ اس کو اپنے فضل عمیم سے جنت نعیم میں داخل فرمائے گا‘‘ ۔ (مواہب لدنیہ جلد 1ص 27)
جلیل القدر محدث حضرت علامہ ابن جوزی رحمۃ ﷲعلیہ کا فرمان مبارک : جب ابولہب کافر (جس کی قرآن میں مذمت بیان کی ہے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت پر خوش ہونے کی وجہ سے یہ حال ہے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی امت کے اس موحد مسلمان کا کیا کہنا جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت پر مسرور اور خوش ہے‘‘ ۔ (بیان المولد النبوی ص 70 بحوالہ مختصر سیرۃ الرسول ص 23)
جھنڈے اور جلوس : ⏬
ہجرت کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدینے میں آمد پرصحابہ نے جلوس نکالا (ابو داود ج2 ص 300)
سیدتنا آمنہ رضی ﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے تین جھنڈے بھی دیکھے ، ایک مشرق میں گاڑا گیا تھا ، دوسرا مغرب میں اور تیسرا جھنڈا خانہ کعبہ کی چھت پر لہرا رہا تھا ۔ (بحوالہ: سیرت حلبیہ جلد اول ص 109)
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت کی خوشی میں جھنڈے لہرائے گئے ۔ ایک مشرق میں ، دوسرا مغرب میں اور تیسرا کعبۃ ﷲ کی چھت پر ۔ (بیان المیلاد النبی ، محدث ابن جوزی ص 51)(خصائص الکبریٰ جلد اول ص 48)(مولد العروس ص 71)(معارج النبوت جلد دوم ص 16)
صحیح بخاری ، صحیح مسلم ، جامع ترمذی اور میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ⏬
جامع ترمذی شریف میں باب باب ماجاء في ميلاد النبي صلي الله عليه وآله وسلم ، الجامع ترمذی شریف میں ایک باب ہے ۔ باب ماجاء في ميلاد النبي صلي الله عليه وآله وسلم" جو امام ترمذی نے باندھا ہے ۔ تب تک میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم منانا بدعت نہیں سمجھا جاتا تھا ۔ بدعت کا بہتان بہت بعد کی ایجاد ہے ۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ 604 ہجری کے بعد میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منانے کا رواج پڑا ۔ جبکہ امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ 209 ہجری میں پیدا ہوئے اور 279 میں فوت ہوئے ۔
مشکوٰۃ میں ترمذی اور دارمی کے حوالے سے حدیث پاک موجود ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بعض انبیاء کرام علیہم السّلام کے فضائل کا ذکر کر رہے تھے کہ اس محفل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم تشریف لائے اور آپ نے اپنے فضائل خود بیان فرمائے جن میں سے کچھ یہ ہیں : خبردار میں اللہ کا حبیب ہوں ۔ اور آپ ہی کے زمانے میں ایک اور محفل میلاد مسجدِ نبوی میں منعقد ہوئی جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے منبر پر بیٹھ کر اپنے فضائل اور ولادت کے تذکرے فرمائے ۔ (جامع ترمذی جلد 4 صفحہ 443 ، 444 حدیث نمبر 3963 مطبوعہ دارالتاصیل،چشتی)
حضرت سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ بارگاہ رسالت میں عرض کی گئی کہ ’’یارسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم آپ پیر کا روزہ کیوں رکھتے ہیں ؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے جواب دیا ’’اسی دن میں پیدا ہوا اور اسی دن مجھ پر وحی نازل ہوئی ۔ (صحیح مسلم شریف جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 7، مشکوٰۃ شریف صفحہ نمبر 179)
امام حافظ بن حجر رحمة اللہ علیہ (المتوفی 852ھ) نے ایک سوال کے جواب میں لکھا ’’میرے لیے اس (محفل میلاد) کی تخریج ایک اصل ثابت سے ظاہر ہوئی ، دراصل وہ ہے جو بخاری و مسلم میں موجود ہے : حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے یہودیوں کو دسویں محرم کا روزہ رکھتے دیکھا ۔ ان سے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ وہ دن ہے، جس دن اللہ تعالیٰ نے فرعون کو غرق کیا تھا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نجات دی تھی ، ہم اس دن کا روزہ شکرانے کے طور پر رکھتے تھے ۔ (صحیح البخاری، کتاب الصوم، باب صوم یوم عاشوراء ، رقم الحدیث 2004، صفحہ نمبر 321،چشتی)۔(صحیح المسلم، کتاب الصیام، باب صوم یوم عاشوراء رقم الحدیث 2656، صفحہ نمبر 462)
حضرت امام بخاری رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں حضرت ابوالعالیہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی صلواة یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی تعریف کرتا ہے ۔ (صحیح بخاری مترجم جلد 2 صفحہ 1323 مطبوعہ پروگریسیو بکس اردو بازار لاہور)
اس کرہ ارض پر بسنے والے کسی بھی عالم دین (اگرچہ وہ صحیح عالم ہو) سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے پیر کے روزے کے متعلق دریافت کیجئے ، اس کا جواب یہی ہوگا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے اپنی ولادت کی خوشی میں روزہ رکھا ۔ نبی علیہ السلام اپنی آمد کی خوشی منائے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے غلام اپنے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا جشن نہ منائیں ۔ یہ کیسی محبت ہے ؟ اسی لئے تو مسلمان ہر سال زمانے کی روایات کے مطابق جشن ولادت مناتے ہیں ۔ کوئی روزہ رکھ کر مناتا ہے تو کوئی قرآن کی تلاوت کر کے ، کوئی نعت پڑھ کر ، کوئی درود شریف پڑھ کر ، کوئی نیک اعمال کا ثواب اپنے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی بارگاہ میں پہنچا کر تو کوئی شیرینی بانٹ کر ، دیگیں پکوا کر غریبوں اور تمام مسلمانوں کوکھلا کر اپنے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی ولادت کا جشن مناتاہے ۔ یعنی زمانے کی روایات کے مطابق اچھے سے اچھا عمل کرکے اپنے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی ولادت کا جشن منایا جاتا ہے ۔ پس جو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کو مانتا ہے تو وہ سنت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سمجھ کر اپنے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی ولادت کا جشن منائے گا اور جو شخص نبی کو نہیں مانتا ، وہ اس عمل سے دور بھاگے گا ۔
واقعہ حضرت ثوبیہ رضی اللہ عنہا اور میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ⏬
وہابی نجدی مذھب کے بانی محمد ابن عبد الوہاب نجدی کے بیٹے شیخ عبد الله بن محمد بن عبد الوهاب نے اپنی کتاب “مختصر سيرة الرسول صلى الله عليه وسلم” میں رقم کیا ہے : وأرضعته صلى الله عليه وسلم ثويبة عتيقة أبي لهب، أعتقها حين بشرته بولادته صلى الله عليه وسلم. وقد رؤي أبو لهب بعد موته في النوم فقيل له: ما حالك ؟ فقال: في النار، إلا أنه خفف عني كل اثنين، وأمص من بين إصبعي هاتين ماء ۔ وأشار برأس إصبعه ۔ وإن ذلك بإعتاقي ثويبة عندما بشرتني بولادة النبي صلى الله عليه وسلم وبإرضاعها له ۔
ترجمہ : ابو لہب کی آزاد کردہ باندی “ثویبہ” کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی خدمت رضاعت کا شرف ملا ، ابو لہب نے انہيں اس وقت آزاد کیا تھا جس وقت انہوں نے اسے حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ولادت باسعادت کی بشارت سنائی تھی ۔ اور ابو لہب کے مرنے کے بعد اسے خواب میں دیکھا گيا ، اس سےپوچھا گیا کہ تیرا کیا حال ہے ؟ تو اس نے کہا : میں عذاب میں ہوں البتہ ہر پیر کے دن مجھ سے عذاب ہلکا کیا جاتا ہے ، اور میں اپنی ان دونوں انگلیوں کے درمیان پانی چوستا ہوں (اس نے اپنی انگلی کی پور کی جانب اشارہ کیا) اور یہ ثویبہ کو اس موقع پر آزاد کرنے کی برکت ہے جس وقت اس نے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ولادت کی بشارت دی تھی ، اور خدمت رضاعت کا شرف حاصل کیا تھا ۔ شیخ عبد الله بن محمد بن عبد الوهاب نجدی نے اس روایت سے جواز میلاد پر استدلال کرتے ہوئے علامہ ابن جوزی کا قول نقل کیا ہے : قال ابن الجوزي : فإذا كان هذا أبو لهب الكافر الذي نزل القرآن بذمه جوزي بفرحه ليلة مولد النبي صلى الله عليه وسلم به فما حال المسلم الموحد من أمته صلى الله عليه وسلم يسر بمولده ؟ ۔
ترجمہ : ابن جوزی نے کہا : جب کافر ابو لہب کہ جس کی مذمت میں قرآن کریم کی سورت نازل ہوئی اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ولادت کی شب خوش ہونے پر ثواب دیا جارہا ہے تو آپ کی امت کا مؤمنِ موحد جب آپ کی ولادت پر اظہار مسرت کرتا ہے تو وہ کس قدر نوازا جائے گا ۔ (مختصر سيرة الرسول ﷺ لعبد الله بن محمد بن عبد الوهاب باب رضاعه من ثويبة عتيقة أبي لهب صفحہ نمبر 27 مطبوعہ دارالحضارہ للنشر والتوزیع)(مختصر سيرة الرسول صلى الله عليه وسلم لعبد الله بن محمد بن عبد الوهاب باب رضاعه من ثويبة عتيقة أبي لهب جلد 1 صفحہ نمبر 16 ، 17 مطبوعہ دار السلام الرياض،چشتی)(مختصر سیرۃ الرسول مترجم اردو صفحہ نمبر 32 عبد اللہ بن محمد بن عبد الوہاب نجدی مطبوعہ جامعة العلوم الاثریہ جہلم)(الوفا باحوال مصطفیٰ ﷺ مترجم اردو صفحہ نمبر 138 مطبوعہ فرید بکسٹال اردو بازار لاہور)
ابو لہب جیسے کافر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی ولادت کی خوشی میں ثوبیہ کو آزاد کیا تو ہر پیر کو عذاب میں کمی ہو جاتی ، (توفیق الباری شرح بخاری جلد 8 صفحہ 194 مترجم وہابی عالم)
امامُ الوہابیہ و دیابنہ علامہ حافظ ابن قیم جوزی لکھتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم جب پیدا ہوئے ثوبیہ نے ابو لہب کو خوشخبری دی اس نے اسے اس خوشی میں آزاد کردیا جب مرگیا تو اسے مرنے کے بعد عذاب میں کمی ہوتی تھی اس کی انگلی سے مشروب جاری ہوتا جسے وہ پیتا ۔ (تحفۃ الودود صفحہ نمبر 33)
کب تک انکار کروگے نادانو جب ایک کافر کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم کی ولادت کی خوشی منانے پر عذاب میں کمی کر دی جاتی ہے یہ سب تعظیم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم میں ہے تو جب مسلمان اپنے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم کی ولادت کی خوشی منائے گا اسے کتنا اجر و فائدہ ملے گا امام عسقلانی ، شیخ عبد الحق محدث دہلوی اور امام جزری علیہم الرّحمہ جیسے جلیل القدر محدثین فرماتے ہیں اللہ کی قسم جس کے قبضے میں ہمارے جان ہے اللہ مسلمان کو اجر عطاء فرمائے گا ۔ یہ تم لوگوں کی بد نصیبی و بغض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم کی زندہ مثال ہے کبھی احادیث کو ضعیف کہہ کر انکار ، کبھی کافر کے طعنے دے کر انکار ظالمو یہ خواب صحابی رسول نے بیان کیا ہے اور کبھی سادہ لوح لوگوں کو گمراہ کرنے کےلیئے خود حدیث و روایت کا انکار کردیتے صحیح بخاری شریف اور تمہارے بڑوں سے دوسرا حوالہ یعنی وہابی علماء سے پیش خدمت ہے اللہ تعالیٰ ہدایت عطاء فرمائے آمین ۔
شیخ محقق شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : ابولہب کی باندیوں میں سے ثویبہ لونڈی نے ابولہب کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کی ولادت کی خوشخبری دی جسے سن کر ابولہب نے اپنی باندی ثویبہ کو آزاد کردیا۔ ابولہب کے مرنے کے بعد اس کے کسی ساتھی نے اسے خواب میں دیکھ کر اس کاحال پوچھا تو جواب دیا جہنم میں پڑا ہوں البتہ اتنا ضرور ہے کہ ہر پیر کی رات کو عذاب میں تخفیف ہوجاتی ہے اور اپنی ان دو انگلیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ’’ان انگلیوں سے میں نے اپنی لونڈی ثویبہ کو اس لئے آزاد کیا تھا کہ اس نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کی ولادت کی خوشخبری دی تھی ۔ اس صلہ میں ان دونوں انگلیوں سے کچھ پانی پی لیتاہوں ۔ (مومن کے ماہ و سال صفحہ 84-85)
میلاد شریف کرنے والوں کےلیے اس میں سند ہے جوشب میلاد خوشیاں مناتے ہیں اور مال خرچ کرتے ہیں ۔ یعنی ابولہب کافر تھا اور قرآن پاک اس کی مذمت میں نازل ہوا ۔ جب اسے میلاد کی خوشی منانے اور اپنی لونڈی کے دودھ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کے لئے خرچ کرنے کی وجہ سے جزا دی گئی تو اس مسلمان کا کیا حال ہوگا جو محبت اور خوشی سے بھرپور ہے اور میلاد پاک میں مال خرچ کرتا ہے ۔ (مدارج النبوۃ مترجم اردو جلد دوم صفحہ نمبر 35)
اِمام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی بیان کردہ روایت کی تشریح جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کے ایک کافر چچا ابولہب کا ذکر ہے کہ اُسے بھی ﷲ تعالیٰ نے آمدِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کی خوشی منانے پر اَجر سے محروم نہیں رکھا، حالاں کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مخالفین میں سرِفہرست تھا ۔ یہ ایسا بدبخت شخص تھا کہ ﷲ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں اس کی مذمت میں پوری سورت نازل فرمائی۔ اِرشاد فرمایا : تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ ٭ مَا أَغْنَى عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ ٭ سَيَصْلَى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ ۔
ترجمہ : ابو لہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں اور وہ تباہ ہو جائے (اُس نے ہمارے حبیب پر ہاتھ اُٹھانے کی کوشش کی ہے) اُسے اُس کے (موروثی) مال نے کچھ فائدہ نہ پہنچایا اور نہ ہی اُس کی کمائی نے عنقریب وہ شعلوں والی آگ میں جا پڑے گا ۔ (سورہ لہب، 111 : 1 - 3)
نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کی ولادتِ مبارکہ کے حوالہ سے مشہور واقعہ کتبِ اَحادیث میں مذکور ہے کہ ابو لہب نے اپنی ایک لونڈی ثویبہ کو وقتِ ولادت حضرت سیدہ آمنہ رضی ﷲ عنہا کی خدمت کے لیے بھیجا۔ جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت ہوئی تو ثویبہ دوڑتے ہوئے ابولہب کے پاس پہنچی اور اسے بھتیجا پیدا ہونے کی خوش خبری سنائی۔ بھتیجے کی پیدائش کی خبر سن کر ابولہب اتنا خوش ہوا کہ اُس نے وہیں اپنے ہاتھ کی دو انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے کہا : ثویبہ! جا میں نے تجھے نومولود (صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم) کی پیدائش کی خوشی میں آزاد کیا ۔
ابولہب جب حالت کفر پر ہی مر گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اسے خواب میں دیکھا ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا کہ مرنے کے بعد تجھ پر کیا گزر رہی ہے ؟
اس نے جواب دیا کہ میں دن رات سخت عذاب میں جلتا ہوں لیکن جب پیر کا دن آتا ہے تو میرے عذاب میں کمی کر دی جاتی ہے اور میری انگلیوں سے پانی جاری ہو جاتا ہے جسے پی کر مجھے سکون ملتا ہے ۔ اِس تخفیف کا باعث یہ ہے کہ میں نے پیر کے دن اپنے بھتیجے (محمد صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم) کی ولادت کی خوش خبری سن کر اپنی خادمہ ثویبہ کو ان انگلیوں کا اشارہ کرتے ہوئے آزاد کر دیا تھا ۔
یہ واقعہ حضرت زینب بنت اَبی سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے جسے محدثین علیہم الرّحمہ کی کثیر تعدادنے واقعہ میلاد کے تناظر میں نقل کیا ہے ۔ اِمام بخاری رحمۃ اللہ علیہ (194۔ 256ھ) کی الصحیح میں مروی حدیث کے الفاظ یہ ہیں فلما مات أبولهب أريه بعض أهله بشرّ حيبة، قال له : ما ذا لقيت؟ قال أبولهب : لم ألق بعدکم غير أني سقيت في هذه بعتاقتي ثويبة ۔
ترجمہ : جب ابولہب مر گیا تو اس کے اہل خانہ میں سے کسی کو اُسے خواب میں دکھایا گیا ۔ وہ برے حال میں تھا ۔ (دیکھنے والے نے) اس سے پوچھا : کیسے ہو ؟
ابولہب نے کہا : میں بہت سخت عذاب میں ہوں ، اس سے کبھی چھٹکارا نہیں ملتا ۔ ہاں مجھے (اس عمل کی جزا کے طور پر) اس (انگلی) سے قدرے سیراب کر دیا جاتا ہے جس سے میں نے (محمد صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کی ولادت کی خوشی میں) ثویبہ کو آزاد کیا تھا ۔ (بخاري، الصحيح، کتاب النکاح، باب وأمهاتکم اللاتي أرضعنکم، 5 : 1961، رقم : 4813)(عبد الرزاق، المصنف، 7 : 478، رقم : 13955)(عبد الرزاق، المصنف، 9 : 26، رقم : 16350)(مروزي، السنة : 82، رقم : 290)(بيهقي، السنن الکبري، 7 : 162، رقم : 13701)(بيهقي، شعب الإيمان، 1 : 261، رقم : 281)(بيهقي، دلائل النبوة و معرفة أحوال صاحب الشريعة، 1 : 149) (ابن سعد، الطبقات الکبري، 1 : 108،چشتی)(ابن ابی دنیا نے ’’کتاب المنامات (ص : 154، رقم : 263)‘‘ میں اسے حسن اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے )(بغوي، شرح السنة، 9 : 76، رقم : 2282)(ابن جوزي، صفوة الصفوة، 1 : 62 12)(سهيلي، الروض الأنف في تفسير السيرة النبوية لابن هشام، 3 : 98، 99 13)(زيلعي، نصب الراية لأحاديث الهداية، 3 : 168 14)(ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير، 67 : 171، 172 15)(ابن کثير، البداية والنهاية، 2 : 229، 230 16)(عسقلاني، فتح الباري، 9 : 145 17) (عيني، عمدة القاري شرح صحيح البخاري، 20 : 95 18)(شيباني، حدائق الأنوار، 1 : 134 19. عامري، شرح بهجة المحافل، 1 : 41 20)(انور شاه کشميري، فيض الباري علي صحيح البخاري، 4 :278)
یہ روایت اگرچہ مُرسَل ہے لیکن مقبول ہے ، اِس لیے کہ اِمام بخاری رحمۃ اللہ علیہ (194۔ 256ھ) نے اسے اپنی ’’الصحیح‘‘ میں نقل کیا ہے اور اَجل علماء و حفاظِ حدیث علیہم الرّحمہ نے اِس پر اِعتماد کرتے ہوئے اِس سے اِستشہاد و اِستناد کیا ہے ۔ ثانیاً یہ روایت فضائل و مناقب کے باب میں ہے نہ کہ حلال و حرام میں ؛ اور مناقب و اَحکام کے مابین حدیث کے اِستدلال میں فرق کو علماء خوب جانتے ہیں ۔
(1) اُصولِ حدیث میں مرسل اُس حدیث کو کہا جاتا ہے جس کی سند کا آخری حصہ یعنی تابعی سے اوپر کا کوئی راوی ساقط ہو ۔
(2) اِس کا حکم یہ ہے کہ جب اَجل تابعی تک یہ روایت صحیح ثابت ہوجائے تو قابلِ حجت ہوگی ۔
(3) تین فقہی مذاہب کے بانیان . اِمام اَعظم ابو حنیفہ (80۔ 150ھ)، اِمام مالک (93۔ 179ھ) اور اِمام اَحمد بن حنبل (164۔ 241ھ) علیہم الرّحمہ ۔ اور محدّثین کی کثیر جماعت کے نزدیک مرسل روایت قابلِ حجت ہوتی ہے بشرطیکہ ارسال کرنے والا ثقہ ہو اور وہ ثقہ ہی سے ارسال کرتا ہو ۔
(4) ان کی دلیل یہ ہے کہ ثقہ تابعی کے متعلق یقینی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کے متعلق ’’قال رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کذا او فعل کذا او فعل بحضرتہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم نے یہ فرمایا ، یا یہ کیا یا آپ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کے سامنے یہ کیا گیا) ‘‘ تب ہی کہے گا جب وہ ثقہ راوی سے سنے گا ۔
(ذهبي، الموقظة في علم مصطلح الحديث : 38)(ذهبي، الموقظة في علم مصطلح الحديث : 39)(سخاوي، کتاب الغاية في شرح الهداية في علم الرواية، 1 : 273)(ابن کثير، الباعث الحثيث شرح اختصار علوم الحديث : 48)(ابن حجر عسقلاني، نزهة النظر بشرح نخبة الفکر في مصطلح حديث أهل الأثر : 36، 37)(سخاوي، کتاب الغاية في شرح الهداية في علم الرواية، 1 : 272 2)(ابن کثير، الباعث الحثيث شرح اختصار علوم الحديث : 48 3)(عبد الحق محدث دهلوي، مقدمة في أصول الحديث : 42، 43)
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ (773۔ 852ھ) ’’نزھۃ النظر بشرح نخبۃ الفکر فی مصطلح حدیث اھل الاثر صفحہ نمبر 37 میں لکھتے ہیں : اِمام اَحمد کے ایک قول اور مالکی و حنفی فقہاء کے مطابق حدیثِ مرسل مطلقاً مقبول ہوتی ہے، اور امام شافعی یہ کہتے ہیں کہ اگر کسی اور سند (خواہ وہ سند متصل ہو یا مرسل) سے مرسل روایت کی تائید ہو جائے تو وہ مقبول ہے ورنہ نہیں ۔
ملا علی قاری حنفی رحمۃ اللہ علیہ (م 1014ھ) شرح شرح نخبۃ الفکر میں لکھتے ہیں کہ ابن جریر نے یہ تصریح کی ہے کہ حدیث مرسل قبول کرنے پر تمام تابعین رضی اللہ عنہم کا اِجماع ہے اور کسی تابعی سے اس کا انکار منقول نہیں ۔ اور نہ اس کے بعد دو سو (200) سال تک اَئمہ میں سے کسی نے اس کا انکار کیا اور یہی وہ قرونِ فاضلہ ہیں جن کے خیر پر برقرار رہنے کی رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم نے شہادت دی ۔
ذیل میں ہم اِس روایت کے بارے میں چند ائمہ کرام کے ملفوظات نقل کریں گے ، جنہوں نے اِس واقعہ سے جشنِ میلادالنبی صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کا اِستشہاد و اِستناد کیا ہے :
حافظ شمس الدین محمد بن عبد ﷲ جزری (م 660ھ) اپنی تصنیف ’’عرف التعریف بالمولد الشریف‘‘ میں لکھتے ہیں : فإذا کان أبولهب الکافر الذي نزل القران بذمه جوزيَ في النار بفرحه ليلة مولد النبي صلي الله عليه وآله وسلم به، فما حال المسلم الموحد من أمة النبي صلي الله عليه وآله وسلم يسر بمولده، وبذل ما تصل إليه قدرته في محبته صلي الله عليه وآله وسلم ؟ لعمري إنما يکون جزاؤه من ﷲ الکريم أن يدخله بفضله جنات النعيم ۔
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کی ولادتِ باسعادت کے موقع پر خوشی منانے کے اَجر میں اُس ابولہب کے عذاب میں بھی تخفیف کر دی جاتی ہے جس کی مذمت میں قرآن حکیم میں ایک مکمل سورت نازل ہوئی ہے ۔ تو اُمتِ محمدیہ کے اُس مسلمان کو ملنے والے اَجر و ثواب کا کیا عالم ہوگا جو آپ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کے میلاد کی خوشی مناتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کی محبت و عشق میں حسبِ اِستطاعت خرچ کرتا ہے؟ خدا کی قسم ! میرے نزدیک ﷲ تعالیٰ ایسے مسلمان کو اپنے حبیب صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کی خوشی منانے کے طفیل اپنی نعمتوں بھری جنت عطا فرمائے گا ۔ (سيوطي، الحاوي للفتاوي : 206)(سيوطي، حسن المقصد في عمل المولد : 65، 66)(قسطلاني، المواهب اللدنية بالمنح المحمدية، 1 : 147)(زرقاني، شرح المواهب اللدنية بالمنح المحمدية، 1 : 260، 261)(يوسف صالحي، سبل الهدي والرشاد في سيرة خير العباد صلي الله عليه وآله وسلم ، 1 : 366، 367 6)(نبهاني، حجة ﷲ علي العالمين في معجزات سيد المرسلين صلي الله عليه وآله وسلم : 237، 238،چشتی)
حافظ شمس الدین محمد بن ناصر الدین دمشقی (777۔ 842ھ) ’’مورد الصادی فی مولد الہادی‘‘ میں فرماتے ہیں : قد صح أن أبالهب يخفّف عنه عذاب النار في مثل يوم الإثنين لإعتاقه ثويبة سرورًا بميلاد النبي صلي الله عليه وآله وسلم ۔
ترجمہ : یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشی میں ثویبہ کو آزاد کرنے کے صلہ میں ہر پیر کے روز ابولہب کے عذاب میں کمی کی جاتی ہے ۔
اِس کے بعد محمد بن ناصر الدین دمشقی نے درج ذیل اَشعار پڑھے : ⏬
إذا کان هذا کافر جاء ذمه
وتبت يداه في الجحيم مخلَّدا
أتي أنه في يوم الاثنين دائما
يخفّف عنه للسّرور بأحمدا
فما الظن بالعبد الذي طولُ عمره
بأحمد مسروراً ومات موحدا
ترجمہ : جب ابولہب جیسے کافر کےلیے ۔ جس کی مذمت قرآن حکیم میں کی گئی ہے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں اُس کے ہاتھ ٹوٹتے رہیں گے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد کی خوشی منانے کی وجہ سے ہر سوموار کو اُس کے عذاب میں تخفیف کر دی جاتی ہے۔ تو کتنا خوش نصیب ہوگا وہ مسلمان جس کی ساری زندگی عبادتِ الٰہی اور میلاد کی خوشیوں میں بسر ہوئی اور وہ حالتِ اِیمان پر فوت ہوا ۔ (سيوطي، الحاوي للفتاوي : 206)(سيوطي، حسن المقصد في عمل المولد : 66)(نبهاني، حجة ﷲ علي العالمين في معجزات سيد المرسلين صلي الله عليه وآله وسلم : 238) ۔ (صحیح بخاری ، کتاب النکاح) یہ حدیث کہیں مختصر اً اور کہیں مطولاً کتاب النکاح کے علاوہ بھی وارد ہوئی ہے، رقم احادیث اس طرح ہیں ۔ ۵۱۰۶، ۵۱۰۷، ۵۱۳۳ اور ۵۳۷۲) ۔
اے اہلِ اسلام : اس نعمت عظمی پر فرحت ومسرت کا اظہار کرنا تقاضۂ فطرت ہے ، جو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی ولادت باسعادت کے موقع پر خوشی کا اظہار کرتا ہے اللہ تعالی اسے اجرعظیم وثواب جزیل عطافرماتاہے ۔ صحیح بخاری شریف اور دیگر کئی کتب حدیث میں الفاظ کے قدرے اختلاف کے ساتھ روایت مذکور ہے ، بعض روایتوں میں اختصار ہے اور بعض میں تفصیل ہے ، صحیح بخاری شریف ج 2،صفحہ 764،کی روایت کے الفاظ یہ ہیں : قال عروة و ثويبة مولاة لابی لهب کان ابولهب اعتقها فارضعت النبی صلی الله عليه وسلم فلما مات ابولهب اريه بعض اهله بشرحيبة قال له ماذا لقيت قال ابولهب لم الق بعدکم غير انی سقيت فی هذه بعتاقتی ثويبة ۔
ترجمہ : حضرت عروہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ثویبہ ابولہب کی باندی ہے ، ابو لھب نے انہیں آزاد کیا تھا تاکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو دودھ پلائیں ، جب ابولہب مرگیا تو اس کے خاندان والوں میں کسی نے خواب میں اسے بدترین حالت میں دیکھا‘ اس سے کہا : تو نے کیا پایا ؟ ابو لہب نے کہا : میں نے تم لوگوں سے جدا ہونے کے بعد کچھ آرام نہیں پایا ‘ سوائے یہ کہ ثویبہ کو آزاد کرنے کی وجہ سے اس (انگلی) سے سیراب کیا جاتا ہوں ۔ (صحیح بخاری شریف ،کتاب النکاح ،باب من قال لا رضاع بعد حولین ،جلد نمبر 2 ،ص764، حدیث نمبر: 4711 عربی،چشتی۔صحیح بخاری مترجم اردو جلد سوم صفحہ نمبر 224 ، 225)
اس روایت کی شرح کرتے ہوئے شارحین صحیح بخاری شریف علامہ بدرالدین عینی حنفی اور حافظ ابن حجر عسقلانی شافعی علیہما الرّحمہ اپنی اپنی شرح میں دیگر کتب حدیث کے حوالہ سے تفصیلی روایت تحریر فرماتے ہیں ۔ ہم یہاں علامہ بدرالدین عینی حنفی رحمۃ اللہ علیہ کی شرح عمدۃ القاری ج ،14 صفحہ 45، سے عبارت نقل کرتے ہیں : وذکر السهيلی ان العباس رضی الله تعالی عنه قال لمامات ابولهب رايته فی منامی بعد حول فی شرحال، فقال مالقيت بعدکم راحة الا ان العذاب يخفف عنی کل يوم اثنين، قال وذلک ان النبی صلی الله عليه وسلم ولد يوم الاثنين وکانت ثويبة بشرت ابالهب بمولده فاعتقها ۔
ترجمہ : حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ جب ابولہب مر گیا تو میں نے ایک سال کے بعد خواب میں اسے بدترین حالت میں دیکھا تو اس نے کہا : میں تم سے جداہونے کے بعد اب تک راحت نہیں پایا البتہ ہر پیر کے دن مجھ سے عذاب ہلکا کیا جاتاہے ۔ حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں وہ اس لئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم پیر کے دن تولد ہوئے اور ثویبہ نے ابو لھب کو آپ کی ولادت باسعادت کی خوشخبری دی تو اس نے انہیں آزاد کردیا ۔ (عمدۃ القاری، کتاب النکاح ،باب من قال لا رضاع بعد حولین،ج14،ص45،چشتی) ۔ یہ روایت مختلف الفاظ کے ساتھ ذیل میں ان کتب احادیث میں بھی موجود ہے : (سنن کبری للبیہقی کتاب النکاح ،حدیث نمبر:14297- مصنف عبدالرزاق ، کتاب المناسک ج7،۔حدیث نمبر:13546- جامع الاحادیث والمراسیل ، مسانید الصحابۃ ،حدیث نمبر:43545- کنزالعمال، ج6،کتاب الرضاع من قسم الافعال ،حدیث نمبر 15725)
سلف صالحین و علماء امت میں حافظ شمس الدین ابن الجزری نے اور حافظ شمس الدین بن ناصر الدین دمشقی علیہم الرّحمہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی ولادت کے موقع پر خوشی منانے اور فرحت و مسرت کا اظہار کرنے پر اس روایت سے استدلال کیاہے ۔ حافظ شمس الدین بن ناصرالدین دمشقی فرماتے ہیں : قدصح ان ابا لهب يخفف عنه عذاب النار فی مثل يوم الاثنين باعتاقه ثويبة مسرورا بميلاد النبی صلی الله عليه وسلم ثم انشد ۔
ترجمہ : یہ صحیح روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی ولادت مبارک پر خوش ہو کر ثویبہ کو آزاد کرنے کی وجہ سے ابو لہب سے پیر کے دن دوزخ کے عذاب میں تخفیف کی جاتی ہے پھر انہوں نے اشعار پڑھے ‘ اس کا ترجمہ یہ ہے : جب یہ (ابولھب) کافر ہے جس کی مذمت میں ’’ سورہ تبت یدا‘‘ نازل ہوئی اور وہ ہمیشہ دوزخ میں رہنے والا ہے تو احمد مجتبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی میلاد پر خوش ہونے کی وجہ سے ہمیشہ ہر پیر کے دن اس سے عذاب میں تخفیف کی جاتی ہے تو اس بندہ کے حق کس قدر اجر و ثواب کا گمان کیا جائے جو عمر بھر احمد مجتبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے میلاد کی خوشی منایا اور حالت ایمان میں انتقال کیا ۔ علاوہ ازیں اس کا ذکر ۔ (شرح المواہب للزرقانی ، ج1، ص 261 ، اور سبل الہدی والرشاد ،ج،1،ص367،چشتی) میں موجود ہے ۔
خاص طور پر میلاد شریف کے دن اہتمام کرنا خود نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے عمل مبارک سے ثابت ہے ، چنانچہ صحیح مسلم شریف میں ہے : عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ صَوْمِ الِاثْنَيْنِ فَقَالَ فِيهِ وُلِدْتُ وَفِيهِ أُنْزِلَ عَلَيَّ- ترجمہ : سیدنا ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روز دوشنبہ کے روزہ کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: یہ میری ولادت کا دن ہے اور اسی دن مجھ پر قرآن نازل کیا گیا ۔ (صحيح مسلم ، كتاب الصيام ، باب استحباب صيام ثلاثة أيام من كل شهر وصوم يوم عرفة وعاشوراء والاثنين والخميس، حدیث نمبر:1978)
اسی روایت کے مطابق ہمارے اسلاف جوکہ اپنے دور کے مستند مفسر ، محدث اور محقق رہے ہیں ان کے خیالات پڑھئے اور سوچئے کہ اس سے بڑھ کر جشن ولادت منانے کے اور کیا دلائل ہوں گے ؟
ابولہب وہ بدبخت انسان ہے جس کی مذمت میں قرآن کی ایک پوری سورۃ نازل ہوئی ہے لیکن محض اس وجہ سے کہ اس کی آزاد کردہ باندی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کو دودھ پلایا تو اس کا فائدہ اس کے مرنے کے بعد بھی اس کو کچھ نہ کچھ ملتا رہا۔ سہیلی وغیرہ نے اس خواب کا اتنا حصہ اور بیان کیا ہے ۔ ابولہب نے حضرت عباس سے یہ بھی کہا کہ دوشنبہ پیر) کو میرے عذاب میں کچھ کمی کردی جاتی ہے ۔ علماء کرام نے فرمایا اس کی وجہ یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی تشریف آوری کی بشارت سنانے پر ثویبہ کو جس وقت ابولہب نے آزاد کیا تھا اسی وقت اس کے عذاب میں کمی کی جاتی ہے ۔ (میلاد رسول صفحہ نمبر 18)
شیخ محقق حضرت علامہ مولانا شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ ﷲ علیہ کا فرمان مبارک : میلاد شریف کرنے والوں کے لئے اس میں سند ہے جوشب میلاد خوشیاں مناتے ہیں اور مال خرچ کرتے ہیں ۔ یعنی ابولہب کافر تھا اور قرآن پاک اس کی مذمت میں نازل ہوا ۔ جب اسے میلاد کی خوشی منانے اور اپنی لونڈی کے دودھ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے لئے خرچ کرنے کی وجہ سے جزا دی گئی تو اس مسلمان کا کیا حال ہوگا جو محبت اور خوشی سے بھرپور ہے اور میلاد پاک میں مال خرچ کرتا ہے ۔ (مدارج النبوۃ جلد دوم صفحہ نمبر 26،چشتی)
حضرت علامہ مولانا حافظ الحدیث ابن الجزری رحمۃ ﷲ علیہ کا فرمان مبارک : جب ابولہب کافر جس کی مذمت میں قرآن پاک نازل ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی ولادت کی خوشی میں جزا نیک مل گئی (عذاب میں تخفیف) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی امت کے مسلمان موحد کا کیا حال ہوگا ۔ جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی ولادت کی خوشی مناتا ہو اور حضور کی محبت میں حسب طاقت خرچ کرتا ہو ۔ مجھے اپنی جان کی قسم ﷲ کریم سے اس کی جزا یہ ہے کہ اس کو اپنے فضل عمیم سے جنت نعیم میں داخل فرمائے گا ۔ (مواہب لدنیہ جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 27)
ان محدثین کرام اور اسلاف علیہم الرّحمہ کے خیالات سے ثابت ہے کہ جشن ولادت منانا اسلاف کا بھی محبوب فعل رہا ہے اور یہ بات واضح ہے کہ جب کافر محمد بن عبد ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی آمد کی خوشی مناکر فائدہ حاصل کرسکتا ہے تو مسلمان محمد رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی آمد کا جشن مناکر کیوں فائدہ حاصل نہیں کرسکتا ؟ بلکہ ابن الجزری نے تو قسم اٹھا کر فرمایا ہے کہ میلاد منانے والوں کی جزا یہ ہے کہ ﷲ تعالیٰ اپنے فضل سے انہیں جنت میں داخل فرمادے گا ۔
جہاں تک مروجہ طریقے سے میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم منانے کا سوال ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ جیسے جیسے زمانہ ترقی کرتا رہا ، لوگ ہر چیز احسن سے احسن طریقے سے کرتے رہے ۔ پہلے مسجدیں بالکل سادہ ہوتی تھیں ، اب اس میں فانوس اور دیگر چراغاں کرکے اس کو مزین کرکے بنایا جاتا ہے ۔ پہلے قرآن مجید سادہ طباعت میں ہوتے تھے ، اب خوبصورت سے خوبصورت طباعت میں آتے ہیں وغیرہ اسی طرح پہلے میلاد سادہ انداز میں ہوتا تھا ، صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین اور تابعین اپنے گھروں پر محافلیں منعقد کرتے تھے اور صدقہ و خیرات کرتے تھے ۔
منکرین سے صرف اتنی گذارش ہے ایک کافر جس کی مذمّت میں قرآن نازل ہوا اگر وہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی ولادت پر بھتیجا سمجھ کر خوشی کا اظہار کرتا ہے تو اسے بھی فائدہ حاصل ہوتا ہے جبکہ ابولہب کافر تھا جب اسے میلاد کی خوشی منانے اور اپنی لونڈی کے دودھ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کےلیے خرچ کرنے کی وجہ سے جزا دی گئی تو اس مسلمان کا کیا حال ہوگا جو محبت اور خوشی سے بھرپور ہے اور میلاد پاک میں مال خرچ کرتا ہے تم تو اس کافر سے بھی گئے گذرے ہو اور بد نصیب بھی ۔
ان محدثین کرام اور اسلاف علیہم الرّحمہ کے خیالات سے ثابت ہے کہ جشن ولادت منانا اسلاف علیہم الرّحمہ کا بھی محبوب فعل رہا ہے اور یہ بات واضح ہے کہ جب کافر محمد بن عبد ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی آمد کی خوشی مناکر فائدہ حاصل کرسکتا ہے تو مسلمان محمد رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی آمد کا جشن کیوں فائدہ حاصل نہیں کرسکتا ؟
بلکہ ابن الجزری رحمۃ اللہ علیہ نے تو قسم اٹھا کر فرمایا ہے کہ میلاد منانے والوں کی جزا یہ ہے کہ ﷲ تعالیٰ اپنے فضل سے انہیں جنت میں داخل فرمادے گا ۔ اللہ بغضِ رسول صلی اللہ علیہ وسلّم سے بچائے آمین ۔ دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی ۔
















































































No comments:
Post a Comment