Sunday, 8 July 2018

نبی کا معنیٰ و مفہوم اور شانِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

نبی کا معنیٰ و مفہوم اور شانِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
محترم قارئین کرام : لفظ نبی کا معنیٰ ہے جسے مغیبات کا علم اور مغیبات کی خبریں دی جاتی ہیں ۔

چھٹی صدی ہجری کی مشہور اور علمی شخصیّت قاضی عیاض مالکی رحمۃ اللہ علیہ لفظ نبی کا معنی و مفہوم یوں بیان فرماتے ہیں : والمعنیٰ ان ﷲ تعالیٰ اطلعہ علیٰ غیبہ۔
ترجمہ : اس کا معنی یہ ہے کہ ﷲ تعالیٰ نے اسے غیب پر مطلع فرمایا ہے ۔ (الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم الجزء الاول صفحہ ١٥٧ القاضی ابی الفضل عیاض مالکی الیحصُبی اندلسی ثم مراکشی رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٥٤٤ھ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)(النسختہ الثانیہ صفحہ ١٦٩ مطبوعہ دارالحدیث القاہرہ (مصر)(کتاب الشفاء (اردو) جلد اول صفحہ 388 مطبوعہ مکتبہ نبویہ لاہور (پاکستان۔چشتی)۔(دوسرا نسخہ حصہ اول صفحہ 178 مطبوعہ شبیر برادرز لاہور (پاکستان)

شفاء شریف کی اس عبارت کی شرح کرتے ہوئے علامہ شہاب الدین خفاجی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : (والمعنیٰ) ای معنیٰ النبی المفھوم من الکلام علیٰ ھذا القول (ان ﷲ اطلعہ علیٰ غیبہ) ای اعلمہ واخبرہ بمغیباتہ ۔
ترجمہ : علامہ خفاجی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ نے لفظ نبی کا جو معنی بتایا ہے کہ : اللہ نے اسے غیب پر مطلع کیا ہے ۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ نبی وہ ہوتا ہے جسے مغیبات کا علم اور مغیبات کی خبریں دی جاتی ہیں ۔(نسیم الریاض فی شرح شفاء القاضی عیاض الجزء الثالث صفحہ ٣٤١ شہاب الدین احمد بن محمد بن عمر الخفاجی المصری متوفی ١٠٦٩ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)

معلوم ہوا کہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے جو لفظ نبی کا ترجمہ : غیب کی خبریں بتانے والا ۔ کیا ہے یہ ترجمہ اکابرین و سلف صالحین کی تعلیمات اور ان کے عقائد کے عین مطابق ہے ۔

نبی کا لغوی معنیٰ ہی غیب کی خبریں دینے والا ہے توپھر نبی کے علم غیب سے کیسے انکارکیاجا سکتاہے نبی کے علم غیب کا انکار کرنا نبوت کی بنیاد سے انکار کرنا ہے جب کہ اس موضوع پر بکثرت احادیث موجود ہیں جو نبی کے عالم غیب ہونے پر دلالت کرتی ہیں ملاحظہ کریں : ⏬

صحابہ رضی اللہ عنہم نے ایک شخص کی تعریف کی کہ جہاد میں ایسی قوت رکھتاہے اورعبادت میں ایسی کوشش کرتا ہے ، اتنے میں وہ سامنے سے گزرا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں اس کے چہرے پرشیطان کا داغ پاتاہوں اس نے پاس آکر سلام کیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے دل کی بات بتائی کہ کیوں تونے اپنے دل میں کہا کہ اس قوم میں تجھ سے بہتر کوئی نہیں ۔ کہا ہاں ۔ پھر چلا گیا اور ایک مسجد مقرر کرکے نماز پڑھنے کھڑا ہوا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کون ایسا ہے جو اٹھ کر جائے اور اسے قتل کر دے ؟ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ گئے دیکھا وہ نماز پڑھتا ہے واپس آئے اورعرض کیا کہ میں نے اسے نماز میں دیکھا مجھے قتل کرتے خوف آیا حضور نے پھر فرمایا تم میں کون ایسا ہے کہ اٹھ کرجائے اور اسے قتل کردے ؟ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ گےٗ اور نماز پڑھتا دیکھ کر چھوڑ آے اوروہی عذر کیا حضور نے پھر فرمایا تم میں کون ایسا ہے جو اٹھ کر جاے اور اسے قتل کردے ؟ مولیٰ علی کرم اللہ وجہ نے عرض کی میں حضور نے فرمایا ہاں تم اگر اسے پاٶ یہ گیے وہ جاچکا تھا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ میری امت سے پہلا سینگ نکلا تھا اگر یہ قتل ہو جاتا تو مستقبل میں امت میں کچھ اختلاف نہ پڑتا ۔ (دلائل النبوت للبہیقی باب ماروی فی اخبارہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم الیٰ آخرہٖ دارالکتب العلمیہ بیروت جلد 6 صفحہ نمبر 287 و288۔چشتی)

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا آپ نے فرمایا اس کو قتل کر دو عرض کی گٸی کہ اس نے چوری ہی تو کی ہے فرمایا اس کا ہاتھ کاٹ دو پھر اسے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پاس اس حال میں لایا گیاکہ اس کے تمام ہاتھ پاوٗں کاٹے جا چکے تھے ۔تو آپ نے فرمایا میں اس کے بغیر تیرا علاج نہیں جانتا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیرے بارے میں فیصلہ فرمایا تھا کہ اس کو قتل کر دو وہ تیرا حال خوب جانتے تھے ۔چنانچہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اس کے قتل کا حکم دیا ۔(کنزالعمال جلد 5 صفحہ 538۔چشتی)

صحیح بخاری و مسلم میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک بار ہم میں کھڑے ہوکرابتداے آفرینش سے قیامت تک جوکچھ ہونے والا تھا سب بیان فرما دیا ، کوٸی چیز نہ چھوڑی ، جسے یاد رہا یاد رہا اور جو بھول گیا بھول گیا ۔ (مشکوٰۃ المصابیح کتاب الفتن الفصل الاول صفحہ 461 مطبع مجتبای دہلی)

دس صحابہ رضی اللہ عنہم سے یہ حدیث مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایامیں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا اس نے اپنا دست قدرت میری پشت پر رکھا کہ میرے سینے میں اس کی ٹھنڈک محسوس ہویٗ اسی وقت ہرچیز مجھ پر روشن ہو گٸی اور میں نے سب کچھ پہچان لیا ۔ (سنن ترنذی کتاب التفسیر حدیث نمبر 3246 دارالفکربیروت)

حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب میرے علم میں آ گیا ۔ (سنن ترمذی کتاب التفسیر حدیث نمبر 3244 دارالفکر بیروت۔چشتی)

حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں بیشک میرے سامنے اللہ عزوجل نے دنیا اٹھا لی ہے اور میں اسے اور جو کچھ اس میں قیامت تک ہونے والا ہے سب کچھ ایسا دیکھ رہاہوں جیسے اپنی ہتھیلی کو دیکھ رہا ہوں اس روشنی کے سبب جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کےلیے روشن فرمایا جیسے محمد سے پہلے انبیاء علیہم السلام کےلیے روشن کی تھی ۔ (حلیۃ الاولیاء جلد 6 صفحہ 101 دارالکتاب العربی بیروت)

جو ہو چکا ہے جو ہو رہا ہے اور جو ہوگا ہمارے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم جانتے ہیں : ⏬

مخالفین اہلسنت کے اس عقیدے کو جو کہ قران و حدیث سے ماخوذ ہے مشرکانہ عقیدہ بتاتے ہیں حالانکہ ایسا کہنا ازلی شقاوت کے اظہار کے علاوہ کچھ حیثیت نہیں رکھتا جب کہ اس کے برعکس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےلیے علم ماکان ومایکون کا عقیدہ دراصل اکابرین و سلف صالحین کا عقیدہ ہے ۔

ﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : خلق الانسان علمہ البیان ، اسی نے انسان کو پیدا کیا اور اسے بولنا سکھایا ۔ (ترجمہ جونا گڑھی غیر مقلد وہابی)

مذکورہ آیت کی تفسیر میں مفسرین نے بہت کچھ لکھا ہے ان میں سے چند اکابرین مفسرین علیہم الرّحمہ کی تفاسیر پیش خدمت ہیں : ⏬

مشہور مفسّر امام بغوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:خلق الانسان یعنی محمداً صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم علمہ البیان یعنی بیان ماکان ومایکون ۔
ترجمہ : یعنی اس آیت میں انسان سے مراد محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اور بیان سے مراد ماکان ومایکون کا بیان ہے ۔ (تفسیر البغوی (معالم التنزیل) صفحہ ١٢٥٧) ابی محمد حسین بن مسعود البغوی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی ٥١٦ھ)

اسی طرح قدیم مفسّر امام قرطبی رحمۃ اللہ علیہ یوں فرماتے ہیں : الانسان ھاھنا یراد بہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم والبیان وقیل ماکان و مایکون ۔
ترجمہ : یعنی اس آیت میں انسان سے مراد محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اور بیان سے مراد (بعض کہتے ہیں) ماکان ومایکون کا بیان ہے ۔ (الجامع الاحکام القرآن والمبین لما تضمنہ من السنتہ وآی الفرقان الجزءالعشرون صفحہ١١٣) ابی عبدﷲ محمد بن احمد بن ابی بکر القرطبی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی ٦٧١ھ)

ایک اور مفسّر امام ابن عادل حنبلی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : المراد بالانسان ھنا محمد علیہ السلام علمہ البیان وقیل ماکان ومایکون ۔
ترجمہ : یعنی اس آیت میں انسان سے مراد محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اور بیان سے مراد (بعض کہتے ہیں) ماکان ومایکون کا بیان ہے ۔ (اللباب فی علوم الکتاب المشہور تفسیر ابن عادل الجزء الثامن عشر صفحہ نمبر ٢٩٣-٢٩٤)ابی حفص عمر بن علی ابن عادل الدمشقی الحنبلی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی ٨٨٠ھ)

اسی طرح امام ثعلبی رحمۃ اللہ علیہ کی تفسیر میں موجود ہے : خلق الانسان یعنی محمداً صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم علمہ البیان یعنی بیان ماکان ومایکون ۔
ترجمہ : یعنی اس آیت میں انسان سے مراد محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اور بیان سے مراد ماکان ومایکون کا بیان ہے ۔ (الکشف و البیان فی تفسیر القران المشہور تفسیر الثعلبی الجزء السادس صفحہ نمبر ٤٨) العلامہ ابی اسحٰق احمد بن محمد بن ابراھیم الثعلبی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی ٤٢٧ھ)

الحمد للہ اہلسنت و جماعت کا عقیدہ علم غیب متقدمین مفسرین اکابرین علیہم الرّحمہ کی تفاسیر اور عقائد و نظریات کے مطابق ہے ۔

عقیدۂ علم غیب اور امام قرطبی رحمۃ اللہ علیہ : ⏬

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : عَالِمُ الغَیبِ فَلَا یُظہِرُ عَلیٰ غَیبِہ اَحَداً اِلَّا مَنِ الرتَضیٰ مِن الرَسُول ۔ (سورہ جنّ آیت ٢٦ ٢٧)
ترجمہ : وہ غیب کا جاننے والا ہے اور اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا سوائے اس پیغمبر کے جسے وہ پسند کر لے ۔ (مولوی محمد جوناگڑھی وھابی)

اس آیت کی تفسیر میں معروف مفسّر امام قُرطبی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : کان فیہ دلیل علیٰ انّہ لا یعلم الغیب احد سواہ , ثم استثنیٰ من ارتضاہ من الرسل ۔
ترجمہ : اس میں اس بات پر دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا پھر ان رسولوں کو اس سے مستثنیٰ کردیا جن پر وہ راضی ہے ۔ (الجامع الاحکام القران صفحہ ٣٠٨الجزء الحادی والعشرون مؤلف ابی عبدﷲ محمد بن احمد بن ابی بکر القرطبی رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٦٧١ مطبوعہ بیروت لبنان)( تفسیر قرطبی مترجم اردو جلد دہم صفحہ ٣٩ مطبوعہ ضیاء القران لاہور)

معلوم ہوا کہ اللہ پاک اپنے پسندیدہ رسولوں کو علمِ غیب عطا فرماتا ہے اور بحمد اللہ قران کی مذکورہ آیت اور اس کی تفسیر اسی بات پر دلالت کرتی ہے!یہ امر بھی واضح ہوگیا کہ اہلسنت و جماعت نے قران کو اسی طرح سمجھا ہے جیسے اکابرین و سلف صالحین (علیہم الرحمہ) نے سمجھا تھا ۔

قرآن اور لفظ نبی کا تذکرہ : ⏬

قرآن مجید میں اللہ تعاليٰ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جابجا ’’النبی‘‘ کے لقب سے یاد فرمایا۔ ارشاد فرمایا : يٰـاَيّهَا النَّبِيّ اِنَّآ اَرْسَلْنٰـکَ شَاهِدًا.(الاحزاب:45)
’’اے نبِيّ (مکرّم!) بے شک ہم نے آپ کو (حق اور خَلق کا) مشاہدہ کرنے والا بناکر بھیجا‘‘۔
دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا : اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَ الْاُمِّيَ.(الاعراف:157)
(یہ وہ لوگ ہیں) جو اس رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی پیروی کرتے ہیں جو امی (لقب) نبی ہیں (یعنی دنیا میں کسی شخص سے پڑھے بغیر منجانب اللہ لوگوں کو اخبارِ غیب اورمعاش و معاد کے علوم و معارف بتاتے ہیں) ۔
اگر لفظ ’’نبی‘‘ اور نبوت کے معنی اور مفہوم کی روشنی میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان نبوت کو سمجھنے کی کوشش کریں تو لفظِ ’’نبی‘‘ کے اندر بھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بہت سی شانوں کا تذکرہ موجود ہے ۔

لفظ نبی کا ایک معنیٰ ہے غیب کی خبریں دینے والا : ⏬

اگر لفظ نبی کو نَبَاءَ سے مشتق سمجھیں تو نبی کا معنی ہے غیب کی خبر دینے والا۔ اگر لفظ نبی بروزنِ فَعِيْلٌ بمعنی فاعل ہو تو اس کا معنی ہوگا کہ : يَکُوْنَ مُخْبِرًا اَمَّا اَطْلَعَهُ اللّٰهُ عَلَيْهِ . ترجمہ : اللہ تعاليٰ نے اپنے جس غیب پر انہیں مطلع کیا ہے، اس غیب کی خبریں لوگوں کو دینے والا۔

اسی لیے قرآن مجید میں کہا گیا ہے کہ : وَمَا هُوَ عَلَی الْغَيْبِ بِضَنِيْنٍ. (التکوير:24)
ترجمہ : اور وہ (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) غیب (کے بتانے) پر بالکل بخیل نہیں ہیں (مالکِ عرش نے ان کےلیے کوئی کمی نہیں چھوڑی) ۔

’’اَلنَّبُوّات‘‘ میں علامہ ابن تیمیہ نے اس معنی کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔اگر لفظِ ’’نبی‘‘ بروزن فَعِيْلٌ بمعنی مَفْعُوْلٌ ہو تو نبی کا مطلب ہے : اَنَّ اللّٰه تَعَالٰی اَطْلَعَهُ غَيْبِهِ فَيَکُوْنُ النَبِيّ ۔
ترجمہ : اللہ تعاليٰ نے جس ذات کو اپنے غیب پر مطلع کیا ہو، اپنے غیب کی اطلاع دی ہو اس کو نبی کہتے ہیں ۔

نبی کا ایک معنیٰ ہے گمراہی سے نکالنے والا : ⏬

تہذیب اللغہ اور تحریر المطالب (شرح عقیدہ ابن حاجب) میں لفظِ ’’نبی‘‘ کے مادہ اشتقاق ’’نَبَاءَ‘‘ کے حوالے سے ’’خروج‘‘ کا معنی بھی آیا ہے۔ صاحب تحریر المطالب شرح عقیدہ ابن حاجب پر خروج کے اعتبار سے اس کا معنی لکھتے ہیں کہ : خَرَجَ مِنْ بَلَدٍ اِلٰی بَلَدٍ اُخْرٰی خَرَجَ مِنْ اَرْضِ اِلٰی اَرْضِ اُخْرٰی ۔
ترجمہ : ایک جگہ سے کوئی نکل کر دوسری جگہ چلا جائے، ایک حال سے نکل کر دوسرے حال میں چلا جائے ۔

اس معنی کے لحاظ سے نبی کا معنی ہوگا : اَلَّذِيْ اَخْرَجَ النَّاسَ مِنَ الضَّلَالَةِ اِلٰی الْهُدی ۔
ترجمہ : وہ ذات جس نے لوگوں کو گمراہی سے نکال کر ہدایت میں پہنچادیا۔ وہ ذات جس نے لوگوں کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال دیا، ان کو خروج کردیا اور ہدایت کی روشنی میں لے گئے، اس کو نبی کہتے ہیں ۔

نبی کا ایک معنیٰ ہے تمام مخلوق سے اعلیٰ : ⏬

لفظِ ’’نبی‘‘ کے دوسرے مادہِ اشتقاق ’’نَبَا، اَلنَّبْوةُ‘‘، کے اعتبار سے بھی لفظِ نبی کے مختلف معانی ہیں۔ اَلنَّبْوةُ کا معنی ہے: اَلْاِرْتِفَاع جس کو بلندی ملی‘‘۔ اسی سے اَلنَّبَاوَة ہے یعنی جومقام بلند ہو۔ زمین سے بلند ٹیلہ، بلند مینار یا بلند جگہ جو دور سے نظر آئے، جس کو دیکھ کر لوگ ہدایت پائیں، بھولے ہوئے راستہ پائیں۔ اس شے کی بلندی کی وجہ سے اس کو نَبْوٰی کہتے ہیں۔ ائمہ لغت کا کہنا یہ ہے کہ اس وجہ سے اس سے النَّبُوَّة اخذ کیا ہے۔ اس سے لفظ نبی نکلا ہے۔ نبی کو اس معنی کے لحاظ سے اس لیے نبی کہتے ہیں کہ : اِنَّهُ شُرِّفَ عَلٰی سَائِرِالْخَلْقِ ، اُسے ساری مخلوق میں سب سے بلند بنایا جاتا ہے ۔

نبی کو وہ شان ، عظمت ، بلندی ، شرف اور رفعت دی جاتی ہے کہ ان کا مقام کل کائنات انسانی اور خلق میں سب سے بلند ہوتا ہے ۔ اس کی ذات کی بلندی کو دیکھ کر لوگ اسے آئیڈیل بناتے ہیں اور اس سے راستہ پاتے ہیں ۔

ابن الاعرابی نے اَلنَّبْوةُ کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ اَلْمُرْتَفِعُ مِنَ الْاَرْضِ زمین پست ہوتی ہے ، ایک ہی لیول میں ہوتی ہے اور وہ چیز، پہاڑ، ٹیلہ ، مینار یا عمارت جو زمین کی پستی کو چھوڑ کر بلند ہوجائے، اس کو ’’نَبْوَة‘‘ کہتے ہیں ۔ اس معنی کی رُو سے ۔ اَلنَّبِيّ هُوَا الْعَلَمُ مِنْ اَعْلَامِ الْاَرْضِ الَّتِيْ يُهْتَدٰی بِهٰا ۔ نبی اس ذات کو کہتے ہیں جس کا مقام و مرتبہ سب سے اونچا ہو اور لوگ اسے دیکھ کر رہنمائی پائیں ۔

گویا نبی کو نبی اس لیے کہتے ہیں اللہ تعاليٰ اسے ساری مخلوق پر بلندی ، عظمت اور رفعت عطا کرتا ہے۔ پس اسی عظمت اور علو مرتبت کی وجہ سے وہ نبی کہلاتا ہے ۔

قاضی عیاض کہتے ہیں:هُوَ مَرْتَفَعَ مِنَ الْاَرْضِ وَمَعْنَاهُ اَنَّ لَهُ رُتْبَةً شَرِيْفَةً وَمَکَانَةً نَبِيْهَا ۔
ترجمہ : وہ ذات جو ساری مخلوق ارضی اور ساری مخلوق سماوی سے بلند ہوتی ہے ۔ اسے اتنا بلند رتبہ ، بلند مقام اور وہ شرف و عظمت عطا کی جاتی ہے کہ ہر شے اس کی عظمت کے نیچے ہوجاتی ہے ۔

نبی کا ایک معنیٰ راستہ بھی ہے : ⏬

مادہ اشتقاق ’’نَبَا‘‘ کے اعتبار سے نبی کا ایک معنی ’’طریق‘‘ (راستہ) بھی ہے۔ تمام لغت کی کتب نے اسے بیان کیا ہے کہ : اَلنَّبِيّ هُوَ الطَّرِيْقُ وَالْاَنْبِيَاءُ طُرُقُ الْهُدٰی ۔
ترجمہ : نبی راستے کو کہتے ہیں، انبیاء وہ ذوات ہیں جو بھولے ہوؤں کو ہدایت کا راستہ دکھاتے ہیں ۔

نبی کی ذات ایک نئی راہ اور نئی طرز دیتی ہے۔ جب لوگ بھولے ہوئے ، بھٹکے ہوئے اور گمراہ ہوتے ہیں ، انہیں نہ اپنی پہچان ہوتی ہے اور نہ اپنے خالق کی پہچان ہوتی ہے ۔ نہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہوتا ہے اور نہ دوسرے کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کی معرفت ہوتی ہے ۔ وہ محظ گمراہی ، لاعلمی ، بے خبری ، جہالت اور ضلالت میں ہوتے ہیں ۔ لغت کے اس معنی کے اعتبار سے ان حالات میں نبی کی ذات خود راستہ ہوتی ہے ۔ جب نبی مبعوث ہوتا ہے تو بھولے ہوئے انسانوں کو راستہ دکھا دیتا ہے ۔ اس نبی کی ذات ، سیرت ، وجود ، عمل ، طور طریقے اور اسوہ و شعار میں خود ایک راستہ ہوتا ہے جو بھولے ہوؤں کو حق کی طرف لے جاتا ہے ۔ وہ نبی ایسا راستہ دکھاتا ہے کہ بندے کو نہ صرف اپنی بلکہ اپنے خالق و مالک کی پہچان بھی ہوتی ہے ۔ اپنے اور دوسرے لوگوں کے درمیان رشتے کی نوعیت کی پہچان کے ساتھ ساتھ وہ اچھے برے کو بھی جان جاتا ہے۔ گویا ایک کامل ہدایت کا راستہ دے دینے والے اور انسانیت کےلیے خود راستہ بن جانے والے کو نبی کہتے ہیں ۔

ابومعاذ النحوی نے قدیم لغتِ عرب کا ایک قول نقل کیا ہے کہ مَنْ يَضُلُّنِيْ النَّبِی اَيْ اَلطَّرِيْق ، یعنی کسی نے پوچھنا ہو کہ میں بھولا ہوا ہوں، کوئی مجھے راستہ دکھا دے تو راستہ پوچھنے کےلیے کہتے : مَنْ يَضُلُّنِيْ عَلَی النَّبِی یعنی کوئی مجھے نبی دکھا دے ۔ نبی دکھانے کا مطلب یہ ہوتا کہ میں بھولا ہوا ہوں کوئی مجھے سیدے راستے پر چلادے۔ پس نبی کا وجود خود سیدھا راستہ ہوتا ہے ۔

اسی لیے قرآن مجید نے کہا : اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ ۔ (سورة الفاتحہ)
ترجمہ اے اللہ ہمیں سیدھے راستے پر چلا ۔
الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ خود وجود مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام ہے اور ذات مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ ہے ۔

نبی کی ذات ایک طرف تمام مخلوق میں سب سے بلند ہوتی ہے اور دوسری طرف نبی وہ ہے جس سے لوگ راستہ پائیں۔ اس کا معنی یہ بھی ہے کہ ایسا راستہ، طریقہ اور وسیلہ جو لوگوں کو اللہ تک لے جائے گویا لوگوں کو اللہ سے ملانے کے راستے اور واسطے کو بھی نبی کہتے ہیں ۔

نبی کا ایک معنیٰ جدا ( علیحدہ ) بھی ہے : ⏬

لفظ اَلنَّبْوةُ ، اَلنَّبَاوَة سے نبی کا ایک اور دلچسپ معنی بھی ہے ۔ وہ معنی ہے اَلْجَفْوَہ ، جدائی ، علیحدگی ۔ اس معنی کی رو سے نبی کا معنی ہے وہ ذات جو جدا اور علیحدہ ہو۔قرآن مجید میں ہے کہ : تَتَجَافٰی جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ ۔ (سورة السجدة آیت نمبر 16)
ترجمہ : ان کے پہلو اُن کی خوابگاہوں سے جدا رہتے ہیں ۔

اس آیت مبارکہ میں بستر سے جدا کےلیے تَتَجَافٰی کا لفظ استعمال کیا جو اَلْجَفْوٰی سے ہے۔ نبوت کا ایک معنی یہی اَلْجفوٰی ہے۔ اس معنی کی رُو سے نبی وہ ہے جو علیحدہ ہو، جو دوسروں سے جدا ہو ۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ نبی کس طرح دوسروں سے جدا ہوتا ہے؟ اس معنی کی رو سے جدائی دو طرح کی ہے : ( 1 ) ذاتی طور پر دوسروں سے جدا ۔ ( 2 ) معاشرتی رسوم و رواج سے علیحدہ ۔

( 1 ) ذاتی طور پر دوسروں سے جدا : نبی کی اپنی ذات میں علیحدگی اور جدائی یہ ہے کہ وہ اپنی ذات میں پیکر بشریت ہوتا ہے مگر باقی بشروں سے جدا ہوتا ہے، عالم بشریت سے علیحدہ ہوتا ہے۔ نبی کے وجود انسانی اور پیکر بشریت میں خود ایک جدائی اور علیحدگی ہوتی ہے۔ یہ مقامِ نبوی جو انہیں دوسروں سے جدا کرتا ہے بایں طور ہے کہ بشری پیکر ہونے کے باوجود وہ بشریت کے وصف سے علیحدہ ہوتے ہیں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیکر بشری تھا مگر سایہ نہ تھا، ہر بشری اور انسانی وجود کا سایہ ہوتا ہے، سائے کے بغیر کوئی وجود نہیں۔ جب پیکر بشری ہو مگر سایہ نہ ہو تو بشری پیکر رکھنے کے باوجود بشریت سے جدا ہوگئے۔۔۔ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسینہ آتا تھا مگر پسینے میں بدبو نہ تھی بلکہ خوشبو تھی، لہذا اپنے پیکر بشری میں دوسروں سے جدا ہوگئے۔۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جسم رکھتے تھے مگر اس پر مکھی نہ بیٹھتی تھی۔۔۔ انسانی جسم تھا، جسم کی ضرورتیں ہوتی ہیں مگر مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلسل فاقوں سے ساری زندگی گزاری اور کبھی کمزوری نہ ہوئی۔۔۔ اس پیکر نبوت کی آنکھیں تھیں، آنکھیں صرف آگے دیکھنے کے لئے ہوتی ہیں مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھیں جس طرح آگے دیکھتی تھیں اسی طرح پیچھے بھی دیکھتی تھیں۔۔۔ ہماری آنکھیں روشنی میں دیکھتی ہیں، اندھیرے میں نہیں دیکھ سکتیں مگر آقا علیہ السلام کا پیکر بشریت طیبہ ایسا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھیں اندھیرے میں اسی طرح دیکھتیں جس طرح اجالے میں دیکھتیں۔۔۔ تمام پیکران بشریت کے لعاب دہن سے امراض پیدا ہوتے ہیں، جراثیم پیدا ہوتے ہیں مگر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جسے اپنا لعاب دہن لگا دیتے تو اس کو شفا مل جاتی، اندھے کو بینائی مل جاتی، بیماروں کی امراض دور ہوجاتیں۔

گویا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عالم بشریت سے تھے مگر بشری خصائص سے جدا اور علیحدہ ہوگئے تھے۔ بشری پیکر رکھ کر اس طرح بشری خصائل سے الگ ہوئے کہ عالم نور کے ملائکہ بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تلوؤں کے برابر نہ رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرشی ہوکر عرشیوں سے بھی اونچی شان کے حامل ہوگئے۔ یہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی ذات کے اعتبار سے دوسروں سے علیحدگی اور جدائی کی شان ہے۔

( 2 ) معاشرتی رسوم و رواج سے علیحدہ : ایک علیحدگی اور جدائی کی شان حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایسی بھی ہے جس کا تعلق اس اجتماع اور معاشرت کے ساتھ تھا جس میں آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رہتے تھے۔ وہ جدائی یہ ہے کہ جس معاشرے میں آقا علیہ السلام کی بعثت ہوئی، اس معاشرے کا عالم یہ تھا کہ لوگ قتل و غارتگری کرتے تھے۔ چھوٹی چھوٹی بات پر نسلیں قتل ہوجاتی تھیں، پڑھنے لکھنے کا نام نہیں لیتے تھے۔ جہالت، ظلم، جبر، بربریت مسلط تھی۔ نفرتیں عام تھیں، انسانیت کی کوئی قدر اور عزت نہ تھی۔ خون خرابہ اور دشمنی و عداوت عام تھی۔ قبیلوں میں اگر لڑائی ہوجاتی تو دو دو سو سال جنگیں چلتی تھیں اور ہزارہا لوگ مارے جاتے اور انسانی لاشوں کے ڈھیر لگ جاتے تھے۔

ایسے معاشرے میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شانِ جدائی بایں طور سامنے آئی کہ آپ اس قتل و غارت کے معاشرے میں پیکر امن بن کر تشریف لائے۔ وہ معاشرہ جس میں انسان کی عزت و تکریم کا کوئی تصور نہ تھا، آقا علیہ السلام اس معاشرے میں رہے اور اس معاشرے کے برے رسم و رواج سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے انسان کی تکریم و عظمت کا سبق دیا۔۔۔ قتل و غارتگری سے منع کیا۔۔۔ ان پڑھوں کو پڑھنا لکھنا سکھایا۔۔۔ دشمنی کرنے والوں کو محبت کرنا سکھایا۔۔۔ خون خرابہ کرنے والوں کو خون کی حفاظت کرنا سکھایا۔۔۔ عزتیں لوٹنے والوں کو عزت بچانا سکھایا۔۔۔ پورے معاشرے میں جبر اور بربریت کرنے والوں کو رحمت کا طریقہ سکھایا۔ اس طرح معاشرے کی جو روش اور طریقہ تھا، آقا علیہ السلام اس طریقہ اور روش سے علیحدہ ہوتے ہوئے اس اجتماع اور معاشرے کی خصلتوں سے جدا ہوگئے۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی معاشرے میں پیدا ہوئے، اسی معاشرے میں بچپن، لڑکپن اور جوانی گزاری۔ اس معاشرے میں شب و روز گزارے جہاں طاقتور، کمزور کو غلام بنالیتے تھے، انہیں کوڑوں سے مارتے تھے، انہیں پتھروں کی سزا دیتے اور آگ میں جلادیتے، چھوٹی چھوٹی بات پر قتل کردیتے۔ پوری زندگی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرب کے اس معاشرے میں گزاری۔ اس دور میں کوئی جدید تہذیب نہ تھی، کوئی ماڈرن کلچر نہ تھا، میرے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روم، مصر اور بابل نہیں گئے، وہ کتابوں اور انٹرنیٹ کا دور بھی نہ تھا۔ وہی معاشرہ ہی ہر ایک کا استاد تھا مگر اس معاشرے میں جنم لینے کے باوجود آقا علیہ السلام نے اس معاشرے کو اپنا استاد نہیں بنایا بلکہ خود اس معاشرے کے استاد بن گئے، اس معاشرے کے معلم، مرشد، ہادی اور رہبر بنے اور اس طرح معاشرے کی روش سے جدا ہوگئے۔ کردار، آئیڈیاز، فکر، سوچ، تعلیم اور عمل کی یہ جدائی اور علیحدگی بایں طور سامنے آئی کہ اس معاشرے کو امن اور رحمت کا مرکز بنا دیا ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

No comments:

Post a Comment

میوزک مطلقاً ناجائز و حرام ہے ، کوئی میوزک حلال نہیں جہلائے زمانہ نام نہاد محککین کو مدلل جواب

میوزک مطلقاً ناجائز و حرام ہے ، کوئی میوزک حلال نہیں جہلائے زمانہ نام نہاد محککین کو مدلل جواب محترم قارئینِ کرام : گانے سننا حرام اور برا ف...