حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک یزید کافر اور لعنتی ہے
محترم قارئینِ کرام : قاضی ثناء اللہ پانی پتی حنفی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 1225 ھ) جو کہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد تھے اورحضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے "اپنے دور کا بیہقی" ہونے کا لقب دیا ہے وہ لکھتے ہیں : یزید اور اس کے ساتھیوں نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی اور اہل ِبیت کی دشمنی کا جھنڈا انہوں نے بلند کیا اور حضرت حسین کو انہوں نے ظلماً شہید کردیا اور یزید نے دین ِمحمدی کا ہی انکار کردیا اور حضرت حسین کو شہید کرچکا تو چند اشعار پڑھے جن کا مضمون یہ تھا کہ آج میرے اسلاف ہوتے تو دیکھتے کہ میں نے آلِ محمد اور بنی ہاشم سے ان کا کیسا بدلہ لیا ۔ یزید نے جو اشعار کہے تھی ان میں آخری شعر یہ تھا : احمد نے جو کچھ (ہمارے بزرگوں کے ساتھ بدر میں) کیا اگر اولاد سے میں نے اس کا انتقام نہ لیا تو میں بنی جندب سے نہیں ہوں ۔
یزید نے شراب کو بھی حلال قرار دے دیا تھا ۔ شراب کی تعریف میں چند شعر کہنے کے بعد آخری شعر میں اس نے کہا تھا : اگر شراب دینِ احمد میں حرام ہیں تو (ہونے دو) مسیح بن مریم کے دین (یعنی عیسایت) کے مطابق تم اس کو(حلال سمجھ کر) لے لو ۔ یزید اور اس کے ساتھیوں اور جانشینوں کے یہ مزے ایک ہزار مہینے تک رہے ، اس کے بعد ان میں سے کوئی نہ بچا ۔ (تفسیر مظہری عربی جلد 5 صفحہ 271 سورہ 14 آیت 29،چشتی)(تفسیر مظہری جلد پنجم صفحہ نمبر 327)
یزید بد بخت نے امام حسین رضی اللہ عنہ شہید کروایا اور اسے بدر والے مقتول کفار کا بدلہ قرار دیا ، یزید نے شرابیل کو حلال جانا ، حرمت کعبۃ اللہ و مدینۃ المنوّرہ پامال کی غرض کونسا جرم ہے جو اس نے نہ کیا ۔ (تفسیر مظری پنجم صفحہ 645)
سورہ نمبر 24 آیت 55 کی تفسیر میں بھی قاضی ثناءاللہ پانی پتی حنفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آیت "ومن كفر بعد ذلك" میں یزید بن معاویہ کی طرف اشارہ ہو ۔ یزید نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے کو اور آپ کے ساتھیوں کو شہید کیا ۔ یہ ساتھی خاندانِ نبوت کے ارکان تھے ، عزتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بےعزتی کی اور اس پر فخر کیا اور کہنے لگا آج بدر کے دن کا انتقام ہوگیا، اسی نے مدینۃ الرسول پر لشکر کشی کی اور حرہ کے واقع میں مدینہ کو غارت کیا اور وہ مسجد میں جس کی بناء تقویٰ پر قائم کی گئی تھی اور جس کے جنت کو باغوں میں سے ایک باغ کہا گیا ہے اس کی بے حرمتی کی، اس نے بیت اللہ پر سنگباری کےلیے منجیقیں نصب کرایئں اور اس نے اول خلیفہ رسول حضرت ابو بکر کے نواسے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم کو شہید کرایا اور ایسی ایسی نازیبا حرکتیں کیں کہ آخر اللہ کے دین کا منکر ہوگیا اور اللہ کی حرام کی ہوئی شراب کو حلال کر دیا ۔ (تفسیر مظہری جلد 8 صفحہ 268)
قاضی ثناء اللہ پانی پتی حنفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : یزید پر لعنت کرنا جائز ہے امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے قرآن سے ثابت کیا ہے اور جو اللہ کو مانتا ہے وہ یزید سے دوستی نہیں کرے علامہ ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک یزید پر لعنت ہے ، اور یزید کا کفرِ صریح یہ ہے کہ اس نے سرِ امام حسین رضی اللہ عنہ کی توہین کی اور کفریہ اشعار پڑھے ایسوں پر اللہ ، تمام فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہو ۔ (السیف المسلول صفحہ 488 تا 490 مطبوعہ فاروقی کتبخانہ ملتان)
یزید کے کفریہ اشعار درج ذیل ہیں : ⏬
ليت أشياخي ببدر شهدوا
جزع الخزرج من وقع الاسل
قد قتلنا الكثير من أشياخهم
وعد لناه ببدر فاعتدل
لست من خندف إن لم أنتقم
من بنی أحمد ما كان فعل
لعبت هاشم بالملك فلا
خبر جأ ولا وحی نزل
ترجمہ اشعار : اے کاش ہمارے وہ آبا و اجداد (کفّار) جو غزوہ بدر میں مارے گئے زندہ ہوتے تو وہ دیکھ لیتے کہ آل احمد (محمد کے خاندان) سے ہم نے کیسا انتقام لیا ۔ ہم نے ان کی اولاد کو قتل کر کے بدر کا بدلہ چکا دیا ۔ اگر آل احمد سے بدلہ نہ لیا تو میں بنی خندف سے نہیں ہوں ، بنی ہاشم نے اقتدار حاصل کرنے کےلیے کھیل کھیلا ، ان پر نہ کوئی وحی نازل ہوئی اور نہ کوئی فرشتہ آیا ۔ (ابن جوزی المنتظم جلد 2 صفحہ 199)(ابو الفرج اصبہانی، مقاتل الطالبيين جلد 1 صفحہ 34،چشتی)(ابن المطهر البدء والتاريخ جلد 1 صفحہ 331)(الدولة الأموية للصلابی جلد 2 صفحہ 256)(البداية والنهاية جلد 8 صفحہ 192)(تاريخ الطبری جلد 8 صفحہ 187 ، 188)
قاضی ثناء اللہ پانی پتی حنفی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے ایک خط میں تحریر کیا : یزید نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے کو اور آپ کے ساتھیوں کو شہید کیا ۔ یہ ساتھی خاندانِ نبوت کے ارکان تھے ، عزتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بےعزتی کی اور اس پر فخر کیا اور کہنے لگا آج بدر کے دن کا انتقام ہوگیا، اسی نے مدینۃ الرسول پر لشکر کشی کی اور حرہ کے واقع میں مدینہ کو غارت کیا اور وہ مسجد میں جس کی بناء تقویٰ پر قائم کی گئی تھی اور جس کے جنت کو باغوں میں سے ایک باغ کہا گیا ہے اس کی بے حرمتی کی، اس نے بیت اللہ پر سنگباری کےلیے منجیقیں نصب کرایئں اور اس نے اول خلیفہ رسول حضرت ابو بکر کے نواسے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم کو شہید کرایا اور ایسی ایسی نازیبا حرکتیں کیں کہ آخر اللہ کے دین کا منکر ہوگیا اور اللہ کی حرام کی ہوئی شراب کو حلال کر دیا ۔ غرض یہ کہ یزید کافر معتبر روایت سے ثابت ہے ۔ پس وہ مستحقِ لعنت ہے اگرچہ لعنت کرنے میں کوئی فائدہ نہیں ہے لیکن الحب فی اللہ البغض فی اللہ اس کا متقاضی ہے ۔ (المکتوبات صفحہ نمبر 152 ، 153 مطبوعہ مطبع مجتبائی دھلی) ۔ ڈاکٹر فیض احمد چشتی ۔





No comments:
Post a Comment