Sunday, 22 August 2021

حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کے گستاخ کون ہیں پہچانیے انہیں کی کتابوں سے

حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کے گستاخ کون ہیں پہچانیے انہیں کی کتابوں سے

محترم قارئینِ کرام : یہ غلیظ لوگ کیسے کیسے حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی شانِ اقدس میں گستاخیاں کر رہے ہیں مگر ان کے خلاف کوئی بولتا نہیں ۔ کسی نام نہاد مولاٸی گدی نشین و مرید ، کسی نام نہاد مولاٸی خطیب و نقیب کی غیرت ان غلیظ نظریات کے خلاف جاگے گی ؟ شیعہ وہ غلیظ لوگ ہیں جو عام مسلمانوں کو دھوکا دینے کےلیے ہر وقت علی علی اور دیگر اہلبیت رضی اللہ عنہم کا دم بھرتے ہیں مگر درحقیقت ان کا سینہ بغضِ اہلبیت رضی اللہ عنہم سے بھرا ہوا ہے ۔ ایک طرف تو یہ شیعہ مولا علی رضی اللہ عنہ کی شان میں اتنا غلو کرجاتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و ضآلہ وسلم بلکہ اللہ عزوجل سے بھی بڑھا دیتے ہیں جبکہ خود اہلبیت پاک رضی اللہ عنہم کی گستاخیوں سے ان کی تاریخ بھری پڑی ہے ۔ ہم شیعوں کی معتبر تفاسیر و دیگر کتب سے ان کی ان گستاخیوں کو پیش کر رہے ہیں اصل کتب کے اسکینز کے ساتھ پڑھیں اور فیصلہ خود کریں : ⬇


مشہور شیعہ کتاب آثارِ حیدری میں لکھا ہے : ایک شخص نے حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کا انکار کیا تو پیشاب بند ہو گیا اس کے آلہ تناسل نے اس سے کہا علی کی ولایت کا اقرار کرو تب اس نے حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کا اقرار کیا ۔ (شیعہ کتاب آثارِ حیدری صفحہ 57 مطبوعہ مکتبہ امامیہ لاہور) ۔ (معاذ اللہ)


شیعہ حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بھی بڑا درجہ دے رہے ہیں ۔ شیعوں کا مشہور عالم ملا باقر مجلسی لکھتا ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی سے کہا اے علی ! تم کچھ ایسی فضیلتوں کے مالک ہو جن سے میں محروم ہوں ۔ مثلاً فاطمہ تمہاری بیوی ہے جبکہ میں ایسی بیوی سے محروم ہوں ، تمہارے دو بیٹے حسن اور حسین ہیں جبکہ میں ایسے مقام و مرتبے والے بیٹوں سے محروم ہوں ، خدیجہ تمہاری ساس ہے جبکہ میری ایسی کوئی ساس نہیں اور میں تمہارا سسر ہوں جبکہ میرا ایسا کوئی سسر نہیں ، فاطمہ ہاشمیہ تمہاری ماں ہے جبکہ میری ماں کا مقام ان کے مثل نہیں ۔ (بحار الانوار جلد 39 صفحہ 55 مطبوعہ بیروت لبنان)

دیکھا آپ نے کس طرح اس شیعہ عالم نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات پاک پر بہتان باندھ کر حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے افضل دکھانے کی ناپاک کوشش کی ہے ۔ معاذ اللہ ۔


شیعہ حضرات کس طرح مولا علی رضی اللہ عنہ کا بغض اپنے سینوں میں سموۓ ہوۓ ہیں ۔ شیعوں کی ایک معتبر تفسیر تفسیر القمی میں درج ہے کہ : حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا مولا علی رضی اللہ عنہ سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھیں اور انہوں نے اس رشتے سے انکار کر دیا تھا اور وجہ یوں بتائی تھی کہ : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فاطمہ کی شادی علی سے کرنے کا ارادہ کیا تو فاطمہ کو بتایا تو فاطمہ کہنے لگیں : آپ کو اپنی مرضی کا زیادہ حق ہے لیکن قریش کی عورتوں نے مجھے ان کے بارے میں بتایا ہے کہ وہ توند (بڑے پیٹ) والے ، لمبی لمبی کہنیوں والے ، کنپٹی پر سے گنجے ہیں ۔ بدن پر چربی چڑھی ہوئی ہے ، آنکھیں ابھری ہوئی ہیں ، اونٹ کی طرح ان کے مونڈھے لٹکے ہوۓ ہیں ، دانت باہر نکلے ہوۓ ہیں اور دار و درم سے بالکل خالی ہیں ۔ (شیعہ تفسیر القمی جلد 2 صفحہ نمبر 336،چشتی)(شیعہ کتاب بحارالانور مترجم اردو حصہ سوم صفحہ 131)


دیکھا آپ نے ان ناپاک لوگوں نے کیسے جنابِ خاتونِ جنت پر بہتان باندھا ہے کہ وہ مولا علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما میں عیب نکالتی تھیں ۔ فیصلہ آپ کا کہ کیا وہ خاتونِ جنت رضی اللہ عنہا جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گود میں پرورش پائی ہو ، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پسند میں عیب نکال سکتی ہے ؟ ۔ معلوم ہوا کہ سیدہ فاطمہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا نے تو مولا علی رضی اللہ عنہ میں کوئی عیب نہ نکالا بلکہ یہ خود شیعوں کا بغض ہے جو جناب حیدر کرار رضی اللہ عنہ میں عیب و نقائص تلاش کر رہے ہیں ۔


شیعہ عالم ابی العباس عبداللہ بن جعفر حمیری لکھتا ہے : وعنه ، عن ابن علوان ، عن جعفر ، عن أبيه ، عن علي عليه السلام: إنه كان إذا أراد أن يبتاع الجارية يكشف عن ساقيها فينظر إليها ۔

ترجمہ : امام باقر عليہ السلام سے مروی ہے کہ حضرت علی عليہ السلام جب بھی کسی کنیز کو خریدنے کا ارادہ کرتے تھے تو وہ کنیز کی ٹانگوں کو ظاہر کرتے اور اس کا معائنہ کرتے ۔ (شیعہ کتاب قرب الاسناد الحميري القمي الصفحة ١٠٣)


دیکھا آپ نے یہ ناپاک لوگوں کیسے جناب حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی گستاخیاں کر رہے ہیں مگر ان کے خلاف کوئی بولتا نہیں ۔ کسی نام نہاد مولاٸی گدی نشین و مرید ، کسی نام نہاد مولاٸی خطیب و نقیب کی غیرت ان غلیظ نظریات کے خلاف جاگے گی ؟


اب ذرا یہ ملاحظہ کیجیے کہ شیعہ علماء نے کس طرح مولا علی رضی اللہ عنہ کو بزدل ثابت کیا ہے چنانچہ مجلسی کی روایت ہے کہ : جب حضرت فاطمہ نے صدیق و فاروق سے فدک کا مطالبہ کیا اور اس سلسلے میں ان سے سخت گفتگو کی تو حضرت علی نے اس سلسلے میں انکی کوئی مدد نہیں کی ۔ اس پر حضرت فاطمہ نے کہا : اے ابنِ ابی طالب ! تو نے یوں اپنے آپ کو چھپا لیا جیسے ماں کے پیٹ میں بچہ ، پیٹ کے بچے کی طرح تو بیٹھا رہا ، اس کے علاوہ بھی بہت کچھ کہا ۔ (حق الیقین صفحہ 403،چشتی)(الامالی صفحہ 295)


کلینی لکھتا ہے کہ : علی اپنی بیٹی ام کلثوم کی شادی عمر سے نہیں کرنا چاہتے تھے لیکن آپ سے ڈرتے تھے اس لیے اپنے چچا عباس کو وکیل بنایا کہ وہ ام کلثوم کی شادی عمر سے کر دیں ۔ (حدیقة الشیعة از المقدس اردبیلی، صفحہ نمبر 277)


قارئین کرام ذرا توجہ فرمائیں کہ وہ علی جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کا شیر کہیں ، وہ علی جو ایک ہاتھ سے خیبر کا دروازہ اکھاڑ دیں ، وہ علی جس کے نام سے آج بھی خیبر کے قلعوں میں زلزلہ آجاتا ہے ۔ اس علی کے بارے میں شیعہ کہتے ہیں کہ وہ بزدل تھے ۔


اب ذرا ملاحظہ ہو کہ خود مولا علی رضی اللہ عنہ شیعوں کے بارے میں کیا راۓ رکھتے تھے : ⬇


ایک موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اہلِ عراق (شیعوں) کو مخاطب کر کے فرمایا : میں اس ذات کی قسم کھا کر کہتا ہوں جسکے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ یہ دشمن قوم تم پر غالب آجاۓ گی، اسلۓ نہیں کہ وہ تم سے زیادہ حق پرست ہے بلکہ اس لیے کہ وہ اپنے باطل پر تم سے زیادہ تیز گام ہے اور تم میرے حق میں سست گام اور کوتاہ خرام ہو۔ قومیں اپنے حکام کے ظلم سے ڈرتی ہیں اور میرا حال یہ ہے کہ اپنی رعیت کے ظلم سے ڈرتا ہوں ، میں نے جہاد پر تم کو ابھارا مگر تم اپنی جگہ سے ہلے نہیں، تمہیں رازدارانہ انداز میں بلایا ، اعلانیہ دعوت دی مگر تم میں ذرا حرکت نہیں ہوئ، نصیحتیں کیں مگر تمہارے کان پر جوں تک نہ رینگی ۔ (مسند علی ابن ابی طالب)


یہ تھی شیعہ قوم جو مولا علی سے محبت کا دعوی تو کرتے  ، جنگ و جدل میں جینے مرنے کی باتیں کرتے مگر جب جنگ کا موقع آتا تو حیلے بہانے تراش کر مولا علی کا ساتھ چھوڑ دیتے ۔


شیعہ امام و فقیہ شیخ مفید لکھتا ہے : محمد بن الحسين بن أبي الخطاب ، عن محمد بن سنان، عن عمار بن مروان، عن المنخل ابن جميل، عن جابر بن يزيد، عن أبي جعفر عليه السلام قال: يا جابر ألك حمار يسير بك فيبلغ بك من المشرق إلى المغرب في يوم واحد؟ فقلت: جعلت فداك يا أبا جعفر وأني لي هذا ؟ فقال أبو جعفر عليه السلام : ذاك أمير المؤمنين ۔ 

ترجمہ : امام باقر عليه السلام سے روایت ہے کہا اے جابر کیا تمہارے پاس ایسا گدھا ہے جو تمہین مشرق سے مغرب تک صرف ایک دن میں لے جائے ؟ جابر نے کہا نہیں ابو جعفر عليه السلام آپ پر قربان جاؤں ایسا گدھا کہاں سے ملے گا ؟ امام باقر عليه السلام نے کہا وہ امیر المومنین علی عليه السلام ہیں ۔ (شیعہ کتاب الاختصاص الشيخ المفيد صفحہ ٣٠۴) ۔ یہی روایت علامہ مجلسی نے بحار الانوار میں بھی بیان کی ہے : الاختصاص : ابن أبي الخطاب عن محمد بن سنان عن عمار بن مروان عن المنخل بن جميل عن جابر بن يزيد عن أبي جعفر عليه السلام قال: قال: يا جابر ألك حمار يسير بك فيبلغ بك من المشرق إلى المغرب في يوم واحد؟ فقلت: جعلت فداك يا با جعفر وأنى لي هذا؟ فقال أبو جعفر: ذاك أمير المؤمنين عليه السلام ۔ (شیعہ کتاب بحار الأنوار العلامة المجلسي جلد ٢٥ صفحہ ٢٣٠،٢٢٩)


ان الله لا يستحيي ان يضرب مثلا ما بعوضة فما فوقها” کی آیت کے تحت علامہ قمی اپنی تفسیر قمی میں لکھتے ہیں : قال وحدثني أبي عن النضر بن سويد عن القسم بن سليمان عن المعلى بن خنيس عن أبي عبد الله عليه السلام ان هذا المثل ضربه الله لأمير المؤمنين عليه السلام فالبعوضة أمير المؤمنين عليه السلام وما فوقها رسول الله صلى الله عليه وآله ۔

ترجمہ : امام جعفر صادق عليه السلام نے فرمایا اس مثال میں الله نے امیر المومنین علی عليه السلام کی مثال بیان کی ہے پس بعوضة یعنی مچھر سے مراد امیر المومنین علی عليه السلام ہیں اور مافوقھا یعنی حقارت میں مچھر سے زیادہ سے مراد رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ (شیعہ کتاب تفسير القمي علي بن إبراهيم القمي جلد ١ صفحہ ٦٢،چشتی)


علامہ سید الخوئی کے نزدیک علی بن ابراہیم قمی کی نقل کی ہوئی سند کے سارے راوی ثقہ ہیں اور تفسیر قمی کی تمام روایات صحیح ہیں ۔ ولذا نحكم بوثاقة جميع مشايخ علي بن إبراهيم الذين روى عنهم في تفسيره مع انتهاء السند إلى أحد المعصومين عليهم السلام. فقد قال في مقدمة تفسيره ۔ (ونحن ذاكرون ومخبرون بما ينتهي إلينا، ورواه مشايخنا وثقاتنا عن الذين فرض الله طاعتهم..) فإن في هذا الكلام دلالة ظاهرة على أنه لا يروي في كتابه هذا إلا عن ثقة، بل استفاد صاحب الوسائل في الفائدة السادسة في كتابه في ذكر شهادة جمع كثير من علماءنا بصحة الكتب المذكورة وأمثالها وتواترها وثبوتها عن مؤلفيها وثبوت أحاديثها عن أهل بيت العصمة عليهم السلام أن كل من وقع في إسناد روايات تفسير علي بن إبراهيم المنتهية إلى المعصومين عليهم السلام، قد شهد علي بن إبراهيم بوثاقته، حيث قال: (وشهد علي بن إبراهيم أيضا بثبوت أحاديث تفسيره وأنها مروية عن الثقات عن الأئمة عليهم السلام ۔ (شیعہ کتاب معجم رجال الحديث العلامة الخوئي جلد نمبر ١ صفحہ نمبر ٤٩،چشتی)


علي بن إبراهيم، عن هارون بن مسلم، عن مسعدة بن صدقة قال: قيل لأبي عبد الله (عليه السلام): إن الناس يروون أن عليا (عليه السلام) قال على منبر الكوفة: أيها الناس إنكم ستدعون إلى سبي فسبوني، ثم تدعون إلى البراءة مني فلا تبرؤوا مني، فقال: ما أكثر ما يكذب الناس على علي (عليه السلام)، ثم قال: إنما قال: إنكم ستدعون إلى سبي فسبوني، ثم ستدعون إلى البراءة مني وإني لعلى دين محمد، ولم يقل: لا تبرؤوا مني ۔

ترجمہ : امام جعفر صادق عليه السلام سے کہا گیا کہ لوگ یہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی عليه السلام نے منبر کوفہ پر کہا لوگوں عنقریب تم سے کہا جائے گا کہ مجھے گالی دو تو تم مجھے گالی دے دینا اور اگر مجھ سے براءت ظاہر کرنے کو کہیں تو نہ کرنا امام جعفر صادق عليه السلام نے فرمایا لوگوں نے حضرت علی عليه السلام پر کیسا جھوٹ بولا ہے پھر فرمایا حضرت علی عليه السلام نے تو یہ فرمایا ہے کہ تم سے مجھے گالی دینے کو کہا جائے تو تم مجھے گالی دے دینا اور اگر مجھ سے برءات کو کہا جائے تو میں دین محمد پر ہوں یہ نہیں فرمایا کہ تم مجھ سے اظہار برءات نہ کرنا ۔ (کتاب الكافي الشيخ الكليني جلد  ٢ صفحہ ١٣٤)


علة الصلع في رأس أمير المؤمنين ” ع “، والعلة التي من أجلها سمى الأنزع البطين ۔

حدثنا أبي ومحمد بن الحسن رضي الله عنهما قالا: حدثنا أحمد بن إدريس ومحمد بن يحيى العطار جميعا عن محمد بن أحمد بن يحيى بن عمران الأشعري باسناد متصل لم احفظه، ان أمير المؤمنين ” ع ” قال: إذ أراد الله بعبد خيرا رماه بالصلع فتحات الشعر عن رأسه وها أنا ذا ۔

حدثنا محمد بن إبراهيم بن إسحاق الطالقاني رضي الله عنه قال: حدثنا الحسن بن علي العدوي، عن عباد بن صهيب، عن أبيه، عن جده، عن جعفر بن محمد ” ع ” قال: سأل رجل أمير المؤمنين ” ع ” فقال: أسألك عن ثلاث هن فيك أسألك عن قصر خلقك، وكبر بطنك، وعن صلع رأسك؟ فقال أمير المؤمنين ” ع ” ان الله تبارك وتعالى لم يخلقني طويلا ولم يخلقني قصيرا ولكن خلقني معتدلا أضرب القصير فأقده وأضرب الطويل فأقطه، وأما كبر بطني فان رسول الله صلى الله عليه وآله علمني بابا من العلم ففتح ذلك الباب الف باب فازدحم في بطني فنفخت عن ضلوعي ۔

ترجمہ : کیا وجہ ہے کہ امیر المومنین علی عليه السلام کے سر کے اگلے حصہ پر بال نہ تھے اور کیا وجہ ہے کہ ان کو الانزع البطین کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے ۔

امیر المومنین علی عليه السلام نے ارشاد فرمایا کہ جب الله کسی بندے کے ساتھ خیر و بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے سر کے بال اڑا دیتا ہے اور یہ دیکھو میں ایسا ہی ہوں ۔

ایک شخص نے حضرت علی عليه السلام سے کہا کہ میں آپ سے تین چیزوں کے متعلق پوچھنا چاہتا ہوں جو آپ میں موجود ہیں یہ بتایے آپ کا قد کیوں چھوٹا ہے ؟ اور پیٹ کیوں بڑا ہے ؟ اور سر کے سامنے کے بال کیوں نہیں ہیں؟ حضرت علی عليه السلام نے جواب دیا الله نے نہ مجھے بہت طویل بنایا اور نہ بہت فقیر بلکہ میرے قد کو مستدل بنایا تاکہ میں اپنے سے پستہ قد کے دو ٹکڑے لمبائی میں کر دوں اور اپنے سے دراز قد کی ٹانگوں پر قطا لگا دوں اب سوال یہ ہے کہ میرا پیٹ کیوں بڑا ہے تو سن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے علم کے بہت سے باب تعلیم کیے اور ہر باب سے مجھ پر علم کے ہزار باب کھل گئے اور سینے میں گنجائش نہ پا کر پیٹ میں اتر آئے ۔ (شیعہ کتاب علل الشرائع الشيخ الصدوق ج ١ الصفحة ١٥٩،چشتی)


اسی طرح کی بات علامہ مجلسی شیعہ نے اپنی کتاب بحار الالنوار میں بھی لکھی ہے : جناب فاطمہ زہرا عليه السلام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ کی رائے سب سے اولی ہے لیکن قریش کی عورتیں تو علی عليه السلام کے متعلق طرح طرح کی باتیں کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ان کا پیٹ نکلا ہوا ہے ہاتھ لمبے ہیں ان کے جوڑوں کی ہڈیاں بہت چوڑی ہیں سر کے اگلے حصہ کے بال بھی نہیں ہیں آنکھیں بڑی بڑی ہیں شیروں اور درندوں جیسے ہاتھ پاؤں ہیں ہر وقت ہنستے رہتے ہیں پھر ان کے پاس نہ مال ہے نہ دولت و حشمت بالکل مفلس اور فقیر ہیں ۔ (کتاب بحار الأنوار العلامة المجلسي ج ٣ الصفحة ١٣١)


شیعوں کی حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شان میں بدترین گستاخی کہ آپ متعہ (یعنی زنا) کرتے تھے (استغفر اللہ) ۔ مع اس گستاخی کا مدلل جواب : ⏬


محترم قارئینِ کرام : شیعوں کا عالم کامل رئیس العلماء نعمت اللہ جزائری لکھتاہے : شیعوں کا حجۃ الاسلام غلام حسین نجفی لکھتا ہے : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بہن حضرت عفرا رضی اللہ عنہا سے متعہ(یعنی زنا) کیا ۔ (الانوار النعمانیہ الجزء الثانی صفحہ نمبر 279 مطبوعہ بیروت لبنان)


شیعوں کا حجۃ الاسلام غلام حسین نجفی لکھتا ہے : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بہن حضرت عفرا رضی اللہ عنہا سے متعہ(یعنی زنا) کیا ۔ (قول مقبول صفحہ نمبر 395 غلام حسین نجفی ماڈل ٹاؤن لاہور)


مردہ ضمیروں کو صداۓ چشتی : ⏬


 کہاں ہیں صحابہ و اہلبیت رضی اللہ عنہم سے محبّت کا دعویٰ کرنے والے ؟


کیوں جناب پیرانِ عظام ، سجادہ نسینان ، ذیشان خطیب حضرات ، مفتیانِ کرام و نقیب حضرات یہ گستاخی نہیں ہے ؟


یہاں آپ کے قلم ، لب ، فتوے ، تقوے ، گھن گرج غریتِ ایمانی سب خاموش کیوں ؟


اس طرح کے عقائد رکھنے والوں کے خلاف آج تک کتنے مفتیوں نے ویڈیو بنا کر اپلوڈ کی ہیں اور کتنے مفتیوں کے فتوے جاری ہوئے ہیں ؟


اور کتنے پیروں کو اس پر درد ہوا تکلیف ہوئی اور انہوں نے ان گستاخیوں کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور احتجاجی جلسے جلوس کیے ؟


آخر ان مفتیوں اور پیروں اس طرح کے شیعوں کے غلیظ عقائد پر سانپ کیوں سونگھ جاتا ہے کہاں ہیں مفتیانِ کرام ؟


کہاں ہیں پیرانِ عظام ؟


کہاں ہیں نقیبانِ محافل ؟


کہاں ہیں ذیشان خطیب حضرات ؟


یہاں آپ کی غیرتِ ایمانی کہاں دفن ہو گئی ؟


جواب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکاح متعہ کے حرام قرار دیا : ⏬


شیعہ کی کتابوں سے حوالہ پیشِ خدمت ہے اور تمام راوی بھی شیعہ امامی اثناعشری علماء کے مطابق ثقہ ہیں : محمد بن یحیی عن ابی جعفر عن ابی الجوزا عن الحسین بن علوان عن عمرو بن خالد عن زید بن علی عنآباۂ عن علی علیھم السلام قال حرم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ یوم خیبر لحوم الحمر الاھلیۃ ونکاح المتعۃ ۔

ترجمہ : امام زید بن علی نے اپنے آباء و اجداد سے اور انہوں نے حضرت علی سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کے دن پالتو گدھے کا گوشت اور نکاح متعہ کے حرام قرار دیا ۔ (محمد بن یحیی ثقہ ہے جامع الرواۃ جلد ۲ صفحہ ۳۱۲)(ابو جعفر ثقہ ہے المفید من معجم رجال الحدیث صفحہ ۶۹۰)(ابوالجوزاء ثقہ ہے مشایخ الثقات صفحہ ۸۶)(حسین بن علوان ثقہ ہے معجم رجال الحدیث جلد ۷ صفحہ ۳۴)(عمرو بن خالد ثقہ ہے معجم رجال الحدیث جلد ۱۴ صفحہ ۱۰۲)


 امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : احمد بن محمد بن عیسی فی (نوادرہ) عن ابن ابی عمیر ، عن ھشام بن الحکم ، عن ابی عبد اللہ علیہ السلام فی المتعۃ قال : ما یفعلھا عندنا الا الفواجر ۔

ترجمہ : ہشام بن حکم نے امام جعفر سے روایت کی ہے کہ انہوں نے متعہ کے بارے میں فرمایا : اس کو ہمارے ہاں سوائے فاجروں کے اور کوئی نہیں کرتا ۔ (وسائل الشیعہ جلد ۱۴ صفحہ ۴۵۶) ۔ اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں ۔ (محمد بن یحیی ثقہ ہے جامع الرواۃ جلد ۲ صفحہ ۳۱۲،چشتی)(ابو جعفر ثقہ ہے المفید من معجم رجال الحدیث صفحہ ۶۹۰)(ابوالجوزاء ثقہ ہے مشایخ الثقات صفحہ ۸۶)(حسین بن علوان ثقہ ہے معجم رجال الحدیث جلد ۷ صفحہ ۳۴)(عمرو بن خالد ثقہ ہے معجم رجال الحدیث جلد ۱۴ صفحہ ۱۰۲)


عن زید بن علی عن آبائہ علیھم السلام قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لحوم الحمر الاھلیۃ و نکاح المتعۃ ۔ (الا ستبصار جلد 2 صفحہ 77،چشتی)

ترجمہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پالتو گدھوں کو اور متعہ کو حرام فرمادیا ہے ۔

"استبصار" کے علاوہ امامیہ کی دوسری کتب صحاح میں بھی حرمت متعہ کی روایات موجود ہیں ۔ شیعہ حضرات ان کے جواب میں بے دھڑک کہہ دیتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایسی روایت تقیۃً بیان فرمائی ہیں اور جان کے خوف سے تقیۃً بیان فرمائی ہیں اور جان کے خوف سے تقیۃً جھوٹ بولنا عین دین ہے ۔ کیونکہ "کافی کلینی" میں ہے : من لا تقیۃ لہ لا دین لہ، جو ضرورت کے وقت تقیہ نہ کرے وہ بے دین ہے ۔ سوال یہ ہے کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے جب یزید کے خلاف آوازہ حق بلند کیا اور ہزار ہا مخالفوں کے سامنے تلواروں کے جھنکار اور تیر و تفنگ کی بوچھاڑ میں بیعت یزید سے انکار کیا تو کیا اس وقت امام حسین تعک تقیہ کی وجہ سے (معاذ اللہ) بے دین ہوگئے تھے ؟ اور اگر ایسے شدید ابتلاء میں بھی تقیہ نہ کرنا ہی حق و صواب تھا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کا بغیر کسی ابتلاء کے بے حساب روایات تقیۃً بیان کرنا کس طرح حق و ثواب ہوگا ؟ کاش ! شیعہ حضرات میں سے کوئی شخص اس نکتہ کو حل کرکے لاکھوں انسانوں کی ذہنی خلش کو دور کرسکے ۔


امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ روایت فرماتے ہیں : عن علی بن ابی طالب ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نھی عن متعۃ النساء یوم خیبر ۔ (بخاری جلد 2 صفحہ 606)

ترجمہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح خیبر کے دن عورتوں کے ساتھ متعہ کرنے سے منع فرمادیا ۔


غزوہ خیبر کے بعد فتح مکہ کے موقعہ پر تین دن کے لیے متعہ پھر مباح ہوا ، اس کے بعد بی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیامت تک کے لیے متعہ کو منسوخ فرمادیا ، چنانچہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ میں روایت فرماتے ہیں : عن ابی سلمۃ قال رخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عام او طاس فی المتعۃ ثلاثا ثم نھا عنھا و باسناد اخر قال یایھا الناس انی قد کنت اذنت لکم فی الاستمتاع من النساء وان اللہ قد حرم ذالک الی یوم القیامۃ ۔ (مسلم جلد 1 صفحہ 451،چشتی)

ترجمہ : ابی سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے موقعہ پر تین دن متعہ کرنے کی اجازت دی تھی ، پھر اس سے منع فرمادیا اور دوسری روایت میں ہے: اے لوگو! میں نے تمھیں پہلے عورتوں سے متعہ کی اجازت دی تھی اور اب اللہ تعالی نے قیامت تک کے لیے اس کو ممنوع فرمادیا ہے ۔


محترم قارئینِ کرام : علماء کا اتفاق ہے کہ جنگ خیبر سے پہلے متعہ حلال تھا پھر جنگ خیبر کے موقع پر متعہ حرام کر دیا گیا ۔ پھر فتح مکہ کے موقع پر تین دن کےلیے متعہ حلال کر دیا کیا گیا اور اس کے بعد اس کو دائما حرام قرار دیا گیا ۔


متعہ کو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حرام قرار نہیں دیا اور نہ ہی آپ کا یہ منصب تھا بلکہ آپ نے متعہ کی حرمت کو واضح کیا تھا۔ کسی بھی حدیث میں یہ نہیں ہے کہ وطن میں متعہ کی اجازت دی گئی ہو ۔ بلکہ جنگ کے ایام میں سخت گرمی کی وجہ سے اس کو حلال کیا گیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے بغیر بیویوں کے ان سخت گرم علاقوں میں رہنا مشکل تھا۔ اس لیے مباح قرار دیا گیا تھا لیکن اس کے بعد فتح مکہ کے موقع پر قیامت تک کے لیے حرام قرار دیا گیا تھا ۔


حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک میں گئے ہم تثنیۃ الوداع پر اترے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چراغوں کو دیکھا اور عورتوں کو روتے ہوئے دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ بتایا گیا کہ یہ وہ عورتیں ہیں جن سے متعہ کیا گیا تھا اور وہ رو رہی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ نکاح ، طلاق ، عدت ، اور میراث نے متعہ کو حرام کر دیا ہے ۔ (مسند ابو يعلی رقم الحديث : 6594)


حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ خیبر کے دن عورتوں سے متعہ اور پالتو گدھوں کے گوشت کو حرام کر دیا ۔ (صحيح بخاری حديث نمبر : 4216،چشتی)(صحيح مسلم، حديث نمبر : 1407)


قرآن و حدیث میں نکاح متعہ کا کہیں ذکر نہیں ملتا ۔ متعہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حرام قرار دے دیا ۔ لہٰذا اب اگر کوئی یہ کہے کہ متعہ حلال و جائز ہے یہ کلام اور ہے ۔ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا : فَانكِحُواْ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلاَثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ تَعْدِلُواْ فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ۔ (سورہ النساء)

ترجمہ : جو عورتیں تم کو پسند ہیں ان سے نکاح کرو دو دو سے تین تین سے اور چار چار سے اور اگر تمہیں یہ خدشہ ہو کہ ان کے درمیان انصاف نہیں کر سکو گے تو صرف ایک نکاح کرو یا اپنی کنیزوں پر اکتفا کرو ۔


اللہ تعالی نے قضاء شہوت کی صرف دو جائز صورتیں بیان فرمائی ہیں ۔ ایک سے چار بیویوں تک نکاح کر سکتے ہیں یا پھر اپنی باندیوں سے نفسانی خواہش پوری کر سکتے ہیں اور بس ۔ اگر متعہ بھی قضاء شہوت کی جائز شکل ہوتا تو اللہ تعالی اس کا بھی ان دو صورتوں کے ساتھ ذکر فرماتا ۔ اس جگہ متعہ کا بیان نہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ جائز نہیں ۔ اوائل اسلام سے لےکر فتح مکہ تک متعہ کی جو شکل معمول اور مباح تھی اس آیت کے ذریعے اس کو منسوخ کر دیا گیا ۔ یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ متعہ میں صرف عیاشی ہے اس میں نہ تو مرد پر عورت کے لیے نان و نفقہ ہوتا ہے اور نہ طلاق نہ عدت اور نہ وہ مرد کی وارث بنے گی ، یہ محض صرف عیاشی ہے اور عورت کی حفاظت و عزت صرف نکاح میں ہے ۔  فہمِ مستقیم کے لیے ان میں ہدایت ہے کہ متعہ کے حرام کرنے والے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ہیں اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ تو صرف اس حرمت کو نافذ کرنے والے ہیں ۔


محترم قارئینِ کرام : ہماری اوپر کی گفتگو میں آپ نے بارہا "متعہ" کے بدلے لفظ "زنا" کا استعمال دیکھا اور پڑھا ہے ... ایک سوال شاید آپ کے ذہن میں انگڑائیاں لے رہا ہو کہ ہم نے آخر ایسا کیوں کیا ... تو آیئے آپ کے اس سوال کا جواب بھی دے دیتے ہیں :


(1) زنا میں زانیہ کو اجرت دی جاتی ہے اور کبھی کبھی زانیہ زانی کو اجرت دیتی ہے ۔


(2) زنا کےلیے وقت بھی متعین کیا جاتا ہے کہ کب سے کب تک ۔


(3) زنا میں تنہائی ضروری ہوتی ہے ۔


(4) زنا میں عورتوں کی قید نہیں ہے، جتنی عورتوں سے چاہو زنا کر لو ۔


(5) زنا صرف جنسی لذت کے لئے ہوتا ہے ۔


(6) زنا میں مقررہ وقت کے بعد جب جدائی ہوتی ہے تو کوئی طلاق و خلع کی بات نہیں ہوتی ۔


(7) زانیہ وارث نہیں بن سکتی ۔


(8) زانی کے ذمے زانیہ کا نان و نفقہ بھی نہیں ہوتا ہے ۔


اوپر کی عبارت پڑھنے کے بعد اب آپ ہر جملے سے لفظ "زنا" نکال دیں اور اس کی جگہ "متعہ" کا لفظ رکھ دیں اور پھر پوری عبارت پڑھیں ، دونوں میں ذرا بھی فرق آپ کو نہیں ملے گا ، ہاں بس ایک ہی چیز کا فرق ہوگا کہ اِسے "زنا" کہا جاتا ہے اور اُسے "متعہ" کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ اب اس نتیجے پر پہنچنے کے بعد اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی پڑھ لیں : وَلَا تَقرَبُوا الزِّنَا اِنَّهُ کَانَ فَاحِشَةً ، یعنی زنا کے قریب بھی نہ جانا کیونکہ یہ بہت ہی بری اور فحش چیز ہے ۔ (سورہ بنی اسرائیل آیت نمبر 32)


اللہ تعالیٰ مسلک حق اہلِسنت پر رہتے ہوۓ تمام صحابہ و اہلبیت رضی اللہ عنہم کی غلامی میں ہمیں موت عطا کرے آمین ۔ دعا گو فیض احمد چشتی ۔








No comments:

Post a Comment

کیا خطاءِ اجتہادی گناہ و گستاخی ہے ؟ خطاءِ اجتہادی کو گناہ و گستاخی بنانے والوں کے نام

کیا خطاءِ اجتہادی گناہ و گستاخی ہے ؟ خطاءِ اجتہادی کو گناہ و گستاخی بنانے والوں کے نام محترم قارئینِ کرام : شرعی حکم کو پہچاننے کےلیے اپنی پ...