Wednesday, 11 August 2021

فارقِ حق و باطل حضرت سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ

فارقِ حق و باطل حضرت سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ


محترم قارئینِ کرام : امیر المومنین ، غیظ المنافقین ، امام العادلین ، اسلام کی عزت ، اسلام کی شوکت ، اسلام کی قوت ، اسلام کی دولت ، اسلام کے تاج ، اسلام کی معراج ، عِزُّالاِس٘لَام٘ وَالْمُسْلِمِیْن (اسلام اور مسلمانوں کی عزت) ، سَیَّدُ الْمُحَدَّثِین ، مُتَمِّمُ الْاَرْبَعِینْ ، اَعْدَلُ الاَصْحَابْ ، امام العادلین ، مراد رسول ، مفتاح الاسلام ، شہید المحراب ، شیخ الاسلام ، سَیّدُ الخائِفِین ، فاتح اعظم ، م‍ُشِیرِ رسول ، محب المسلمین ، حُجَّۃُ اللہِ علی العالمین ، فارقِ حق و باطل حضرت سدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ ۔ اس مضمون میں ہم فارقِ حق و باطل کے عنوان پر کچھ معروضات پیش کر رہے ہیں ۔ امید واثق ہے آپ پسند فرمائیں گے ۔ اہلِ علم کہیں غلطی پائیں تو اس عاجز کی اصلاح فرمائیں جزاكم اللهُ خیراً کثیرا آمین ۔


اللہ تعالیٰ کا ارشاد مبارک ہے : یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ ۔ (سورہ انفال آیت نمبر 64)

ترجمہ : اے غیب کی خبریں بتانے والے اللہ تمہیں کافی ہے اور یہ جتنے مسلمان تمہارے پیرو ہوئے۔


 ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت غزوۂ بدر میں جنگ سے پہلے نازل ہوئی اور مومنین سے انصار صحابۂ کرام یا انصار و مہاجرین رضی اللہ عنہم دونوں مراد ہیں ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہ آیت حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے سے متعلق نازل ہوئی ۔ اس قول کے مطابق یہ آیت مکی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے مدنی سورت میں لکھی گئی ہے ۔ اس آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ اے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، اللہ عزوجل آپ کو کافی ہے اور ان مسلمانوں کو بھی کافی ہے جنہوں نے آپ کی پیروی کی ۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ اے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، اللہ عزوجل آپ کو کافی ہے اور آپ کی پیروی کرنے والے مسلمان آپ کو کافی ہیں ۔ (تفسیر کبیر سورہ الانفال آیت نمبر ۶۴ جلد ۵ صفحہ ۵۰۳)(تفسیر خازن سورہ الانفال آیت نمبر ۶۴ جلد ۲ صفحہ ۲۰۷ - ۲۰۸)


فارق اور فاروق کا معنیٰ : فیروز اللغات میں ہے : فارق ۔ فرق کرنے والا ۔ فاروق : حق و باطل میں فرق کرنے والا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا لقب ۔ (فیروز اللغات صفحہ 921 ۔ 922 فیروز سننز لاہور)


فاروق  لقب اللہ عزوجل نے عطا فرمایا : ⏬


حضرت نزال بن سبرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک روز ہم نے امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا : اےامیر المومنین ! ہمیں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے متعلق کچھ ارشاد فرمائیے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : امیر المؤمنین حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ وہ شخصیت ہیں جنہیں اللہ عزوجل نے فاروق لقب عطا فرمایا کیونکہ آپ رضی اللہ عنہ نے حق کو باطل سے جدا کردکھایا ۔ (تاریخ ابن عساکر جلد ۴۴ صفحہ ۵۰)


فاروق لقب بارگاہِ رسالت سے عطا ہوا : ⏬


حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ کو فاروق کیوں کہا جاتا ہے ؟ اِرشاد فرمایا :  حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ مجھ سے تین روز قبل اِسلام لائے ۔ اللہ نے میرا سینہ اِسلام کےلیے کھول دیا اور میں بے ساختہ پکار اُٹھا : اَللہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ لَہُ الْاَسْمَاءُ الْحُسْنٰی یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اسی کے ہیں سب اچھے نام ۔ اس وقت ساری روئے زمین پر نبی کریم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر کوئی شخصیت میرے لیے محبوب نہ تھی ۔ میں   نے پوچھا : اللہ تعالیٰ کے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہاں تشریف فرماہیں ؟ میری ہمشیرہ نے کہا : دارِ اَرقم بن ابی اَرقم میں جو صفا پہاڑ ی کے نزدیک ہے ۔ حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم گھر کے اندر صحن میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے کمرے میں تشریف فرما تھے ۔میں نے دروازہ پر دستک دی تو میری آمد پر سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اکٹھے ہوگئے ۔حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ بولے : کیا بات ہے ؟ وہ کہنے لگے : عمر آگیا ہے ۔ یہ سن کر خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  باہر تشریف لے آئےاور جیسے ہی میں اندر داخل ہوا میرا گریبان پکڑا اور زور سے جھنجھوڑ کر فرمایا : عمر ! تم باز نہیں آٶ گے تو میں بے ساختہ پکار اُٹھا : اَشْھَدُاَن لَّا اِلٰہَ اِلَّا  اللہُ وَحْدَہُ لَاشَرِیْکَ لَہُ وَاَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہ ، یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں ۔ یہ سن کر دارِ اَرقم سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس زور سے نعرہ تکبیر بلند کیا کہ اس کی آواز کعبۃ اللہ شریف میں   سنی گئی ۔ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کیا حیات اور موت دونوں صورتوں میں ہم حق پر نہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیوں نہیں ، اللہ کی قسم ! تم لوگ حق پر ہو ، زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی ۔ میں نے عرض کی : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! پھر ہم چھپ چھپ کر کیوں رہ رہے ہیں ؟ اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہم ضرور باہر نکلیں گے ۔  چنانچہ ہم نبی کرہم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس طرح باہر لے آئے کہ ہماری دو صفیں تھیں ، اگلی صف میں حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ اور پچھلی صف مِیں   مَیں تھا اور میری حالت یہ تھی کہ میرے اوپر آٹے جیسا غبار تھا ۔ ہم مسجدِ حرام میں داخل ہوئے تو کفار قریش نے ایک نظر مجھے اور دوسری نظر حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو ان پر ایسا خوف  طاری ہوا جو اس سے قبل کبھی نہ ہوا تھا ۔ اس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا نام فاروق رکھ دیا ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے میرے سبب سے حق و باطل میں امتیاز فرمادیا ۔ (حلیۃ الاولیاء  عمر بن الخطاب جلد ۱ صفحہ ۷۵ الرقم :  ۹۳،چشتی)


فاروق اسے کہتے ہیں جو حق و باطل کے درمیان فرق کر دے ۔ چنانچہ حضرت امام عبد الرؤف مناوی رحمة اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں : قِیْلَ لِعُمَرَ فَارُوْقُ لِفُرْقَانِہٖ بَیْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ بِاِحْكَامٍ وَاِتْقَانٍ ، یعنی کہا گیا ہے کہ حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کو فاروق اس لیے کہتے ہیں کہ انہوں نے حق و باطل کے درمیان پختگی اور یقین کے ذریعے فرق فرمایا ۔ (فیض القدیر جلد ۵ صفحہ ۵۸۸ شرح حدیث نمبر ۷۹۶۰)


حضرت ابو عمرو و ذکوان رحمۃ اللہ علیہ نے اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : مَنْ سَمَّی عُمَرَ الْفَارُوْقَ ؟ ، یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو فاروق کا لقب کس نے دیا ؟ فرمایا : اَلنَّبِیُّ ، یعنی غیب کی خبریں دینے والے (نبی ) نے ۔ (اسد الغابۃ عمر بن الخطاب جلد ۴ صفحہ ۱۶۲)


وہ عمر جس کے اعداء پہ شیدا سقر

اس خدا دوست حضرت پہ لاکھوں سلام


فارقِ حق و باطل امام الہدیٰ

تیغ مسلول شدت پہ لاکھوں سلام


ترجمان نبی ہم زبان نبی ﷺ

جان شان عدالت پہ لاکھوں سلام


حضرت نزال بن سبرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک روز ہم نے امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا : اےامیر المومنین ہمیں حضر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے متعلق کچھ ارشاد فرمائیے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : امیر المؤمنین حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ وہ شخصیت ہیں جنہیں اللہ نے فاروق لقب عطا فرمایا کیونکہ آپ رضی اللہ عنہ نے حق کو باطل سے جدا کر دکھایا ۔ (تاریخ ابن عساکر جلد نمبر ۴۴ صفحہ نمبر ۵۰،چشتی)


ام المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا سے عرض کی گئی : حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو فاروق کا لقب کس نے دیا ؟ انہوں نے ارشاد فرمایا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیا ۔ (اسد الغابۃ جلد ۴ صفحہ ۱۶۲،چشتی)


حضرت جبریل امین علیہ السلام نے فرمایا : زمین میں ان کا نام عمر اور آسمانوں میں فاروق ہے (رضی اللہ عنہ) ۔ (ریاض النضرۃ جلد ۱ صفحہ ۲۷۳)


ایک روایت کے مطابق آپ جب اسلام لائے تو بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں عرض کی : اب ہم چھپ کرعبادت نہیں کریں گے اور پھر تمام مسلمانوں نے کعبۃ اللہ شریف میں جا کر نماز ادا کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو فاروق کا لقب عطا فرمایا ۔ (تاریخ الخلفا صفحہ ۹۰)


حضرت امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ ایک منافق اور ایک یہودی کے مابین جھگڑا ہوگیا ۔ یہودی نے کہا : فیصلے کےلیے تمہارے نبی محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چلتے ہیں ۔ منافق بولا : نہیں بلکہ یہودیوں کے سردار کعب بن اشرف کے پاس جانا چاہیے ۔ یہود ی نے یہ بات نہ مانی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چلا آیا اور بارگاہِ رسالت میں پہنچ کر سارا ماجرا بیان کردیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہودی کے حق میں فیصلہ کردیا ۔ جب دونوں باہر آئے تو منافق کہنے لگا : عمر بن خطاب کے پاس چلتے ہیں ۔ دونوں حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پہنچ گئے اور سارا ماجرا بیان کردیا اور یہودی نے یہ بھی وضاحت کردی کہ ہمارے اس جھگڑے کا فیصلہ آپ کے نبی محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے حق میں کر دیا ہے اور اس فیصلے کے بعد یہ شخص آپ کے پاس آنے پر اصرار کرنے لگا تو ہم یہاں آگئے ۔ امیر المؤمنین حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے جب یہ سارا معاملہ سنا تو ارشاد فرمایا : تم دونوں ذرا یہیں ٹھہرو ، میں ابھی آتا ہوں ۔ آپ اندرتشریف لے گئے اور تلوار نیام سے باہر نکالتے ہوئے واپس آئے اور فوراً اس منافق کا سر تن سے جدا کر دیا اور ساتھ ہی ارشاد فرمایا : ھٰکَذَا اَقْضِیْ بَیْنَ مَنْ لَمْ یَرْضَ بِقَضَاءِ اللہِ وَرَسُوْلِہٖ ، یعنی جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیصلے سے راضی نہیں میں اس کا فیصلہ یوں کروں گا ۔ (انوار الحرمین علی تفسیر الجلالین سورہ النساء آیت نمبر ۵۹ جلد ۱ صفحہ ۱۴،چشتی)(تفسیر مدارک صفحہ ۲۳۴)


جدا باطل سے حق کو کر دیا فاروقِ اعظم نے

علم اسلام کا اونچا کر دیا فاروقِ اعظم نے


نبی کے بعد گر کوئی نبی ہوتے عمر ہوتے

نبی سے پا لیا یہ مرتبہ فاروقِ اعظم نے


انہیں کے نام کی  تاثیر تھی یا خط کی ہیبت تھی

رکے دریا کو جاری کر دیا فاروقِ اعظم نے


جدا کیسے کرو گے حشر تک ان کو نبی سے تم

لیا پہلو میں محبوبِ خدا فاروقِ اعظم نے


عمر کو دیکھ کر شیطان خود رستہ بدل لیتا

وہ پایا حق سے رعب و دبدبہ فاروقِ اعظم نے


حضرت عبد اللہ  بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں مسجد میں   بیٹھا جبریل امین سے باتیں کرر ہا تھا کہ اچانک عمر بن خطاب آگئے ۔ جبریل امین نے کہا : یَارَسُوْلَ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کیا یہ آپ کے بھائی عمر تو نہیں ہیں ؟ میں نے کہا : جی ہاں ۔ اور اے جبریل کیا زمین کی طرح آسمانوں میں بھی ان کا کوئی خاص نام ہے ؟ جبریل بولے : اِنَّ اِسْمَہُ فِی السَّمَاءِ اَشْھَرُ مِنْ اِسْمِہٖ فِی الْاَرْضِ اِسْمُہُ فِی السَّمَاءِ فَارُوْقٌ وَ فِی الْاَرْضِ عُمَرُ ، یعنی یَارَسُوْلَ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آسمانوں میں جو ان کا نام ہے وہ زمین کی نسبت زیادہ مشہور ہے ،  زمین میں ان کا نام عمر ہے اور آسمانوں میں   ان کا نام فاروق ہے ۔ (ریاض النضرۃ  جلد ۱  صفحہ ۲۷۳)


حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : فِی الْجَنَّۃِ  شَجَرَۃٌ مَا عَلَیْھَا وَرَقَۃٌ اِلَّا مَكْتُوْبٌ عَلَيْھَا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ اَبُوْ بَكْرِ نِ الصِّدِّیْقُ عُمَرُ الْفَارُوْقُ عُثْمَانُ ذُوْ النُّورَیْنِ ، یعنی جنت میں ایک درخت ہے جس کے ہر پتے پر یہ لکھا ہے : اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، ابوبکر صدیق ہیں ، عمر فاروق ہیں ، عثمان ذوالنورین ہیں ۔ (معجم کبیر مجاھد  عن ابن عباس رضی اللہ عنہما  جلد ۱۱ صفحہ ۶۳  حدیث : ۱۱۰۹۳)


حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیامت کے دن اپنا اور صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا مقام بیان فرمایا ۔ پھر ارشاد فرمایا : قیامت میں یوں ندا آئے گی عمر فاروق کہاں ہیں ؟ چنانچہ انہیں حاضر کیا جائے گا تو   اللہ ارشاد فرمائے گا : اے ابو حفص ! تمہیں   مبارک ہو ، یہ ہے تمہارا اعمال نامہ ، چاہو تو اسے پڑھ لو یا نہ پڑھو کیونکہ میں نے تمہاری مغفرت فرمادی ہے ۔ (ریاض النضرۃ جلد ۱ صفحہ ۲۷۳،چشتی)


فارق کا معنی ہے فرق کرنے والا قطع نظر اس کے کہ وہ حق و باطل دونوں میں فرق کرے یا کوئی سی بھی دو اشیاء میں فرق کرے ۔ امیر المؤمنین حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کو بھی اس لیے فارق کہتے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ نے جس طرح حق و باطل کے درمیان فرق فرمایا اسی طرح آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافتِ راشدہ میں ہر ہر شے کو اس کی متبادل اشیاء سے جدا کر کے بالکل واضح کردیا ۔


فارق حق وباطل امام الھدی

تیغ مسلول شدت پہ لاکھوں   سلام


شرح : حق کو باطل و گمراہی سے جدا کرنے اور ہدایت دینے والے امام برحق حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ اس تلوار کی مثل ہیں جو اسلام کی حمایت میں سختی سے بلند کی جاتی ہے آپ رضی اللہ عنہ پر لاکھوں سلام ہوں ۔


امیر المؤمنین حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ جب اسلام لے آئے تو رضی اللہ عنہ نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی کہ : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اب ہم چھپ کر نماز وغیرہ ادا نہیں کریں گے ۔ لہٰذا تمام مسلمانوں نے کعبۃ اللہ شریف میں جا کر نماز ادا کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حق کو باطل سے جدا کرنے کے سبب آپ کو فاروق لقب عطا فرمایا ۔ (تاریخ الخلفاء  صفحہ ۹۰،چشتی)


حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو ہدایت کا راستہ دکھایا اور کفر و شرک کی گمراہیوں   کے خلاف اور دین اسلام کی روشنیوں و رعنائیوں کی حمایت میں سختی سے تلوار بلند فرمائی جس سے چہار سو اسلام کا بول بالا ہوگیا ۔ اعلی حضرت رحمة اللہ علیہ  نے ان ہی تمام واقعات کی طرف اشارہ فرمایا ہے :


ترجمانِ نبی ہم زبانِ نبی

جانِ شانِ عدالت پہ لاکھوں سلام


شرح : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہم زبان ہیں   کہ کئی بار آپ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنے بغیر کوئی بات کہی اور وہ بعینہ ویسی ہی نکلی جیسا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا ۔ اسی طرح آپ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے ترجمان ہیں کہ کوئی مسئلہ بیان فرمایا اور بعد میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے جب اس کے متعلق دریافت کیا تو آپ کو نب کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعینہ وہی حدیث مبارکہ ملی جیسا آپ رضی اللہ عنہ نے مسئلہ بیان فرمایا تھا ۔ آپ رضی اللہ عنہ سے عدل و انصاف کی روح کو شان و شوکت حاصل ہوئی بلکہ اپنے خلافت میں ایسا عدل و انصاف قائم فرمایا جو قیامت تک آنے والے حکمرانوں کےلیے مشعل راہ ہے ، آپ رضی اللہ عنہ پر لاکھوں سلام ہوں  ۔


فاروقی کا مطلب ہے فاروق والا ۔ جس شخص کا سلسلۂ نسب امیر المؤمنین حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ سے جاملتا ہو اسے فاروقی کہتے ہیں جس طرح کسی کا سلسلۂ نسب امیر المؤمنین خلیفہ رسول اللہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہو تو اسے صدیقی کہتے ہیں ۔


فاروقِ اعظم : ⏬


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہر صحابی رضی اللہ عنہ کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ حق و باطل کے درمیان فارق  یعنی فرق کرنے والا ہے ، لیکن امیر المؤمنین حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کو فاروقِ اعظم  اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  سے زیادہ اس فریضے کو سرانجام دیا اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ آپ رضی اللہ عنہ کی حق و باطل کے درمیان یہ فرق کرنے کی صلاحیت بارگاہِ رسالت سے خاص طور پر عطا ہوئی تھی ۔ آپ رضی اللہ عنہ جس دن اسلام لائے اسی دن آپ نے مسلمانوں کے ساتھ اعلانیہ کعبۃ اللہ شریف میں نماز ادا کی اور طواف بیت اللہ بھی کیا ۔ آپ رضی اللہ عنہ خود ارشاد فرماتے ہیں کہ : اس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود میرا نام فاروق رکھ دیا ،  کیونکہ اللہ تعالیٰ نے میرے سبب سے حق و باطل میں امتیاز فرمادیا ۔ (حلیۃ الاولیاء عمر بن الخطاب  جلد نمبر ۱ صفحہ نمبر ۷۵ الرقم :  ۹۳)


حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت اور تجہیز وتکفین : ⏬


سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ فجر کی نماز پڑھانا شروع کی تو صف میں شامل ابو لُؤلُؤ فیروز نام کا ایک نصرانی یا مجوسی غلام نے ایک تیز دھار دار زہر آلود خنجر سے آپ رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ کردیا اور تین شدید وار کیا ، جس سے آپ زخمی حالت میں نیچے تشریف لائے ۔ ابو لُؤلُؤ آپ کو زخمی کر کے بھاگ کھڑا ہوا ، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : اس کتے کو پکڑو ۔ اس نے مجھے قتل کر دیا ہے ۔ پوری مسجد میں شور برپا ہو گیا ، لوگ اس کے پیچھے بھاگے تو اس نے تقریباً بارہ افراد کو زخمی کر دیا ۔ جن میں سے چھ افراد بعد میں شہید ہو گئے ۔ ایک صاحب نے اس پر کپڑا ڈال کر اسے دبوچ لیا ۔ جب اسے یقین ہوگیا کہ اب میں فرار نہیں ہوسکتا تو اس نے اسی خنجر سے اپنے آپ کو قتل کر دیا ۔ واضح ہو کہ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ ٢٦ ذی الحجہ ٢٣ ھجری بروز بدھ کو زخمی ہوئے ، اور تین راتیں شدید زخمی حالت میں باحیات رہے اور یکم محرم الحرام ٢٤ ھجری بروز اتوار کو مرتبہ شہادت پر فائز ہوئے ۔ اور آپ رضی اللہ عنہ ہمیشہ کے لیے دار الفنا سے دار البقا کی طرف کوچ کر گئے ۔ آپ رضی اللہ عنہ کے بڑے بیٹے جلیل القدر صحابی سیدنا حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے آپ رضی اللہ عنہ کو بیری کے پتوں والے پانی سے تین بار غسل دیا ۔ تجہیز وتکفین کے بعد جسد مبارک کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مبارک چارپائی پر رکھا گیا اور اسی پر جنازہ پڑھا گیا ، حضرت سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی ۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرے سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں دفن کر دیا گیا ۔


یکم محرم الحرام یومِ شھادت حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ : ⏬


حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ محرم الحرام کی پہلی تاریخ کو آپ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے جہاں جہاں پر بھی شہادت کے لفظ آئے ہیں اس کا اصل معنیٰ یہی ہے کہ آپ کو اس دن زخم لگا ۔ کیونکہ روایات موجود ہیں  کہ جب آپ رضی اللہ عنہ کو زخم لگا تب طبیب نے آپ کو دودھ اور شربت پلایا اسی تناظر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ آپ کافی دیر زندہ رہے اسی حوالے سے بے شمار کتب میں اقوال موجود ہیں کہ حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو بدھ کو زخم لگا اور یکم کو شہادت ہوئی ۔ کچھ لوگ یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ جی یکم محرم شہادت نہیں اللہ عزوجل جانے ان کو کیا بغض ہے حالانکہ حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ ان تمام کتب میں یکم محرم الحرام تاریخِ شھادت لکھی ہے ۔ (تاریخ الاسلام ووفیات المشاھیر والاعلام عہد الخلفائے راشدین صفحہ 283 ) (اثارۃ الترغیب و التشویق جلد 1 صفحہ 320 ) (رجال الصحیح البخاری للکلاباذی باب العین صفحہ 507 ) (المنتخب من ذیل المذیل ذکر قتل عمر فاروق)(رفیق المدینہ المنورہ فی احوال البلدہ المطھرہ) (تاریخ الفخری شیعہ عالم طباطبا صفحہ 155 ) (ابوالولید الباجی 403 ھ ) (تلقیح فھوم اھل الاثر فی العیون التاريخ والسير صفحہ 84 ) (اسد الغابہ حصہ ہفتم صفحہ 667 ) (محض الصواب فی فضائل عمر بن خطاب  صفحہ 840 ) (تاریخ الخلفاء از امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ صفحہ ١٩٩ ) (الکامل فی التاریخ ابن اثیر جزری علیہ الرحمہ صفحہ 51 ، 52 ) (تاریخ الاسلام مولانا معین الدین ندوی حصہ اول صفحہ 175 ) (التبصرہ والتزکرۃ امام زین الدین ابوالفضل عبدالرحیم بن حسین عراقی صفحہ 302 ) (تاریخ مدینہ صفحہ 334 ) (المستدرک للحاکم امام حاکم ج ٤ صفحہ 196 ) (تاریخ طبری امام ابوجعفر الطبری جلد 3 صفحہ 217 ) (تاریخ ابن کثیر. از امام ابن کثیر جلد 7 صفحہ 140 ) (طبقات ابن سعد از محمد بن سعد جلد 2 صفحہ 123 ) (الصفتہ صفہ از ابن جوزی صفحہ 110 ) (طبقات کبریٰ جلد 3 صفحہ 278 ) (تاریخ خلیفہ ابن خیاط) (سیر اعلام النبلاء جلد 2 صفحہ 269 امام ذھبی علیہ الرحمہ) (تاریخ الخمیس از امام حسین بن محمد جلد 2 صفحہ 250 ) (عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری امام عینی علیہ الرحمہ جلد 16 صفحہ 210 ) (شرح الفیہ العراقی صفحہ 365 امام زین الدین محمد عبدالرحیم بن ابی بکر عینی) (لسان العرب علامہ ابن منظور افریقی جلد 5 صفحہ 15 ) (التعدیل والتجریح لمن خرج لہ بخاری فی الجامع الصحیح جلد 3 صفحہ 935 ) (فتح المغیث بشرح الفیتہ الحدیث للعراقی جلد 4 صفحہ321 )(سبل الهدى والرشاد الصالحي الشامی 942 هجرى الجزء 11 الصفحة 275 ) (تاریخ الخلفائے راشدین طقوش بن سھل مؤلف صفحہ 359 ) (شرح صحیح مسلم جلد 7 فضائل الصحابہ) (خطبات محرم صفحہ 136 ) (سیرت عمر فاروق صفحہ 344 مؤلف محمد رضا) (تاریخ خلفائے راشدین مفتی جلال الدین امجدی صفحہ 173 ) (مرآۃ المناجیح سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو بدھ کے روز زخمی کیا گیا تھا جلد8 باب فضائل عمر فاروق رضی اللہ عنہ) (سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے کو اتوار کی صبح (یکم ) کو دفن کیا گیا ۔ (مناقب عمر بن خطاب صفحہ 328 ) (امام برہان الدین الحلبی ٨٤١ ھ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو یکم محرم کو دفن کیا گیا ۔ حاشیہ الکاشف) (امام فلاس فرماتے ہیں : سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ یکم محرم الحرام کو شہید ہوئے تھے ۔ الکاشف رقم4045 ) (مراد رسول سیدنا عمر فاروق از اعجاز خاں میو صفحہ 544 ) (تخريج الدلالات السمعية الخزاعي‌ علي بن محمد 789 هجرى الجزء 1 الصفحة 56 ) (الشذا الفياح من علوم ابن الصلاح برهان الدين الأبناسي 802 هجرى الجزء : 2 ، الصفحة : 725 ) (اصول الحديث وأحكامه في علم الدّراية المؤلف السبحاني الشيخ جعفر الجزء 1 صفحة 197 ) (ذيل معالم المدرستين المؤلف : العسكري السيد مرتضى الجزء 1 صفحة : 146 ) (ذيل مسار الشيعة المؤلف : الشيخ المفيد الجزء 1 صفحة 42 ) (المستخرج من كتب الناس للتذكرة والمستطرف من أحوال الرجال للمعرفة ابن منده عبد الرحمن بن محمد 382 هجرى الجزء 2 الصفحة 488 ) (منتهي السؤل علي وسائل الوصول الي شمائل الرسول عبد الله عبادى اللحجى 1343 هجرى الجزء 1 ) (تخريج الدلالات السمعية الخزاعي‌ علي بن محمد 789 هجرى الجزء 1 الصفحة : 56 ) (الشذا الفياح من علوم ابن الصلاح برهان الدين الأبناسي 802 هجرى الجزء 2 الصفحة 725 ) (تفسير الثعالبي) (الجواهر الحسان في تفسير القران الثعالبي أبو زيد 875 هجرى الجزء 1 الصفحة 130 ) (شرح ألفية العراقي لابن العيني ابن العيني 893 هجرى الجزء 1 صفحة 365 واتفقوا على أنه دُفِنَ في مُسْتَهَل المحرم سنة أربع وعشرين) (الاكتفاء بما تضمنه من مغازي رسول الله و الثلاثة الخلفاء أبو الربيع الحميري الكلاعي 634 هجرى الجزء 2 الصفحة 605 ) (كتاب رياض الأفهام في شرح عمدة الأحكام  تاج الدين الفاكهاني 654 هجرى الجزء 1 الصفحة 14 ) (نهاية الأرب في فنون الأدب النويري 667 هجرى الجزء 19  صفحہ 404 ) ۔ ان حوالہ جات سے ثابت ہوا کہ حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی الله عنہ کا یوم شہادت 26 ذی الحج نہیں ، بلکہ یکم محرم الحرام ہے ، لہٰذا مبغضینِ صحابہ رضی اللہ عنہم کا یکم محرم والے سُنّیوں پر فتوے لگانا ، انہیں بُرا بھلا کہنا اِن کی اپنی جہالت کا منہ بولتا ثبوت ہے ، کہ یہ وہ جہلا ہیں ، جو نہ گھر کے نہ ہی گھاٹ کے ۔ دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی ۔

No comments:

Post a Comment

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ماتم کیا کا جواب مع اسلام اور جاہلیت والے کام

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ماتم کیا کا جواب مع اسلام اور جاہلیت والے کام محترم قارئینِ کرام : شیعہ حضرات جب بھی دلیل دیتے ہیں تو صرف ...