Sunday, 11 October 2015

میرا رحم نسب و تعلق فائدہ نہیں دے گا ایسا نہیں ہے جیسا وہ گمان کرتے ہیں

میرا رحم نسب و تعلق فائدہ نہیں دے گا ایسا نہیں ہے جیسا وہ گمان کرتے ہیں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ آل رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک خادمہ تھی جو ان کی خدمت بجا لاتی اسے ’’بریرہ‘‘ کہا جاتا تھا پس اسے ایک آدمی ملا اور کہا : اے بریرہ اپنی چوٹی کو ڈھانپ کر رکھا کرو بے شک محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہیں اﷲ کی طرف سے کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔ راوی بیان کرتے ہیں پس اس نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس واقع کی خبر دی پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی چادر کو گھسیٹتے ہوئے باہر تشریف لائے درآنحالیکہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دونوں رخسار مبارک سرخ تھے اور ہم (انصار کا گروہ) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غصے کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چادر کے گھسیٹنے اور رخساروں کے سرخ ہونے سے پہچان لیتے تھے پس ہم نے اسلحہ اٹھایا اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ گئے اور عرض کیا : یا رسول اﷲ! آپ جو چاہتے ہیں ہمیں حکم دیں پس اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے! اگر آپ ہمیں ہماری ماؤں، آباء اور اولاد کے بارے میں بھی کوئی حکم فرمائیں گے تو ہم ان میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قول کو نافذ کر دیں گے پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے اور اﷲ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور فرمایا : میں کون ہوں؟ ہم نے عرض کیا : آپ اﷲ کے رسول ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں لیکن میں کون ہوں؟ ہم نے عرض کیا : آپ محمد بن عبداﷲ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد کا سردار ہوں لیکن کوئی فخر نہیں، میں وہ پہلا شخص ہوں جس سے قبر پھٹے گی لیکن کوئی فخر نہیں اور میں وہ پہلا شخص ہوں جس کے سر سے مٹی جھاڑی جائے گی لیکن کوئی فخر نہیں اور میں سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والا ہوں لیکن کوئی فخر نہیں ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو یہ گمان کرتے ہیں کہ میرا رحم (نسب و تعلق) فائدہ نہیں دے گا ایسا نہیں ہے جیسا وہ گمان کرتے ہیں۔ بے شک میں شفاعت کروں گا اور میری شفاعت قبول بھی ہو گی یہاں تک کہ جس کی میں شفاعت کروں گا وہ یقیناً دوسروں کی شفاعت کرے گا اور اس کی بھی شفاعت قبول ہو گی یہاں تک کہ ابلیس بھی اپنی گردن کو بلند کرے گا شفاعت میں طمع کی خاطر (یا کسی طور اس کی شفاعت بھی کوئی کر دے)۔‘‘ اس حدیث کو امام طبرانی نے بیان کیا ہے۔

أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 5 / 203، الرقم : 5082، و الهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 376.

No comments:

Post a Comment

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ماتم کیا کا جواب مع اسلام اور جاہلیت والے کام

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ماتم کیا کا جواب مع اسلام اور جاہلیت والے کام محترم قارئینِ کرام : شیعہ حضرات جب بھی دلیل دیتے ہیں تو صرف ...