Wednesday, 14 October 2015

میں تم میں دو عظیم چیزیں چھوڑے جارہا ہوں

میں تم میں دو عظیم چیزیں چھوڑے جارہا ہوں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں خطبہ دینے کے لئے مکہ اور مدینہ منورہ کے درمیان اس تالاب پر کھڑے ہوئے جسے خُم کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اﷲ تعالیٰ کی حمدو ثناء اور وعظ و نصیحت کے بعد فرمایا : اے لوگو! میں تو بس ایک آدمی ہوں عنقریب میرے رب کا پیغام لانے والا فرشتہ (یعنی فرشتہ اجل) میرے پاس آئے گا اور میں اسے لبیک کہوں گا۔ میں تم میں دو عظیم چیزیں چھوڑے جارہا ہوں، ان میں سے پہلی اﷲ تعالیٰ کی کتاب ہے جس میں ہدایت اور نور ہے۔ اﷲ تعالیٰ کی کتاب پر عمل کرو اور اسے مضبوطی سے تھام لو، پھر آپ نے کتاب اﷲ (کی تعلیمات پر عمل کرنے پر) ابھارا اور اس کی ترغیب دی پھر فرمایا : اور (دوسرے) میرے اہل بیت ہیں میں تمہیں اپنے اہل بیت کے متعلق اﷲ کی یاد دلاتا ہوں، میں تمہیں اپنے اہل بیت کے متعلق اﷲ کی یاد دلاتا ہوں. میں تمہیں اپنے اہل بیت کے متعلق اﷲ کی یاد دلاتا ہوں۔‘‘ اسے امام مسلم اور احمد نے روایت کیا ہے۔

أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب : فضائل الصحابة : من فضائل علي بن أبي طالب رضي اﷲ عنه، 3 / 1873، الرقم : 2408، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 366، الرقم : 19265، والبيهقي في السنن الکبري، 2 / 148، الرقم : 2679، وابن حبان في الصحيح، 1 / 145، الرقم : 123، واللالکائي في إعتقاد أهل السنة، 1 / 79، الرقم : 88، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 3 / 487.

No comments:

Post a Comment

صدیقِ اکبر و فاروقِ اعظم کون ہے ؟ کہنے والوں کو یہ ارشاداتِ مبارکہ ٹھنڈے دل سے ایک بار ضرور پڑھنا چاہیے

صدیقِ اکبر و فاروقِ اعظم کون ہے ؟ کہنے والوں کو یہ ارشاداتِ مبارکہ ٹھنڈے دل سے ایک بار ضرور پڑھنا چاہیے اور پھر سوچنا چاہیے کہ مرشدِ گرامی ع...