سلفیہ کے شیخ خليل هراس امام ابن حزيمه كي التوحيد کی اپنی تعليق ميں اللہ کے نزول کے قول کے تحت حاشیئے میں لكهتے ہيں:
( ص126 ) : ۔ «يعني أن نزوله إلى السماء الدنيا يقتضي وجوده فوقها فإنه : انتقال من علو إلى سفل!».
ترجمه :
”يعنی الله كا آسمان دنيا پر نزول اس بات كا تقاضا كرتي ہے كہ الله اس كے اوپر ہو كيونكہ نزول اوپر سے نيچے منتقل ہونے كو كہتے ہيں“۔
نعوذبالله
بالفرض اگر وہ ایسا نہ بھی لکھتے تب بھیغیر مقلد وھابی سلفیوں کے اصول و ضوابط کے مطابق یہی بات لازم آتی ہے ۔
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
داڑھی کی مقدار و شرعی حیثیت اور جدت پسند مغرب کے پیروکار اسکالرز کے پیروکاروں کو دعوتِ فکر
داڑھی کی مقدار و شرعی حیثیت اور جدت پسند مغرب کے پیروکار اسکالرز کے پیروکاروں کو دعوتِ فکر محترم قارئینِ کرام : شرعاً ایک مشت تک داڑھی بڑھان...
-
درس قرآن موضوع آیت : قُلۡ ہَلۡ یَسۡتَوِی الَّذِیۡنَ یَعۡلَمُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَ...
-
شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے اعضاء تناسلیہ کا بوسہ لینا اور مرد کو اپنا آلۂ مردمی اپنی بیوی کے منہ میں ڈالنا اور ہمبستری سے قبل شوہر اور...
-
شاہ است حسین بادشاہ است حسین شعر پر تحقیقی نظر محترم قارئینِ کرام : اس رباعی کو خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمة اللہ علیہ کی طرف منسوب کیا...
No comments:
Post a Comment