Sunday, 9 May 2021

عید نماز و دیگر نمازوں کے بعد مصافحہ و معانقۃ کی شرعی حیثیت

عید نماز و دیگر نمازوں کے بعد مصافحہ و معانقۃ کی شرعی حیثیت

 

محترم قارئین کرام : بعض لوگ اسلام کے نام پر اسلامی تعلیمات کو ہی بدعت اور شرک کا نام دے کر مسلمانوں کو اصل اسلام سے دور لے جانے کی ناپاک کوشش کر رہے ہیں جبکہ یہ ان کی شیطانی سوچ ہے ۔ شاہد وہ چند لوگوں کو تو گمراہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں لیکن اللہ تعالی اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنتوں کو امت کے سواد اعظم کے ذریعے قیامت تک زندہ رکھے گا ۔ مصافحہ کرنا اصل کے اعتبار سے سنّت ہے اور خاص نمازوں کے بعد مصافحہ کرنا جائز و مباح بلکہ ایک اچھا عمل ہے کہ مصافحہ کرنا بغض و کینے کو دور کرتا ہے اور محبت بڑھاتا ہے اور نمازوں کے بعد مصافحہ علماء ، صلحاء اور عامۃُ المسلمین اچھا سمجھ کر کرتے ہیں اور حدیثِ مبارک میں ہے کہ وہ کام جسے عامۃُ المسلمین اچھا سمجھ کر کریں وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی اچھا ہے ۔ اور کُتبِ فقہ میں جو نمازوں کے بعد مصافحہ کرنے کو بدعت قرار دیا ہے ،  اس سے مراد بدعتِ سیئہ نہیں ،  بلکہ بدعتِ حَسَنَہ (یعنی وہ نیا کام جو قرآن و سنّت کے خلاف نہیں) یعنی اچھی بدعت ہے جو کہ شرعاً مذموم نہیں ،  بلکہ اگر اس کام کو عامۃُ المسلمین اچھا سمجھ کر کریں تو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی اچھا قرار پاتا ہے ۔


یہ کہنا کہ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے بعد نماز مصافحہ کو مکروہ لکھا ہے یہ غلط ہے ۔ احناف کے فقہ کی کتابوں میں اسے مستحسن لکھا ہے ۔ در مختار میں ہے : وإطلاق المصنف تبعا للدرر والکنز والوقایۃ والنقایۃ والمجمع والملتقیٰ وغیرہا یفید جوازہا مطلقا ولو بعد العصر، وقولہم : إنہ بدعۃ أي مباحۃ حسنۃ کما أفادہ النووي في أذکارہ وغیرہ في غیرہ۔ مصنف کا درر ، کنز ، وقایہ ، نقایہ، مجمع، ملتقی وغیر کے تابع ہو کر مصافحہ کو مطلقاً جائز کہنا یہ بتاتا ہے کہ یہ مطلقاً جائز ہے اگر چہ عصر کے بعد ہو ۔ اور کچھ لوگوں کا یہ کہنا کہ وہ بدعت ہے ، اس سے مراد بدعت حسنہ ہے جیسا کہ امام نوی علیہ الرحمہ نے اذکار اور ان کے علاوہ دوسرے لوگوں نے دوسری کتابوں میں بیان فرمایا ہے ۔ دیکھیے اس عبارت میں فقہ حنفی کی چھ کتابوں کا حوالہ ہے اور در مختار ملا لیجیے تو سات ہوئیں ان سب سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مصافحہ مطلقاً جائز ومستحسن ہے اگر چہ عصر کے بعد ہو ۔ اور اسی پر قیاس کر کے فجر کے بعد بھی جائز ہوگا ۔ علامہ شامی لکھتے ہیں : قال الشیخ أبو الحسن البکري وتقيیدہ بما بعد الصبح والعصر علی عادۃ کانت في زمنہ وإلا فعقب الصلوات کلہا کذلک۔ کذا في رسالۃ الشرنبلالي في المصافحۃ، ونقل مثلہ عن الشمس الحانوتي، وأنہ أفتی بہ مستدلا بعموم النصوص الواردۃ في مشروعیتہا وہو الموافق لما ذکرہ الشارح من إطلاق المتون ۔ شیخ ابو الحسن بکری نے فرمایا : صبح اور عصر کے ساتھ مقید کرنا اس عادت کے بنا پر ہے جو ان کے زمانے میں تھی ورنہ ہر نماز کے بعد ایسے ہی ہے یعنی جائز ومستحسن ہے ۔ جیسا کہ علامہ شرنبلالی کے رسالہ المصافحۃ میں ہے اور اسی کے مثل شمس الائمہ حانوتی سے بھی مروی ہے کہ انہوں نے اس کے جواز کا فتوی دیا ان عام نصوص سے دلیل لاتے ہوئے جو اس کے مشروع ہونے میں وارد ہیں اور یہی اس کے موافق ہے جو شارح نے متون کے اطلاق سے اخذ کر کے ذکر کیا ۔ ان سب باتوں سے ظاہر ہو گیا کہ علماے احناف اس پر متفق ہیں کہ نماز فجر وعصر کے بعد جو مصافحہ مسلمانوں میں رائج ہے بلا شبہہ جائز و مستحسن ہے اور یہ کہنا کہ حضرت امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو مکروہ کہا ہے ، افترا ہے ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ (فتاوی جامعہ اشرفیہ جلد ۵ ، فتاوی شارح بخاری)


در مختار میں ہے : (كالمصافحة) أي كما تجوز المصافحة لأنها سنة قديمة متواترة لقوله - عليه الصلاة والسلام - «من صافح أخاه المسلم وحرك يده تناثرت ذنوبه» وإطلاق المصنف تبعا للدرر والكنز والوقاية والنقاية والمجمع والملتقى وغيره يفيد جوازها مطلقا ولو بعد العصر وقولهم إنه بدعة أي مباحة حسنة كما أفاده النووي في أذكاره وغيره في غيره وعليه يحمل ما نقله عنه شارح المجمع من أنها بعد الفجر والعصر ليس بشيء توفيقا فتأمله ۔ (الحصكفی الدر المختار وحاشية ابن عابدين رد المحتار جلد 6 صفحہ 381،چشتی)

ترجمہ : مصافحہ جائز ہے اس لیے کہ یہ قدیم سنت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ سے ہوتی چلی آتی ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو اپنے بھائی سے مصافحہ کرے اور ہاتھ کو حرکت دے اس کے گناہ جھڑتے ہیں ۔ مصنف نے مصافحہ کو مطلقاً جائز لکھا کسی وقت کی تخصیص نہیں کی کہ فلاں وقت جائز اور فلاں وقت نہیں اور یہ مسئلہ فقہ کی اور کتابوں ، مثلاً کنز الدقائق ، وقایہ ، نقایہ ، مجمع الانہر منتقی الا بحر وغیرہ میں اسی طرح ہے ۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ عصر کے بعد بھی جو مصافحہ کیا جائے وہ جائز ہے اور جن لوگوں نے اس کو بدعت کہا ہے ان کا مطلب بدعت حسنہ مباحہ ہے جیسا کہ امام نووی علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب اذکار میں تحریر کیا ہے ۔ یہی مطلب ہے شارح مجمع کی بات کا کہ عصر و فجر کے بعد مصافحہ کچھ نہیں یعنی فرض یا واجب نہیں ۔ تو فقہ حنفی کی مشہور اور متداول کتابوں میں تو یہ لکھا ہے کہ مصافحہ مطلقاً جائز ہے ، یعنی کسی وقت کی تخصیص نہیں کہ صرف فلاں وقت جائز اور فلاں وقت نہیں۔ مصافحہ جب کرو جائز ہے تو یہ خبر آپ کو کہاں سے مل گئی کہ امام اعظم کے نزدیک مکروہ ہے ۔ جس نے آپ سے کہا اس سے پوچھیے کہ کسی کتاب میں یہ روایت ہے کہ عصر کے بعد مصافحہ کو امام اعظم علیہ لرحمہ نے مکروہ فرمایا ؟ اگر یہ روایت وہ آپ کو نہ دکھا سکے تو جھوٹے کے منہ پر تھوک دیجیے ۔ اس سے یہ بھی پتہ چلا کہ جس نے اس کو بدعت کہا اس کی مراد بدعت حسنہ مباحہ ہے تو اس کو حرام کیسے کہتے ہیں؟ جو لوگ حرام ہونے کے مدعی ہیں، ان سے کہیے کہ جس طرح حلال ہونے کےلیے دلیل کی ضرورت ہے اسی طرح حرام ہونے کےلیے بھی ۔ اگر تم میں ذرا بھی غیرت ہو تو کوئی ایک صحیح حدیث ہی دکھا دو جس میں یہ حکم ہو کہ عصر کے بعد مصافحہ حرام ہے ، اور اگر وہ یہ نہ دکھا سکیں اور ہرگز نہ دکھا سکیں گے تو کس منہ سے اس کو حرام کہتے ہیں ؟

ہم نے حدیث شریف بھی روایت کی کہ مسلمان سے مصافحہ کرنے کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کا حکم ہے اور اسی حدیث کی روشنی میں فقہ حنفی کی مشہور کتاب در مختار کی عبارت بھی پیش کر دی کہ عصر کے بعد مصافحہ جائز ہے ۔ (فتاویٰ بحر العلوم جلد 1 صفحہ 151،چشتی)


آئیے اب معانقہ (گلے ملنا) کے بارے میں جانتے ہیں کہ یہ بدعت ہے یا سنت مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے ؟ : ⏬


جب دو مسلمان بھائی آپس میں ملیں تو پہلے سلام کریں اور پھر دونوں ہاتھ ملائیں کہ بوقت ملاقات مصافحہ کرنا سنّتِ صحابہ علیہم الرضوان بلکہ سنّتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے ۔ (مراٰۃالمناجیح جلد ۶ صفحہ ۳۵۵)


حضرت ابوا لخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کیا ، کہ مصافحہ (ہاتھ ملانا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحا بہ کرام علیہم الرضوان میں مروج تھا ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ، ہاں ۔ (صحیح البخاری کتاب الاستیذان باب المصافحہ الحدیث ۶۲۶۳ جلد ۴ صفحہ ۱۷۷،چشتی)


جیسا کہ حضرت عطا ء خراسانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایک دوسرے کے ساتھ مصافحہ کرو ، اس سے کینہ جاتا رہتا ہے اور ہدیہ بھیجو آپس میں محبت ہوگی اور دشمنی جاتی رہے گی ۔ (مشکوٰۃ المصابیح کتاب الادب باب ماجآء فی المصافحہ الحدیث ۴۶۹۳ جلد ۲ صفحہ ۱۷۱)


چنانچہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا : جب دو مسلمانوں نے ملاقات کی او رایک دو سرے کا ہاتھ پکڑلیا (یعنی مصافحہ کیا) تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ کرم پر ہے کہ ان کی دعا کوحاضر کردے (یعنی قبول فرمالے) اور ہاتھ جدا نہ ہونے پائیں گے کہ ان کی مغفرت ہوجائے گی ۔ اور جو لوگ جمع ہو کر اللہ تعالیٰ کا ذکرکرتے ہیں اور سوائے رضائے الٰہی عزوجل کے ان کا کوئی مقصد نہیں تو آسمان سے منادی ندا دیتاہے کہ کھڑے ہو جاؤ تمہاری مغفرت ہو گئی ، تمہارے گناہوں کو نیکیوں سے بدل دیا گیا ۔ (المسند للامام احمد بن حنبل مسند انس بن مالک الحدیث ۱۲۴۵۴ جلد ۴ صفحہ ۲۸۶)


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی سے ملے اور ہاتھ پکڑے (یعنی مصافحہ کرے ) تو ان دو نوں کے گناہ ایسے گرتے ہیں جیسے تیز آندھی کے دن میں خشک درخت کے پتے ۔ اور ان کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں اگر چہ سمند ر کی جھاگ کے برابر ہوں ۔ (شعب الایمان باب فی مقاربۃ وموادۃ اہل الدین فصل فی المصافحۃ والمعانقۃ،الحدیث ۸۹۵۰ جلد ۶ صفحہ ۴۷۳)


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب دودو ست آپس میں ملتے ہیں اور مصافحہ کرتے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پردرود پاک پڑھتے ہیں تو ان دونوں کے جدا ہونے سے پہلے پہلے دونوں کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیے جاتے ہیں ۔ (شعب الایمان باب فی مقاربۃ وموادۃ اہل الدین فصل فی المصافحۃ والمعانقۃ الحدیث ۸۹۴۴ جلد ۶ صفحہ ۴۷۱،چشتی)


چنانچہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب اہل یمن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت بابرکت میں حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں اور وہ پہلے آدمی ہیں، جنہوں نے آکر مصافحہ کیا ۔ (سنن ابی داؤد کتاب الادب ،باب فی المصافحہ الحدیث ۵۲۱۳ جلد ۴ صفحہ ۴۵۳)


حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مریض کی پوری عیادت یہ ہے کہ اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر پوچھے کہ مزاج کیسا ہے ؟ اور پوری تحیت (سلام کرنا ) یہ ہے کہ مصافحہ بھی کیاجائے ۔ (جامع الترمذی کتاب الاستیذان والادب باب ماجآء فی المصافحہ الحدیث ۲۷۴۰ جلد ۴ صفحہ ۳۳۴)


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں ، لوگوں کو تم اپنے اموال سے خوش نہیں کرسکتے لیکن تمہاری خندہ پیشانی اورخوش اخلاقی انہیں خوش کرسکتی ہيں ۔(شعب الایمان باب حسن الخلق فصل فی طلاقۃ الوجہ الحدیث ۸۰۵۴ جلد ۶ صفحہ ۲۵۳)


ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں : زید بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینہ آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے گھر میں تھے ، زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہاں آئے اور دروازہ کھٹکھٹایا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھ کر کپڑا کھینچتے ہوئے ان کی طر ف تشریف لے گئے ۔ ان سے معانقہ کیا اور ان کو بوسہ دیا ۔ (جامع الترمذی کتاب الاستئذان باب ماجآء فی المعانقۃ والقبلۃ الحدیث ۲۷۴۱ جلد ۴ صفحہ ۳۳۵،چشتی)


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو طلب فرمایا ، جب وہ حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وسلّم نے فرط ِشفقت سے حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوگلے لگا لیا ۔ چنا نچہ حضرت ایوب بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا ، میں نے ابو ذررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا ، جس وقت تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملتے تھے کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہارے ساتھ مصافحہ فرماتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : میں کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں ملا مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ساتھ مصا فحہ کرتے (یعنی میں نے جب بھی ملاقات کا شرف حاصل کیا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مصا فحہ ضرور فرمایا) ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طر ف پیغام بھیجا ۔ میں اپنے گھر موجود نہیں تھا ۔ جب میں آیا مجھے خبر دی گئی ۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تخت پر رونق افرو ز تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے گلے لگالیا ۔ یہ بہت بہتر ہوا اور بہتر ۔ (سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی المعانقہ الحدیث ۵۲۱۴ جلد ۴ صفحہ ۴۵۳،چشتی)


حضرت سیدنا جعفررضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت بابرکت میں حاضر ہوئے تو ان کو بھی گلے سے لگایا چنانچہ حضرت شعبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جعفر بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ملے تو گلے سے لگالیا او ران کی آنکھوں کے درمیان بو سہ دیا ۔ (سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی قبلہ مابین العینین الحدیث ۵۲۲۰ جلد ۴ صفحہ ۴۵۵)


محترم قارئین کرام : خوش نصیب صحابہ کرام علیہم الرضوان نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رحمت بھرے ہاتھوں کو چومنے کی سعادت بھی حاصل کرتے تھے ۔ حضرت ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما سے ایک واقعہ مروی ہے جس میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوئے اور ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھوں کو بوسہ دیا ۔ (سنن ابی داؤد ،کتاب الادب باب فی قبلۃ الید الحدیث ۵۲۲۳ جلد ۴ صفحہ ۴۵۶)


حضرت زارع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب قبیلہ عبد القیس کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقد س میں حاضر ہوا ، یہ بھی اس وقت وفد میں شریک تھے ۔ آپ فرماتے ہیں کہ جب ہم اپنی منزلوں سے مدینہ شریف پہنچے تو جلدی جلدی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست مبارک اور قدم شریف کو بو سہ دیا ۔ (سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی قبلۃ الرجل الحدیث ۵۲۲۵ جلد ۴ صفحہ ۴۵۶،چشتی)


ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ مدینہ آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے حجرہ میں تشریف فرما تھے ۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے آکر دروازہ کھٹکھٹایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم برہنہ (قمیض کے بغیر) کپڑے کھنچتے ہوئے ان کی طرف بڑھے ۔ اللہ کی قسم میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس سے پہلے یا بعد کبھی برہنہ نہیں دیکھا ۔ فاعتنقه وقبله . پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں گلے لگایا اور ان کا بوسہ لیا ۔ (ترمذی، السنن جلد 5 صفحہ 72 باب ما جاء فی المعانقه والقبله رقم : 2732 دارالفکر بيروت)


حضرت ایوب بن بشیر عنزہ قبیلہ کے ایک شخص نے ابو ذر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا جب وہ ملک شام سے رخصت ہونے لگے کہ میں آپ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیثوں میں سے ایک حدیث پوچھنا چاہتا ہوں ۔ فرمایا کہ اگر کوئی راز نہ ہوا تو میں تمہیں بتا دوں گا ۔ میں عرض گزار ہوا کہ وہ راز نہیں ہے ۔ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ملاقات کے وقت آپ حضرات سے مصافحہ کیا کرتے تھے ؟ فرمایا کہ میں جب بھی ملا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے مصافحہ فرمایا اور ایک روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلوایا لیکن میں گھر میں نہیں تھا ۔ جب میں آیا تو مجھے بتایا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے مجھے یاد فرمایا ہے ۔ پس میں حاضر بارگاہ ہوا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اپنے تخت پر جلوہ افروز تھے ۔ فالتز منی، فکانت تلک اجود واجود ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے گلے لگا لیا ۔ یہ منظر نہایت عمدہ تھا، نہایت عمدہ تھا ۔ (ابوداؤد السنن جلد 4 صفحہ 395 باب فی المعانقة رقم : 5214 دارالفکر بيروت)


شعبی سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : تلقی جعفر بن ابو طالب فالتزمه وقبل ما بين عينيه ۔ حضرت جعفر بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے ملے تو ان سے معانقہ فرمایا اور ان کی دونوں آنکھوں کے درمیاں بوسہ دیا ۔ (ابو داؤد السنن جلد 4 صفحہ 397 باب فی قبلة ما بين العينين رقم : 5220)


سلسلہ عالیہ چشتیہ کے عظیم پیشوا حضرت سیدنا با با فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں : مشائخ وبزرگان دین رحمہم اللہ کی دست بو سی یقینا دین ودنیا کی خیروبرکت کا باعث بنتی ہے ۔ ایک مرتبہ کسی نے ایک بزرگ کو انتقال کے بعد خواب میں دیکھا تو ان سے پوچھا ، 'مَا فَعَلَ اللہُ بِکَ ؟ یعنی اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا سلوک کیا ؟ کہا ، دنیا کا ہرمعاملہ اچھا اور برا میرے آگے رکھ دیا اور بات یہاں تک پہنچ گئی کہ حکم ہوا ، اسے دو زخ میں لے جاؤ اس حکم پر عمل ہونے ہی والا تھا کہ فرمان ہوا ٹھہرو ایک دفعہ اس نے جامع دمشق میں خواجہ شریف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے دستِ مبارک کو چوماتھا ۔ اس دست بوسی کی برکت سے ہم نے اسے معاف کیا ۔ (اسرار اولیاء مع ہشت بہشت صفحہ ۱۱۳)


مزید شیخ المشائخ بابا فرید الدین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں : قیامت کے دن بہت سارے گناہگار ، بزرگان دین رحمہم اللہ تعالیٰ کی دست بو سی کی برکت سے بخشے جائیں گے اور دوزخ کے عذاب سے نجات حاصل کریں گے ۔ (اسرار اولیاء مع ہشت بہشت صفحہ ۱۱۳)


دو نوں ہاتھوں سے مصافحہ کریں ۔ (بہارشریعت حصہ ۱۶ صفحہ ۹۸)


جتنی بار ملاقات ہو ہر بار مصافحہ کرنا مستحب ہے ۔ (بہارشریعت حصہ ۱۶ صفحہ ۹۷)


رخصت ہوتے وقت بھی مصافحہ کریں ۔ صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : اس کے مسنون ہونے کی تصریح نظر فقیر سے نہیں گزری مگر اصل مصافحہ کا جواز حدیث سے ثابت ہے تو اس کو بھی جائز ہی سمجھا جائے گا ۔ (بہار شریعت حصہ ۱۶ صفحہ ۹۸)


فقط انگلیوں کے چھونے کا نام مصافحہ نہیں ہے سنت یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا جائے اور دونوں کے ہاتھوں کے مابین کپڑا وغیرہ کوئی چیز حائل نہ ہو ۔ (بہار شریعت حصہ ۱۶ صفحہ ۹۸،چشتی)


مصافحہ کرتے وقت سنت یہ ہے کہ ہاتھ میں رومال وغیرہ حائل نہ ہو، دونوں ہتھیلیاں خالی ہوں اور ہتھیلی سے ہتھیلی ملنی چاہے ۔ (بہار شریعت سلام کا بیان حصہ ۱۶ صفحہ ۹۸)


مسکرا کر گرم جوشی سے مصافحہ کریں ۔ درود شریف پڑھیں اور ہوسکے تو یہ دعا بھی پڑھیں ، یَغْفِرُ اللہُ لَنَا وَلَکُمْ ، (یعنی اللہ عزوجل ہماری اور تمہاری مغفرت فرمائے)


ہر نماز کے بعدلوگ آپس میں مصافحہ کرتے ہیں یہ جائز ہے ۔ (ردالمحتار کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع جلد ۹ صفحہ ۶۸۲)


گلے ملنے کو معانقہ کہتے ہیں او ریہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے ثابت ہے ۔ (بہار شریعت،سلام کا بیان حصہ ۱۶ صفحہ ۹۸)


صرف تہبند باندھ کر یا پاجامہ پہنے ہوں اس وقت معانقہ نہ کریں بلکہ کُرتا پہنا ہوا ہو یا کم از کم چادر لپٹی ہوئی ہونی چاہے ۔ (بہار شریعت سلام کا بیان حصہ ۱۶ صفحہ ۹۸)


عیدین میں معانقہ کرنا جائز ہے ۔ (بہار شریعت سلام کا بیان حصہ ۱۶ صفحہ ۹۰)


عالمِ دین کے ہاتھ پاؤں چومنا جائز ہے ۔ (بہارشریعت حصہ ۱۶ صفحہ ۹۹)


مصافحہ کے بعد اپنا ہی ہاتھ چوم لینا مکروہ ہے ۔ (بہارشریعت حصہ ۱۶ صفحہ ۹۹)


ہاتھ پاؤں وغیرہ چومنے میں یہ احتیاط ضروری ہے کہ محل فتنہ نہ ہو ، اگر معاذ اللہ شہوت کےلیے کسی اسلامی بھائی سے مصافحہ یامعانقہ کیا ، ہاتھ پاؤں چومے یا نعوذباللہ پیشانی کا بو سہ لیا تو یہ ناجائزہے ۔ (بہارشریعت ،حصہ ۱۶ صفحہ ۹۸)


والدین کے ہاتھ پاؤں بھی چوم سکتے ہیں ۔ عالم باعمل اور نیک مسلمان بھائی کی آمد پر تعظیم کےلیے کھڑا ہوجانا جائز بلکہ مستحب ہے مگر وہ عالم یا نیک شخص بذات خود اپنے آپ کو تعظیم کا اہل تصور نہ کرے اور یہ تمنا نہ کرے کہ لوگ میرے لئے کھڑے ہوجایا کریں ۔ اور اگر کوئی تعظیما کھڑا نہ ہو تو ہر گز ہرگز دل میں کدورت (میل) نہ لائیں ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد ۲۳ صفحہ ۷۱۹)


محترم قارئین کرام : مذکورہ بالا احادیث و دلائل سے معلوم ہوا مصافحہ اور معانقہ یعنی گلے ملنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت مبارکہ ہے ۔ جو اس کو بدعت کہے وہ لوگوں کو سنت مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دور کر رہا ہے ۔ اگر معانقہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے تو پھر عید کے دن یا عام دنوں میں اس کی کوئی ممانعت نہیں ہے ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

No comments:

Post a Comment

آیت اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى سے مُردوں کے نہ سننے پر اِستدلال کرنے والوں کو جواب

آیت اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى سے مُردوں کے نہ سننے پر اِستدلال کرنے والوں کو جواب محترم قارٸینِ کرام ارشادِ باری تعالیٰ ہے : اِنَّكَ...