میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ثبوت وہابیوں کے گھر سے
محترم قارئینِ کرام : محترم قارئینِ کرام : اہلِ اسلام کے نزدیک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی ولادت کی خوشی منانا ، سال کے تمام ایام میں بالخصوص ماہ ربیع الاول میں اجر و ثواب کی نیت سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے شمائل و خصائل کو بیان کرنا اور ایصال ثواب کے نذرانے پیش کرنا اہل اسلام کا طریقہ رہا ہے ۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کے میلاد منانا ایک کار خیر اور باعث اجر و ثواب ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جمہور محدثین ، مفسرین ، مورخین علیہم الرّحمہ سب میلاد النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو ایک امر خیر جانتے ہیں اور اس کے منانے والوں کےلیے الله عزّ وجل کی جانب سے اجرِعظیم کی امید رکھتے ہیں ۔
آگے بڑھنے سے پہلے یہ حدیث پڑھ لیجیے دین میں اچھے کام کے رائج کرنے والوں پر اجر : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَنَّ فِي الإِسْلامِ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أَجْرُهَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا بَعْدَهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ وَمَنْ سَنَّ فِي الإِسْلامِ سُنَّةً سَيِّئَةً كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ ۔ (رواہ مسلم كتاب الزكاة ١٠١٧،چشتی)
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا جو شخص اسلام میں اچھے طریقے کو رائج کرے گا ، تو اس کو اس کا ثواب ملے گا ، اور ان لوگوں کے عمل کا بھی ثواب ملے گا جو اس کے ایجاد کردہ فعل پر عمل کرتے رہیں اور عمل کرنے والوں کے اجر میں کوئی کمی نہیں واقع نہیں ہوگی ، اور جو شخص اسلام میں کسی برے عمل کو رائج کرے گا تو اس پر اس عمل کو رائج کرنے کا بھی گناہ ملے گا اور ان لوگوں کے عمل کا بھی جو اس کے بعد اس طریقے پر چلتے رہے اور عمل کرنے والوں کے گناہ میں بھی کچھ کمی نہیں کی جائے گی ۔
اہلِ بدعت یعنی غیر مقلدین جنہوں نے عقائد میں طرح طرح کی بدعات نکال لی ہیں ۔ اور دین کے ہر مسئلے میں ان کا اسی طرح پوری امت سے علیحدہ ہی رہنے کا ان کا عزم ہے ۔ میلاد النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو بدعت بدعت کہ کر رٹ لگائے رکھتے ہیں پر ان غیر کے مقلدوں کے پاس اس کی حرمت کی دلیل نہیں فقط یہ کہنے کہ " كل بدعة ضلالة " یا پھر "من احدث فی امرنا ھذا ما لیس منه فھو رد " سے استدلال باطلہ کرنے کے . من احدث فی امرنا ھذا ما لیس منه فھو رد ، اس حدیث کی شرح میں محدثین علیہم الرّحمہ کے اقوال میں نقطہ یہ ہے کہ اس میں ما لیس منه کی قید ہے . مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح » كتاب الإيمان » باب الاعتصام بالكتاب والسنة."ما ليس منه فيه إشارة إلى أن إحداث ما لا ينازع الكتاب والسنة ۔
ترجمہ : اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایسی نئی بات کا نکالنا جو کتاب و سنت کے خلاف نہ ہو مذموم (نا پسندیدہ) نہ ہو گی ۔
امام شافعی رحمۃ الله علیہ فرماتے ہیں : مَا أَحْدَثَ وَخَالَفَ كِتَابًا أَوْ سُنَّةً أَوْ إِجْمَاعًا أَوْ أَثَرًا فَهُوَ الْبِدْعَةُ الضَّالَّةُ. وَمَا أُحْدِثَ مِنَ الْخَيْرِ وَلَمْ يُخَالِفْ مِنْ ذٰلِكَ فَهُوَ الْبِدْعَةُ الْمَحْمُوْدَةُ ۔ (إعانة الطالبين جلد 1 صفحہ 594،چشتی)
ترجمہ : جو چیز نئی پیدا ہوئی اور مخالف ہوئی کتاب و سنت اور اجماع اور اثر کے ، وہ بدعت ضلالہ ہے اور جو نئی چیز پیدا ہوئی خیر سے اور نہیں مخالف ہے ان سے (کتاب و سنت ، اجماع اثر) ، پس وہ بدعت محمودہ ہے ۔
دوسری حدیث : كل بدعة ضلالة اس حدیث میں لفظ کل استغراقی نہیں ہے ۔ بلکہ یہ "کل" عام اور مخصوص البعض ہے کیونکہ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم احداث کو ما لیس منہ کے ساتھ مقید فرما چکے ہیں تو اب جس قدر حدیثیں بدعت کی منع ہوں گی وہ سب احداث، مخالف شریعت کی طرف راجع ہونگی ، نہ کہ موافق شریعت کی طرف، کیونکہ اصول کا مسلہ ہے کہ جب کوئی حکم کسی امر مقید پر ہوتا ہے تو وہ حکم قید کی طرف راجع ہوگا . (حديث مرفوع) : مَا رَآهُ الْمُسْلِمُونَ حَسَنًا فَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ حَسَنٌ ۔ (أحمد في كتاب السنة رقم الحديث: 914)
ترجمہ : جسے مسلمان اچھا جانیں ، وہ الله کے نزدیک بھی اچھا ہے ۔
منکرینِ میلادُالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم وہابیوں کی گردنوں پر تلوار : ⏬
محترم قارئینِ کرام : ہم نے ابن تیمیہ کا حوالہ پیش کیا تو منکرینِ میلادُالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کو آگ اور مرچی لگ گئی کہ خیانت کی گئی ہے ان بچاروں کے پاس جواب تو ہوتا نہیں جب جواب نہیں ہوتا تو سادہ لوح لوگوں کو گمراہ کرنے کےلیے جھوٹ بولنے سے دریغ نہیں کرتے کبھی کہتے ہیں حدیث ضعیف ہے ، کبھی کہتے ہیں عبارت مکمل نہیں اور جب پھنس جائیں تو پھر کہتے یہ مولوی ہمارے لیے حجت نہیں ہے مگر انہیں ملاّؤں کا نام استعمال کر کے لوگوں کو گمراہ بھی کرتے ہیں آیئے ہم اقتضاء الصراط مستقیم کے عربی ایڈیشن اور ایک اردو ترجمہ جو وہابیوں نے کیا ہے کے اسکینز ساتھ پیش کر رہے ہیں ۔ جس میں علامہ ابن تیمیہ نے صاف لکھا ہے کہ میلادُالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم منانے والوں کےلیے اجر عظیم اور ثواب ہے پڑھیے اور وہابیوں کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سے بغض و عداوت ملاحطہ کیجیے ۔
وہابیوں کی گردنوں پر تلوار ، شیخ ابن تیمیہ لکھتے ہیں : وکذلک ما يحدثه بعض الناس، إما مضاهاة للنصاري في ميلاد عيسي عليه السلام، وإما محبة للنبي صلي الله عليه وآله وسلم وتعظيمًا. وﷲ قد يثيبهم علي هذه المحبة والاجتهاد، لا علي البدع ، من اتخاذ مولد النبي صلي الله عليه وآله وسلم عيدًا ۔
ترجمہ : اور اِسی طرح اُن اُمور پر (ثواب دیا جاتا ہے) جو بعض لوگ ایجاد کر لیتے ہیں ، میلادِ عیسیٰ علیہ السلام میں نصاریٰ سے مشابہت کے لیے یا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّمکی محبت اور تعظیم کےلیے ۔ اور اللہ تعالیٰ اُنہیں اِس محبت اور اِجتہاد پر ثواب عطا فرماتا ہے نہ کہ بدعت پر ، اُن لوگوں کو جنہوں نے یومِ میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کو بہ طور عید اپنایا ۔ (اقتضاء الصراط المستقيم لمخالفة أصحاب الجحيم صفحہ 619،چشتی)
وہابیوں کی گردنوں پر تلوار ، شیخ ابن تیمیہ لکھتے ہیں : فتعظيم المولد واتخاذه موسماً، قد يفعله بعض الناس، ويکون له فيه أجر عظيم؛ لحسن قصده ، وتعظيمه لرسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، کما قدمته لک أنه يحسن من بعض الناس ما يستقبح من المؤمن المسدد ۔
ترجمہ : میلاد شریف کی تعظیم اور اسے شعار بنا لینا بعض لوگوں کا عمل ہے اور اِس میں اُس کےلیے اَجر عظیم بھی ہے کیوں کہ اُس کی نیت نیک ہے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی تعظیم بھی ہے ، جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا ہے کہ بعض لوگوں کے نزدیک ایک اَمر اچھا ہوتا ہے اور بعض مومن اسے قبیح کہتے ہیں ۔ (اقتضاء الصراط المستقيم لمخالفة أصحاب الجحيم صفحہ 621 ، 622،چشتی)
وہابیوں کی گردنوں پر تلوار ، شیخ ابن تیمیہ لکھتے ہیں : جو مسلمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی محبت میں میلاد مناتے ہیں اللہ انہیں اس پر اجر و ثواب عطاء فرمائے گا ۔ (فکر و عقیدہ کی گمراہیاں ترجمہ اقتضاء الصراط مستقیم صفحہ 73 ابن تیمیہ، مترجم وہابی عالم مطبوعہ دارالسلام)
وہابیوں کی گردنوں پر تلوار ، شیخ ابن تیمیہ لکھتے ہیں : میلاد شریف کی تعظیم اور اسے شعار بنا لینا بعض لوگوں کا عمل ہے اور اِس میں اُس کےلیے اَجر عظیم بھی ہے کیوں کہ اُس کی نیت نیک ہے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی تعظیم بھی ہے ، جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا ہے کہ بعض لوگوں کے نزدیک ایک اَمر اچھا ہوتا ہے اور بعض مومن اسے قبیح کہتے ہیں ۔ (فکر و عقیدہ کی گمراہیاں ترجمہ اقتضاء الصراط مستقیم صفحہ 77 ابن تیمیہ ، مترجم وہابی عالم مطبوعہ دارالسلام) ۔ لو جی وہابیو اب تو ترجمہ اور چھاپہ تمہارا ہے ۔
وہابی نجدی مذھب کے بانی محمد ابن عبد الوہاب نجدی کے بیٹے شیخ عبد الله بن محمد بن عبد الوهاب نے اپنی کتاب “مختصر سيرة الرسول صلى الله عليه وسلم” میں رقم کیا ہے : وأرضعته صلى الله عليه وسلم ثويبة عتيقة أبي لهب، أعتقها حين بشرته بولادته صلى الله عليه وسلم. وقد رؤي أبو لهب بعد موته في النوم فقيل له: ما حالك ؟ فقال: في النار، إلا أنه خفف عني كل اثنين، وأمص من بين إصبعي هاتين ماء ۔ وأشار برأس إصبعه ۔ وإن ذلك بإعتاقي ثويبة عندما بشرتني بولادة النبي صلى الله عليه وسلم وبإرضاعها له ۔
ترجمہ : ابو لہب کی آزاد کردہ باندی “ثویبہ” کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی خدمت رضاعت کا شرف ملا ، ابو لہب نے انہيں اس وقت آزاد کیا تھا جس وقت انہوں نے اسے حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ولادت باسعادت کی بشارت سنائی تھی ۔ اور ابو لہب کے مرنے کے بعد اسے خواب میں دیکھا گيا ، اس سےپوچھا گیا کہ تیرا کیا حال ہے ؟ تو اس نے کہا : میں عذاب میں ہوں البتہ ہر پیر کے دن مجھ سے عذاب ہلکا کیا جاتا ہے ، اور میں اپنی ان دونوں انگلیوں کے درمیان پانی چوستا ہوں (اس نے اپنی انگلی کی پور کی جانب اشارہ کیا) اور یہ ثویبہ کو اس موقع پر آزاد کرنے کی برکت ہے جس وقت اس نے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ولادت کی بشارت دی تھی ، اور خدمت رضاعت کا شرف حاصل کیا تھا ۔ شیخ عبد الله بن محمد بن عبد الوهاب نجدی نے اس روایت سے جواز میلاد پر استدلال کرتے ہوئے علامہ ابن جوزی کا قول نقل کیا ہے : قال ابن الجوزي : فإذا كان هذا أبو لهب الكافر الذي نزل القرآن بذمه جوزي بفرحه ليلة مولد النبي صلى الله عليه وسلم به فما حال المسلم الموحد من أمته صلى الله عليه وسلم يسر بمولده ؟ ۔
ترجمہ : ابن جوزی نے کہا : جب کافر ابو لہب کہ جس کی مذمت میں قرآن کریم کی سورت نازل ہوئی اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ولادت کی شب خوش ہونے پر ثواب دیا جارہا ہے تو آپ کی امت کا مؤمنِ موحد جب آپ کی ولادت پر اظہار مسرت کرتا ہے تو وہ کس قدر نوازا جائے گا ۔ (مختصر سيرة الرسول ﷺ لعبد الله بن محمد بن عبد الوهاب باب رضاعه من ثويبة عتيقة أبي لهب صفحہ نمبر 27 مطبوعہ دارالحضارہ للنشر والتوزیع)(مختصر سيرة الرسول صلى الله عليه وسلم لعبد الله بن محمد بن عبد الوهاب باب رضاعه من ثويبة عتيقة أبي لهب جلد 1 صفحہ نمبر 16 ، 17 مطبوعہ دار السلام الرياض،چشتی)(مختصر سیرۃ الرسول مترجم اردو صفحہ نمبر 32 عبد اللہ بن محمد بن عبد الوہاب نجدی مطبوعہ جامعة العلوم الاثریہ جہلم)(الوفا باحوال مصطفیٰ ﷺ مترجم اردو صفحہ نمبر 138 مطبوعہ فرید بکسٹال اردو بازار لاہور)
ابو لہب جیسے کافر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی ولادت کی خوشی میں ثوبیہ کو آزاد کیا تو ہر پیر کو عذاب میں کمی ہو جاتی ، (توفیق الباری شرح بخاری جلد 8 صفحہ 194 مترجم وہابی عالم)
امامُ الوہابیہ و دیابنہ علامہ حافظ ابن قیم جوزی لکھتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم جب پیدا ہوئے ثوبیہ نے ابو لہب کو خوشخبری دی اس نے اسے اس خوشی میں آزاد کردیا جب مرگیا تو اسے مرنے کے بعد عذاب میں کمی ہوتی تھی اس کی انگلی سے مشروب جاری ہوتا جسے وہ پیتا ۔ (تحفۃ الودود صفحہ نمبر 33)
امامُ الوہابیہ نواب صدیق حسن خان بھوپالی (م 1307ھ) غیر مقلدین کے نام وَر عالم دین ہیں وہ میلاد شریف منانے کی بابت لکھتے ہیں : اِس میں کیا برائی ہے کہ اگر ہر روز ذکرِ حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہیں کر سکتے تو ہر اُسبوع (ہفتہ) یا ہر ماہ میں اِلتزام اِس کا کریں کہ کسی نہ کسی دن بیٹھ کر ذکر یا وعظِ سیرت و سمت و دل و ہدی و ولادت و وفات آنحضرت کا کریں۔ پھر ایامِ ماہِ ربیع الاول کو بھی خالی نہ چھوڑیں اور اُن روایات و اخبار و آثار کو پڑھیں پڑھائیں جو صحیح طور پر ثابت ہیں ۔ (الشمامة العنبرية من مولد خير البرية صفحہ نمبر 5،چشتی)
امامُ الوہابیہ نواب صدیق حسن خان بھوپالی (م 1307ھ) غیر مقلدین کے نام وَر عالم دین ہیں وہ میلاد شریف منانے کی بابت لکھتے ہیں : جس کو حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے میلاد کا حال سن کر فرحت حاصل نہ ہو اور شکر خدا کا حصول پر اِس نعمت کے نہ کرے وہ مسلمان نہیں ۔ (الشمامة العنبرية من مولد خير البرية صفحہ 12)
مشہور غیر مقلد وہابی عالم علامہ نواب وحید الزماں (متوفی 1338ھ ، 1920ء میلاد شریف کے بارے میں لکھتے ہیں : وکذلک من يزجر الناس بالعنف والتشدد علي سماع الغناء أو المزامير أو عقد مجلس للميلاد أو قراء ة الفاتحة المرسومة ويفسقهم أو يکفرهم علي هذا ۔
ترجمہ : ایسے ہی لوگوں کو سماع ، غناء یا مزامیر یا محفلِ میلاد منعقد کرنے یا مروّجہ فاتحہ پڑھنے پر ڈانٹ ڈپٹ کرنے سے یا اُن کے فسق یا اُن کے کفر پر ڈانٹ ڈپٹ کرنا اور تشدد کرنا نیکی کی بجائے گناہ حاصل کرنا ہے ۔ (هدية المهدی من الفقه المحمدی صفحہ نمبر 118 ، 119)
جو لوگ محفلِ میلاد کو بدعتِ مذمومہ اور خلافِ شرع کہتے ہیں ، اُنہیں کم اَز کم اپنے بڑوں کا ہی لحاظ کرتے ہوئے اِس رویہ سے گریز کرنا چاہیے ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)















No comments:
Post a Comment