Thursday, 20 August 2026

اللہ تعالی نے غرور سے دیکھا کہنے کا شرعی حکم

اللہ تعالی نے غرور سے دیکھا کہنے کا شرعی حکم

محترم قارئینِ کرام : غرور اللہ کی صفت نہیں ۔ غرور لغت میں تکبر ، بڑائی کا باطل دعویٰ ہے ۔ یہ مخلوق کی مذموم صفت ہے ۔ اللہ تعالی کےلیے غرور سے دیکھتا ہے جیسے الفاظ استعمال کرنا سخت ناپسندیدہ ، نامناسب اور شرعاً غلط ہے ۔ غرور یا تکبر ایک عیب اور شیطانی صفت ہے ، جبکہ اللہ تعالی تمام عیبوں ، نقص اور کمزوریوں سے پاک (منزہ) ہے ۔ اس کی ذات کے لیے کبریا اور عظمت تو ثابت ہے ، لیکن غرور اور تکبر کا لفظ بولنا اس کی شانِ رحیمی اور پاکی کے خلاف ہے ۔ ۔ لفظ غرور اور تکبر میں فرق تکبر اور کبریاء : اللہ تعالیٰ کی ایک صفت المتکبر (عظمت اور بڑائی والا) ہے ۔ کبریاء اور بڑائی صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کو زیب دیتی ہے کیونکہ وہی کائنات کا خالق اور مالک ہے ۔ غرور کا مطلب : اردو اور عربی میں غرور کا مطلب دھوکہ ، فریب یا باطل پر فخر کرنا ہوتا ہے ۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب ، دھوکے اور نقص سے پاک ہے ، اس لیے اللہ کی طرف غرور کی نسبت کرنا شدید گناہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی شان اور دیکھنا اللہ تعالیٰ جب اپنے بندوں کو دیکھتا ہے تو وہ رحمت ، غضب ، یا پناہ کی نظر ہوتی ہے ۔ قرآن و حدیث کے مطابق ، اللہ تعالیٰ متکبر انسانوں سے ناراض ہوتا ہے اور ان کی طرف رحمت کی نظر سے نہیں دیکھتا ، لیکن اللہ کے اپنے دیکھنے میں کبھی غرور (نعوذ باللہ) نہیں ہوتا ۔ متبادل اور درست جملےاگر آپ اللہ تعالیٰ کی عظمت ، جلال یا کسی پر ناراضگی کا ذکر کرنا چاہتے ہیں ، تو ان الفاظ کا استعمال کریں : اللہ تعالیٰ نے جلال سے دیکھا ۔ اللہ تعالیٰ نے غضب کی نظر سے دیکھا ۔ اللہ تعالیٰ کی شانِ کبریاء یا عظمت ۔ اللہ کے لیے قرآن نے فرمایا : هُوَ اللّٰهُ الَّذِیۡ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الۡمَلِکُ الۡقُدُّوۡسُ السَّلٰمُ الۡمُؤۡمِنُ الۡمُهَیۡمِنُ الۡعَزِیۡزُ الۡجَبَّارُ الۡمُتَکَبِّرُ ۔ (سورة الحشر آیت نمبر 23) ۔ یہاں المتکبر آیا ہے جس کا معنی بڑائی والا ، ہر عیب سے پاک ہے ۔ جبکہ غرور میں کمی اور نقص کا پہلو ہے ۔


اللہ کےلیے ایسے الفاظ بولنا منع ہے : ⏬


اللہ عزوجل کےلیے وہی الفاظ بولے جائیں جو قرآن و حدیث میں آئے ہیں ۔ اپنی طرف سے صفت گھڑنا ادب کے خلاف ہے ۔ اللہ عزوجل نے اپنے لیے نظر رحمت ، نظر مغفرت فرمایا ہے ۔ نظر غرور قرآن و حدیث میں نہیں آیا ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 14 صفحہ 247)


حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں : ⏬


حدیثِ مبارکہ میں ہے : من جر ثوبه خیلاء لم ینظر اللہ الیہ یوم القیامۃ ۔

ترجمہ : جو تکبر سے کپڑا گھسیٹے اللہ قیامت کے دن اس کی طرف نظر رحمت نہیں فرمائے گا ۔ (صحیح بخاری حدیث نمبر 5788)


یہاں نظر نہ فرمانا غضب کے معنی میں ہے ، نہ کہ "غرور سے دیکھنا ۔


اللہ عزوجل کےلیے غرور سے دیکھا کہنا ادب کے خلاف اور ناجائز ہے ۔


اللہ عزوجل کےلیے بولنا ہے : اللہ عزوجل نے نظر رحمت فرمائی ، اللہ نے غضب فرمایا ، اللہ عزوجل نے اعراض فرمایا ۔


اللہ عزوجل کی شان اس سے بہت بلند ہے کہ اسے مخلوق جیسی مذموم صفات سے یاد کیا جائے ۔ لَیۡسَ کَمِثۡلِهٖ شَیۡءٌ ۔ (سورة الشوری آیت نمبر 11)

No comments:

Post a Comment

عید میلادُالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ناجائز کہنے والو ناجائز ہونے کی دلیل دو ؟

عید میلادُالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ناجائز کہنے والو ناجائز ہونے کی دلیل دو ؟ محترم قارئینِ کرام : دیوبندیوں کے وکیل اعظم مولوی امین ...