Thursday, 20 August 2026

عید میلادُالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ناجائز کہنے والو ناجائز ہونے کی دلیل دو ؟

عید میلادُالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ناجائز کہنے والو ناجائز ہونے کی دلیل دو ؟

محترم قارئینِ کرام : دیوبندیوں کے وکیل اعظم مولوی امین صفدر اوکاڑوی لکھتے ہیں : مدعی سے خاص دلیل کا مطالبہ کرنا کہ یہ خاص قرآن سے دکھاؤ یا خاص ابو بکر ، عمر فاروق کی حدیث دکھاو یا خاص فلاں فلاں کتاب سے دکھاؤ یہ محض دھوکا اور فریب ہے کتاب وسنت نے دلیل خاص کی ہرگز پابندی عائد نہیں کی ۔ ان پڑھ لوگوں سے اس قسم کی شرائط پر دستخط لیے جاتے ہیں جو شرعاً باطل ہوتی ہیں یہ خالص مرزا قادیانی کی سنت ہے ۔ (مجموعہ رسائل صفحہ 165 مطبوعہ ادارہ خدام احناف لاہور) 


مذکورہ دیوبندی اصول سے واضح ہو گیا کہ دیوبندیوں کا اہلسنت و جماعت سے جلوس و محفلِ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، جھنڈے لگانے ، لائٹنگ کرنے ، صدقہ و خیرات کرنے وغیرہم کا ثبوت خاص قرآن و سنت اور قرونِ اولی سے طلب کرنا ان کا دھوکہ و فریب ہے ، یہ شرائط شرعاً باطل  اور یہ طرز مرزا قادیانی کی سنت ہے ۔ لو جو دیوبندیو تمہیں مرزا قادیانی کی سنت ادا کرنا تمہارے ہی گھر سے مبارک ہو ۔


میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بات بات پر دلیل مانگنے والے دیوبندیوں کے شیخ الاسلام مولوی مفتی محمد تقی عثمانی دیوبندی لکھتے ہیں : البتہ جواز کےلیے کسی مستقل دلیل کی ضرورت نہیں کیونکہ اس کےلیے ممانعت کی دلیل نہ ہونا کافی ہے ۔ (فتاوی عثمانی جلد 1 صفحہ 47 مطبوعہ مکتبة المعارف کراچی،چشتی) ۔ یہی تو ہم کہتے ہیں تمام دیوبندیوں سے کہ میلاد کے ناجائز ہونے پر ممانعت کی دلیل دو ؟


دیوبندیوں کے مفتی اعظم مفتی محمد فرید لکھتے ہیں : جس عمل کی پیغمبر علیہ السلام سے نہی وارد نہ ہو وہ بدعت اور مکروہ نہیں ہوتا ۔ (فتاوی ثنائیہ جلد 1 صفحہ 474 ، 475 مطبوعہ ادارہ ترجمان السنہ لاہور) ۔ میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بدعت و حرام کہنے والے دیوبندیوں سے سوال ہے کہ میلاد کی ممانعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دیکھا دو ؟ ۔ یا پھر مان لو میلاد منانا بدعت نہیں ہے ۔


میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بات بات پر دلیل مانگنے والے وہابیوں کے شیخ الاسلام مولوی ثناء اللہ امرتسری لکھتے ہیں : جس عمل کی ممانعت قرآن و حدیث سے ثابت نہیں اس کا کرنا ناجائز ہے ۔ (فتاوی ثنائیہ جلد 1 صفحہ 474 ، 475 مطبوعہ ادارہ ترجمان السنہ لاہور) ۔ میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بات بات پر دلیل مانگنے والے وہابیوں سے سوال ہے کہ میلاد کے ناجائز ہونے پر قرآن و حدیث سے ممانعت کی دلیل دو ؟


میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بات بات پر دلیل مانگنے والے وہابیوں کے محدث العصر حافظ زبیر علی سے پوچھا گیا جس کمرے میں قرآن پاک ، اسلامی کتب ہوں یا دیوار پر آیات لکھی ہوں اس کمرے میں بیوی سے ہم بستر ہو سکتے ہیں ، جائز یا ناجائز ؟ جواب دیا جائز ہے اس کے ناجائز ہونے پر کوئی شرعی دلیل نہیں ہے ۔ (فتوی علمیہ جلد 2 صفحہ 191 مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ،چشتی) ۔ یہی سوال ہمارا ہے تمام وہابیوں سے میلاد کے ناجائز ہونے کی دلیل دو ؟


ہر چیز میں اصل اباحت ہے یعنی ہر چیز اصل میں جائز ہے ۔ بدعت بدعت کی رٹ لگانے والوں کو ان کے شیخ الاسلام شبیر احمد عثمانی صاحب کا جواب ۔ قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ وَإِنْ تَسْأَلُوا عَنْهَا حِينَ يُنَزَّلُ الْقُرْآنُ تُبْدَ لَكُمْ عَفَا اللَّهُ عَنْهَا وَاللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ ( سورۂ المائدہ آیت 101 پارہ 7)

ترجمہ مولوی محمود الحسن دیوبندی : اے ایمان والو مت پوچھو ایسی باتیں کہ اگر تم پر کھولی جاویں تو تم کو بری لگیں اور اگر پوچھو گے یہ باتیں ایسے وقت میں کہ قرآن نازل ہورہا ہے تو تم پر ظاہر کردی جاویں گی اللہ نے ان سے در گزر کی ہے اور اللہ بخشنے والا تحمل والا ہے ۔


مولوی شبیر احمد عثمانی دیوبندی لکھتے ہیں : پچھلے دو رکوع کا حاصل احکام دینیہ میں غلو اور تساہل سے روکنا تھا یعنی جو طیبات خدا نے حلال کی ہیں ان کو اپنے اوپر حرام مت ٹھہراؤ اور جو چیزیں خبیث و حرام ہیں خواہ وہ دائمی طور پر یا خاص احوال و اوقات میں ان سے پوری طرح اجتناب کرو ۔ ان آیات میں تنبیہ فرما دی کہ جو چیزیں شارع نے تصریحاً بیان نہیں فرمائیں ان کے متعلق فصول اور دورازکار سوالات مت کیا کرو جس طرح تحلیل و تحریم کے سلسلہ میں شارع کا بیان موجب ہدایت و بصیرت ہے اس کا سکوت بھی ذریعہ رحمت و سہولت ہے ۔ خدا نے جس چیز کو کمال حکمت و عدل سے حلال یا حرام کردیا وہ حلال یا حرام ہوگئی اور جس سے سکوت کیا اس میں گنجائش اور توسیع رہی ۔ مجتہدین کو اجتہاد کا موقع ملا عمل کرنے والے اس کے فعل و ترک میں آزاد رہے اب اگر ایسی چیزوں کی نسبت خوامخواہ کھود کرید اور بحث و سوال کا دروازہ کھولا جائے گا بحالیکہ قرآن شریف نازل ہورہا ہے اور تشریح کا باب مفتوح ہے تو بہت ممکن ہے کہ سوالات کے جواب میں بعض ایسے احکام نازل ہو جائیں جن کے بعد تمہاری یہ آزادی اور گنجائشِ اجتہاد باقی نہ رہے ۔ پھر سخت شرم کی بات ہوگی کہ جو چیز خود مانگ کر لی ہے اس کو نباہ نہ سکیں ۔

پھر آگے لکھتے ہیں : یا تو مراد یہ ہے کہ ان اشیاء سے درگزر کی یعنی جب خدا نے ان کے متعلق کوئی حکم نہ دیا تو انسان ان کے بارے میں آزاد ہے خدا ایسی چیزوں پر گرفت نہ کرے گا ۔ چنانچہ اسی سے بعض علماء اصول نے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ اصل اشیاء میں اباحت ہے ۔ (یعنی ہر چیز اصل میں جائز ہے) ۔ (تفسیر عثمانی جلد اوّل صفحہ 577 مطبوعہ دارالاشاعت کراچی،چشتی)


معلوم ہوا کہ جب تک وحی نازل نہ ہو تو نہ کوئی چیز لازم ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی چیز منع اور جن چیزوں کے متعلق شریعت مطہرہ نے حکم دیا ہے یا ترغیب دی ہے وہ فرض ، واجب ، سنت اور مستحب (علی حسب الحکم) قرار پاگئیں جن چیزوں کے متعلق شریعت مطہرہ نے ممانعت فرمائی یا ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا ہے وہ حرام ، مکروہ تحریمی ، مکروہ تنزیہی اور اسائت (علی حسب الحکم) قرار پاگئیں اور جن چیزوں کے متعلق شریعت مطہرہ نے سکوت فرمایا یعنی نہ حکم و ترغیب نہ ہی ممانعت و ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا وہ سب چیزیں بلاشبہ جائز ہیں ۔ یعنی محافلِ میلاد شریف ، ایصالِ ثواب کے جلسے ، اذان سے قبل یا بعد درود و سلام ، دعا بعد نماز جنازہ وغیرہ ۔


میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اپنے جلسوں کو دین و دنیا میں تقسیم کرنے والے دیوبندیوں کے امام اہلسنت سرفراز گکھڑوی لکھتے ہیں : غرضیکہ دین و دنیا مذہب و سیاست میں فرق نکالنا یہ اہل یورپ کی پیداوار ہے شریعت محمدیہ علی صاحبا الف الف تحیۃ و سلام کا دامن اس تفریق سے بالکل پاک و منزہ ہے ۔ مسلمان کی دنیا بھی دنیا دین ہے ۔ بلکہ مسلمان کا سونا جاگنا اٹھنا بیٹھنا کھانا پینا وغیرہ بلکہ زندگی کا ہر شعبہ اور ہر پہلو دین ہے ۔ (الکلام المفید فی اثبات التقلید صفحہ 83 مطبوعہ مکتبہ صفدریہ،چشتی)


یہی سرفراز گکھڑوی مزید لکھتے ہیں : حضرات مسلمانوں کا دین اور دنیا ۔ مذہب اور سیاست دو الگ الگ راستے نہیں ۔ بلکہ مسلمان کی سیاست اور دنیا بھی دین ہی ہے ۔ یہاں دین اور دنیا کا مذہب و سیاست کا فرق نکالنا زندقہ اور الحاد ہے ۔ (الکلام المفید فی اثبات التقلید صفحہ 58 مطبوعہ مکتبہ صفدریہ،چشتی)


سوشل میڈیا کے ڈیجیٹل دیوبندی مختیان دین اور دنیا کی تقسیم الگ الگ کرکے اپنے ہی نام نہاد امام اہلسنت کے فتوے سے ملحد زندیق اور اہل یورپ کی پیداوار ٹھہرے ۔ لہٰذا اہلسنت و جماعت پر دانت نہ پیسیں اور نہ اہلسنت و جماعت پر غصہ نکالیں یہ سب کچھ  بقول ابو ایوب جعلی قادری و ساجد خان جعلی نقشبندی کے یہ آپ کے گھر کا گند ہے پہلے اسے صاف کریں بعد یہاں بات کریں ۔ دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی ۔







No comments:

Post a Comment

عید میلادُالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ناجائز کہنے والو ناجائز ہونے کی دلیل دو ؟

عید میلادُالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ناجائز کہنے والو ناجائز ہونے کی دلیل دو ؟ محترم قارئینِ کرام : دیوبندیوں کے وکیل اعظم مولوی امین ...