حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اور میلادُالنَّبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
محترم قارٸینِ کرام : حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ وصال 1052 ھجری برِصغیر کی وہ عظیم ہستی گزری ہیں کہ جنہیں فن حدیث کے حوالے سے اہل سنت ، بلکہ ہر مکتبہ فکر ایک مستند اور قابل اعتماد محدث تسلیم کرتا ہے ۔ عیدِ میلادُالنَّبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے ہم آپ کے سامنے انہیں حضرت شیخ عبدالحق محدث رحمۃ اللہ علیہ کی ایک مشہور عربی کتاب ماثبت بالسنۃ کا اردو ترجمہ مومن کے ماہ و سال مطبوعہ دارالاشاعت کراچی و ایام اسلام مطبوعہ فرید بکسٹال اردو بازار لاہور اور اخبار الاخیار و مدار النبوت سے چند اقتباسات پیش کر رہے ہیں ۔ یاد رہے کہ جو ترجمہ آپ کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے اس کی تصدیق دیوبندی مکتبہ فکر کے مفتی محمد شفیع صاحب دارالعلوم کراچی نے کی ہے : ⬇
حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی دعا اور اہمیت میلاد : ⏬
حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اللہ عزوجل کی بارگاہ میں یوں عرض کرتے ہیں : اے اللہ میرا کوئی عمل ایسا نہیں جسے تیرے دربار میں پیش کرنے کے لائق سمجھوں ، میرے تمام اعمال فساد نیت کا شکار ہیں البتہ مجھ فقیر کا ایک عمل محض تیری ہی عنایت سے اس قابل (اور لائق التفات) ہے اور وہ یہ ہے کہ مجلس میلاد کے موقع پر کھڑے ہو کر سلام پڑھتا ہوں اور نہایت ہی عاجزی و انکساری، محبت و خلوص کے ساتھ تیرے حبیب پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام بھیجتا ہوں ۔ اے اللہ وہ کون سا مقام ہے جہاں میلاد پاک سے بڑھ کر تیری طرف سے خیر و برکت کا نزول ہوتا ہے؟ اس لیے اے ارحم الراحمین مجھے پکا یقین ہے کہ میرا یہ عمل کبھی رائیگاں نہیں جائے گا بلکہ یقیناً تیری بارگاہ میں قبول ہو گا اور جو کوئی درود و سلام پڑھے اور اس کے ذریعے سے دعا کرے وہ کبھی مسترد نہیں ہوسکتی ۔ (اخبار الاخیار مترجم اردو صفحہ نمبر 605 مطبوعہ اکبر بک سیلر اردو بازار لاہور)(اخبار الاخیار مترجم اردو صفحہ نمبر 624 مطبوعہ مدینہ پبلیشنگ کمپنی جناح روڈ کراچی)
حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : شبِ ولادت شبِ قدر سے افضل ہے ۔ سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شب ولادت یقیناً شبِ قدر سے زیادہ افضل ہے کیونکہ شبِ ولادت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی پیدائش و جلوہ گری کی شب ہے اور شبِ قدر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو عطا کی ہوئی شب ہے ۔ ذات رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ نے تمام جہانوں کےلیے رحمت بنایا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کی ذات والا صفات کے سبب سے آسمانی و زمینی تمام مخلوقات کو اللہ عزوجل نے عام نعمتیں سرفراز کی ہیں ۔ (مومن کے ماہ و سال صفحہ نمبر 84 ،چشتی)(ماثبت من السنہ مترجم اردو صفحہ 73 مطبوعہ فرید بکسٹال اردو بازار لاہور)
جہنم میں ابولہب کافر کا حال : ⏬
حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ابولہب کی باندیوں میں سے ثویبہ لونڈی نے ابولہب کو رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی خوشخبری دی جسے سن کر ابولہب نے اپنی باندی ثویبہ کو آزاد کردیا ۔ ابولہب کے مرنے کے بعد اس کے کسی ساتھی نے اسے خواب میں دیکھ کر اس کاحال پوچھا تو جواب دیا جہنم میں پڑا ہوں البتہ اتنا ضرور ہے کہ ہر پیر کی رات کو عذاب میں تخفیف ہو جاتی ہے اور اپنی ان دو انگلیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ان انگلیوں سے میں نے اپنی لونڈی ثویبہ کو اس لیے آزاد کیا تھا کہ اس نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی خوشخبری دی تھی ۔ اس صلہ میں ان دونوں انگلیوں سے کچھ پانی پی لیتاہوں ۔ (مومن کے ماہ و سال صفحہ 84 - 85،چشتی)(ماثبت من السنہ مترجم اردو صفحہ 74 مطبوعہ فرید بکسٹال اردو بازار لاہور)
حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : میلاد شریف کرنے والوں کےلیے اس میں سند ہے جو شب میلاد خوشیاں مناتے ہیں اور مال خرچ کرتے ہیں ۔ یعنی ابولہب کافر تھا اور قرآن پاک اس کی مذمت میں نازل ہوا ۔ جب اسے میلاد کی خوشی منانے اور اپنی لونڈی کے دودھ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےلیے خرچ کرنے کی وجہ سے جزا دی گئی تو اس مسلمان کا کیا حال ہو گا جو محبت اور خوشی سے بھر پور ہے اور میلاد پاک میں مال خرچ کرتا ہے ۔ (مدارج النبوۃ مترجم اردو جلد دوم صفحہ نمبر 35 مطبوعہ شبیر برادرز اردو بازار لاہور)(ماثبت من السنہ مترجم اردو صفحہ 74 مطبوعہ فرید بکسٹال اردو بازار لاہور)
عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منانا مسلمانوں کا عمل ہے : ⏬
حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں ابولہب کافر جس کی مذمت قرآن کریم میں وارد ہے جبکہ اس کو ولادت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشی منانے میں اپنی لونڈی ثویبہ کو آزاد کرنے کا یہ بدلا ملا کہ وہ دوزخ میں بھی ایک رات کےلیے فرحت و مسرت سے ہمکنار ہوجاتا ہے تو ان مسلمانوں کے حال پر غور کیا جائے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت پر مسرتوں کا اظہار کرتے اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت میں بقدر استطاعت خرچ کرتے ہیں ۔ مری جان کی قسم ! شب ولادت رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اظہار مسرت کے سبب اللہ تعالیٰ اپنے عام فضل و کرم سے اظہار مسرت کرنے والوں کو جنت کے باغوں میں داخل کرے گا ۔ مسلمان ہمیشہ سے محفل میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منعقد کرتے آئے ہیں ۔ محفل میلاد کے ساتھ ہی دعوتیں دیتے کھانے وغیرہ پکواتے اور غریبوں کی طرح طرح کے تحفہ تحائف تقسیم کرتے۔ خوشی کا اظہار کرتے اور دل کھول کر خرچ کرتے ہیں ۔ نیز ولادت باسعادت پر قرآن خوانی کراتے اور اپنے مکانوں کو مزین کرتے ہیں ۔ ان تمام افعالِ حسنہ کی برکت سے ان لوگوں پر اللہ عزوجل کی برکتوں کا نزول ہوتا رہتا ہے ۔ (مومن کے ماہ و سال صفحہ 85،چشتی)(ماثبت من السنہ مترجم اردو صفحہ 74 مطبوعہ فرید بکسٹال اردو بازار لاہور)
محفل میلاد منعقد کرنے کے خصوصی فضائل : ⏬
حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : محفل میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منعقد کرنے کے خصوصی تجربے یہ ہیں کہ میلاد کرنے والے سال بھر تک اللہ عزوجل کی حفظ وامان میں رہتے اور حاجت روائی و مقصود برآری کی خوشیوں سے جلد ترہم آغوش ہوتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان پر رحمتیں نازل کرتا ہے جو میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شب کو عید مناتے ہیں اور جس کے دل میں عناد اور دشمنی کی بیماری ہے وہ اپنی دشمنی میں اور زیادہ سخت ہو جاتا ہے ۔ (مومن کے ماہ و سال صفحہ 85 ، 86،چشتی)(ماثبت من السنہ مترجم اردو صفحہ 74 مطبوعہ فرید بکسٹال اردو بازار لاہور)
میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھنڈے و پرچم لگانے کا ثبوت : ⏬
حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نے تین پرچم اس طرح دیکھے کہ ان میں سے ایک مشرق میں دوسرا مغرب میں اور تیسرا خانہ کعبہ کی چھت پر نصب تھا ۔ (مومن کے ماہ و سال صفحہ 75 مطبوعہ دارالاشاعت کراچی)(ماثبت من السنہ مترجم اردو صفحہ 66 مطبوعہ فرید بکسٹال اردو بازار لاہور)
تاریخ ولادت کے متعلق : ⏬
حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : بارہ (12) ربیع الاول تاریخ ولادت رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مشہور ہے اور اہل مکہ کاعمل یہی ہے کہ وہ اس تاریخ کو مقام ولادت رسالتِ مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اب تک زیارت کرتے ہیں ۔ علامہ طیبی رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے : تمام مسلمانوں کا اس امر پر اتفاق ہے کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 12 ربیع الاول کو اس دنیا میں رونق افروز ہوئے ۔ (ماثبت من السنہ مترجم اردو صفحہ 71 ، 72 مطبوعہ فرید بکسٹال اردو بازار لاہور،چشتی)
فوائد : حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے ان اقتباسات کی روشنی میں درج ذیل فوائد حاصل ہوئے : ⬇
1 ۔ 12 ربیع الاول ولادت مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تاریخ پر مسلمانوں کااتفاق ہے ۔
2 ۔ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلمانوں کےلیے عید کا دن ہے ۔
3 ۔ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشی کرنا مسلمانوں کا ہمیشہ سے معمول رہا ہے ۔
4 ۔ خاص کر اہل مکہ کا عمل رہا ہے کہ 12 ربیع الاول کو مقام ولادت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کرتے رہے ۔
5 ۔ محفل میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت سے سال بھر امن وامان رہتا ہے اور مصیبتیں وتکالیف دور ہوتی ہیں ۔
6 ۔ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اپنے گھروں کو سجانا اور قرآن خوانی وغیرہ جیسے نیک اعمال کرنا خوشی کی علامات ہیں ۔
7 ۔ ان تمام افعالِ حسنہ کی برکت سے اللہ تعالیٰ کی برکتوں کا نزول ہوتا ہے ۔ الحَمْدُ ِلله ! غور فرمائیے ! گیارہویں صدی کے مجدد شیخ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ ان تمام اعمال کو ’’افعالِ حسنہ‘‘ یعنی نیک و مستحب اعمال فرما رہے ہیں اور مسلمانوں کا برسوں سے معمول قرار دے رہے ہیں ۔ نیز یہ بھی کہ ان نیک اعمال کے سبب اللہ تعالیٰ کی رحمتوں برکتوں کا نزول ہوتا ہے ۔ اللہ عزوجل ہمیں جملہ فتنوں سے بچاۓ آمین ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)


















No comments:
Post a Comment