میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ثبوت دیوبندوں کے گھر سے
محترم قارئینِ کرام : اہلِ اسلام کے نزدیک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی ولادت کی خوشی منانا ، سال کے تمام ایام میں بالخصوص ماہ ربیع الاول میں اجر و ثواب کی نیت سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے شمائل و خصائل کو بیان کرنا اور ایصال ثواب کے نذرانے پیش کرنا اہل اسلام کا طریقہ رہا ہے ۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کے میلاد منانا ایک کار خیر اور باعث اجر و ثواب ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جمہور محدثین ، مفسرین ، مورخین علیہم الرّحمہ سب میلاد النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو ایک امر خیر جانتے ہیں اور اس کے منانے والوں کےلیے الله عزّ وجل کی جانب سے اجرِعظیم کی امید رکھتے ہیں ۔
آگے بڑھنے سے پہلے یہ حدیث پڑھ لیجیے دین میں اچھے کام کے رائج کرنے والوں پر اجر : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَنَّ فِي الإِسْلامِ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أَجْرُهَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا بَعْدَهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ وَمَنْ سَنَّ فِي الإِسْلامِ سُنَّةً سَيِّئَةً كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ ۔ (رواہ مسلم كتاب الزكاة ١٠١٧،چشتی)
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا جو شخص اسلام میں اچھے طریقے کو رائج کرے گا ، تو اس کو اس کا ثواب ملے گا ، اور ان لوگوں کے عمل کا بھی ثواب ملے گا جو اس کے ایجاد کردہ فعل پر عمل کرتے رہیں اور عمل کرنے والوں کے اجر میں کوئی کمی نہیں واقع نہیں ہوگی ، اور جو شخص اسلام میں کسی برے عمل کو رائج کرے گا تو اس پر اس عمل کو رائج کرنے کا بھی گناہ ملے گا اور ان لوگوں کے عمل کا بھی جو اس کے بعد اس طریقے پر چلتے رہے اور عمل کرنے والوں کے گناہ میں بھی کچھ کمی نہیں کی جائے گی ۔
اہلِ بدعت یعنی غیر مقلدین جنہوں نے عقائد میں طرح طرح کی بدعات نکال لی ہیں ۔ اور دین کے ہر مسئلے میں ان کا اسی طرح پوری امت سے علیحدہ ہی رہنے کا ان کا عزم ہے ۔ میلاد النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو بدعت بدعت کہ کر رٹ لگائے رکھتے ہیں پر ان غیر کے مقلدوں کے پاس اس کی حرمت کی دلیل نہیں فقط یہ کہنے کہ " كل بدعة ضلالة " یا پھر "من احدث فی امرنا ھذا ما لیس منه فھو رد " سے استدلال باطلہ کرنے کے . من احدث فی امرنا ھذا ما لیس منه فھو رد ، اس حدیث کی شرح میں محدثین علیہم الرّحمہ کے اقوال میں نقطہ یہ ہے کہ اس میں ما لیس منه کی قید ہے . مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح » كتاب الإيمان » باب الاعتصام بالكتاب والسنة."ما ليس منه فيه إشارة إلى أن إحداث ما لا ينازع الكتاب والسنة ۔
ترجمہ : اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایسی نئی بات کا نکالنا جو کتاب و سنت کے خلاف نہ ہو مذموم (نا پسندیدہ) نہ ہو گی ۔
امام شافعی رحمۃ الله علیہ فرماتے ہیں : مَا أَحْدَثَ وَخَالَفَ كِتَابًا أَوْ سُنَّةً أَوْ إِجْمَاعًا أَوْ أَثَرًا فَهُوَ الْبِدْعَةُ الضَّالَّةُ. وَمَا أُحْدِثَ مِنَ الْخَيْرِ وَلَمْ يُخَالِفْ مِنْ ذٰلِكَ فَهُوَ الْبِدْعَةُ الْمَحْمُوْدَةُ ۔ (إعانة الطالبين جلد 1 صفحہ 594،چشتی)
ترجمہ : جو چیز نئی پیدا ہوئی اور مخالف ہوئی کتاب و سنت اور اجماع اور اثر کے ، وہ بدعت ضلالہ ہے اور جو نئی چیز پیدا ہوئی خیر سے اور نہیں مخالف ہے ان سے (کتاب و سنت ، اجماع اثر) ، پس وہ بدعت محمودہ ہے ۔
دوسری حدیث : كل بدعة ضلالة اس حدیث میں لفظ کل استغراقی نہیں ہے ۔ بلکہ یہ "کل" عام اور مخصوص البعض ہے کیونکہ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم احداث کو ما لیس منہ کے ساتھ مقید فرما چکے ہیں تو اب جس قدر حدیثیں بدعت کی منع ہوں گی وہ سب احداث، مخالف شریعت کی طرف راجع ہونگی ، نہ کہ موافق شریعت کی طرف، کیونکہ اصول کا مسلہ ہے کہ جب کوئی حکم کسی امر مقید پر ہوتا ہے تو وہ حکم قید کی طرف راجع ہوگا . (حديث مرفوع) : مَا رَآهُ الْمُسْلِمُونَ حَسَنًا فَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ حَسَنٌ ۔ (أحمد في كتاب السنة رقم الحديث: 914)
ترجمہ : جسے مسلمان اچھا جانیں ، وہ الله کے نزدیک بھی اچھا ہے ۔
میلاد النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم حکیم الامت دیوبند کی نظر میں : ⏬
حکیم الامت دیوبند جناب اشرف علی تھانوی صاحب میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عید میلاد لکھتے ہیں اور لکھتے ہیں ہم اسے باعث برکت سمجھتے ہیں اور جس مکان میں عید میلاد منائی جائے اس میں برکت ہوتی ہے ۔ (ارشاد العباد فی عید میلاد صفحہ نمبر 4)
حکیم الامت دیوبند جناب اشرف علی تھانوی کہتے ہیں : حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وجود سب سے بڑی نعمت ہے یومِ ولادت پیر اور تاریخ ولادت بارہ (12) ربیع الاوّل باعث برکت ہیں اس دن و یوم میلاد سے برکتیں حاصل ہوتی ہیں ۔ (ارشاد العباد فی عید میلاد صفحہ نمبر 5)
حکیم الامت دیوبند جناب اشرف علی تھانوی صاحب کہتے ہیں : حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا وجود سب سے بڑی نعمت ہے اور تمام نعمتیں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے صدقے ملی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اصل ہیں تمام نعمتوں کی ۔ (اِرشادُالعِبَاد فِی عِیدِ المیلاد صفحہ نمبر 5 ، 6،چشتی)
حکیم الامت دیوبند لکھتے ہیں : ذکر ولادت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیگر اذکار خیر کی طرح ثواب اور افضل ہے ۔ (امدادُالفتاویٰ جلد نمبر 11 صفحہ نمبر 351 مطبوعہ انڈیا)
مکتبہ فکر دیوبند کے کوفوں سے گذارش ہے آؤ منکرات کے خلاف مل کر کام کریں آواز اٹھائیں مگر خدا را ہماری نہ مانو اپنے حکیم الامت صاحب کی مان لو اور وہابیت کے راستے پر چل کر میلاد جیسے ثواب کے کام کا مذاق مت اڑاؤ پڑھو تھانوی صاحب کیا لکھ رہے ہیں ۔ اب آپ کی مرضی ہے اس ثواب کے کام کا مذاق اڑاؤ یا منا کر ثواب کماؤ ۔
حکیم الامت دیوبند مولوی اشرفعلی تھانوی لکھتے ہیں : میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مستحب عمل ہے اس شامل منکرات کو ترک کرنا چاہیے نہ کہ مستحب عمل کو ۔ (مجالس حکیم الامت صفحہ نمبر 160 مطبوعہ دارالاشاعت اردو بازار کراچی،چشتی)
اے مکتبہ فکر دیوبند کے لوگو آپ کے حکیم الامت علامہ اشرف علی تھانوی صاحب میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مستحب عمل قرار دے رہے ہیں ذرا بتایئے مستحب عمل کرنے پر ثواب ملتا ہے یا گناہ ؟ جناب ہم بھی مستحب سمجھ کر میلاد مناتے ہیں فرض یا واجب نہیں ۔
رہی بات منکرات کی تو ہم سخت مخالف ہیں اور رد کرتے ہیں ان غیر شرعی افعال کا جو کچھ جہلا شامل کر لیتے ہیں آیئے منکرات کا رد کریں مستحب عمل میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دھوم دھام سے منائیں ۔
حکیم الامت دیوبند جناب اشرف علی تھانوی صاحب فرماتے ہیں : میلاد ہر جگہ تو بدعت ہے مگر کالج میں منانا نہ صرف جائز ہے بلکہ واجب ہے ۔ (ملفوظات حکیم الامت انفاس عیسیٰ جلد نمبر 21 حصّہ اوّل صفحہ نمبر 326،چشتی)
اب دیوبندی حضرات سے سوال ہے کہ میلاد ہر جگہ بدعت کیوں ہے ؟ اور کالج میں جائز بلکہ واجب کیوں ہے ؟ برائے کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں اس تضاد بیانی کا جواب دیا جائے اوٹ پٹانگ باتوں سے پرھیز فرمائیں موضوع اور پوسٹ کے مطابق جواب عنایت فرمائیں جاہلانہ کمنٹ کرنے والوں سے ایڈوانس معذرت ایسے لوگ پوسٹ سے دور رہیں ۔
مولوی قاسم نانوتوی دیوبندی سے سوال کیا گیا مولانا عبد السمیع رامپوری میلاد مناتے ہیں آپ کیوں نہیں مناتے کہا انہیں حب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بڑا درجہ حاصل ہے دعا کرو مجھے بھی حاصل ہو جائے۔ ( مجالس حکیم الامت صفحہ 124)
معلوم ہوا میلاد محبت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم والے ہی مناتے ہیں آؤ میلاد منائیں محبت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ڈوب کر ۔
حکیم الامت دیوبند مولوی اشرفعلی تھانوی دیوبندی فرماتے ہیں : نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر پاک طاعون سے چھٹکارے کا سبب ہے محفل میلاد ہر روز مناؤ سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر پاک کرو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذکر کی کتاب پڑھنے سے مصائب دور ہوتے ہیں ۔ (خطبات میلادالنبی ﷺ رسالہ النور صفحہ نمبر 112 ، 113،چشتی)(خطبات میلادالنبی ﷺ صفحہ نمبر 118)
یہی ہم کہتے ہیں مٹھائی بانٹنا یا لنگر کا اہتمام شرط میلاد نہیں ہے اور نہ اہلسنت یہ کہتے ہیں ہاں اگر کوئی اہتمام کرے تو ناجائز بھی نہیں ہے علمائے دیوبند و اہلسنت دونوں سے ایصال ثواب ثابت ہے ۔
مولوی اشرف علی تھانوی (1863۔ 1943ء) نام وَر عالم دیوبند تھا ۔ اور حاجی اِمداد اللہ مہاجر مکی چشتی علیہ الرحمہ کے ہاتھ پر بیعت تھا ۔ سیرتِ طیبہ پر آپ کی کتاب نشر الطیب فی ذکرالنبی الحبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عشق و محبتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ڈوبی ہوئی تحریر ہے ، جس کا آغاز ہی اس نے مشہور حدیثِ جابر بیان کرتے ہوئے نورِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تخلیق کے باب سے کیا ہے ۔ بعد ازاں اِس نوع کی دیگر روایات بیان کی ہیں ۔ اِسی طرح میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مولوی اشرفعلی تھانوی دیوبندی کے خطبات کا مجموعہ بھی شائع ہوا ہے ۔ مجالسِ موالید پر خطاب کرتے ہوئے مولوی اشرفعلی تھانوی دیوبندی کہتے ہیں : ⬇
میرا کئی سال تک یہ معمول رہا کہ یہ جو مبارک زمانہ ہے جس کا نام ربیع الاول کا مہینہ ہے ، جس کی فضیلت کو ایک عاشق ملا علی قاری نے اس عنوان سے ظاہر کیا ہے : ⬇
لهذا الشهر في الإسلام فضل
منقبته تفوق علي الشهور
ربيع في ربيع في ربيع
ونور فوق نور فوق نور
ترجمہ : اِسلام میں اس ماہ کی بڑی فضیلت ہے اور تمام مہینوں پر اس کی تعریف کو فضیلت ہے ۔ بہار اندر بہار اندر بہار ہے اور نور بالائے نور بالائے نور ہے ۔
تو جب یہ مبارک مہینہ آتا تھا تو میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وہ فضائل جن کا خاص تعلق ولادتِ شریفہ سے ہوتا تھا مختصر طور پر بیان کرتا تھا مگر اِلتزام کے طور پر نہیں کیوں کہ التزام میں تو علماء کو کلام ہے ۔ بلکہ بدوں اِلتزام کے دو وجہ سے :
ایک یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر فی نفسہ طاعت و موجبِ برکت ہے ۔ دوسرے اس وجہ سے کہ لوگوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ ہم لوگ جو مجالسِ موالید کی ممانعت کرتے ہیں تو وہ ممانعت نفسِ ذکر کی وجہ سے نہیں ۔ نفسِ ذکر کو تو ہم لوگ طاعت سمجھتے ہیں بلکہ محض منکرات و مفاسد کے اِنضمام کی وجہ سے منع کیا جاتا ہے ورنہ نفسِ ذکر کا تو ہم خود قصد کرتے ہیں ۔ یہ تو ظاہری وجوہ تھیں ۔ بڑی بات یہ تھی کہ اس زمانہ میں اور دنوں سے زیادہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذکر کو جی چاہا کرتا ہے اور یہ ایک امر طبعی ہے کہ جس زمانہ میں کوئی امر واقع ہوا ہو اس کے آنے سے دل میں اس واقع کی طرف خود بخود خیال ہوا جاتا ہے ۔ اور خیال کو یہ حرکت ہونا جب امر طبعی ہے تو زبان سے ذکر ہوجانا کیا مضائقہ ہے ۔ یہ تو ایک طبعی بات ہے ۔ (خطباتِ ميلاد النبی ﷺ صفحہ 190،چشتی)
اِسی خطاب میں آگے ایک جگہ مولوی اشرفعلی تھانوی دیوبندی کہتے ہیں : تو میرا جو معمول تھا کہ اِس ماہِ مبارک میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فضائل بیان کیا کرتا تھا ، وہ دوام کے حد میں تھا ، التزام کے طور پر نہ تھا ۔ چنانچہ چند سال تک تو میں نے کئی وعظوں میں فضائلِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کیا جن کے نام سب مقفی ہیں : النور ، الظھور ، السرور ، الشذور ، الحبور وہاں ایک ذکر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جوکہ اسی سلسلہ میں ہے مقفی نہیں ۔ پھر کئی سال سے اس کا اتفاق نہیں ہوا کچھ اسبابِ طبعیہ ایسے مانع ہوئے جن سے یہ معمول ناغہ ہو گیا ۔ نیز ایک وجہ یہ بھی تھی کہ لوگ اس معمول سے التزام کا خیال نہ کریں جوکہ خلافِ واقع ہے کیوں کہ میرے اس معمول کی بڑی وجہ صرف یہ تھی ان ایام میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فضائل اور دنوں سے زیادہ یاد آتے تھے نہ کہ اس میں شرعی ضرورت کا اعتقاد یا عمل تھا ۔ (خطباتِ ميلاد النبی ﷺ صفحہ 198 ، 199)
فضل اور رحمت کی تشریح کرتے ہوئے مولوی اشرفعلی تھانوی دیوبندی کہتے ہیں : اس مقام پر ہر چند کہ آیت کے سباق پر نظر کرنے کے اعتبار سے قرآن مجید مراد ہے لیکن اگر ایسے معنی عام لیے جائیں کہ قرآن مجید بھی اس کا ایک فرد رہے تو یہ زیادہ بہتر ہے ۔ وہ یہ کہ فضل اور رحمت سے مراد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدوم مبارک لیے جائیں ۔ اس تفسیر کے موافق جتنی نعمتیں اور رحمتیں ہیں خواہ وہ دینی ہوں یا دنیوی اور ان میں قرآن بھی ہے سب اس میں داخل ہو جائے گی ۔ اس لیے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وجود باجود اصل ہے تمام نعمتوں کی اور مادہ ہے تمام رحمتوں اور فضل کا ۔ پس یہ تفسیر اَجمع التفاسیر ہو جائے گی ۔ پس اس تفسیر کی بنا پر اس آیت کا حاصل یہ ہوگا کہ ہم کو حق تعالیٰ ارشاد فرما رہے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وجود باجود پر خواہ وجودِ نوری ہو یا ولادتِ ظاہری ، اس پر خوش ہونا چاہیے ۔ اس لیے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے لیے تمام نعمتوں کے واسطہ ہیں ۔ (دوسری عام نعمتوں کے علاوہ) افضل نعمت اور سب سے بڑی دولتِ ایمان ہے جس کا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہم کو پہنچنا بالکل ظاہر ہے ۔ غرض اصل الاصول تمام مواد فضل و رحمت کی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات بابرکات ہوئی۔ پس ایسی ذات بابرکات کے وجود پر جس قدر بھی خوشی اور فرح ہو کم ہے ۔ (خطباتِ ميلاد النبی ﷺ صفحہ 64 ، 65،چشتی)
حکیم الامت دیوبند مولوی اشرف علی تھانوی دیوبندی کے مندرجہ بالا اقتباسات سے واضح ہو جاتا ہے کہ اُن کا عقیدہ ہرگز مجالسِ میلاد کے قیام کے خلاف نہیں تھا ۔ وہ صرف اِس کےلیے وقت معین کرنے کے حامی نہیں تھے ۔ بہر حال میلاد شریف منانا اُن کے نزدیک جائز اور مستحب اَمر تھا ۔
میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق علمائے دیوبند کا متفقہ فیصلہ : ⏬
حرمین شریفین کے علمائے کرام نے علمائے دیوبند سے اِختلافی و اِعتقادی نوعیت کے چھبیس (26) مختلف سوالات پوچھے تو 1325ھ میں مولوی خلیل احمد سہارن پوری دیوبندی (1269۔ 1346ھ) نے اِن سوالات کا تحریری جواب دیا ، جو ’’المھند علی المفند‘‘ نامی کتاب کی شکل میں شائع ہوا ۔ اِن جوابات کی تصدیق چوبیس (24) نام وَر علمائے دیوبند نے اپنے قلم سے کی ، جن میں مولوی محمود الحسن دیوبندی (م 1339ھ) ، مولوی احمد حسن امروہوی (م 1330ھ) ، مفتی اعظم دار العلوم دیوبند مفتی عزیز الرحمٰن (م 1347ھ) ، مولوی اشرف علی تھانوی (م 1362ھ) اور مولوی عاشق اِلٰہی میرٹھی دیوبندی بھی شامل ہیں ۔ اِن چوبیس (24) علماۓ دیوبند نے صراحت کی ہے کہ جو کچھ ’’المھند علی المفند‘‘ میں تحریر کیا گیا ہے وہی ان کا اور ان کے مشائخ کا عقیدہ ہے ۔
مذکورہ کتاب میں اِکیسواں سوال میلاد شریف منانے کے متعلق ہے ۔ اس کی عبارت ہے : أتقولون أن ذکر ولادته صلي الله عليه وآله وسلم مستقبح شرعًا من البدعات السيئة المحرمة أم غير ذلک ؟
ترجمہ : کیا تم اس کے قائل ہو کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کا ذکر شرعاً قبیح سیئہ ، حرام (معاذ ﷲ) ہے یا اور کچھ ؟
علمائے دیوبند نے اِس کا متفقہ جواب یوں دیا : حاشا أن يقول أحد من المسلمين فضلاً أن نقول نحن أن ذکر ولادته الشريفة علية الصلاة والسلام، بل وذکر غبار نعاله وبول حماره صلي الله عليه وآله وسلم مستقبح من البدعات السئية المحرمة. فالأحوال التي لها أدني تعلق برسول ﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ذکرها من أحب المندوبات وأعلي المستحبات عندنا سواء، کان ذکر ولادته الشريفة أو ذکر بوله وبزاره وقيامه وقعوده ونومه ونبهته، کما هو مصرح في رسالتنا المسماة بالبراهين القاطعة في مواضع شتي منها ۔
ترجمہ : حاشا کہ ہم تو کیا کوئی بھی مسلمان ایسا نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت شریفہ کا ذکر بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نعلین اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری کے گدھے کے پیشاب کے تذکرہ کو بھی قبیح و بدعتِ سئیہ یا حرام کہے ۔ وہ جملہ حالات جنہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذرا سی بھی نسبت ہے ان کا ذکر ہمارے نزدیک نہایت پسندیدہ اور اعلی درجہ کا مستحب ہے ، خواہ ذکر ولادت شریف کا ہو یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بول و براز ، نشست و برخاست اور بے داری و خواب کا تذکرہ ہو ۔ جیسا کہ ہمارے رسالہ ’’براہین قاطعہ‘‘ میں متعدد جگہ بالصراحت مذکور ہے ۔ (المهند علی المفند صفحہ 60 تا 63 مطبوعہ نفیس منزل کریم پارک لاہور،چشتی)
مفتی رشید احمد لدھیانوی دیوبندی (متوفی 1341ھ) ، (متوفی 1922ء) تحریر کرتے ہیں : جب ابولہب جیسے بدبخت کافر کےلیے میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشی کی وجہ سے عذاب میں تخفیف ہو گئی تو جو کوئی اُمتی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی خوشی کرے اور حسبِ وسعت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت میں خرچ کرے تو کیوں کر اَعلیٰ مراتب حاصل نہ کرے گا ۔ (احسن الفتاوی جلد 1 صفحہ 347 ، 348 مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی)
دیوبندیوں کے مفتی اعظم مفتی محمد فرید دیوبندی کا فتوی کہ : جلوس میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جائز ہے بشرطیکہ منکرات سے خالی ہو ۔ (فتاوی فریدیہ جلد اول صفحہ 314 تا 315)
نوٹ : ہم اہلسنت و جماعت کا بھی یہی مؤقف ہے کہ جلوس میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عندالشرع جائز ہے جبکہ منکرات سے پاک ہو ۔ اس لیے جہلاء کی جانب سے ہونے والی خرافات کو بنیاد بنا کر اہلسنت پر طعن کرنا شرعاً جائز ہے نہ اخلاقاً حتی کہ دیوبندی اصولوں کی روشنی میں بھی درست نہیں ۔
مولوی احمد علی سہارن پوری (م 1297ھ) دیوبندی میلاد شریف کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھتا ہے : إن ذکر الولادة الشريفة لسيدنا رسول ﷲ صلي الله عليه وآله وسلم بروايات صحيحة في أوقات خالية عن وظائف العبادات الواجبات وبکيفيات لم تکن مخالفة عن طريقة الصحابة وأهل القرون الثلاثة المشهود لها بالخير، وبالاعتقادات التي موهمة بالشرک والبدعة وبالآداب التي لم تکن مخالفة عن سيرة الصحابة التي هي مصداق قوله عليه السلام : ما أنا عليه وأصحابي وفي مجالس خالية عن المنکرات الشرعية موجب للخير والبرکة بشرط أن يکون مقرونًا بصدق النية والإخلاص واعتقاد کونه داخلاً في جملة الأذکار الحسنة المندوبة غير مقيد بوقت من الأوقات. فإذا کان کذلک لانعلم أحد من المسلمين أن يحکم عليه يکونه غير مشروع أو بدعة ۔
ترجمہ : سیدنا رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت شریف کا ذکر صحیح روایت سے ان اوقات میں جو عباداتِ واجبہ سے خالی ہوں، ان کیفیات سے جو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور ان اہلِ قرونِ ثلاثہ کے طریقے کے خلاف نہ ہوں جن کے خیر ہونے کی شہادت حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دی ہے، ان عقیدوں سے جو شرک و بدعت کے موہم نہ ہوں، ان آداب کے ساتھ جو صحابہ کی اس سیرت کے مخالف نہ ہوں جو حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اِرشاد ما انا علیہ واصحابی۔ کی مصداق ہے ان مجالس میں جو منکراتِ شرعیہ سے خالی ہوں سببِ خیر و برکت ہے۔ بشرطیکہ صدقِ نیت اور اخلاص اور اس عقیدہ سے کیا جاوے کہ یہ بھی منجملہ دیگر اَذکارِ حسنہ کے ذکرِ حسن ہے، کسی وقت کے ساتھ مخصوص نہیں۔ پس جو ایسا ہوگا تو ہمارے علم میں کوئی مسلمان بھی اس کے ناجائز یا بدعت ہونے کا حکم نہ دے گا ۔ (المهند علي المفند صفحہ نمبر 61، 62،چشتی)
دیوبندیوں کے ممدوح مولانا عبد الحی لکھنوی محفلِ میلاد کے اِنعقاد کےلیے دن اور تاریخ متعین کرنے کے بارے آپ لکھتے ہیں : جس زمانے میں بہ طرزِ مندوب محفل میلاد کی جائے باعثِ ثواب ہے اور حرمین، بصرہ، شام، یمن اور دوسرے ممالک کے لوگ بھی ربیع الاول کا چاند دیکھ کر خوشی اور محفلِ میلاد اور کارِ خیر کرتے ہیں اور قرات اور سماعت میلاد میں اہتمام کرتے ہیں۔ اور ربیع الاول کے علاوہ دوسرے مہینوں میں بھی ان ممالک میں میلاد کی محفلیں ہوتی ہیں اور یہ اعتقاد نہ کرنا چاہیے کہ ربیع الاول ہی میں میلاد شریف کیا جائے گا تو ثواب ملے گا ورنہ نہیں ۔ (مجموعه فتاوی عبد الحی کامل صفحہ 104 ، 105 مطبوعہ قرآن محل مقابل مولوی مسافر خانہ کراچی)
حاجی اِمداد اللہ مہاجر مکی (1233۔ 1317ھ) ۔(1817۔ 1899ء) علمائے دیوبند کے پیر و مرشد ہندوستان سے ہجرت کر کے مکہ مکرمہ میں مقیم ہو گئے اور مکہ میں درس دیتے رہے ، پھر وہیں ان کی وفات ہوئی اور جنت المعلیٰ میں مدفون ہیں ۔ حاجی اِمداد اللہ مہاجر مکی چاروں سلاسلِ طریقت میں بیعت کرتے تھے، اور دار العلوم دیوبند کے بانی مولوی محمد قاسم نانوتوی (1248۔ 1297ھ / 1833۔ 1880ء) اور دار العلوم دیوبند کے سرپرست مولوی رشید احمد گنگوہی (1244۔ 1323ھ / 1829۔ 1905ء) آپ کے مرید و خلفاء تھے ۔ مولوی اشرف علی تھانوی (1280۔ 1362ھ / 1863۔ 1943ء) ، مولوی محمود الحسن دیوبندی (م 1339ھ / 1920ء) اور کئی دیگر علماء و مشائخ کا شمار حاجی اِمداد اللہ مہاجر مکی کے خلفاء میں ہوتا تھا ۔ ’’شمائمِ اِمدادیہ‘‘ کے صفحہ نمبر 47 اور 50 پر درج ہے کہ حاجی اِمداد اللہ مہاجر مکی نے ایک سوال میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اِنعقاد کے بارے میں اُن کی کیا رائے ہے ؟ کے جواب میں فرمایا : مولد شریف تمام اہل حرمین کرتے ہیں ، اسی قدر ہمارے واسطے حجت کافی ہے ۔ اور حضرت رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کیسے مذموم ہو سکتا ہے ! البتہ جو زیادتیاں لوگوں نے اِختراع کی ہیں نہ چاہئیں۔ اور قیام کے بارے میں کچھ نہیں کہتا۔ ہاں، مجھ کو ایک کیفیت قیام میں حاصل ہوتی ہے ۔ (شمائم اِمداديہ صفحہ 47،چشتی) ۔ مولوی اشرف علی تھانوی دیوبندی نے بھی یہ عبارت اِمداد المشتاق اِلیٰ اشرف الاخلاق صفحہ 51 میں نقل کی ہے ۔
مولوی اشرف علی تھانوی دیوبندی مزید لکھتے ہیں : ہمارے علماء مولد شریف میں بہت تنازعہ کرتے ہیں ۔ تاہم علماء جواز کی طرف بھی گئے ہیں ۔ جب صورت جواز کی موجود ہے پھر کیوں ایسا تشدد کرتے ہیں ؟ اور ہمارے واسطے اِتباعِ حرمین کافی ہے ۔ البتہ وقتِ قیام کے اِعتقاد تولد کا نہ کرنا چاہیے ۔ اگر اِہتمام تشریف آوری کا کیا جائے تو مضائقہ نہیں کیوں کہ عالم خلق مقید بہ زمان و مکان ہے لیکن عالم اَمر دونوں سے پاک ہے ۔ پس قدم رنجہ فرمانا ذاتِ بابرکات کا بعید نہیں ۔ (شمائم امداديہ صفحہ 50) ۔ مولوی اشرف علی تھانوی دیوبندی نے بھی یہ عبارت ۔ (اِمداد المشتاق اِلیٰ اشرف الاخلاق صفحہ 56) میں نقل کی ہے ۔
حاجی اِمداد اللہ مہاجر مکی کے مذکورہ بالا بیان کے مطابق حرمین شریفین میں میلاد کی تقریبات کا ہونا اس بات کی حتمی و قطعی دلیل ہے کہ اس پر اہل مدینہ اور اہل مکہ میں دو آراء نہیں تھیں، وہ سب متفقہ طور پر میلاد کا اہتمام کرتے تھے ۔ اور میلاد کے جواز پر اِس قدر حجت ہمارے لیے کافی ہے جو کہ اِنکار کرنے والوں کےلیے برہانِ قاطع ہے ۔
حاجی اِمداد اللہ مہاجر مکی نے اِعتقادی نوعیت کے سات سوالات کے جواب میں اپنی کتاب ’’فیصلہ ہفت مسئلہ‘‘ (دیوبندی مسلک کے بعض علماء ’’فیصلہ ہفت مسئلہ‘‘ کے بارے کہتے ہیں کہ یہ حضرت اِمداد اللہ مہاجر مکی کی تحریر نہیں، حالاں کہ مولوی اشرف علی تھانوی دیوبندی نے ’’اشرف السوانح جلد3 صفحہ 355 ، 356 ‘‘ میں تصریح کی ہے کہ یہ حضرت اِمداد اللہ مہاجر مکی کی تحریر ہے ۔ مولوی رشید احمد گنگوہی دیوبندی نے ’’فتاویٰ رشیدیہ صفحہ 130 ، 131 ‘‘ میں لکھا ہے کہ اُنہوں نے یہ رسالہ کسی سے لکھوایا اور سُن کر اس میں اِصلاحات کروائیں ۔ گویا اِس میں جو کچھ لکھا ہے وہ حضرت کا مسلک و مشرب ہے ۔ علاوہ ازیں دیوبند مسلک کے کتب خانوں سے شائع ہونے والے حضرت اِمداد ﷲ مہاجر مکی کے دس رسالوں کے مجموعہ ’’کلیاتِ اِمدادیہ‘‘ میں بھی ’’فیصلہ ہفت مسئلہ‘‘ شامل ہے جیسا کہ کتب خانہ اشرفیہ ، راشد کمپنی دیوبند (بھارت) نے طبع کیا تھا ، اور ادارہ اِسلامیات لاہور نے بھی شائع کیا ہے) لکھی ۔ کسی نے اُن سے دریافت کیا کہ میلاد کے بارے میں ان کا کیا عقیدہ اور معمول ہے ؟ تو اِس پر اُنہوں نے جواب دیا : فقیر کا مشرب یہ ہے کہ محفل مولود میں شریک ہوتا ہوں ، بلکہ برکات کا ذریعہ سمجھ کر ہر سال منعقد کرتا ہوں اور قیام میں لطف اور لذت پاتا ہوں ۔ (فيصلہ ہفت مسئلہ صفحہ نمبر 27 مطبوعہ مسلم کتابوی لاہور،چشتی)(کلیاتِ امدادیہ فيصلہ ہفت مسئلہ صفحہ نمبر 80 مطبوعہ دارالاشاعت کراچی)
ایک جگہ لکھتے ہیں : رہا یہ عقیدہ کہ مجلسِ مولود میں حضور پُر نور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رونق افروز ہوتے ہیں ، تو اس عقیدہ کو کفر و شرک کہنا حد سے بڑھنا ہے۔ یہ بات عقلاً و نقلاً ممکن ہے ، بلکہ بعض مقامات پر واقع ہو بھی جاتی ہے ۔ اگر کوئی یہ شبہ کرے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیسے علم ہوا ، آپ کئی جگہ کیسے تشریف فرما ہوئے ، تو یہ شبہ بہت کمزور شبہ ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم و روحانیت کی وسعت کے آگے ۔ جو صحیح روایات سے اور اہلِ کشف کے مشاہدے سے ثابت ہے ۔ یہ ادنیٰ سی بات ہے ۔ (فيصلہ ہفت مسئله صفحہ 26 مطبوعہ مسلم کتابوی لاہور)(کلیاتِ امدادیہ فيصلہ ہفت مسئلہ صفحہ نمبر 79 مطبوعہ دارالاشاعت کراچی)
جو لوگ محفلِ میلاد کو بدعتِ مذمومہ اور خلافِ شرع کہتے ہیں ، اُنہیں کم اَز کم اپنے بڑوں کا ہی لحاظ کرتے ہوئے اِس رویہ سے گریز کرنا چاہیے ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)




































No comments:
Post a Comment