حضرت مجدد الف ثانی رحمۃُ اللہ علیہ اور میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
امام ربانی حضرت شیخ احمد فاروقی سرہندی مجدد الف ثانی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں : نفس قرآں خواندن بصوتِ حسن و در قصائد نعت و منقبت خواندن چہ مضائقہ است؟ ممنوع تحریف و تغییر حروفِ قرآن است، والتزام رعایۃ مقامات نغمہ و تردید صوت بآں، بہ طریق الحان با تصفیق مناسب آن کہ در شعر نیز غیر مباح است ۔ اگر بہ نہجے خوانند کہ تحریفِ کلمات قرآنی نشود ۔ چہ مانع است ؟
ترجمہ : مجلس میلاد شریف میں اگر اچھی آواز کے ساتھ قرآن پاک کی تلاوت کی جائے اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت شریف اور صحابہ کرام و اہل بیت عظام و اولیائے اعلام رضی اللہ عنہم اجمعین کی منقبت کے قصیدے پڑھے جائیں تو اس میں کیا حرج ہے ؟ ناجائز بات تو یہ ہے کہ قرآن عظیم کے حروف میں تغیر و تحریف کر دی جائے ۔ اور قصیدے پڑھنے میں راگنی اور موسیقی کے قواعد کی رعایت و پابندی کی جائے اور تالیاں بجائی جائیں ۔ جس مجلس میلاد مبارک میں یہ ناجائز باتیں نہ ہوں اس کے ناجائز ہونے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے ؟ ہاں جب تک راگنی اور تال سُر کے ساتھ گانے اور تالیاں بجانے کا دروازہ بالکل بند نہ کیا جائے گا ابو الہوس لوگ باز نہ آئیں گے ۔ اگر ان نامشروع باتوں کی ذرا سی بھی اجازت دے دی جائے گی تو اس کا نتیجہ بہت ہی خراب نکلے گا ۔ (مکتوبات ربانی دفتر سوم صفحہ 116 مکتوب نمبر 72 مطبوعہ مطبع منشی نولکشور کانپور انڈیا)(مکتوبات ربانی دفتر سوم صفحہ 425 ، 426 مکتوب نمبر 72 مطبوعہ ضیاء القرآن)(مکتوبات امام ربّانی جلد دوم سوم صفحہ 489 مطبوعہ اسلامی کتبخانہ اردو بازار لاہور)




No comments:
Post a Comment