دیوبندی عوام کے عقیدے کی مثال ایسی ہے جیسے گدھے کا عضو مخصوص بڑھتا ہے تو بڑھتا چلا جاتا ہے اور جب غائب ہو تو بالکل پتہ ہی نہیں(ملفوظات حکیم الامت جلد 3 صفحہ 255) (ملفوظات حکیم الامت جلد 3 صفحہ 292)۔ یہ ہے تہذیب و تعلیم دیوبند پڑھیئے حکیم الامت دیوبند علامہ اشرف علی تھانوی کی زبانی وہ بیان کرتے ہیں : ہمارے مولانا حضرت محمد يعقوب صاحب اس اعتقاد كى ايک مثال بيان فرمايا كرتے تهے ہے تو فحش مگر ہے بالكل چسپاں فرمايا كرتے تهے كہ عوام كے عقيده كى بالكل ايسى حالت ہے كہ جيسے گدهے كا عضو مخصوص بڑهے تو بڑهتا ہى چلا جائے اور جب غائب هو تو بالكل پتہ ہى نہيں-واقعى عجيب مثال ہے ۔ (ملفوظات حکیم الامت جلد 3 صفحہ 292)(ملفوظات حکیم الامت جلد 3 صفحہ 255)
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
داڑھی کی مقدار و شرعی حیثیت اور جدت پسند مغرب کے پیروکار اسکالرز کے پیروکاروں کو دعوتِ فکر
داڑھی کی مقدار و شرعی حیثیت اور جدت پسند مغرب کے پیروکار اسکالرز کے پیروکاروں کو دعوتِ فکر محترم قارئینِ کرام : شرعاً ایک مشت تک داڑھی بڑھان...
-
درس قرآن موضوع آیت : قُلۡ ہَلۡ یَسۡتَوِی الَّذِیۡنَ یَعۡلَمُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَ...
-
شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے اعضاء تناسلیہ کا بوسہ لینا اور مرد کو اپنا آلۂ مردمی اپنی بیوی کے منہ میں ڈالنا اور ہمبستری سے قبل شوہر اور...
-
شاہ است حسین بادشاہ است حسین شعر پر تحقیقی نظر محترم قارئینِ کرام : اس رباعی کو خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمة اللہ علیہ کی طرف منسوب کیا...


No comments:
Post a Comment