Saturday, 1 July 2017

خواب میں دیدار مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دیابنہ نبی کی صورت میں

خواب میں دیدار مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دیابنہ نبی کی صورت میں
















 
محترم قارئینِ کرام : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : عن أبي ھریرہ رضی اللہ عنہ قال : قال الرسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : من رآنی فی المنام فقد رآنی فان الشیطان لا یتمثل بی ۔ (صحیح بخاری : ۱۱۰ العمل)(صحیح مسلم : ۲۲۶۶ الرؤیا)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے مجھے خواب میں دیکھا تو اس نے مجھے حقیقت میں دیکھا ، اس لیے کہ شیطان میری مثال نہیں بنا سکتا میری صورت اختیار نہیں کر سکتا ۔

اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ جو لوگ خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کے منکر ہیں ، وہ اس حدیث شریف سے ناواقف ہیں ۔ خواب میں زیارتِ شریفہ کے واقعات خیرالقرون سے اس قدر بے شمار ہیں کہ اس کا انکار ممکن نہیں ۔ تاریخ کی کتابوں میں حضرت بلال رضی اللہ علیہ کا ایک مشہور واقعہ تفصیل کے ساتھ مذکور ہے ۔ جس میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال مبارک کے بعد شام ہجرت کر جانا پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خواب میں آ کر شکوہ فرماتے ہوئے کہنا : ما هذه الجفوة ، يا بلال ! ما آن لک أن تزورنا ؟ ، اے بلال ! یہ کیا بے وفائی ہے ؟ تو نے ہمیں ملنا چھوڑ دیا) ، کیا ہماری ملاقات کا وقت نہیں آیا ؟ ۔ اس پر پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا مدینہ آنا اور حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کی فرمائش پر اذان دینے کا واقعہ مشہو ر ہے ۔(السيرة الحلبيه جلد 2 صفحہ 308)

اس طرح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت پر حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کا ان کو خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دیکھنا ، حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا نویں محرم کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں دیکھنا وغیرہ اور بھی کئی صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے واقعات موجود ہیں ، حضرت دتا گنج بخش رحمہ اللہ نے اپنی کتاب کشف المعجوب میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کرنے کا اپنا واقعہ لکھا ہے ۔ مطلب خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کا ہونا کوئی عجیب بات نہیں ۔ اسلاف سے ثابت ہے ۔

عن أبي ھریرہ رضی اللہ عنہ قال : قال الرسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : من رآنی فی المنام فقد رآنی فان الشیطان لا یتمثل بی ۔ صحیح البخاری : ۱۱۰ العمل ، صحیح مسلم : ۲۲۶۶ الرؤیا
ترجمه : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے مجھے خواب میں دیکھا تو اس نے مجھے حقیقت میں دیکھا ، اسلأ کہ شیطان میری مثال نہیں بنا سکتا میری صورت اختیار نہیں کر سکتا ۔

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال مبارک کے بعد آپ کو خواب میں دیکھا ۔ دیکھیے مسند احمد جلد ۲۴۲/۱و سندہ حسن لذاتہ) اور ماہنامہ الحدیث (عدد ۱۰ص ۱۴-۱۶)

مشہور ثقہ امام ابو جعفر احمد بن اسحاق بن بہلول رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : میں اہلِ عراق کے مذہب پر (یعنی تارکِ رفع یدین) تھا پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔ آپ پہلی تکبیر، رکوع کے وقت اور رکوع سے سر اٹھا کر رفع یدین کرتے تھے ۔ (سنن الدارقطنی ۲۹۳/۱ ح ۱۱۱۲، و سندہ صحیح)

حافظ الضیاء المقدسی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ میں نے حافظ عبدالغنی (بن عبدالواحد بن علی المقدسی رحمۃ اللہ علیہ) کو فرماتے ہوئے سنا : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں دیکھا ، میں آپ کے پیچھے چل رہا تھا اور میرے اور آپ کے درمیان ایک دوسرا آدمی تھا ۔ (سیر اعلام النبلاء 469/21)

حافظ ابو نعیم رحمۃ اللہ علیہ ، حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کرتے ہیں کہ میں ایک دفعہ باہر جا رہا تھا۔ میں نے ایک جوان کو دیکھا کہ جب وہ قدم اٹھاتا ہے یا رکھتا ہے تو یوں کہتا ہے : اللھم صل علیٰ محمد وعلیٰ اٰل محمد ۔ میں نے اس سے پوچھا کیا کسی علمی دلیل سے تیرا یہ عمل ہے؟ (یا محض اپنی رائے سے) اس نے پوچھا تم کون ہو؟ میں نے کہا: سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ۔۔میں نے پوچھا یہ درود کیا چیز ہے؟ اس نے کہا، میں اپنی ماں کے ساتھ حج کو گیا تھا۔ میری ماں وہیں رہ گئی (یعنی مر گئی) اس کا منہ کالا ہو گیا اور اس کا پیٹ پھول گیا جس سے مجھے یہ اندازہ ہوا کہ کوئی بہت بڑا سخت گناہ ہوا ہے۔ اس سے میں نے اللہ جل شانہ کی طرف دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تو میں نے دیکھا کہ تہامہ (حجاز) سے ایک ابر آیا اس سے ایک آدمی ظاہر ہوا۔ اس نے اپنا مبارک ہاتھ میری ماں کے منہ پر پھیرا جس سے وہ بالکل روشن ہو گیا اور پیٹ پر ہاتھ پھیرا تو ورم بالکل جاتا رہا ۔ میں نے ان سے عرض کیا کہ آپ کون ہیں کہ میری اور میری ماں کی مصیبت کو آپ نے دور کیا ۔ انہوں نے فرمایا کہ میں تیرا نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوں ۔ میں نے عرض کیا مجھے کوئی وصیت کیجیے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی قدم رکھا کرے یا اٹھایا کرے تو اللھم صل علیٰ محمد وعلیٰ اٰل محمد ۔ پڑھا کر ۔ (نزہۃ) ۔ (فضائل درود ص ۱۲۳-۱۲۶، تبلیغی نصاب ص ۷۹۳، ۷۹۴)(ابن ابی الدنیا کی کتاب المنامات حدیث ۱۱۸)

حضرت بلال رضی الله تعالی عنہ کا خواب : ⏬

علامہ ابن عساکر رحمۃ اللہ علیہ تاریخ الدمشق میں إبراهيم بن محمد بن سليمان بن بلال کے ترجمے میں لکھتے ہیں:إبراهيم بن محمد بن سليمان بن بلال ابن أبي الدرداء الأنصاري صاحب رسول الله (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أبو إسحاق روى عن أبيه روى عنه محمد بن الفيض أنبأنا أبو محمد بن الأكفاني نا عبد العزيز بن أحمد انا تمام بن محمد نا محمد بن سليمان نا محمد بن الفيض نا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن سليمان بن بلال بن أبي الدرداء حدثني أبي محمد بن سليمان عن أبيه سليمان بن بلال عن أم الدرداء عن أبي الدرداء قال لما دخل عمر بن الخطاب الجابية سأل بلال أن يقدم الشام ففعل ذلك قال وأخي أبو رويحة الذي أخى بينه وبيني رسول الله (صلى الله عليه وسلم) فنزل داريا في خولان فأقبل هو وأخوه إلى قوم من خولان فقال لهم قد جئناكم خاطبين وقد كنا كافرين فهدانا الله ومملوكين فأعتقنا الله وفقيرين فأغنانا الله فأن تزوجونا فالحمد لله وأن تردونا فلا حول ولا قوة إلا بالله فزوجوهما ثم إن بلالا رأى في منامه النبي (صلى الله عليه وسلم) وهو يقول له (ما هذه الجفوة يا بلال أما ان لك أن تزورني يا بلال فانتبه حزينا وجلا خائفا فركب راحلته وقصد المدينة فأتى قبر النبي (صلى الله عليه وسلم) فجعل يبكي عنده ويمرغ وجهه عليه وأقبل الحسن والحسين فجعل يضمهما ويقبلهما فقالا له يا بلال نشتهي نسمع اذانك الذي كنت تؤذنه لرسول الله (صلى الله عليه وسلم) في السحر ففعل فعلا سطح المسجد فوقف موقفه الذي كان يقف فيه فلما أن قال (الله أكبر الله أكبر ارتجت المدينة فلما أن قال (أشهد أن لا إله إلا الله) زاد تعاجيجها فلما أن قال (أشهد أن محمدا رسول الله) خرج العواتق من خدورهن فقالوا أبعث رسول الله (صلى الله عليه وسلم) فما رئي يوم أكثر باكيا ولا باكية بعد رسول الله (صلى الله عليه وسلم) من ذلك اليوم قال أبو الحسن محمد بن الفيض توفي إبراهيم بن محمد بن سليمان سنة اثنتين وثلاثين ومائتين ۔

أبي الدرداء فرماتے ہیں کہ : جب عمر الجابیہ میں داخل ہوئے تو انہوں نے بلال سے کہا کہ شام آ جائیں پس بلال شام منتقل ہو گئے … پھر بلال نے خواب میں نبی کودیکھا کہ فرمایا اے بلال یہ کیا بے رخی ہے؟ کیا ہماری ملاقات کا وقت نہیں آیا .. پس بلال قبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر گئے اور روئے اور چہرے کو قبر پر رکھا … اس کے بعد حسن و حسین کی فرمائش پر آپ نے اذان بھی دی ۔

ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی الله عنہا کا خواب : ⏬
ترمذی روایت کرتے ہیں : حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ قَالَ: حَدَّثَنَا رَزِينٌ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي سَلْمَى، قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ، وَهِيَ تَبْكِي، فَقُلْتُ: مَا يُبْكِيكِ؟ قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَعْنِي فِي المَنَامِ، وَعَلَى رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ التُّرَابُ، فَقُلْتُ: مَا لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: “شَهِدْتُ قَتْلَ الحُسَيْنِ آنِفًا” هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ۔
ترجمہ : سلمی سے روایت ہے کہ میں نے ام المومنین ام سلمہ رضی الله تعالی عنہا سے رونے کا سبب پوچھا اور کہا : کس شے نے آپ کو گریہ وزاری میں مبتلا کر دیا ہے؟ آپ نے کہا : میں نے خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کی ہے ۔ کا سر اور ریش مبارک گرد آلود تھی.میں نے عرض کی ، یارسول ،آپ کی کیسی حالت بنی ہوئی ہے ؟ رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں نے ابھی ابھی حسین کو شہید ہوتے ہوئے دیکھا ہے ۔

حضرت سلطان نور الدین محمود زنگی رحمۃ اللہ علیہ کا خواب : ⏬

وفا الوفاء ، خلاصۃ الوفاء اور جذب القلوب میں حضرت سلطان نور الدین محمود زنگی رحمۃ اللہ علیہ کا مشہور واقعہ پڑھیے ، جب حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا : مجھے ان دونوں سے نجات دلاؤ ، علي بن عبد الله بن أحمد الحسني الشافعي، نور الدين أبو الحسن السمهودي رحمۃ اللہ علیہ المتوفى٩١١ھ کتاب وفاء الوفاء بأخبار دار المصطفى میں سن ٥٥٧ ھ پر لکھتے ہیں : الملك العادل نور الدين الشهيد نے ایک ہی رات میں تین دفعہ نبی صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا اور آپ ہر دفعہ فرما رہے ہیں ۔ أن السلطان محمودا المذكور رأى النبي صلّى الله عليه وسلّم ثلاث مرات في ليلة واحدة وهو يقول في كل واحدة: يا محمود أنقذني من هذين الشخصين الأشقرين تجاهه ۔ اے قابل تعریف! مجھ کو ان دو شخصوں سے بچا ۔ یہ دو اشخاص عیسائی تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جسد مطہر حاصل کرنا چاہتے تھے ۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ یہودی سازش کر رہے تھے لیکن صحیح بات یہ ہے کہ یہ نصرانی سازش تھی ۔ وقد دعتهم أنفسهم ۔ يعني النصارى ۔ في سلطنة الملك العادل نور الدين الشهيد إلى أمر عظيم ۔
ترجمہ : اور نصرانیوں نے ایک امر عظیم کا ارادہ کیا بادشاہ عادل نور الدین الشہید کے دور ہیں ۔ اس کے بعد یہ خواب کا واقعہ بیان کرتے ہیں اور بعد میں پکڑے جانے والے عیسائی تھے ۔ أهل الأندلس نازلان في الناحية التي قبلة حجرة النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم من خارج المسجد عند دار آل عمر بن الخطاب ۔ اہل اندلس سے دو افراد دار ال عمر بن خطاب ، حجرے کی جانب مسجد سے باہر ٹھہرے ہوۓ ہیں ۔

حضرت غوث الاعظم عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی سوانح حیات پر لکھی جانے والی کتاب بہجۃ الاسرار میں آپ کی سوانح حیات اور خوابوں اور بشارات کا تذکرہ ہے جنہیں ان خصوصی مجالس میں جو کہ سینکڑوں ، ہزاروں افراد پر مشتمل تھیں آپ نے اپنے اہل عقیدت و محبت اور اہل ارادت و نسبت افراد کے سامنے بیان کیا ۔ آپ فرماتے ہیں کہ مجھے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی ، آپ نے ارشاد فرمایا : بیٹا عبدالقادر میری امت کو وعظ کیا کر اور انہیں اللہ کے دین کی طرف ہدایت کا راستہ بتایا کر، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں عجمی ہوں ان عربی دانوں کے سامنے کیسے بولوں؟ اس پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : منہ کھولو، میں نے منہ کھولا اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سات مرتبہ لعاب دہن میرے منہ میں ڈالا۔ سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ کے لعاب دہن کے منہ میں پڑنے کی دیر تھی کہ پھر میری زبان سے حقائق و معارف، اسرار و حکمتیں جاری ہو گئیں ۔

امام ابوالحسن شاذلی رحمۃ اللہ علیہ نے کثرت کے ساتھ اپنی خوابوں اور روحانی مبشرات کا ذکر کیا ہے، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان پر بے پایاں عنایت و شفقت تھی ، اکثر انہیں آقائے کل جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت و دیدار نصیب ہوتا ۔

حضرت شیخ ابوالعباس مرسی رحمۃ اللہ علیہ کو چالیس سال سے اللہ تعالیٰ نے بارگاہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں وہ مقام قرب عطا کیا ہے کہ ہر وقت نگاہ میں چہرہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رہتا ہے، فرماتے ہیں اگر ایک لمحے کےلیے ہی چہرہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری آنکھوں سے اوجھل ہو جائے تو وہ اس لمحے میں خود کو مسلمان تصور ہی نہیں کرتا۔ بارگاہ نبوت میں دائمی حضوری ، جلوہ دیدار کا یہ عالم ہے کہ ہر وقت بیداری میں ہی دیدار مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہو رہا ہے ، چہرہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نظروں سے اوجھل ہی نہیں ہو رہا ، گویا آج بعد از وصال بھی آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی زیارت جسے بھی کروانا چاہیں تو خواب تو درکنار عالم بیداری میں سفید دن کے اندر کرا سکتے ہیں۔ اگر اولیاء و صلحاء و اکابرین امت ان چیزوں کو بیان نہ کرتے تو آج امت کا یہ عقیدہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت کبھی نہ ہوتا ۔

عالم بیداری میں دیدار مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ⏬

امام شعرانی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب طبقات میں اور علامہ انور شاہ کشمیری دیوبندی فیض الباری میں ذکر کرتے ہیں ، امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے خواب تو درکنار عالم بیداری میں ستر مرتبہ اپنی زندگی میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دیدار کیا اور جس کسی چیز کے سمجھنے میں مشکل و دشواری پیش آتی تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف متوجہ ہوتے ۔

دل کے آئینے میں ہے تصویر یار
جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی

تو سرکار کل عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حضوری ہو جاتی ، عرض کرتے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! فلاں مسئلے کی سمجھ نہیں آ رہی، دشواری پیش آ رہی ہے ، آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کرم کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ، جلال الدین ایسے کر لو ، چنانچہ مشکل حل ہو جاتی ۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کس طرح پتہ چلا کہ امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ کو عالم بیداری میں دیدار مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوا اور علماء نے اپنی کتابوں میں اسے کیسے درج کر لیا۔ صاف ظاہر ہے انہوں نے اپنے ان احوال کو بیان کیا ہی ہے تو کتابوں اور سینوں کی زینت بنے ہیں ۔

حضرت شیخ محمد ابو المواہب شاذلی رحمۃ اللہ علیہ پر ہمہ وقت بارگاہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حضوری کی کیفیت طاری رہتی تھی، کثرت زیارت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوتی ، شیخ ابوالمواہب نے نہ صرف اپنی خوابوں و بشارات کو بیان کیا ہے بلکہ خود کتابی صورت میں اپنی خوابوں کو مرتب بھی کیا ہے ۔

حضرت شیخ عبدالعزیز دباغ رحمۃ اللہ علیہ جن کی کتاب الابریز ہے ، جابجا اپنی رؤیات و بشارات کو بیان کرتے ہیں ، اگر خواب بیان کرنے پر فتوے لگاتے ہو تو خدا کا خوف کرو اس طرح تو جملہ مکاتب فکر کے اکابرین و اسلاف میں سے کوئی بھی تمہارے فتویٰ سے نہیں بچے گا ، مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کا مطالعہ کریں جہاں آپ نے ضرورت محسوس فرمائی بلاتامل اپنی رویات، مبشرات و مکاشفات کا ذکر کیا ۔

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی سیرت کا مطالعہ کریں ، حرمین شریفین حاضری کے وقت جو خواب ، بشارات ، مکاشفات اور کیفیات وارد ہوئیں انہیں بذات خود کتاب کی صورت میں مرتب فرمایا ، اسی موضوع پر آپ نے مستقل ایک کتاب ، الدر الثمین فی مبشرات النبی الامین ، رقم کیا ہے جس میں اپنے والد گرامی ، مشائخ اور خود اپنے چالیس خوابوں کو جمع کیا ہے ۔ اور فیوض الحرمین پڑھیں ۔

موئے مبارک کی عطاء : ⏬

الدر الثمین اور انفاس العارفین میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد گرامی حضرت شاہ عبدالرحیم رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ آپ بیمار ہو گئے اس وقت آپ کے سسر حضرت شاہ عبدالعزیز بھی ہمارے گھر تشریف لائے ہوئے تھے، فرمانے لگے بیٹا جس رخ پر تمہاری چارپائی بچھی ہوئی ہے اور جس طرف تمہارے قدم ہیں اس سمت سے آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہاری عیادت کے لیے تشریف لا رہے ہیں، ابھی تو آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف ہی نہیں لائے لیکن خبر والوں کو پہلے ہی خبر ہو گئی کہ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لا رہے ہیں۔چارپائی کا رخ بدلا، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور پوچھا کیف حالک یا انبی؟ میرے بیٹے کیسا حال ہے؟ اپنا دست اقدس پھیرا تو حضرت شاہ عبدالرحیم شفاء یاب ہو گئے، دل میں خیال آیا کہ پتہ نہیں خواب ہے یا بیداری کاش آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوئی نشانی دے جائیں، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ریش مبارک پر ہاتھ پھیرا۔ دو موئے مبارک ہاتھ میں آئے تکیے کے نیچے رکھ کر عطا کر دیئے فرمایا بیٹا ہم تمہیں دو موئے مبارک بطور نشانی دیے جا رہے ہیں، صبح بیدار ہوئے تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موئے مبارک موجود تھے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ان میں سے ایک موئے مبارک میرے پاس موجود ہے۔ اس وقت اگر تم جیسے لوگ ہوتے تو حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ پر فتوی جڑ دیتے کہ دیکھو جی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موئے مبارک کا اپنے پاس موجود ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، یہ گستاخی بے ادبی ہے۔ لیکن یہ تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عطا ہے جسے نوازیں خالی ظرف والے تو اعتراضات و فتنے پیدا کرتے ہی رہتے ہیں ۔

امام بوصیری رحمۃ اللہ علیہ کی فالج سے شفایابی اور چادر کی عطا:علامہ اشرف علی تھانوی دیوبندی صاحب نشرالطیب میں لکھتے ہیں کہ : حضرت امام شرف الدین بوصیری رحمۃ اللہ علیہ چودہ سال سے فالج زدہ تھے، چلنے پھرنے سے عاری ہو گئے، مرض لا علاج ہو گیا، رات کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خواب میں تشریف لائے، امام بوصیری رحمۃ اللہ علیہ نے ایک سو پینسٹھ اشعار حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان اقدس میں نعتیہ قصیدے کی صورت میں تحریر کیے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بوصیری رحمۃ اللہ علیہ اٹھ وہ نعتیہ اشعار تو سنا جو تو نے میری شان میں لکھے ہیں، عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے تو فالج ہے میں کیسے اٹھوں، آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دست اقدس پھیرا تو چودہ سال کا فالج ختم ہو گیا، روبصحت ہو گئے اٹھ کر بیٹھ گئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قصیدہ سنایا تو آپ جھوم جھوم کر سنتے رہے، خوش ہو کر اپنی چادر عطا کی، چادر کو عربی زبان میں ’’بردہ‘‘ کہتے ہیں، اسی بنا پر قصیدے کا نام ’’قصیدہ بردہ‘‘ رکھا، باہر نکلے تو دنیا دنگ رہ گئی کہ فالج زدہ بیمار تھے چودہ سال بعد صحت یاب کیسے ہو گئے راستے میں ایک مجذوب عشق مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پروانہ آ رہا تھا آہستہ سے آواز دی بوصیری ایک بات تو سن، آپ رک گئے قریب آئے تو وہ درویش، مجذوب کہنے لگا رات والا قصیدہ مجھے بھی تو سناؤ، امام بوصیری چونک اٹھے کونسا قصیدہ، اس نے پہلا شعر سنا دیا امن تذکر جیران۔ ۔ ۔ وہ قصیدہ جو اس شعر سے شروع ہوتا ہے آپ حیران رہ گئے کہ ابھی تو میں نے کسی کو سنایا ہی نہیں پوچھا تمہیں کیسے خبر ہوئی؟ فرمانے لگے جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جھوم جھوم کر سن رہے تھے تو دور کھڑا میں بھی سن رہا تھا، اس کے بعد تھانوی صاحب بیان کرتے ہیں کہ قصیدے کی شہرت ہو گئی بادشاہ وقت کو خبر ہوئی اس نے اپنے پاس لکھ کر رکھ لیا نوبت یہاں تک پہنچی کہ کوئی نابینا و بیمار ہوتا تو قصیدہ بردہ شریف کے کاغذ مبارک اس کی آنکھوں پر رکھنے سے بینا اور شفایاب ہو جاتا ۔

ملکوتِ ارض و سماء میں تصرف : ⏬

امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ الحاوی للفتاوی میں نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد آپ کی روح اقدس کو ملکوت ارض و سما میں تصرف وسیع عطا کر دیا ہے، دن ہو یا رات، عالم خواب ہو یا عالم بیداری، جس وقت اور جب بھی آقا چاہیں کسی بھی غلام کو اپنے دیدار اور زیارت سے نواز سکتے ہیں، جسے چاہیں چادر مبارک عطا کر جائیں اور جسے چاہیں موئے مبارک دیں ۔

بخاری شریف میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : من رأني في المنام فقد رأني فان الشيطان لا يتمثل في صورتي. ومن کذب عليَّ متعمدا فليتبوأ مقعده من النار ۔
ترجمہ : جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے (واقعی) مجھے دیکھا ، کیونکہ شیطان میری صورت اختیار نہیں کر سکتا اور جو جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں سمجھے ۔ (بخاری الصحيح کتاب الادب باب من سمي باسماء الانبياء، 5 : 2290، رقم : 5844)

سیرت النبی بعد از وصال النبی ، یہ کتاب محترم عبدالمجید صاحب صدیقی جو مسلک دیوبند سے تعلق رکھتے ہیں اور ہائیکورٹ کے ایڈووکیٹ ہیں، انہوں نے اس میں ان شخصیات کا تذکرہ کیا ہے جن کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال مبارک کے بعد زیارت کی سعادت نصیب ہوئی، اس کتاب کو چھپے ہوئے 15 پندرہ سال گزر چکے ہیں لیکن اس پر کسی نے گرفت نہیں کی اور نہ فتوے لگائے ۔ زیارت نبی بحالت بیداری ، یہ بھی صدیقی صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے ان شخصیات کے احوال و واقعات کا ذکر کیا ہے جنہیں وصال مبارک کے بعد حالت بیداری میں دیدار مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نصیب ہوا۔ اس کتاب کو بھی چھپے ہوئے گیارہ بارہ سال ہو گزرے لیکن کسی نے بھی کوئی زبان نہیں کھولی بلکہ ان میں سے اول الذکر کتاب پر نامور دیوبندی علماء کی تصدیقات موجود ہیں جن میں مولانا قاری محمد طیب مہتمم دار العلوم دیوبند، علامہ علاؤ الدین صدیقی سابق وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی اور مولانا عبدالماجد دریا آبادی تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’کام نہایت ہی اہم ہے بشرطیکہ احتیاط سے کیا جائے‘‘ علماء کے علاوہ بڑے بڑے معروف صحافیوں نے بھی تقاریظ کی صورت میں اپنے تاثرات کا اظہار کیا ہے لیکن اتنا عرصہ گزر جانے کے باوجود نہ کسی نے اس کو اچھالا اور نہ اعتراض کیا ہے۔ اور انہیں دونوں کتابوں میں دیوبندی مکتبہ فکر علماء وغیرہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم کی زیارت ھوئی خواب اور بیداری ھونے کا تذکرہ ھے آج تک کسی نے اس کے خلاف فتوے دیئے مذاق اڑایا نہیں آخر یہ منافقت کیوں ؟

چنے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے : ⏬

الدر الثمین فی مبشرات النبی الامین میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد گرامی حضرت شاہ عبدالرحیم رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ آپ ہر سال میلاد شریف مناتے کھانا پکا کر لوگوں میں تقسیم کرتے اور صدقہ و خیرات کرتے لیکن ایک سال آیا کہ گھر میں کچھ نہ تھا دل پر بڑا بوجھ تھا کہ میلاد شریف بغیر صدقہ خیرات کے گزر جائے گی تو بالآخر کیا کیا تھوڑے سے پیسوں سے چنے لے لیے وہی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد مبارک کی خوشی میں تقسیم کر دیئے۔ اسی رات آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواب میں زیارت نصیب ہوئی تو کیا دیکھتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے وہی چنے پڑے ہوئے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیکھ کر مسکرا رہے ہیں ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیوبند کی ریل گاڑی میں : ⏬

علمائے دیوبند لکھتے ہیں کہ قصبہ سردھنہ ضلح میرٹھ میں ایک عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا ۔ جلسے کے صدر حضرت مولانا حبیب الرحمن عثمانی قرار پائے ۔ بندہ راقم کی ایک شب تقدیر جاگ اٹھی خواب میں مجھے دکھایا گیا کہ میں اپنے وطن کو چھوٹے اسٹیشن پر ہوں مگر ریلوے اسٹیشن اپنی وسعت میں غازی آباد جنکشن کے برابر ہے اسٹیشن پر بہت زیادہ روشنی ہے رات کا وقت ہے یہ روشنی بجلی کی روشنی کو مات کر رہی ہے اتنے میں معلوم ہوا کہ عنقریب دیوبند یا سہارنپور کی طرف سے جو گاڑی آنے والی ہے اس میں آقائے نامدار سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لا رہے ہیں ۔ تھوڑی دیر گزری تھی ۔ گاڑی پلیٹ فارم پر آ کر ٹھہری اور حضور پر نور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ڈبے میں جو انجن کے قریب تھا ، تشریف فرما نظر آئے ۔ (مبشرات دار العلوم دیوبند صفحہ نمبر 67 ، 68)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیوبندیوں نے اپنا باورچی بنا ڈالا : ⏬

مولوی عاشق الہی دیوبندی لکھتا ہے : حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کی بھاوج ان کے مہمانوں کےلیے کھانا پکاتی تھی اسے خواب میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت ہوئی ۔ آپ نے فرمایا : تم ہٹ جاؤ امداد اللہ کے مہمان علماء ہیں ان کے مہمانوں کا کھانا میں خود پکاؤں گا , چند دنوں کے بعد مولانا اشرف علی تھانوی اور مولانا رشید احمد گنگوہی حاجی امداد اللہ کے مرید بنے یہی ان کے مہمان تھے ۔ (تذکرۃ الرشید صفحہ 46)

اشرف السوانح میں مولانا نور الحسن بیان کرتے ہیں : میں نے خواب میں دیکھا کہ حضور سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بستر علالت پر آرام فرما ہیں ۔ مولانا اشرف علی تھانوی قریب بیٹھے تیمار داری کر رہے ہیں اور دور ایک معالج بھی بیٹھا ہوا ہے ۔ اسے پہچان نہیں سکتا ۔

مولانا نور الحسن یہ خواب مولانا اشرف علی تھانوی کو بیان کرتے ہیں پھر وہ خود اس کی تعبیر بتاتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ظاہری علالت و بیماری کی جو حالت خواب میں دکھائی گئی ہے اس سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بیمار ہونا مراد نہیں بلکہ اس کی تعبیر آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کا بیمار ہونا مراد ہے ۔ اور تھانوی صاحب قریب بیٹھے جو تیمار داری کر رہے ہیں اس کی تعبیر امت کی اصلاح کر رہے ہیں امت کے احوالِ حیات بدل رہے ہیں جبکہ دور بیٹھا ہوا جو معالج ہے اس سے مراد و تعبیر امام مہدی علیہ السلام ہیں ۔

دیوبندیوں کے مولوی رشید احمد گنگھوئی دیوبندی حضور علیہ الصلواة والسلام کی صورت میں آگئے ۔ (علماء دیوبند کے واقعات و کرامات صفحہ نمبر  56 ، 57)

مولوی انوار الحسن دیوبندی لکھتا ہے : بیداری میں جن خیالات اور افکار کا ہجوم ہوتا ہے خواب میں ان ہی کا تصور سامنے آجاتا ہے ۔ (مبشرات دارالعلوم دیوبند صفحہ نمبر   19،چشتی)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اردو دارالعلوم دیوبند سے سیکھی : ⏬

مولوی خلیل احمد انبیٹھوی دیوبندی لکھتا ہے : ایک صالح نے خواب میں دیکھا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اردو میں بات کر رہے ہیں پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اردو کہاں سے آگی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو عربی ہیں فرمایا جب سے دارالعلوم دیوبند سے واسطہ ہوا ۔ (بُراہین قاطعہ ٦۳ دارالکتاب دیوبند ، بُراہین قاطعہ صفحہ نمبر ۲۶ قدیم ، براہین قاطعہ صفحہ ۳۰ دارالاشاعت)

دیوبندیو اب یہ نہ کہہ دینا کہ یہ خواب کا واقعہ ہے ظالمو عام لوگوں کے متعلق خواب کا حکم الگ ہے مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں دیکھنا حقیقت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھنا ہے پڑھو احادیث مبارکہ اور اپنی گستاخانہ سوچ سے توبہ کرو اب بھی وقت ہے : عن أبي ھریرہ رضی اللہ عنہ قال : قال الرسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : من رآنی فی المنام فقد رآنی فان الشیطان لا یتمثل بی ۔ (صحیح بخاری : ۱۱۰ العمل ، صحیح مسلم : ۲۲۶۶ الرؤیا،چشتی)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے مجھے خواب میں دیکھا تو اس نے مجھے حقیقت میں دیکھا ، اس لیے کہ شیطان میری مثال نہیں بنا سکتا میری صورت اختیار نہیں کر سکتا ۔

جب یہ حقیقت کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں دیکھنا حقیقت میں دیکھنا ہے تو مفتیانِ دیوبند کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اردو دارالعلوم دیوبند سے سیکھی یہ گستاخی و بے ادبی نہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیوبندیوں نے اپنا شاگرد بنا ڈالا ۔ اس پر کیا فتویٰ لگے گا ؟

ایک بار پھر سوال ہے موجودہ متعصب اور وھابیت کی راہ پر چلنے والے دیوبندیوں سے اہلسنت کے اکابرین اور اہلسنت کا مذاق اڑانے والو اور فتوے لگانے والو ایک نظر اپنے اکابرین کی طرف بھی کر لو اور دیگر جو مستند حوالہ جات فقیر چشتی نے پیش کیے ہیں وہ آپ جیسے متعصب لوگوں اور وھابیہ کےلیے کافی ہیں ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانانِ اہلسنت کو فتنہ نجد کے شر و فساد اور گستاخانہ عقائد و نظریات سے محفوظ رکھے آمین ۔ دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی ۔

1 comment:

  1. ڈاکٹر فیص چشتی صاحب آپ نے رفع الیدین والا خواب تو نقل کیا تو پھر آپ رفع الیدین پر عمل کیون نہیں کرتے؟؟

    ReplyDelete

پیر جامی گولڑوی صاحب اور صدیق اکبر و فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہما کے القاب

پیر جامی گولڑوی صاحب اور صدیق اکبر و فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہما کے القاب محترم قارئینِ کرام : ہمارا یہ مضمون لکھنے کا مقصد صرف نظریاتِ اہلسن...