Monday, 19 October 2015

نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو تم سے لڑے گا میں اس سے لڑوں گا اور جو تم سے صلح کرے گا میں اس سے صلح کروں گا

نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو تم سے لڑے گا میں اس سے لڑوں گا اور جو تم سے صلح کرے گا میں اس سے صلح کروں گا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
عن زيد بن أرقم رضي اﷲ عنه، أن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم قال لعلي و فاطمة و الحسن و الحسين رضي اﷲ عنهم : أنا حرب لمن حاربتم، و سلم لمن سالمتم.

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین سلام اﷲ علیہم سے فرمایا : جس سے تم لڑو گے میری بھی اس سے لڑائی ہو گی، اور جس سے تم صلح کرو گے میری بھی اس سے صلح ہو گی۔

1. ترمذی، الجامع الصحيح، 5 : 699، ابواب المناقب، رقم : 3870
2. ابن ماجه، السنن، 1 : 52، رقم : 145
3. ابن حبان، الصحيح، 15 : 434، رقم : 6977
4. ابن ابي شيبه، المصنف، 6 : 378، رقم : 32181
5. حاکم، المستدرک، 3 : 161، رقم : 4714
6. طبراني، المعجم الکبير، 3 : 40، رقم : 20 - 2619
7. طبراني، المعجم الکبير، 5 : 184، رقم : 31 - 5030
8. طبراني، المعجم الاوسط، 5 : 182، رقم : 5015
9. هيثمي، موارد الظمآن، 1 : 555، رقم : 2244
10. محب طبري، ذخائر العقبي في مناقب ذوي القربیٰ : 62
11. ذهبي، سير اعلام النبلاء، 2 : 125
12. مزي، تهذيب الکمال، 13 : 112
--------------------------------------------------------------------------
عن زيد بن ارقم رضي الله عنه ان النبي صلي الله عليه وآله وسلم قال لفاطمة و الحسن و الحسين : أنا حرب لمن حاربکم و سلم لمن سالمکم.

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین سلام اﷲ علیہم (تینوں) سے فرمایا : جو تم سے لڑے گا میں اس سے لڑوں گا اور جو تم سے صلح کرے گا میں اس سے صلح کروں گا۔

1. ابن حبان، الصحيح، 15 : 434، رقم : 6977
2. طبراني، المعجم الاوسط، 3 : 179، رقم : 2854
3. طبراني، المعجم الصغير، 2 : 53، رقم : 767
4. ہيثمی نے ’مجمع الزوائد (9 : 169)‘ میں کہا ہے کہ اسے طبرانی نے ’الاوسط‘ میں روایت کیا ہے۔
5. هيثمي، موارد الظمآن : 555، رقم : 2244
6. محاملي، الامالي : 447، رقم : 532
7. ابن اثير، اسد الغابه في معرفة الصحابه، 7 : 220
--------------------------------------------------------------------------
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : نظر النبي صلي الله عليه وآله وسلم إلي علي و فاطمة و الحسن و الحسين، فقال : أنا حرب لمن حاربکم و سلم لمن سالمکم.

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین علیہما السلام کی طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا : جو تم سے لڑے گا میں اس سے لڑوں گا، جو تم سے صلح کرے گا میں اس سے صلح کروں گا (یعنی جو تمہارا دشمن ہے وہ میرا دشمن ہے اور جو تمہارا دوست ہے وہ میرا بھی دوست ہے)۔

1. احمد بن حنبل، المسند، 2 : 442
2. احمد بن حنبل، فضائل الصحابه، 2 : 767، رقم : 1350
3. حاکم نے ’المستدرک (3 : 161، رقم : 4713)‘ میں اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے جبکہ ذہبی نے اس میں کوئی جرح نہیں کی۔
4. طبرانی، المعجم الکبير، 3 : 40، رقم : 2621
5. خطيب بغدادي، تاريخ بغداد، 7 : 137
6. ذهبي، سير اعلام النبلاء، 2 : 122
7. ذهبي، سير اعلام النبلاء، 3 : 58 - 257
8. ہیثمی نے ’مجمع الزوائد (9 : 169)‘ میں کہا ہے کہ اسے احمد اور طبرانی نے روایت کیا ہے اور اس کے راوی تلیدبن سلیمان میں اختلاف ہے جبکہ اس کے بقیہ رجال حدیث صحیح کے رجال ہیں۔
--------------------------------------------------------------------------
عن أبی بکر الصديق رضي الله عنه قال : رأيت رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم خيم خيمة و هو متکئ علي قوس عربية و في الخيمة علي و فاطمة والحسن والحسين فقال : معشر المسلمين أنا سلم لمن سالم أهل الخيمة حرب لمن حاربهم ولي لمن والاهم لا يحبهم إلا سعيد الجد طيب المولد ولا يبغضهم إلا شقي الجد ردئ الولادة.

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک خیمہ میں قیام فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک عربی کمان پر ٹیک لگائے ہوئے تھے اور خیمہ میں علی، فاطمہ، حسن اور حسین بھی موجود تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے مسلمانوں کی جماعت جو اہل خیمہ سے صلح کرے گا میری بھی اس سے صلح ہو گی جو ان سے لڑے گا میری بھی اس سے لڑائی ہو گی۔ جو ان کو دوست رکھے گا میری بھی اس سے دوستی ہو گی، ان سے صرف خوش نصیب اور برکت والا ہی دوستی رکھتا ہے اور ان سے صرف بدنصیب اور بدبخت ہی بغض رکھتا ہے۔

محب طبري، الرياض النضرة في مناقب العشره، 3 : 154

No comments:

Post a Comment

غیرت کے نام پر قتل کی شرعی حیثیت و حکم

غیرت کے نام پر قتل کی شرعی حیثیت و حکم محترم قارئینِ کرام : جمہور ائمہ اربعہ علیہم الرحمہ کے نزدیک  قتل غیرت  دیانۃ جائز ہے ، لیکن قاتل پر ق...