دیوبند کے معنیٰ ، ہندوٶں کے چندے پہ پلنے والے اور دیوبندیوں کی خوراک
محترم قارئینِ کرام : دائرہ المعارف الاسلامیہ کےمطابق یہاں درختوں کے ایک جھنڈ کے درمیان گھرا ہوا ایک دیوی کا مندر ہے۔جس کے پیش نظر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ دیوبند کو دیوی بن (دیوی کا جنگل) کی بگڑی ہوئی شکل تصور کرنا چاہیے ۔ (دائرہ المعارف الاسلامیہ جلد 9 طبع پنجاب یونیورسٹی لاہور)
اس بستی کا پرانا نام دیہی بن یعنی دیوی کا جنگل تھا ۔ (اترپردیش اتحاس جلد 1)
فیروزاللغات (فارسی قدیم) میں ہے کہ دیوبند کا لفظ سب سے پہلے قارون کےلیے استعمال ہوا یہ اس کا لقب تھا اور ایران کے بادشاہ جمشید کےلیے بھی یہ لقب پکارا گیا اور دیو شیطان کےلیے بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔ (فیروز اللغات فارسی قدیم)
دیو کے معنی ہیں شیطان بھوت ارواح خبیثہ وغیرہ ۔ (طبرالرویا صفحہ 243)
ہندو چونکہ انہی چیزوں کی پوجاپاٹ کرتے ہیں اسی لیے ہندو مذہب کے مطابق دیوی دیوتا کے الفاظ بنیادی طور پر اسی لفظ دیو سے ماخوذ و منسوب ہے ۔
بند کے معنی ہیں بندھا ہونا جڑا ہونا وابستگی تعلق وغیرہ مثلاً کمر بند وہ ڈوری یا دھاگہ جو کمر سے بندھا ہو جڑا ہو ۔
دیوبند یعنی ایسی جماعت یا ٹولہ یا ایسا گروہ جو پوجاپاٹ کے حوالے سے یا نظریاتی و اعتقادی طور پر دیو یا دیوی دیوتاؤں سے وابستہ یا بندھا ہو ۔
بندی یہ بند کی نسبت بھی ہے اور بندے کی مؤنث (Female) بھی چنانچہ دیوبندی کے معنی ہوئے ایسی مؤنث یا بندی یا باندی یا ذات یا جماعت یا تحریک یا دعوت یا سوچ و نظریہ یا فکر وغیرہ جو اعتقادی و نظریاتی طور پر دیوی دیوتاؤں سے وابستہ ہو ۔
مسلک علمائے دیوبند : ⏬
مسلک ، راستہ
علمائے ، علماء
دیو ، شیطان
بند ، قید
کیا بنا مطلب ایسا مسلک جو شیطان کی قید میں ہو نظریات و اعتقادی اعتبار سے شیطان کی پیروی کرنے والی جماعت ۔
محترم قارئینِ کرام : دیوبند تاریخی اعتبار سے شیطانوں اور دیوؤوں کا ٹھکانہ تھا ۔ جس کو دیوبندی اکابر نے بسروچشم قبول کرلیا۔دیوبندی حضرات بڑےفخریہ طور پر کہتے ہیں کہ ہمارا مسلک دیوبند ہے تو مطلب تو واضح ہے کہ یو لوگ اپنا انتساب کھلے الفاظ میں شیطانوں سے کرتے ہیں ۔ دیو کے معنی شیطان ، بند کے معنی قیدی ، تو دیوبند کا معنیٰ ہوا شیطان کے قیدی ۔
شیطان کے قیدی کی خوراک کی کہانی خود حکیم الامت دیوبند کی زبانی : ایک آدمی پاخانہ کھایا کرتا تھا منع کرنے سے کہتا ہے جب یہ میرے ہی اندر تھا اب اندر چلا جاوے تو کیا ہرج ہے تھانوی کہتا ہے یہ عمل بھی عقلیات میں ہو سکتا ہے ۔ (ملفوظات حکیم الامت جلد نمبر 3 صفحہ نمبر 322) ۔ (معاذاللہ)
فتاوا دارالعلوم دیوبند افادات مفتی عزیزالرحمن عثمانی حسب ہدایت قاری محمد طیب مہتمم دارالعلوم دیوبند ترتیب وتخریج مولانا محمد ظفیرالدین جلد نمبر 6 مسائل متفرقات صفحہ نمبر 409 سوال نمبر 268 کسی رنڈی یا ہندو کی بھیجی ہو افطاری سے روزہ افطار کرنے کا کیا حکم ہے ؟
جواب : مولوی زامن علی جلال آبادی کی رنڈیاں مرید تھیں تو رنڈی عورت کا پکا کھانا جائز ہے اور ہندوں سے مولانا تھانوی کو پیسے ملتے تھے تو ہندو عورت کا پکا کھانا جائز چاہے وہ ذمی ہو یا غیر ذمی ۔
مولوی انور بن اختر کاشمیری دیوبندی لکھتا ہے : ہمارے مولانا الیاس کاشمیری سابقہ شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند مرنے کے بعد مولانا کاشمیری کے منہ مبارک سے دودھ نکل پڑا کفن دینے کے بعد ہم نے پیا تو ایسے لگ رہا تھا جیسے بھینس کا تازہ دودھ نکل رہا ہے ۔ (اکابر دیوبند کے ایمان افروز واقعات صفحہ نمبر 124)
مردے کے منہ کی جھاگ پینے والو
جس قوم کو دودھ اور جھاگ کے فرق کا پتا نہیں
اس کے منہ میں گیارہویں کی کھیر کیسے جاۓ گی
کوا دیوبندیوں کی اہم خوراک ہے : ⏬
قطب العالم دیوبند علامہ رشید احمد گنگوہی دیوبندی لکھتے ہیں مجھے کیا معلوم کوا کھانے میں اللہ نے اتنا اجر رکھا ہے ۔ (تذکرۃ الرشید جلد دوم صفحہ 64 )
قطب العالم دیوبند نے کوا کھانا حلال ہے کا فتویٰ دیا جب مخالفت میں فتوے آئے تو کہا مجھ کو کیا معلوم اللہ نے کوا کھانے میں اتنا اجر رکھا ہے ۔ (تذکرۃ الرشید حصّہ اوّل صفحہ 64 قدیم)
میلاد و شب برات کے کے حلوہ کا مذاق اڑانے والو حلوہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم کی پسند ہے جب اس کا مذاق اڑاؤ گے تو یہ کوے ہی کھانے نصیب ہونگے ۔ اہم بات قطب العالم دیوبند نے اللہ پر بہتان باندھا کہ کوا کھانے میں اللہ نے اجر رکھا ہے دیوبندیوں کو چیلنج قرآن و حدیث میں کہا اللہ نے کوا کھانے پر اجر بیان فرمایا ہے ؟
امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں : یہ کوّے کہ ہمارے دیار میں پائے جاتے ہیں اور اُلّو یہ سب حرام ہیں ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد نمبر 20 صفحہ نمبر 320 جدید،چشتی)
قطب العالم دیوبند رشید احمد گنگوہی دیوبندی لکھتے ہیں کوا کھانے میں ثواب ہوگا ۔ (فتاویٰ رشیدیہ صفحہ نمبر 598 مطبوعہ دار الاشاعت کراچی)
قطب العالم دیوبند نے کوا کھانا حلال ہے کا فتویٰ دیا جب مخالفت میں فتوے آئے تو کہا مجھ کو کیا معلوم اللہ نے کوا کھانے میں اتنا اجر رکھا ہے ۔ (تذکرۃ الرشید حصّہ اوّل صفحہ 64 قدیم)
وہابیوں کی پسندیدہ غذا : ⏬
ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﺧﻨﺰﯾﺮ ﺧﻮﺭ ﻗﻮﻡ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺧﻨﺰﯾﺮ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﻧﻔﺮﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﮐﻮ ﺧﻮﺵ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯلیے ﺍﻥ غیر مقلد وہابی حضرات ﮐﮯ ﻣﺴﻠﻤﮧ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﻧﮯ ﺧﻨﺰﯾﺮ ﮐﮯ ﭘﺎﮎ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﻓﺘﻮﯼ ﺩﯾﺎ تاکہ اپنے آقا انگریز کو خوش کر سکیں ۔
علامہ صدیق حسن خان غیر مقلد وہابی لکھتے ہیں : خنزیر کے حرام ہونے سے اس کا ناپاک ہونا ہر گز ثابت نہیں ہوتا جیسا کہ ماں حرام ہے مگر ناپاک نہیں ۔ (بدور الاہلہ صفحہ نمبر 16)
غیر مقلدین کے نزدیک انسان کے بال ، مردار اور خنزیر پاک ہیں اور خنزیر کی ہڈی ، کھُر ، پٹھے ، سینگ تھوتھنی سب پاک ہیں ۔(کنز الحائق صفحہ 13 غیر مقلد نواب وحید)
علامہ نور الحسن بن نواب صدیق حسن غیر مقلد وہابی لکھتا ہے خنزیر کے ناپاک ہونے کا دعویٰ ناتمام ہے ۔ (یعنی خنزیر ناپاک نہیں) ۔(عرف الجادی صفحہ 10 غیر مقلد عالم )
نواب صدیق حسن خان ، نواب نور الحسن خان اور نواب ﻭﺣﯿﺪ ﺍﻟﺰﻣﺎﮞ دونوں غیر مقلد وہابی علماء ﻧﮯ ﺧﻨﺰﯾﺮ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﻝ ﺟﯿﺴﺎ ﭘﺎﮎ ﮐﮩﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻧﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﻋﺰﺕ ﺩﯼ ﮐﮧ ﻣﺎﮞ ﺟﯿﺴﺎ ﭘﺎﮎ ﮐﮩﺎ تیسرے نے کہا خنزیر کے ناپاک ہونے کا دعویٰ غلط ناتمام ہے ۔
ہمارا ﻣﻄﺎﻟﺒﮧ حلوے کا مذاق اڑانے والوں سے تھا اور ہے : ہمارا مطالبہ یہ ہے ﮐﮧ ﺁپ لوگوں کا ﺩﻋﻮﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ آپ لوگ ﺍﮨﻞ ﺣﺪﯾﺚ ﮨﯿﮟ ۔ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﮨﺮ ﮨﺮ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺣﺪﯾﺚ ﺻﺤﯿﺢ ﺻﺮﯾﺢ ﻏﯿﺮ ﻣﻌﺎﺭﺽ ﺳﮯ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﮯ ﺍﺱ لیے ﺍﯾﮏ ﺻﺤﯿﺢ ﺻﺮﯾﺢ ﻏﯿﺮ ﻣﻌﺎﺭﺽ ﺣﺪﯾﺚ ﺍﯾﺴﯽ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﺮﯾﮟ ﮐﮧ ﺧﻨﺰﯾﺮ ﮐﯽ ﮨﺮ ﭼﯿﺰ ﻏﯿﺮ ﻣﻘﻠﺪ (ﺟﻮ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺍﮨﻞ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ) ﮐﮯ ﺑﺎﻝ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﭘﺎﮎ ﮨﮯ ﯾﺎ ﺧﻨﺰﯾﺮ ﻏﯿﺮ ﻣﻘﻠﺪ (ﺟﻮ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺍﮨﻞ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ) ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﭘﺎﮎ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﺍﯾﺴﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺪﯾﺚ ﭘﯿﺶ ﻧﮧ ﮐﺮﺳﮑﮯ ، ﺍﺩﮬﺮ ﻋﻮﺍﻡ ﺍﮨﻞ ﺍﺳﻼﻡ ﻧﮯ ﻣﻼﻣﺖ ﮐﯽ ﮐﮧ ﻣﻠﮑﮧ ﻭﮐﭩﻮﺭﯾﮧ ﮐﯽ ﭼﺎﭘﻠﻮﺳﯽ ﮐﯽ ﺣﺪ ﮐﺮ ﺩﯼ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺧﻨﺰﯾﺮ ﺗﮏ ﮐﻮ ﭘﺎﮎ ﮐﮩﮧ ﺩﯾﺎ ۔
چاہیے تو یہ تھا کہ غیر مقلدین حضرات ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻼﺅﮞ ﺳﮯ ﻣﻄﺎﻟﺒﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﮐﮧ ﺧﻨﺰﯾﺮ ﮐﮯ ﺑﺎﻝ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﮞ ﺟﯿﺴﮯ ﭘﺎﮎ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺣﺪﯾﺚ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﻭ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻻﺟﻮﺍﺏ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﺎﮨﻠﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﮑﮭﺎ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺣﻨﻔﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺏ “میں ایسا ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ ۔ یہ کوئی جواب نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پسند حلوہ کا مذاق اڑانے والو اب یہی تو تمہارا نصیب ہونا تھا کہ خنزیر تمہاری ماؤں کی طرح ہے یاد رہے یہ تمہارے علماء نے لکھا تو خنزیر جیسی مائیں تمہارے جیسے گستاخ بچے ہی پیدا کریں گی نا ہم نہیں کہہ رہے آپ کے علماء نے لکھا ہے ۔ علمی جواب کا منتظر ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
دیوبندیوں وہابیوں کے جھوٹ کا جواب کہ اعلحضرت نے کوے اور الو کو حلال لکھا : ⏬
اعلیٰحضرت امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ نے کوے اور الو کے متعلق مکمل بحث کی اور آخر میں فتویٰ دیا کہ کوا اور الو حرام ہیں ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد نمبر 20 صفحہ نمبر 320 مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن جامعہ نظامیہ اندرون لوہاری دروازہ لاہور)
مگر دیابنہ خیانت کر کے آدھی عبارت لے کر اعتراض کیا کہ اعلیٰحضرت نے الو یعنی چمگادڑ کو حلال لکھا ہے صرف اتنا کہوں گا شرم کرو ۔
کوا خانی دیوبندیوں کے نزدیک کوا کھانے میں اجر و ثواب ہے
قطب العالم دیوبند علامہ رشید احمد گنگوہی دیوبندی لکھتے ہیں کوا کھانے میں ثواب ہوگا ۔ (فتاویٰ رشیدیہ صفحہ نمبر 598 مطبوعہ دارالاشاعت کراچی)
قطب العالم دیوبند نے کوا کھانا حلال ہے کا فتویٰ دیا جب مخالفت میں فتوے آئے تو کہا مجھ کو کیا معلوم اللہ نے کوا کھانے میں اتنا اجر رکھا ہے ۔ (تذکرۃ الرشید حصّہ اوّل صفحہ 64 قدیم،چشتی)
میلاد و شب برات کے کے حلوہ کا مذاق اڑانے والو حلوہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم کی پسند ہے جب اس کا مذاق اڑاؤ گے تو یہ کوے ہی کھانے نصیب ہونگے
اہم بات قطب العالم دیوبند نے اللہ پر بہتان باندھا کہ کوا کھانے میں اللہ نے اجر رکھا ہے دیوبندیوں کو چیلنج قرآن و حدیث میں کہا اللہ نے کوا کھانے پر اجر بیان فرمایا ہے ؟
امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں :یہ کوّے کہ ہمارے دیار میں پائے جاتے ہیں اور اُلّو یہ سب حرام ہیں ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد نمبر 20 صفحہ نمبر 320 جدید)
دیوبندی مستقل طور پر ہندو کے چندے پر پلنے والے وفادار : ⏬
محترم قارئینِ کرام : دیوبندیوں کے رئیس القلم جناب مناظر احسن گیلانی مہتتم دارالعلوم دیوبند جناب قاری طیّب صاحب کی ہدایت پر لکھتے ہیں : دارالعلوم دیوبند کو ہندو مستقل طور پر چندہ دیتے تھے چند نام : منشی تلسی رام ، رام سہائے ، منشی ہر دواری لال ، لالہ بجناتھ ، پنڈت سری رام ، منشی موتی لال ، رام لال ، سیو رام سوار ۔ (سوانح قاسمی جلد دوم صفحہ نمبر 317 شائع کردہ دارالعلوم دیوبند)
دویبندیوں کےرئیس القلم جناب مناظر احسن گیلانی مہتتم دارالعلوم دیوبند جناب قاری طیّب صاحب کی ہدایت پر لکھتے ہیں : دارالعلوم دیوبند کو ہندوؤں کی طرف سے مستقل بنیادوں پر چندہ ملتا رہا اور دیوبند والے ہندوؤں کےلیے دعا کرتے رہے کہ : خدا اُن کی قوت و آزادی کو قائم رکھے یہ اعلان مسلسل ہوتا رہا ۔ (سوانح قاسمی جلد دوم صفحہ نمبر 332 شائع کردہ دارالعلوم دیوبند)
مہتمم دارالعلوم دیوبند جناب قاری طیّب صاحب لکھتے ہیں : مدرسہ دیوبند کے اکثر بزرگ انگریز کے ملازم تھے ہم پر بغاوت کے الزام لگے مگر ہم (یعنی دیوبند والے) انہیں بزرگوں کے ذریعے صفائی دینے میں کامیاب ہوگئے کہ ہم انگریز سرکار کے باغی نہیں ہیں ۔ ( سوانح قاسمی حصّہ دوم صفحہ نمبر 247 شائع کردہ دارالعلوم دیوبند،چشتی)
جی جناب عالی مہتمم دارالعلوم دیوبند جناب قاری محمد طیب صاحب تو فرماتے ہیں ہم انگریز سرکار کے باغی نہیں ہم نے یہ باور کرادیا انگریز سرکار کو تو جناب والا مہتمم دیوبند سچے کہ آپ سچے ذرا سوچ کر کمنٹ کیجیئے گا ؟ مزید تفصیل کتاب کے اصل صفحہ پر پڑھیں اسکن پیش خدمت ہے ۔
ہم کچھ عرض کرینگے تو شکایت ہوگی : صرف اتنی عرض ہے یہ چندہ ہندوؤں سے کس بنیاد پر لیا جاتا رہا ؟
کیا ہندو کے چندے سے دین کا کام کرنا جائز و درست ہے ؟
اور کیا ہندوؤں سے چندہ لے کر ان کی قوت و آزادی قائم رہے کی دعائیں کرنا اسلام سے غدّاری اور ہندو سے وفاداری نہیں ؟
دارالعلوم دیوبند کو مسلسل اور مستقل بنیادوں پر ہندو چندہ دیتے رہے اور دیوبندی علماء ان کے لیئے دعائیں کرتے رہے ؟ ہندو اور دیوبندی ایک ہیں جناب من سچ سچ ہوتا ہے سچ کو جھوٹ کے پردوں میں چھپایا نہیں جا سکتا ہندوؤں سے چندے کون لیتا رہا ؟ ہندوؤں کےلیے دعا کون کرتا رہا ؟ آنکھیں کھول کر پڑھیں اور جواب دیں ۔
مختصر تاریخ فرقہ دیوبند : ⏬
دیوبندیت ایک جدید فرقہ ہے جو دیوبندی کتب کے مطابق 30 مئی 1867 میں ہندوؤں اور انگریزوں کے تعاون سے بننے والے مدرسہ دیوبند کی تعمیر کیساتھ ہی معرض وجود میں آیا اس کا مختصر احوال ملاحظہ کیجیے :
دارالعلوم دیو بند کے موسسین میں پہلا نام مولانا ذوالفقار علی ولد فتح علی کاہے جو مولانا محمو د الحسن کے والد بزرگوار تھے ۔ یہ دہلی کالج میں پڑھتے رہے ، بریلی کالج میں پروفیسر رہے پھر شعبہ تعلیم میں ڈپٹی انسپکٹر مدارس بنے پھر پنشن کے بعد دیو بند تشریف لے آئے اور حکومتِ برطانیہ سے وفاداری کے اعزا ز میں آنریری مجسٹریٹ بنا دیے گئے ۔ انہوں نے 30 مئی 1867ء میں دارالعلوم دیو بند کی بنیاد رکھی ۔ دوسرے مولانا فضل الرحمن تھے جو مولانا شبیر احمد عثمانی کے والد بزرگوار تھے ۔ انہوں نے دارالعلوم دیو بند کی بنیاد رکھنے میں حصہ لیا ۔ مولانا یعقوب علی نانوتوی دارالعلوم دیو بند کے پہلے مدرس تھے ۔ مولانا قاسم نانوتوی دہلی کالج سے فارغ ہوئے تو پہلے مطبع احمدی پھر مطبع مجتبائی میرٹھ میں اور اس کے بعد مطبع مجتبائی دہلی میں پروف ریڈر رہے اس کے بعد مستقل طور پر مدرسہ دیوبند میں پڑھاتے رہے ۔ (احسن نانوتوی صفحہ 691,195 ,47,45،چشتی)
مدرسہ دیو بند کی تعمیر کےلیے جن ہندوؤں نے چندہ دیا ان میں سے بعض کے نام درج ذیل ہیں ۔ منشی تلسی رام ، رام سہائے ، منشی ہر دواری لال ، لالہ بجناتھ ، پنڈت سری رام ، منشی موتی لال ، رام لال ، سیو رام سوار ۔ (سوانح قاسمی جلد 2 صفحہ 317)
قاری طیب دیو بندی مہتمم دارالعلوم دیو بند فرماتے ہیں : چنانچہ دارالعلوم دیو بند کی ابتدائی روداد میں بہت ہندوؤں کے چندے بھی لکھے ہوئے ہیں ۔ (خطبات حکیم الاسلام جلد 9 صفحہ 149)
13جنوری 1875ءبروز یک شنبہ لیفٹننٹ گورنر کے ایک خفیہ معتمد انگریز مسمی پامر نے اس مدرسہ کا دورہ کیا تو اس نے اس کے متعلق بہت ہی اچھے خیالات کا اظہار کیا ۔ اس معائنے کی رپورٹ کی چند سطور ملاحظہ فرمائیں : یہ مدرسہ سرکار کے خلاف نہیں بلکہ موافق سرکار ممد و معاون سرکار ہے ۔ یہاں کے تعلیم یافتہ لوگ ایسے آزاد اور نیک چلن ہیں کہ ایک دوسرے سے کچھ واسطہ نہیں ۔ (احسن نانوتوی صفحہ 217)(تصنیف محمد ایوب قادری دیوبندی خر العلماء صفحہ 60،چشتی)
مولانا اشرف علی تھانوی صاحب کو انگریزی حکومت کی طرف سے چھ سو روپیہ ماہوار ملتا تھا ۔ (مکالمہ الصدرین صفحہ 9 تقریر شبیر احمد عثمانی دیوبندی)
اس بات کا تذکرہ تھانوی صاحب نے الاضافات الیومیہ جلد 6 صفحہ 56 ملفوظ نمبر 108میں بھی کیا ہے ۔
دارالعلوم دیو بند کا جب صد سالہ جشن منایا گیا تو مہمان خصوصی (صدر مجلس) بھارت کی وزیر اعظم مسز اندرا گاندھی اور بھارت کے سابق نائب وزیر اعظم جگ جیون رام تھے ۔ مسز اندرا گاندھی نے علماء دیوبند کو خطاب فرمایا نیز مسٹر جگ جیون رام نے بھی علماء دیوبند کو بالخصوص اور عوام الناس کو بالعموم وعظ و نصیحت سے مستفید فرمایا ۔ اس صد سالہ جشن دیو بند کی روئداد بھی چھپی جس میں مہمانان گرامی کی تصاویر نمایاں طور ملاحظہ کی جا سکتی ہیں ۔
کیا آپ جانتے ہیں لفظ دیوبند کا مفہوم کیا ہے ؟ ماہنامہ تجلی دیوبند کے ایڈیٹر عامر عثمانی دیوبندی کی زبانی پڑھیے : ⏬
جناب عامر عثمانی دیوبندی اشعار کے ذریعہ سے سمجھاتے ہوئے لکھتے ہیں :
د ، ی ، و ، ب ، ن ، د
دغا کی دال ہے یاجوج کی ہے ی اس میں
وطن فروشی کی واؤ بدی کی ب اس میں
جو اس کے نون میں نارجحیم غلطاں ہے
تو اس کی دال سے دہقانیت نمایاں ہے
ملے یہ حرف تو بیچارہ دیوبند بنا
برے خمیر سے یہ شہر ناپسند بنا
(ماہنامہ تجلی دیوبند فروی 1957ء)
یہ ہے دیو کے بندوں کی کہانی انہی کی زبانی ۔
ہندو اور دیوبندی ایک ہیں مزارات اولیاؤ اللہ کو ماننے والوں اور مندروں کے بجاری ہندوؤں کو ایک کہنے والے دیوبندیوں کو جواب جنابِ من سچ سچ ہوتا ہے سچ کو جھوٹ کے پردوں میں چھپایا نہیں جا سکتا ہندوؤں سے چندے کون لیتا رہا ؟ ہندوؤں کےلیے دعا کون کرتا ہے آنکھیں کھول کر پڑھیں : ⏬
دارالعلوم دیوبند اور ہندو:دارالعلوم دیوبند کو مسلسل اور مستقل بنیادوں پر ہندو چندہ دیتے رہے اور دیوبندی علماء ان کے لیئے دعائیں کرتے رہے ؟
دارالعلوم دیوبند کو ہندو چندہ دیتے ہیں اور یہ چندہ مستقل بنیادوں پر دیا جاتا رہا ہے اور علمائے دیوبند اسے قبول کرتے رہے ۔ (سوانح قاسمی صفحات نمبر 317 ، 332 ، 479 ، 480)
ہم کچھ عرض کرینگے تو شکایت ہوگی : صرف اتنی عرض ہے یہ چندہ ہندوؤں سے کس بنیاد پر لیا جاتا رہا ؟
کیا ہندو کے چندے سے دین کا کام کرنا جائز و درست ہے ؟
اور کیا ہندوؤں سے چندہ لے کر ان کی شوکت قائم رہے کی دعائیں کرنا اسلام سے غدّاری اور ہندو سے وفاداری نہیں ہے ؟
دارالعلوم دیوبند کے درس قرآن اور درس حدیث میں کانگریس میں شمولیت کا درس دیا جانے لگا اور مہاتما گاندھی و جواہر لال نہرو کے کارناموں کی قرآن و حدیث سے تائید پیش کی جانے لگی دیوبند نہ صرف ہنود کا مداح بن چکا ہے بلکہ ان کے رنگ میں رنگ میں رنگا جا چکا ہے ۔ (علامہ شبیر احمد عثمانی دیوبندی کا بیان ابو الکلام آزاد کی تاریخی شکست صفحہ نمبر 23 ، 24) ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
No comments:
Post a Comment