و قال الشيخ ابن تيمية في ’’الفتاوی‘‘: ثَبَتَ أَنَّ أُبَيَّ بْنَ کَعْبٍ
کَانَ يَقُومُ بِالنَّاسِ عِشْرِيْنَ رَکْعَةً فِي رَمَضَانَ وَ يُوتِرُ بِثَلَاثٍ
فَرَأَی کَثِيْرًا مِنَ الْعُلَمَاءِ أَنَّ ذَلِکَ هُوَ السُّنَّةُِلأَنَّهُ قَامَ
بَيْنَ الْمُهَاجِرِيْنَ وَالْأَنْصَارِ وَلَمْ يُنْکِرْهُ مُنْکِرٌ.
’’شیخ ابن تیمیۃ نے ’’اپنے فتاویٰ‘‘ میں کہا کہ ثابت ہوا کہ حضرت ابی بن کعب رضی
اللہ عنہ رمضان
المبارک میں لوگوں کو بیس رکعت تراویح اور تین وتر پڑھاتے تھے تو اکثر اہل علم نے
اسے سنت مانا ہے۔ اس لئے کہ وہ مہاجرین اور انصار (تمام) صحابہ کرام کے درمیان (ان
کی موجودگی میں) قیام کرتے (بیس رکعت پڑھاتے) اور ان میں انہیں سے کبھی بھی کسی نے
نہیں روکا۔
الحدیث رقم 29: اخرجہ ابن تیمیۃ في مجموع فتاویٰ، 1 / 191، و اسماعیل بن محمد
الانصاري في تصحیح حدیث صلاۃ التراویح عشرین رکعۃ، 1 / 35۔
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
مروجہ قوالی مع مزامیر ، طبلے باجے گانے بجانے والے آلات کا شرعی حکم
مروجہ قوالی مع مزامیر ، طبلے باجے گانے بجانے والے آلات کا شرعی حکم محترم قارئینِ کرام : الحمد للہ فقیر چشتی ہے اور محفلِ سماع جو شرعی حدود ک...
-
جن کے بڑے بےحیاء ہوں سوچیئے اُن کے چھوٹے کتنے بڑے بےحیاء ہونگے محترم قارئینِ کرام : بانی دیوبند کہتے ہیں وعظ کہنا دو شخصوں ک...
-
درس قرآن موضوع آیت : قُلۡ ہَلۡ یَسۡتَوِی الَّذِیۡنَ یَعۡلَمُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَ...
-
شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے اعضاء تناسلیہ کا بوسہ لینا اور مرد کو اپنا آلۂ مردمی اپنی بیوی کے منہ میں ڈالنا اور ہمبستری سے قبل شوہر اور...
No comments:
Post a Comment