Saturday, 6 June 2015

بیس رکعات نماز تراویح کا بیان احادیث کی روشنی میں ( 21 )

و قال الشيخ ابن تيمية في ’’الفتاوی‘‘: ثَبَتَ أَنَّ أُبَيَّ بْنَ کَعْبٍ کَانَ يَقُومُ بِالنَّاسِ عِشْرِيْنَ رَکْعَةً فِي رَمَضَانَ وَ يُوتِرُ بِثَلَاثٍ فَرَأَی کَثِيْرًا مِنَ الْعُلَمَاءِ أَنَّ ذَلِکَ هُوَ السُّنَّةُِلأَنَّهُ قَامَ بَيْنَ الْمُهَاجِرِيْنَ وَالْأَنْصَارِ وَلَمْ يُنْکِرْهُ مُنْکِرٌ.
’’شیخ ابن تیمیۃ نے ’’اپنے فتاویٰ‘‘ میں کہا کہ ثابت ہوا کہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ رمضان المبارک میں لوگوں کو بیس رکعت تراویح اور تین وتر پڑھاتے تھے تو اکثر اہل علم نے اسے سنت مانا ہے۔ اس لئے کہ وہ مہاجرین اور انصار (تمام) صحابہ کرام کے درمیان (ان کی موجودگی میں) قیام کرتے (بیس رکعت پڑھاتے) اور ان میں انہیں سے کبھی بھی کسی نے نہیں روکا۔
الحدیث رقم 29: اخرجہ ابن تیمیۃ في مجموع فتاویٰ، 1 / 191، و اسماعیل بن محمد الانصاري في تصحیح حدیث صلاۃ التراویح عشرین رکعۃ، 1 / 35۔

No comments:

Post a Comment

حسام الحرمین کی حقانیت تاریخ و حقائق اورکتب اہل سنت کے اجالے میں

حسام الحرمین کی حقانیت تاریخ و حقائق اورکتب اہل سنت کے اجالے میں محترم قارئینِ کرام : ہندوستان میں وہابیوں  نے جب انگریزوں کی مدد سے پیر جما...