Saturday, 6 June 2015

بیس رکعات نماز تراویح کا بیان احادیث کی روشنی میں ( 20 )

و قال ابن رشد القرطبي: فَاخْتَارَ مَالِکٌ فِي أَحَدِ قَوْلَيْهِ وَ أَبُوحَنِيْفَةَ وَالشَّافِعِيُّ وَ أَحْمَدُ وَ دَاوُدُ الْقِيَامَ بِعِشْرِيْنَ رَکْعَةً سِوَی الْوِتْرِ . . . أَنَّ مَالِکًا رَوَی عَنْ يَزِيْدَ بْنِ رُومَانَ قَالَ: کَانَ النَّاسُ يَقُوْمُونَ فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضي اﷲ عنه بِثَلَاثٍ وَ عِشْرِيْنَ رَکْعَةً.
’’ابن رشد قرطبی نے فرمایا کہ امام مالک رضی اللہ عنہ نے اپنے دو اقوال میں سے ایک میں اور امام ابوحنیفہ، امام شافعی، امام احمد اور امام داود ظاہری رضی اللہ عنہم نے بیس ترایح کا قیام پسند کیا ہے اور تین وتر اس کے علاوہ ہیں . . . اسی طرح امام مالک رضی اللہ عنہ نے یزید بن رومان سے روایت بیان کی فرمایا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں لوگ تئیس (23) رکعت (تراویح) کا قیام کیا کرتے تھے۔‘‘
الحدیث رقم 28: اخرجہ ابن رشد في بدایۃ المجتھد، 1 / 152۔

No comments:

Post a Comment

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم برے نام بدل دیتے تھے اور پنجاب کے حکمران اچھے ناموں کو بُرے ناموں میں بدل رہے ہیں

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم برے نام بدل دیتے تھے اور پنجاب کے حکمران اچھے ناموں کو بُرے ناموں میں بدل رہے ہیں محترم قارئینِ کرام : ایسا...