Saturday, 6 June 2015

بیس رکعات نماز تراویح کا بیان احادیث کی روشنی میں ( 22 )

وَ فِي مَجْمُوْعَةِ الْفَتَاوَی النَّجْدِيَّةِ: أَنَّ الشَّيْخَ عَبْدَ اﷲِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِالْوَهَّابِ ذَکَرَ فِي جَوَابِهِ عَنْ عَدَدِ التَّرَاوِيْحِ أَنَّ عُمَرَ رضي اﷲ عنه لَمَّا جَمَعَ النَّاسَ عَلَی أُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ، کَانَتْ صَلَاتُهُمْ عِشْرِيْنَ رَکْعَةً.
مجموعہ الفتاویٰ النجدیہ میں ہے کہ شیخ عبداﷲ بن محمد بن عبدالوہاب نے تعداد رکعات تراویح سے متعلق سوال کے جواب میں بیان کیا کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں نماز تراویح کے لئے جمع کیا تو وہ انہیں بیس رکعت پڑھاتے تھے۔‘‘
الحدیث رقم 30: اخرجہ اسماعیل بن محمد الانصاري في تصحیح حدیث صلاۃ التراویح عشرین رکعۃ، 1 / 35۔

No comments:

Post a Comment

رشید احمد گنگوہی کا فتوی امکابنِ کذب ، ساجد خان نقلبندی کے جھوٹ کا دنداں شکن جواب

رشید احمد گنگوہی کا فتوی امکابنِ کذب ، ساجد خان نقلبندی کے جھوٹ کا  دنداں شکن جواب محترم قارئینِ کرام : میں آج کل دیوبندیوں نے طوفانِ بدتمیز...