Saturday, 6 June 2015

بیس رکعات نماز تراویح کا بیان احادیث کی روشنی میں ( 4 )

و قال الإمام أبوعيسی الترمذي في سننه: وَ أَکْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَی مَا رُوِيَ عَنْ عُمَرَ، وَ عَلِيٍّ رضي اﷲ عنهما وَ غَيْرِهِمَا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم عِشْرِيْنَ رَکْعَةً، وَ هُوَ قَولُ الثَّورِيِّ، وَابْنِ الْمُبَارَکِ، وَالشَّافِعِيِّ. وَ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَ هَکَذَا أَدْرَکْتُ بِبَلَدِنَا بِمَکَّةَ يُصَلُّونَ عِشْرِيْنَ رَکْعَةً.
’’امام ابو عیسیٰ ترمذی رضی اللہ عنہ نے اپنی سنن میں فرمایا: اکثر اہل علم کا مذہب بیس رکعت تراویح ہے جو کہ حضرت علی حضرت عمر رضی اﷲ عنہما اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیگر اصحاب سے مروی ہے اور یہی (کبار تابعین) سفیان ثوری، عبداللہ بن مبارک اور امام شافعی رحمہ اﷲ علیہم کا قول ہے اور امام شافعی نے فرمایا: میں نے اپنے شہر مکہ میں (اہل علم کو) بیس رکعت تراویح پڑھتے پایا۔‘‘
الحدیث رقم 9: اخرجہ الترمذي في السنن، کتاب: الصوم عن رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، باب: ماجاء في قیام شہر رمضان، 3 / 169، الرقم: 806۔

No comments:

Post a Comment

امن ، استحکام ، انسانی حقوق اور اسلام

امن ، استحکام ، انسانی حقوق اور اسلام محترم قارئینِ کرام اللہ رب العزت کا ارشاد مبارک ہے : لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ ...