نوافل کی جماعت اور خواتین کی امامت کا شرعی حکم
محترم قارئینِ کرام : نفلی نماز سے مراد وہ نماز ہے جس کا پڑھنا کسی شخص پر لازم نہیں بلکہ یہ پسندیدہ فعل ہے ۔ نوافل نہ پڑھنے سے انسان ان کے اجر سے محروم ہو جاتا ہے ۔ نفل کی جماعت بالتداعی سے متعلق فقہاے احناف نے کراہت کا قول کیا ہے لیکن یہ کراہت ، تنزیہی ہے جس کا حاصل خلاف اولی ہے ، حرام و گناہ نہیں ، چونکہ یہ مسئلہ مختلف فیہ ہے ۔ بہت سے اکابر نے نفل جماعت کے ساتھ پڑھی ہے اور صلاۃ التسبیح کا کارِ خیر ہونا بالکل واضح ، اس لیے عوام کو اس عظیم خیر سے نہ روکیں کیونکہ علماے امت نے ایسے مقام پر جہاں ممانعت (خلاف اولٰی) اور اجرِ عظیم کا ٹکراٶ ہو اور خلاف اولٰی پر عمل کے سبب اجر عظیم چھوٹنے کا خطرہ ہو تو ایسی ممانعت پر عمل کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ واضح رہے کہ نفل کی جماعت میں کراہت تنزیہی (یعنی خلاف اولٰی) ہے نماز میں کوئی کراہت نہیں اور جماعت میں مذکورہ کراہت تنزیہی یعنی خلاف اولٰی کا مقام ویسا ہی جیسے گرمی کے موسم میں اول وقت میں ظہر کی جماعت کر لینا یا فجر اول وقت میں پڑھ لینا یا نماز کےلیے الگ کپڑوں کا اہتمام نہ کرنا وغیرہ جیسے ان مسائل میں خلاف اولی کا ارتکاب ہے اسی طرح نفل کی جماعت میں بھی ۔ پھر چونکہ آج کل عوام کو صلاۃ التسبیح کا طریقہ معلوم نہیں ، یونہی مبارک راتوں میں وہ لوگ جن کی قراءت تک درست نہیں وہ بھی اس قسم کی نوافل کی جماعت میں شریک ہو جاتے ہیں اگر جماعت نہ ہو اور انہیں تنہا پڑھنے کو کہا جائے تو ان میں سے اکثر واپس چلے جائیں گے اور جو تنہا پڑھیں گے ان کی نماز درست نہیں ہوگی اس لیے ایسے لوگوں کو لے کر جماعت کرنے کی اجازت ہوگی انہیں نہیں روکا جائے گا اور مذکورہ اعذار اور مصلحتوں کے سبب نفل کی جماعت میں پائی جانے والی کراہت تنزیہی بھی مرتفع ہو جائے گی ۔ اور نوافل کی جماعت کے متعلق دو مؤقف ہیں : ⏬
پہلا مؤقف نوافل کی جماعت جائز ہے اس کے دلائل : ⏬
نفل نماز کا باجماعت ادا کرنا درست ہے اور صلوٰۃ الستبیح بھی نفل ہے ، بخاری شریف میں ہے کہ ایک نابینا صحابی حضرت عتبان رضی اللہ عنہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اپنے گھر لے گئے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے برکت کےلیے دو رکعت نفل باجماعت ادا فرمائے ۔ (صحیح بخاری جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 40 مطبوعه کراچی)
شرح بخاری عمدۃ القاری میں علامہ بدرالدین عینی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں : و فيه صلوة النافلة فی جماعة بالنهار ۔
ترجمہ : اور اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوگا کہ نفل نماز دن کو باجماعت ادا کرنا درست ہے ۔ (عمدة القاری جلد نمبر 4 صفحہ نمبر 170 مطبوعه کوئٹہ،چشتی)
شریعت مطہرہ کی رو سے ماہ رمضان میں نفل نماز جماعت کے ساتھ پڑھنے کی اجازت ہے درالمختار ج 1 صفحہ 524 میں ہے : (ولا يصلي الوتر و) لا (التطوع بجماعة خارج رمضان) أي يكره ذلك لو على سبيل التداعي، بأن يقتدي أربعة بواحد ۔
اس سے معلوم ہوا باجماعت نوافل یا صلوٰہ التسبیح پڑھنا درست ہے ۔ تسبیحات مکمل طور پر بلند آواز سے پڑھنا درست نہیں ، بلکہ عوام کی سہولت کےلیے صرف ایک دفعہ "سبحان اللہ" پڑھے تو کافی ہے ۔
نوافل اگر جماعت سے ادا کیے جائیں تو امام صاحب پر ہر رکعت میں جہر (بلندآواز) سے قراءت کرنا واجب ہوتا ہے ، اگرجان بوجھ کر آہستہ آواز میں قراءت کرے تو نماز واجب الاعادہ ہوتی ہے اور اگر امام صاحب قصداً آہستہ آواز میں قراءت کرتے ہیں تو امام و مقتدی سبھی پر ان سارے نوافل کا اعادہ یعنی انہیں دوبارہ پڑھنا واجب ہے ، جن میں امام صاحب نے رات کے وقت آہستہ قراءت کی لیکن اس کےلیے انہیں دوبارہ صلوۃ التسبیح کی طرح تسبیحات کے ساتھ پڑھنا ضروری نہیں بلکہ 4 ، 4 رکعات واجب الاعادہ کی نیت سے عام نوافل کی طرح پڑھ لیں توبھی درست ہے ۔ اسی طرح جماعت کے ساتھ اعادہ کرناضروری نہیں ہے ، بغیر جماعت کے تنہا تنہا اعادہ کرلیں توبھی کافی ہے ۔
صلوۃ تسبیح کی فضیلت اور طریقہ ادائیگی : ⏬
سنن ابن ماجہ صفحہ ۹۹ میں حدیث پاک ہے عن ابن عباس قال قال رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم للعباس بن عبدالمطلب یا عباس یا عماہ (الااعطیک الاامنحک الااحبوک الاافعل لک عشرخصال اذاانت فعلت ذلک غفراللہ ذنبک اولہ و اٰخرہ و قدیمہ و حدیثہ و خطا ہ و عمدہ و صغیرہ و کبیرہ و سرہ وعلانیۃ عشرفعال ۔
ترجمہ : سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے حضرت عباس بن عبدالمطلب سے فرمایا اے عباس اے میرے چچاجان ! کیا میں آپ کو عطانہ کروں کیا میں آپ کو سرفراز نہ کروں کیا میں آپ کے ساتھ احسان نہ کروں کیا میں آپ کو ایسی دس خصلتیں نہ بتاؤں جب آپ ان کو کرینگے تو اللہ تعالی آپ کے سب گناہ معاف فرمادے گا چاہے اگلے ہوں یا پچھلے نئے ہوں یا پرانے بھول کر کئے ہوں یا جان بوجھ کر ، چھوٹے ہوں یا بڑے ‘پوشیدہ ہوں یا ظاہر‘آپ چار رکعت پڑھئے پھر آپ نے صلوۃ تسبیح پڑھنے کا طریقہ ذکر فرمایا ۔
ترمذی شریف میں صلوۃ تسبیح پڑھنے کی تفصیل مذکور ہے کہ چار رکعت نفل صلوۃ تسبیح کی نیت کرے تکبیر تحریمہ اور ثناء کے بعد پندرہ مرتبہ یہ تسبیح پڑھے سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر پھر تعوذ،تسمیہ،سورہ فاتحہ اور ضمِ سورہ کے بعد دس مرتبہ یہی تسبیح پڑھے پھر رکوع کرلے اور سبحان ربی العظیم کے بعد دس مرتبہ تسبیح پڑھے رکوع سے سراٹھا کر تسمیع وتحمید کے بعد دس بار تسبیح بڑھے پھر پہلے سجدے میں سبحان ربی الاعلی کے بعد دس مرتبہ تسبیح پڑھے اور دونوں سجدوں کے درمیان کے وقفہ میں بیٹھ کر دس مرتبہ تسبیح پڑھے اور دوسرے سجدہ میں بھی دس مرتبہ تسبیح پڑھے اور دوسرے سجدے سے کھڑے ہوکر سورہ فاتحہ پڑھنے سے پہلے پندرہ مرتبہ تسبیح پڑھے اس طرح ہر رکعت میں پچھتر اور چاررکعتوں میں تین سو تسبیحات ہو تے ہیں۔اسی طرح چار رکعتیں مکمل کرکے سلام پھیر دے۔ صلوٰۃ التسبیح کسی بھی غیر مکروہ وقت پڑھی جاسکتی ہے‘ رات و دن میں ایک مرتبہ پڑھے یا ہفتہ بھر میں ایک مرتبہ یا مہینہ میں ایک مرتبہ یا عمر بھر میں ایک مرتبہ پڑھے ۔ رد المحتار جلد 1 کتاب الصلوٰۃ مطلب فی صلوٰۃ التسبیح میں ہے : یفعلہا فی کل وقت لا کراہۃ فیہ أو فی کل یوم أو لیلۃ مرۃ وإلا ففی کل أسبوع أو جمعۃ أو شہر أو العمر وحدیثہا حسن لکثرۃ طرقہ ، چشتی)
دوسرا مؤقف نوافل کی جماعت منع و مکروہ ہے اس کے دلائل : ⏬
فتاویٰ بزازیہ میں ہے : ولاینبغی ان یتکلف الالتزام مالم یکن فی الصدر الاول کل ھذا التکلف لاقامۃ امرمکروہ وہو اداء النفل باالجماعۃ علی سبیل ا لتداعی فلو ترک امثال ھذہ الصلوٰت تارک لیعلم الناس انہ لیس من الشعائر فحسن اھ وظاھرہ انہ بالنذرلم یخرج عن کونہ اداء النفل بالجماعۃ ۔ (بحوالہ شامی جلد ۱ صفحہ ۶۶۴)
شرح منیۃ کبیری میں تحیۃ الوضوء ۔ تحیۃ المسجد اوربعد المغرب کے نوافل، استخارہ کی نمازاور صلوٰ ۃ التسبیح ، صلوٰۃ الحاجۃ نیز چاشت اورتہجد کی نماز کے ذکر کرنے کے بعد فرمایا ہے : فالصلوٰۃ خیر موضوع مالم یلزم منھا ارتکاب کراہۃ واعلم ان النفل بالجماعۃ علی سبیل التداعی مکروہ علی ماتقدم ماعدا التراویح وصلوٰۃ الکسوف والاستسقاء فعلم ان کلا من الصلوۃ الرغائب لیلۃ اول جمعۃ من رجب وصلوۃ البراء ۃ لیلۃالنصف من شعبان وصلوٰۃ القدر لیلۃ السابع والعشرین من رمضان بالجماعۃ مکروھۃ (کبیری صفحہ ۴۱۱،چشتی)
مانعین کا مؤقف یہ ہے کہ فقہاء کرام کی ایسی عبارات سے ثابت اورواضح ہے کہ تراویح ، صلوٰۃ الکسوف ، صلوٰۃالاستسقاء کے علاوہ تمام نوافل میں تداعی کے ساتھ جماعت مکروہ اور ممنوع ہے ، یہاں تک کہ وتر کی جماعت بھی صرف رمضان میں ہے غیر رمضان میں وہ بھی مکروہ ہے ، جبکہ تداعی کے ساتھ ہو ۔
بعض مساجد میں لوگ باجماعت صلوٰۃ التسبیح کے نوافل پڑھتے ہیں ، فقہائے کرام نے ان کےلیے تداعی کو مکروہِ تنزیہی یعنی خلافِ اولیٰ قرار دیا ہے اور بعض نے فرمایا کہ جو لوگ پڑھ رہے ہوں، اُن کو منع نہ کیا جائے ۔ امام احمد رضا قادری علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : تراویح کے سوا دیگر نوافل میں امام کے سوا تین آدمیوں تک تو اجازت ہے ہی ، چار کی نسبت کتب فقہیہ میں کراہت لکھتے ہیں ، یعنی مکروہِ تنزیہی ، جس کا حاصل خلافِ اَولیٰ ہے ، نہ کہ گناہ و حرام (جیسا کہ ہم نے اس کی تفصیل اپنے فتاویٰ میں دی ہے) ۔ مگر مسئلہ مختلف فیہ ہے ، بہت اکابر دین سے نوافل کی جماعت کی تداعی ثابت ہے اور عوام فعلِ خیر سے منع نہ کیے جائیں ، علمائے امت و حکمائے ملت نے ایسی ممانعت سے منع فرمایا ہے ، درمختار میں ہے : عوام کو تکبیرات اور نوافل سے کبھی بھی منع نہ کیا جائے ، کیونکہ پہلے ہی نیکیوں میں اُن کی رغبت کم ہوتی ہے ، بحوالہ البحر الرائق اسی میں ہے : عوام کو ان (ذوالحجہ کے) دس دنوں میں بازار میں تکبیرات پڑھنے سے منع نہ کیا جائے ، اسی پر ہمارا عمل ہے ۔ (بحر اورمجتبیٰ وغیرہ) ۔ حدیقہ ٔندیّہ میں ہے : صلوٰۃالرغائب کا جماعت کے ساتھ ادا کرنا اور لیلۃ القدر کے موقع پر نماز وغیرہ بھی اسی قبیل سے ہیں ، اگرچہ علماء نے ان کی جماعت کے بارے میں کراہت کی تصریح کی ہے ، مگر عوام میں یہ فتویٰ نہ دیا جائے تاکہ نیکیوں میں ان کی رغبت کم نہ ہو ، علماء نے اس مسئلہ میں اختلاف کیا ہے اور متاخرین میں سے بعض نے اس کے جواز پر لکھابھی ہے ، عوام کو نماز کی طرف راغب رکھنا انہیں نفرت دلانے سے کہیں بہتر ہوتا ہے ، (فتاویٰ رضویہ جلد 7 صفحہ 465 - 466،چشتی)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری رحمۃ اللہ علیہ مزید لکھتے ہیں : شیطان کا بڑا دھوکا ہے کہ آدمی کو نیکی کے پردے میں ہلاک کرتا ہے ، نادان سمجھتا ہی نہیں ، نیک کام کر رہا ہوں اور نہ جانا کہ نفل بے فرض نرے دھوکے کی ٹٹی ہے ، اِس کے قبول کی امید تو مفقود اور اس کے ترک کا عذاب گردن پر موجود ۔ اے عزیز ! فرض ، خاص سلطانی قرض ہے اور نفل گویا تحفہ و نذرانہ۔ قرض نہ دیجیے اور بالائی بیکار تحفے بھیجیے ، وہ قابلِ قبول ہوں گے ؟ ، خصوصاً اس شہنشاہ غنی کی بارگاہ میں جو تمام جہان والوں سے بے نیاز ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 10 صفحہ 178 مطبوعہ رضا فاٶنڈیشن لاہور)
صلوة التسبیح ہو یا دیگر نفل کی جماعت کا حکم یہ ہے کہ تداعی کے ساتھ مکروہ ہے اور بغیر تداعی کے مضائقہ نہیں ہے تداعی کا لغوی معنی بلانا اور جمع کرنے کے ہے جبکہ یہاں تداعی سے مراد یہ ہے کہ جب اس جماعت میں مقتدیوں کی تعداد چار یا اس سے زائد ہو اگر تین یا اس سے کم ہے تو مکروہ بھی نہیں اور یہ مکروہ مکروہ تنزیہی ہے جس کا حاصل خلاف اولی ہے گناہ اور حرام نہیں اور بہت سے اکابر دین سے نوافل کی جماعت بالتداعی ثابت ہے لہذا اگر لوگ اس نفل کی جماعت کی وجہ سے مساجد کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور ان بابرکت راتوں میں فضولیات سے بچ کر عبادات میں بسر کرتے ہیں تو انہیں متنفر نہ کیا جائے اور اس کار خیر سے منع نہ کیا جائے ۔
درمختار میں ہے : یکرہ ذلک لو علی سبیل التداعی بان یقتدی اربعۃ بواحد ۔
ترجمہ : تداعی کے طور پر نوافل کی جماعت مکروہ ہے ۔ تداعی کا مطلب یہ ہے کہ چار شخص ایک کی اقتداء کریں ۔ (درمختار کتاب الصلاۃ جلد 2 صفحہ 604 مطبوعہ کوئٹہ)
حلبی کبیر میں ہے : واعلم أن النفل بالجماعة علی سبيل التداعي مكروه ۔
ترجمہ : اور جان لو کہ تداعی کے طور نفل نماز کی جماعت مکروہ ہے ۔ (حلبی کبیر تتمات من النوافل صفحہ 436 سہیل اکیڈمی)
ردالمختار میں ہے : النفل بالجماعہ غیر مستحب لانه لم تفعله الاصحابه فى غير رمضان وهو کالصریح فی انھا کراھه تنزیه ۔
ترجمہ : اور جماعت کے ساتھ نفل غیر مستحب ہے کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رمضان کے علاوہ ایسا نہیں کیا اور یہ اس کے مکروہ تنزیہی ہونے میں صریح ہے ۔ (فتاویٰ شامی جلد 2 صفحہ 794 مطبوعہ کراچی)
فتاویٰ رضویہ میں اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں : جماعتِ نوافل میں ہمارے ائمہ رضی اللہ عنہم کا مذہب معلوم و مشہور اور عامۂ کتب ِمذہب میں مذکور و مسطور ہے کہ بلا تداعی مضائقہ نہیں ۔ (فتاوی رضویہ جلد 7 صفحہ 430 رضا فاٶنڈیشن لاھور)
مزیدفرماتے ہیں : تراویح وکسوف واستسقاء کے سوا جماعتِ نوافل میں ہمارے ائمہ رضی اللہ عنہم کا مذہب معلوم و مشہور اور عامہ کتب مذہب میں مذکور و مسطور ہے کہ بلاتداعی مضائقہ نہیں اور تداعی کے ساتھ مکروہ ۔ تداعی ایک دوسرے کو بلانا جمع کرنا اور اسے کثرت جماعت لازم عادی ہے ۔ بالجملہ دو مقتدیوں میں بالاجماع جائز اور پانچ میں بالاتفاق مکروہ اور تین اور چار میں اختلاف نقل و مشائخ ، اور اصح یہ کہ تین میں کراہت نہیں ، چار میں ہے ، تو مذہبِ مختار یہ نکلا کہ امام کے سوا چار یا زائد ہوں تو کراہت ہے ورنہ نہیں پھر اظہر یہ ہے کہ یہ کراہت صرف تنزیہی ہے یعنی خلافِ اولیٰ لمخالف التوارث ، نہ تحریمی کہ گناہ و ممنوع ہو ۔ (فتاوی رضویہ جلد 7 صفحہ 430 ، 431 مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاھور،چشتی)
بہار شریعت میں ہے : نوافل اور علاوہ رمضان کے وتر میں اگر تداعی کے طور پر ہو تو مکروہ ہے ۔ تداعی کے یہ معنی ہیں کہ تین سے زیادہ مقتدی ہوں ۔ سورج گہن میں جماعت سنت ہے اور چاند گہن میں تداعی کے ساتھ مکروہ ۔ (بہار شریعت جلد 1 حصہ 3 صفحہ 586 مکتبہ المدینہ کراچی)
فتاویٰ مرکز تربیت افتاء میں ہے : جماعت نفل کے بارے میں ہمارے آئمہ کا مذہب معلوم ومشہور یہ ہے کہ بلاتداعی مضائقہ نہیں اور تداعی کے ساتھ مکروہ ہے لغت میں تداعی کا معنی بلانا اور جمع کرنا ہے لیکن مذہب اصح میں تداعی اس وقت متحقق ہوگی جب چار یا اس سے زائد مقتدی ہوں دو تین ہو تو کراہت نہیں اور کراہت صرف تنزیہی یعنی خلاف اولی ہے ۔۔۔۔۔۔ لہٰذا شب قدر و شب برات میں میں نوافل جماعت کے ساتھ ادا کرنا ناجائز و گناہ نہیں بلکہ صرف مکروہ تنزیہی خلاف اولی ہے ۔ (فتاویٰ مرکز تربیت افتاء جلد 1 صفحہ 273 فقیہ ملت اکیڈمی)
در مختار میں ہے : ولا یتنفل قبلھا مطلقاوکذالا یتنفل بعدھا فی مصلاھا،فانہ مکروہ عند العامۃ وھذا للخواص اما العوام فلا یمنعون من تکبیر ولا تنفل اصلا لقلۃ رغبتھم فی الخیرات ان علیا رضی اللہ عنہ رای رجلا یصلی بعد العید فقیل اما تمنعہ یا امیر المؤمنین؟ فقال:اخاف ان ادخل تحت الوعید،قال اللہ تعالی {ارایت الذی ینھی عبدااذا صلی} ۔
ترجمہ : نماز عید سے پہلے گھراور عید گاہ دونوں میںاور عیدین کے بعد فقط عید گاہ میں نوافل ادا کرنا عامۃ الفقہاء کے نزدیک مکروہ ہے ، لیکن یہ حکم خواص کےلیے ہے ، بہر حال عوام کو تکبیرات اور ان نوافل سے بالکل منع نہیں کیا جائے گا کہ عوام کی پہلے ہی نیکیوں میں رغبت کم ہوتی ہے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو نماز عید کے بعد (عید گاہ میں )نوافل ادا کرتے دیکھا ، تو ان سے عرض کی گئی : اے امیر المومنین آپ اسے منع کیوں نہیں کرتے ؟ ارشاد فرمایا : میں ڈرتا ہوں کہ کہیں اس وعید میں نہ داخل ہو جاؤں کہ اللہ تبارک و تعالی نے ارشاد فرمایا : بھلا دیکھو تو جو منع کرتا ہے بندہ کو جب وہ نماز پڑھے ۔ (تنویر الابصار مع در مختار کتاب الصلاۃ باب العیدین جلد 3 صفحہ 57 ، 60 مطبوعہ کوئٹہ)
حدیقہ ندیہ میں ہے : ومن ھذا القبیل نھی الناس عن صلاۃ الرغائب بالجماعۃ وصلاۃ لیلۃ القدر ونحو ذلک وان صرح العلماء بالکراھۃ بالجماعۃ فیھا ،لا یفتی بذلک للعوام لئلا تقل رغبتھم فی الخیرات وقد اختلف العلماء فی ذلک ۔۔۔ صنف فی جوازھا جماعۃ من المتاخرین، فابقاء العوام راغبین فی الصلاۃ اولی من تنفیرھم منھا ۔
ترجمہ : اخلاق مذمومہ کی قبیل سے یہ بھی ہے کہ لوگوں کو صلوٰۃ الرغائب باجماعت ادا کرنے ، اور لیلۃ القدر کی رات اور اسی طرح دیگر مواقع پر نوافل ادا کرنے سے منع کر دیا جائے ، اگرچہ علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ باجماعت نوافل ادا کرنا مکروہ ہے مگر لوگوں کو اس کی کراہت کا فتوی نہیں دیا جائے گا تاکہ نیکیوں میں ان کی رغبت کم نہ ہو ، بلکہ علماءِ متاخرین نے تو اس کے جواز پر لکھا بھی ہے ، لہٰذا عوام کو نماز کی طرف راغب رکھنا انہیں نفرت دلانے سے کہیں بہتر ہے ۔ (حدیقہ ندیہ ،الخلق الثامن والاربعون من الاخلاق الستین المذمومۃ جلد 2 صفحہ 150 مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد،چشتی)
فتویٰ رضویہ میں ہے : نفل غیر تراویح میں امام کے سوا تین آدمیوں تک تو اجازت ہے ہی ، چار کی نسبت کتبِ فقہیہ میں کراہت لکھتے ہیں یعنی کراہت تنزیہہ جس کاحاصل خلاف اولیٰ ہے نہ کہ گناہ وحرام ۔ کما بیناہ فی فتاوٰنا (جیسا کہ ہم نے اس کی تفصیل اپنے فتاویٰ میں ذکر کردی ہے) اور بہت اکابر دین سے جماعت نوافل بالتداعی ثابت ہے اور عوام فعل خیر سے منع نہ کیے جائیں گے ۔ علمائے امت و حکمائے ملت نے ایسی ممانعت سے منع فرمایا ہے ۔ (فتاوی رضویہ جلد 7 صفحہ 465 مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاھور)
عورتوں کی امامت کا شرعی حکم : ⏬
ہمارے ایک محترم قاری جوکہ خود ایک جگہ خطیب ہیں اور عالم دین ہیں انہوں نے اس مسلہ پر لکھنے کےلیئے خصوصی حکم فرمایا کہ اس مسلہ پر لازمی لکھیں بہت ہی کم وقت میں جتنا ممکن ہو سکا فقیر ڈاکٹر فیض احمد چشتی نے مکمل حوالہ جات کے ساتھ اس موضوع پر یہ مختصر مضمون لکھا ہے اہل علم کہیں غلطی پائیں تو ضرور اصلاح بھی فرمائیں اور فقیر کو بھی مطلع فرمائیں تاکہ اصلاح کی جا سکے ۔
اہل سنت و جماعت کے نزدیک عورت کی امامت درست نہیں ، شریعت کا یہ حکم عورت کے حاجات و ضروریات کی مناسبت سے دیا گیا ہے (اس میں عورت کی تنقیص کا کوئی پہلو نہیں) عورت کےلیے پنجگانہ فرض نمازیں گھر میں پڑھنے کی تاکید کی گئی ہے ، جب فرض نماز کےلیے ان کی جماعت نہیں رکھی گئی تو سنت و نفل کےلیے ان کی جماعت کیسے درست ہوگی ؟ عورتوں کےلیے جماعت کا مقرر نہ کیا جانا ان کےلیے اللہ کی ایک رحمت ہے اور اس میں بے شمار فوائد و مصالح ہیں ۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے ، اس نے معاشرے کے ہر فرد کیلئے حدود اور علیحدہ دائرہ کار متعین کر دیا ہے ، خواتین کےلیے تدبیر منزل ، امور خانہ داری اور تربیت اولاد کی ذمہ داری سونپی گئی ہے اور مرد کو من جملہ اس کی ذمہ داریوں کے ایک منصب امامت بھی دیا گیا ہے ۔ جہاں تک خواتین کی امامت کا مسئلہ ہے تو چونکہ عورتوں کےلیے امامت اصلاً نہیں ہے اسی لیے خواتین کی امامت مرد حضرات کےلیے درست نہیں اور خواتین کےلیے کسی خاتون کی امامت خواہ فرائض میں ہو یا نوافل میں مکروہ تحریمی ہے ۔ فتاوی عالمگیری جلد 1 صفحہ 75 میں ہے : ویکرہ امامۃ المراء ۃ للنساء فی الصلوۃ کلھامن الفرائض والنوافل اورفتاوی عالمگیری جلد 1 صفحہ 75میں ہے : وصلو تھن فرادی افضل ترجمہ :عورتوں کیلئے نماز باجماعت ادا کرنے سے بہتر و افضل ہے کہ وہ تنہا بغیر جماعت ادا کریں ۔
عورت کا دیگر عورتوں کی امامت کرانا خواہ پنجگانہ نمازیں یا جمعہ ہو یا عیدین ہوں خواہ نماز تراویح ہو یا عظمت والی راتوں ۔ (لیلۃ القدر ،شب برأت ،شب معراج وغیرہ ) کے نوافل کی ہو مکروہ تحریمی ہے ۔ امامت کا حق دراصل مرد کے لیئے ہے ۔ اہل سنت و جماعت کے نزدیک عورت کی امامت درست نہیں ، شریعت کا یہ حکم عورت کے حاجات و ضروریات کی مناسبت سے دیا گیا ہے (اس میں عورت کی تنقیص کا کوئی پہلو نہیں) عورت کےلیے پنجگانہ فرض نمازیں گھر میں پڑھنے کی تاکید کی گئی ہے ، جب فرض نماز کےلیے ان کی جماعت نہیں رکھی گئی تو سنت و نفل کےلیے ان کی جماعت کیسے درست ہوگی ؟ عورتوں کےلیے جماعت کا مقرر نہ کیا جانا ان کےلیے اللہ کی ایک رحمت ہے اور اس میں بے شمار فوائد و مصالح ہیں ۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے ، اس نے معاشرے کے ہر فرد کےلیے حدود اور علیحدہ دائرہ کار متعین کردیا ہے ، خواتین کےلیے تدبیر منزل ، امور خانہ داری اور تربیت اولاد کی ذمہ داری سونپی گئی ہے اور مرد کو من جملہ اس کی ذمہ داریوں کے ایک منصب امامت بھی دیا گیا ہے ۔ جہاں تک خواتین کی امامت کا مسئلہ ہے توچونکہ عورتوں کیلئے امامت اصلاً نہیں ہے اسی لئے خواتین کی امامت مرد حضرات کیلئے درست نہیں اور خواتین کےلیے کسی خاتون کی امامت خواہ فرائض میں ہو یا نوافل میں مکروہ تحریمی ہے ۔ فتاوی عالمگیری جلد 1 صفحہ 75 میں ہے : ویکرہ امامۃ المراء ۃ للنساء فی الصلوۃ کلھامن الفرائض والنوافل اورفتاوی عالمگیری جلد 1 صفحہ 75میں ہے : وصلو تھن فرادی افضل ترجمہ : عورتوں کیلئے نماز باجماعت ادا کرنے سے بہتر و افضل ہے کہ وہ تنہا بغیر جماعت ادا کریں ۔
اگر عورت کا مردوں کی امامت کرنا جائز ہوتا ، تو کم از کم ایک آدھ مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیانِ جواز کے طور پر ثابت ہونا چاہیئے تھا ، حالانکہ ایسا نہیں ہے (مذکورہ بالا روایت سے جواز ثابت نہیں ہوتا جیسا کہ واضح ہو چکا) نیز حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانہ میں بھی کسی نے اس پر عمل نہیں کیا ۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس طرح کی بات ثابت ہوتی ، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانہ میں کوئی تواس پر عامل پایا جاتا ۔ اس کے بالمقابل حسبِ ذیل روایات سے معلوم ہوتا ہے ، کہ عورت ، مردوں کی امامت نہیں کر سکتی یا عورت کو مردوں کی امامت نہیں کرنا چاہئے : عن عبد اللّٰہ (بن مسعود) عن النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال : صلوة المرأة فی بیتہا افضل من صلوتہا فی حجرتہا، وصلوتہا فی مخدعہا افضل من صلوتہا فی بیتہا․ (سنن ابی داود صفحہ ۸۴ ج:لد ۱،چشتی)
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا : عورت کا صحنِ کمرہ میں نماز پڑھنے سے کمرہ کے اندر نماز پڑھنا بہتر ہے، اور بڑے کمرہ میں نماز پڑھنے سے کوٹھری میں نماز پڑھنا بہتر ہے ۔
اس روایت سے مستفاد ہوتا ہے کہ عورتوں کو امامت نہیں کرنا چاہیے ۔ کیونکہ کوٹھری بہت تنگ و مختصر جگہ ہوتی ہے ، جس میں عادةً جماعت قائم کرنا متعذر اور دشوار ہوتا ہے ۔
ام الموٴمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ارشاد ہے : لو ادرک النبی صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم ما حدث النساء، لمنعہن المسجد کما منعت نساء بنی اسرائیل ․ (صحیح البخاری، ص: ۱۲، ج:۱،چشتی)
ترجمہ : اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ صورت حال ہوتی، جو اب عورتوں نے نئی پیدا کی ہے، تو آپ ان کو ضرور مسجد میں آنے سے روک دیتے، جیسا کہ بنی اسرائیل کی عورتوں کو روک دیاگیا ۔ روایتِ بالا کی دلالت مدعا پر نہایت واضح ہے ۔
عن ابی ہریرة عن النبی صلی اللّہ علیہ وسلم قال : التصفیق للنساء والتسبیح للرجال ․۔(صحیح بخاری، ص: ۱۶۰، ج:۱،چشتی)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: تصفیق (خاص طریقے سے ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مارنا) عورتوں کے لیے ہے اور تسبیح (سبحان اللہ کہنا) مردوں کے لیے ہے ۔
حضرات محدثین رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ نماز میں امام کو غلطی پر متنبہ کرنے کے لیئے عورتوں کو سبحان اللہ کہنے سے اس لیئے منع کیا گیا تاکہ ان کی آواز نہ سنی جائے ۔ جب امام کو غلطی پر متنبہ کرنے میں صرف سبحان اللہ کہنے میں اس قدر لحاظ کیا گیا ، تو مردوں کی امامت میں تکبیراتِ انتقالات کہنے اور جہری نمازوں میں قرأت کرنے کی اجازت کیسے ہو سکتی ہے ؟ ماٰل اس کا یہ ہے کہ وہ مردوں کی امامت نہ کریں ۔
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا اور دیگر صحابیات نماز میں امامت کراتی تھیں۔ امام حاکم نے المستدرک میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کے حوالے سے یہ روایت بیان کی ہے : انها کانت تؤذن وتقيم وتؤم النساء، فتقوم وسطهن . (المستدرک، 1 : 320، رقم : 731،چشتی)
ترجمہ : حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا اذان دیتی تھیں، نماز کے لئے اقامت کہتی تھیں اور صف کے درمیان میں کھڑی ہو کر عورتوں کی امامت کراتی تھیں ۔
اس روایت کی رُو سے ثابت ہے کہ دینی تربیت اور عبادت الہٰی میں رغبت اور شوق پیدا کرنے کے لئے اگر عورتیں جمع ہو کر باجماعت نماز ادا کریں تو اجازت ہے۔ اس صورت میں امامت کرانے والی خاتون صف کے درمیان میں کھڑی ہوں گی۔ عیدین کے موقع پر خطبہ عید بھی پڑھے گی کیونکہ عورت کا عورتوں کے سامنے خطبہ پڑھنا درست ہے ۔
فقہا کرام علیہم الرّحمہ نے لکھا ہے کہ عورت عورتوں کی اور نابالغ نابالغوں کا امام ہو سکتا ہے ۔ (فتاویٰ عالمگيری، 1 : 84،چشتی)
جمعہ ، جماعت اور عیدین کی نماز عورتوں کے ذمہ نہیں ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا بابرکت زمانہ چونکہ شر و فساد سے خالی تھا، ادھر عورتوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اَحکام سیکھنے کی ضرورت تھی، اس لئے عورتوں کو مساجد میں حاضری کی اجازت تھی ، اور اس میں بھی یہ قیود تھیں کہ باپردہ جائیں ، میلی کچیلی جائیں، زینت نہ لگائیں، اس کے باوجود عورتوں کو ترغیب دی جاتی تھی کہ وہ اپنے گھروں میں نماز پڑھیں ۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : لا تمنعوا نسائکم المساجد، وبیوتھن خیر لھن ۔ (رواہ ابوداوٴد، مشکوٰة ص:۹۶،چشتی) ۔ ترجمہ : اپنی عورتوں کو مسجدوں سے نہ روکو، اور ان کے گھر ان کے لئے زیادہ بہتر ہیں ۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : صلٰوة المرأة فی بیتھا افضل من صلٰوتھا فی حجرتھا، وصلٰوتھا فی مخدعھا افضل من صلٰوتھا فی بیتھا۔“ (رواہ ابوداوٴد، مشکوٰة ص:۹۶،چشتی)
ترجمہ : عورت کا اپنے کمرے میں نماز پڑھنا ، اپنے گھر کی چاردیواری میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے ، اور اس کا پچھلے کمرے میں نماز پڑھنا اگلے کمرے میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے ۔
مسندِ احمد میں حضرت اُمِّ حمید ساعدیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ کے ساتھ نماز پڑھنا پسند کرتی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قد علمت انک تحبین الصلٰوة معی وصلٰوتک فی بیتک خیر لک من صلٰوتک فی حجرتک، وصلٰوتک فی حجرتک خیر من صلٰوتک فی دارک، وصلٰوتک فی دارک خیر لک من مسجد قومک، وصلٰوتک فی مسجد قومک خیر لک من صلٰوتک فی مسجدی۔ قال: فأمرت فبنی لھا مسجد فی اقصی شیٴ من بیتھا واظلمہ، فکانت تصلی فیہ حتی لقیت الله عز وجل۔“ (مسندِ احمد ج:۱ ص:۳۷۱، وقال الھیثمی ورجالہ رجال الصحیح غیر عبدالله بن سوید الأنصاری، وثقہ ابن حبان، مجمع الزوائد ج:۲ ص:۳۴،چشتی)
ترجمہ : مجھے معلوم ہے کہ تم کو میرے ساتھ نماز پڑھنا محبوب ہے، مگر تمہارا اپنے گھر کے کمرے میں نماز پڑھنا گھر کے صحن میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے، اور گھر کے صحن میں نماز پڑھنا گھر کے احاطے میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے، اور احاطے میں نماز پڑھنا اپنے محلے کی مسجد میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے، اور اپنے محلے کی مسجد میں نماز پڑھنا میری مسجد میں (میرے ساتھ) نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ: حضرت اُمِّ حمید رضی اللہ عنہا نے یہ ارشاد سن کر اپنے گھر کے لوگوں کو حکم دیا کہ گھر کے سب سے دُور اور تاریک ترین کونے میں ان کے لئے نماز کی جگہ بنادی جائے، چنانچہ ان کی ہدایت کے مطابق جگہ بنادی گئی، وہ اسی جگہ نماز پڑھا کرتی تھیں، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ سے جاملیں ۔
وفی خلاصۃ الفتاوی : ۱[۱۴۷] امامۃالمراہ للنساء جائزہ الا ان صلاتھن فرادی افضل،
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) – (1 / 565) ۔ (و) يكره تحريما (جماعة النساء) ولو التراويح في غير صلاة جنازة (لأنها لم تشرع مكررة) ، فلو انفردن تفوتهن بفراغ إحداهن؛ ولو أمت فيها رجالا لا تعاد لسقوط الفرض بصلاتها إلا إذا استخلفها الإمام وخلفه رجال ونساء فتفسد صلاة الكل، طحطاوي علي الدرر:ص245 ،ج1 ۔ قوله؛ويكره تحريما جماعة النساء، لان الامام ان تقدمت لزم زيادة الكشف وان وقفت وسط السف لزم ترك المقام مقامه وكل منهما مكروه كما في العناية وهذا يقتضي عدم الكراهة لو اقتدت واحدة محاذية لفقد الامرين ۔
ان عبارات کا مفہوم و خلاصہ یہ ہے کہ عورتوں کی نماز با جماعت كے بارے اصل حكم یہی ہے کہ ان کی جماعت نا جائز اورمکروہِ تحریمی ہےاگرچہ نمازِ تراويح کی جماعت ہو ، اس لئے عورتوں کو تراویح اور وتر کی نماز بغیر جماعت کے الگ الگ پڑھنی چاہیئے ۔
حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے : (وکرہ جماعۃ النساء) تحریم للزوم احد المحظورین ،قیام الامام فی الصف الاول وھو مکروہ ،او تقدم الامام وھو ایضاً مکروہ ‘‘یعنی،’’ عورتوں کی جماعت مکروہ تحریمی ہے کیونکہ اس سے دو ممنو ع چیزوں میں سے ایک ضرورصادر ہو گی ایک امام عورت کا پہلی صف میں ہونا یا امام عورت کا آگے امام کی جگہ پر کھڑا ہونا بھی مکروہ تحریمی ہے ۔ (حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح ،ص:۳۰۴،مطبوعہ قدیمی کراچی،چشتی)
الجوھرۃ النیرہ میں ہے : (یکرہ للنساء ان یصلین وحدھن جماعۃ )یعنی بغیر رجال ،وسواء فی ذلک الفرائض والنوافل والتراویح‘‘یعنی،’’ اکیلے عورتوں کا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا مکروہ ہے فرائض ،نوافل اور تراویح سب کا ایک حکم ہے ۔ (الجوھرۃ النیرۃ، ج:۱،ص:۱۶۲،مکتبہ رحمانیہ ،لاہور،چشتی)
فتح القدیر میں ہے : (یکرہ للنساء ان یصلین جماعۃ لانھن فی ذلک لا یخلون عن ارتکاب محرم )ای مکروہ لان امامتھن اما ان تتقدم علی القوم او تقف وسطھن ،وفی الاول زیادۃ الکشف وھی مکروھۃ ،وفی الثانی ترک الامام مقامہ وھو مکروہ والجماعۃسنۃ وترک ماھو سنۃ اولی من ارتکاب مکروہ ‘‘یعنی،’’ اکیلی عورتوں کی جماعت حرام(کراہت تحریمی) کے ارتکاب سے خالی نہیں ہوگی کیونکہ امام عورت تما م نماز پڑھنے والیوں کے آگے ہوگی یا صف کے درمیان میں کھڑی ہو گی ۔پہلی میں تو بے پردگی ہے اور وہ مکروہ ہے اور دوسری میں امام کی جگہ کو چھوڑ دینا ہے وہ بھی مکروہ تحریمی ہے ۔ جماعت سنت ہے اور مکروہ تحریمی کے ارتکاب کے وقت سنت کو چھوڑ دینا افضل ہے ۔ (فتح القدیر ،ج:۱،ص:۳۶۲،مکتبہ،رشیدیہ ،کوئٹہ،چشتی)
اگر عورت کے امام بننے سے مراد مرد کی امامت کرانا ہے تو وہ کسی صورت میں بھی مرد کی امام نہیں بن سکتی کیونکہ امام بننا مرد کا کام ہے عورت کا نہیں فتاوی عالمگیری میں ہے : لایجوز اقتداء رجل بامرأۃ ھکذا فی الھدایۃ ‘‘یعنی ، مرد کسی عورت کی اقتدء نہیں کر سکتا اسی طرح ھدایہ میں ہے ۔ (فتاوی عالمگیری جلد ۱ صفحہ ۹۴ مکتبہ قدیمی کراچی)
خلاصہ کلام یہ ہے کہ عورت کاصرف عورتوں کی امامت کرانا مکروہ تحریمی ہے اور مردوں کی امامت اصلاً کرہی نہیں سکتی ۔ (طالب دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

No comments:
Post a Comment