Sunday, 21 June 2015

فضائل و مناقب امُّ امؤمین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ( 8 )

امام ابن ابی ملیکہ کا بیان ہے کہ حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے اندر آنے کی اجازت مانگی جبکہ وفات سے پہلے وہ عالم نزع میں تھیں۔ انہوں نے فرمایا : مجھے ڈر ہے کہ یہ میری تعریف کریں گے۔ حاضرین نے کہا : یہ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا زاد اور سرکردہ مسلمانوں میں سے ہیں۔ انہوں نے فرمایا : اچھا انہیں اجازت دے دو۔ حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما نے پوچھا کہ آپ کا کیا حال ہے؟ جواب دیا : اگر پرہیزگارہوں تو بہتر ہے۔ آپ نے فرمایا : ان شاء اﷲ بہترہی رہے گا کیونکہ آپ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ہیں اور آپ کے سوا انہوں نے کسی کنواری عورت سے نکاح نہیں کیا اور آپ کی براءت آسمان سے نازل ہوئی تھی۔ ان کے بعد حضرت عبد اﷲ بن زبیر رضی اللہ عنہ اندر آئے تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا : حضرت عبد اﷲ بن عباس آئے تھے وہ میری تعریف کر رہے تھے اور میں یہ چاہتی ہوں کہ کاش! میں گمنام ہوتی۔‘‘ اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
الحديث رقم 28 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : التفسير، باب : ولولا إذ سمعتموه، 4 / 1779، الرقم : 4476.

No comments:

Post a Comment

رشید احمد گنگوہی کا فتوی امکابنِ کذب ، ساجد خان نقلبندی کے جھوٹ کا دنداں شکن جواب

رشید احمد گنگوہی کا فتوی امکابنِ کذب ، ساجد خان نقلبندی کے جھوٹ کا  دنداں شکن جواب محترم قارئینِ کرام : آج کل دیوبندیوں نے طوفانِ بدتمیزی مچ...