Tuesday, 16 June 2015

مزارات کے طواف اور شور و غل کی ممانعت


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
کعبۃ اللہ کے علاوہ کسی مقام یا قبر کا طوافِ تعظیمی منع ہے۔ فقہائے کرام نے قبرستان میں خیرات اور شیرینی تقسیم کرنے سے اس لئے منع کیا ہے کہ تقسیم کے وقت بچے اور عورتیں شور و غل کرتے ہیں۔ قبرستان کا ادب و احترام قائم نہیں رہتا لہٰذا ایسا کرنے میں بھی احتیاط کرنی چاہیے۔ مساکین اور زائرین کے لئے مزارات پر الگ اہتمام ہونا چاہیے۔ مقبولانِ بارگاہِ خداوندی کے اعراس میں جو ناجائز افعال و اعمال کئے جاتے ہیں اِن سے صاحبِ مزار کو تکلیف و اذیت پہنچتی ہے۔ اِس طرح صاحبِ مزار کا فیض اور برکت زائر کو نصیب نہیں ہوتی۔ خیرات کی چیزیں اُوپر سے پھینکنا اور لوگوں کا اُن کو بطور تبرک حاصل کرنے کے لئے شور و غل کرنا، ایسے تمام اُمور غلط ہیں اور سلف صالحین نے اِن کی حوصلہ شکنی کی ہے۔ اس طرزِ عمل سے ایک تو رزق کی بے حرمتی ہوتی ہے، دوسرا مزار کا ماحول اور اُس کا تقدس پامال ہوتا ہے اور تیسرا اِس میںریاکاری کا عمل دخل ہے۔ لہٰذا ایسے تمام اُمور سے پرہیز کرنا چاہیے۔

No comments:

Post a Comment

رشید احمد گنگوہی کا فتوی امکابنِ کذب ، ساجد خان نقلبندی کے جھوٹ کا دنداں شکن جواب

رشید احمد گنگوہی کا فتوی امکابنِ کذب ، ساجد خان نقلبندی کے جھوٹ کا  دنداں شکن جواب محترم قارئینِ کرام : آج کل دیوبندیوں نے طوفانِ بدتمیزی مچ...