Saturday, 6 June 2015

بیس رکعات نماز تراویح کا بیان احادیث کی روشنی میں ( 7 )

عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيْدَ قَالَ: کَانُوا يَقُومُوْنَ عَلَی عَهْدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِص فِي شَهْرِ رَمَضَانَ بِعِشْرِيْنَ رَکْعَةً، قَالَ: وَکَانُوْا يَقْرَأُوْنَ بِالْمِئَيْنِ وَ کَانُوا يَتَوَکَّؤُنَ عَلَی عَصِيِّهِمْ فِي عَهْدِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رضي اﷲ عنه مِنْ شِدَّةِ الْقِيَامِ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ وَ الْفَرْيَابِيُّ وَ ابْنُ الْجُعْدِ.
إِسْنَادُهُ وَ رِجَالُهُ ثِقَاتٌ کَمَا قَالَ الْفَرْيَابِيُّ.
’’حضرت سائب بن یزید سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عہد میں صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین ماہ رمضان میں بیس رکعت تراویح پڑھتے تھے اور ان میں سو آیات والی سورتیں پڑھتے تھے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد میں شدت قیام کی وجہ سے وہ اپنی لاٹھیوں سے ٹیک لگاتے تھے۔‘‘
الحدیث رقم 12: اخرجہ البیہقي في السنن الکبری، 2 / 496، الرقم: 4393، و ابن الحسن فریابي في کتاب الصیام، 1 / 131، الرقم: 176، و قال: اسنادہ و رجالہ ثقات، و ابن الجعد في المسند، 1 / 413، الرقم: 2825، و المبارکفوري في تحفۃ الاحوذي، 3 / 447۔

No comments:

Post a Comment

مروجہ قوالی مع مزامیر ، طبلے باجے گانے بجانے والے آلات کا شرعی حکم

مروجہ قوالی مع مزامیر ، طبلے باجے گانے بجانے والے آلات کا شرعی حکم محترم قارئینِ کرام : الحمد للہ فقیر چشتی ہے اور محفلِ سماع جو شرعی حدود ک...