Sunday, 21 June 2015

فضائل و مناقب امُّ امؤمین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ( 6 )

عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : إِنْ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم لَيَتَعَذُّرُ فِي مَرَضِهِ أَيْنَ أَنَا الْيَوْمَ؟ أَيْنَ أَنَا غَدًا؟ اسْتِبْطَاءً لِيَوْمِ عَائِشَةَ فَلَمَّا کَانَ يَوْمِي قَبَضَهُ اﷲُ بَيْنَ سَحْرِي وَ نَحْرِي وَ دُفِنَ فِي بَيْتِي. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
’’حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (مرض الوصال) میں (میری) باری طلب کرنے کے لیے پوچھتے کہ میں آج کہاں رہوں گا؟ کل میں کہاں رہوں گا؟ پھر جس دن میری باری تھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سرانور میری گود میں تھا کہ اللہ عزوجل نے آپ کی روح مقدسہ قبض کرلی اور میرے گھر میں ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدفون ہوئے۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔
الحديث رقم 26 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الجنائز، باب : ما جاء في قبر النبي صلي الله عليه وآله وسلم، 1 / 486، الرقم : 1323، و مسلم في الصحيح، کتاب : فضائل الصحابة، باب : في فضل عائشة رضي اﷲ عنها، 4 / 1893، الرقم؛ 2443.

No comments:

Post a Comment

رشید احمد گنگوہی کا فتوی امکابنِ کذب ، ساجد خان نقلبندی کے جھوٹ کا دنداں شکن جواب

رشید احمد گنگوہی کا فتوی امکابنِ کذب ، ساجد خان نقلبندی کے جھوٹ کا  دنداں شکن جواب محترم قارئینِ کرام : آج کل دیوبندیوں نے طوفانِ بدتمیزی مچ...