Friday, 19 June 2015

فضائل مناقب سیّدہ فاطمۃ الزھراء رضی اللہ تعالیٰ عنھا ( 45 )

حضرت امّ سلمی رضی اﷲ عنھا روایت کرتی ہیں کہ جب سیدہ فاطمہ سلام اﷲ علیھا اپنی مرض موت میں مبتلا ہوئیں تو میں ان کی تیمارداری کرتی تھی۔ بیماری کے اس پورے عرصہ کے دوران جہاںتک میں نے دیکھا ایک صبح ان کی حالت قدرے بہتر تھی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کسی کام سے باہر گئے۔ سیدۂ کائنات نے کہا : اے اماں! میرے غسل کے لیے پانی لائیں۔ میں پانی لائی۔ آپ نے جہاں تک میں نے دیکھا بہترین غسل کیا۔ پھر بولیں : اماں جی! مجھے نیا لباس دیں۔ میں نے ایسا ہی کیا آپ قبلہ رخ ہو کر لیٹ گئیں۔ ہاتھ رخسار مبارک کے نیچے کر لیا پھر فرمایا : اماں جی : اب میری وفات ہو جائے گی، میں (غسل کر کے) پاک ہو چکی ہوں، لہٰذا مجھے کوئی نہ کھولے پس اُسی جگہ آپ کی وفات ہوگئی۔ حضرت اُمّ سلمی بیان کرتی ہیں کہ پھر حضرت علی کرم اﷲ وجہہ تشریف لائے تو میں نے انہیں ساری بات بتائی۔‘‘ اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
الحديث رقم 52 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 6 / 461، الرقم : 27656. 27657، والدولابي في الذرية الطاهرة، 1 / 113، والزيلعي في نصب الراية، 2 / 250، والطبري في ذخائر العقبي في مناقب ذوي القربي، 1 / 103، والهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 210، وابن الأثير في أسد الغابة، 7 / 221.

No comments:

Post a Comment

رشید احمد گنگوہی کا فتوی امکابنِ کذب ، ساجد خان نقلبندی کے جھوٹ کا دنداں شکن جواب

رشید احمد گنگوہی کا فتوی امکابنِ کذب ، ساجد خان نقلبندی کے جھوٹ کا  دنداں شکن جواب محترم قارئینِ کرام : آج کل دیوبندیوں نے طوفانِ بدتمیزی مچ...