Sunday, 21 June 2015

فضائل و مناقب امُّ امؤمین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ( 15 )

حضرت ذکوان جو کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کے دربان تھے، روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے ملنے کی اجازت طلب کرنے کیلئے تشریف لائے۔ . . تو آپ نے فرمایا : اگر تم چاہتے ہو تو انہیں اجازت دے دو، راوی بیان کرتے ہیں پھر میں ان کو اندر لے آیا پس جب وہ بیٹھ گئے تو عرض کرنے لگے : اے ام المومنین! آپ کو خوشخبری ہو، آپ نے جواباً فرمایا : اور تمہیں بھی خوشخبری ہو، پھر انہوں نے عرض کیا : آپ کی آپ کے محبوب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ملاقات میں سوائے آپ کی روح کے قفس عنصری سے پرواز کرنے کے کوئی چیز مانع نہیں ہے۔ آپ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام ازواج مطہرات سے بڑھ کر عزیز تھیں اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوائے پاکیزہ چیز کے کسی کو پسند نہیں فرماتے تھے، اور ابوا والی رات آپ کے گلے کا ہار گر گیا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح تک گھر نہ پہنچے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے صبح اس حال میں کی کہ ان کے پاس وضو کرنے کیلئے پانی نہیں تھا تو اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے آیت تیمم نازل فرمائی ’’پس تیمم کرو پاکیزہ مٹی کے ساتھ۔‘‘ اور یہ سارا آپ کے سبب ہوا اور یہ جو رخصت اللہ تعالیٰ نے (تیمم کی شکل میں) نازل فرمائی (یہ بھی آپ کی بدولت ہوا) اور اللہ تعالیٰ نے آپ کی براءت سات آسمانوں کے اوپر سے نازل فرمائی جسے حضرت جبریل امین علیہ السلام لے کر نازل ہوئے پس اب اللہ تعالیٰ کی مساجد میں سے کوئی مسجد ایسی نہیں ہے جس میں اللہ تعالیٰ کا نام لیا جاتا ہے جس میں اس (سورئہ براءت) کی رات دن تلاوت نہ ہوتی ہو۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا : اے ابن عباس! بس کرو میری اور تعریف نہ کرو۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! مجھے یہ پسند ہے کہ میں کوئی بھولی بسری چیز ہوتی (جسے کوئی نہ جانتا ہوتا)۔‘‘ اس حدیث کو امام احمد، ابن حبان اور ابویعلی نے روایت کیا ہے۔
الحديث رقم 35 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 1 / 276، الرقم : 2496، و ابن حبان في الصحيح في الصحيح، 16 / 41، 42، الرقم : 7108، و الطبراني في المعجم الکبير، 10 / 321، الرقم : 10783، و أبو يعلي في المسند، 5 / 5765، الرقم : 2648.

No comments:

Post a Comment

رشید احمد گنگوہی کا فتوی امکابنِ کذب ، ساجد خان نقلبندی کے جھوٹ کا دنداں شکن جواب

رشید احمد گنگوہی کا فتوی امکابنِ کذب ، ساجد خان نقلبندی کے جھوٹ کا  دنداں شکن جواب محترم قارئینِ کرام : آج کل دیوبندیوں نے طوفانِ بدتمیزی مچ...