Monday, 1 June 2015
شرک کی تعریف
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
علامہ تفتازانی علیہ الرحمہ اپنی کتاب شرح عقائدِ نسفی میں شرک کی تعریف اس طرح فرماتے ہیں ’’
کسی کو شریک ٹھہرانے سے مراد یہ ہے کہ مجوسیوں کی طرح کسی کو الہٰ(خُدا) اورواجب الوجود سمجھا جائے یا بُت پرستوں کی طرح کسی کو عبادت کے لائق سمجھا جائے ۔‘‘
شرک کی تعریف سے معلوم ہوا کہ دوخداؤں کے ماننے والے جیسے مجوسی (آگ پرست) مشرک ہیں اسی طرح کسی کو خدا کے سوا عبادت کے لائق سمجھنے والا مشرک ہوگا جیسے بُت پرست جو بتوں کو مستحقِ عبادت سمجھتے ہیں ۔
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
کیا خطاءِ اجتہادی گناہ و گستاخی ہے ؟ خطاءِ اجتہادی کو گناہ و گستاخی بنانے والوں کے نام
کیا خطاءِ اجتہادی گناہ و گستاخی ہے ؟ خطاءِ اجتہادی کو گناہ و گستاخی بنانے والوں کے نام محترم قارئینِ کرام : شرعی حکم کو پہچاننے کےلیے اپنی پ...
-
درس قرآن موضوع آیت : قُلۡ ہَلۡ یَسۡتَوِی الَّذِیۡنَ یَعۡلَمُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَ...
-
جن کے بڑے بےحیاء ہوں سوچیئے اُن کے چھوٹے کتنے بڑے بےحیاء ہونگے محترم قارئینِ کرام : بانی دیوبند کہتے ہیں وعظ کہنا دو شخصوں ک...
-
شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے اعضاء تناسلیہ کا بوسہ لینا اور مرد کو اپنا آلۂ مردمی اپنی بیوی کے منہ میں ڈالنا اور ہمبستری سے قبل شوہر اور...
No comments:
Post a Comment