Friday, 10 January 2020

مسلہ ایمانِ ابو طالب حضرت مام زینی بن دحلان مکی رحمۃ اللہ علیہ کی نظر میں

مسلہ ایمانِ ابو طالب حضرت مام زینی بن دحلان مکی رحمۃ اللہ علیہ کی نظر میں

حضرت امام زینی بن دحلان مکی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : آیاتِ قرآنیہ اور احادیث نبویہ تمام ظاہری نصوص شرعیہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ خواجہ ابو طالب کا انتقال کفر پر ہوا ۔ انہوں سر اطاعت خم کیا اور نہ ہی اسلام لائے صرف تصدیق نے نفع نہ دیا ۔ جہاں تک ایمان لانے کی روایت کا تعلق ہے تو وہ ضعیف ہے مذکورہ بالا نصوص کے مقابل نہیں آ سکتی ۔ اہلِ تشیع نے اُن کے ایمان کا قول کیا جبکہ اہلسنّت کا مؤقف اس کے بر عکس ہے ۔ (السیرۃُ النّبویّہ مترجم جلد اوّل صفحہ نمبر 117 مطبوعہ ضیاء القرآن پبلیکیشنز لاہور پاکستان،چشتی)

No comments:

Post a Comment

غیرت کے نام پر قتل کی شرعی حیثیت و حکم

غیرت کے نام پر قتل کی شرعی حیثیت و حکم محترم قارئینِ کرام : جمہور ائمہ اربعہ علیہم الرحمہ کے نزدیک  قتل غیرت  دیانۃ جائز ہے ، لیکن قاتل پر ق...