Tuesday 2 August 2022

فضائل و مناقبِ اہلبیت رضی اللہ عنہم حصّہ دوم

فضائل و مناقبِ اہلبیت رضی اللہ عنہم حصّہ دوم
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا : اِنَّمَا یُرِیْدُ ﷲُ لِیُذْهِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَیُطَهِرَکُمْ تَطْهِیْرًا ۔
ترجمہ : اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) کے گھر والو ! اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے ہر ناپاکی دور فرما دے اور تمہیں پاک کر کے خوب صاف ستھرا کردے ۔ (سورہ الاحزاب ، 33 : 33)

یہ آیت کریمہ اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم کے جمیع فضائل ، رفعتوں ، عظمتوں اور قدرو منزلت کے بیان کا منبع و مصدر اور سب سے اہم علمی اور قرآنی سرچشمہ ہے ۔ یہ آیت کلمہ حصر ’’اِنَّمَا‘‘ سے شروع ہوتی ہے ۔ ’’حصر‘‘ کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ یہ بات کی اہمیت اور تاکید کو بیان کرتا ہے ۔ اس سے مقصود سننے اور پڑھنے والوں کو بھر پور طریقے سے متوجہ کرنا ہوتا ہے تاکہ جو بات بیان کی جارہی ہے ، لوگ توجہ سے اسے سنیں ، سمجھیں اور اپنے فکر و عقیدہ میں اس کو جگہ دیں ۔

اے میرے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے گھر والو ! اللہ تعالیٰ تو یہی چاہتا ہے کہ گناہوں کی نجاست سے تم آلودہ نہ ہو ۔ (تفسیر مدارک الاحزاب الآیۃ: ۳۳، صفحہ ۹۴۰،چشتی)

اِس آیت میں اہلِ بیت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی ازواجِ مُطَہَّرات سب سے پہلے مراد ہیں کیونکہ آگے پیچھے سارا کلام ہی اُن کے متعلق ہو رہا ہے ۔ بقیہ نُفوسِ قُدسیہ یعنی خاتونِ جنت حضرت فاطمہ زہرا ، حضرت علی المرتضیٰ اور حسنین کریمَین رَضِیَ اللہ عَنْہُمْ کا اہلِ بیت میں  داخل ہونابھی دلائل سے ثابت ہے ۔

تاجدار گولڑہ ولی کامل حضرت سیّدنا و مرشدنا پیر سیّد مہر علی شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں کہ : آیتہ تطہیر میں لفظ اہل بیت امہات المؤمنین آیتِ تطہیر ، اہلبیتِ اطہار اور ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن و آلِ عبا علیہم السلام دونوں کو شامل ہے سیاق آیۃ و احادیث کثیرہ اسی پر دال ہیں ۔ (مکتوبات طیّبات معرف بمہریہ چشتیہ صفحہ نمبر 263 طبع قدیم،چشتی)

حضرت صدر الافاضل مفتی نعیم الدین مراد آبادی رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہِ نے اپنی کتاب ’’سوانح کربلا‘‘ میں  یہ آیت لکھ کر اہلِ بیت رَضِیَ اللہ عَنْہُمْ کے مِصداق کے بارے میں  مفسرین کے اَقوال اور اَحادیث نقل فرمائیں ۔ اس کے بعد فرماتے ہیں : خلاصہ یہ کہ دولت سرائے اقدس کے سکونت رکھنے والے اس آیت میں  داخل ہیں (یعنی ازواجِ مُطَہَّرات) کیونکہ وہی اس کے مُخاطَب ہیں  (اور) چونکہ اہلِ بیتِ نسب (نسبی تعلق والوں) کا مر اد ہونا مخفی تھا ، اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے اپنے اس فعل مبارک (جس میں  پنجتن پاک کو چادر میں  لے کر ان کےلیے دعا فرمائی) سے بیان فرما دیا کہ مراد اہلِ بیت سے عام ہیں  ۔ خواہ بیت ِمسکن کے اہل ہوں  جیسے کہ اَزواج یا بیتِ نسب کے اہل (جیسے کہ) بنی ہاشم و مُطّلب ۔ (سوانح کربلا ، اہل بیت نبوت صفحہ ۸۲)

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے اہل بیت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے نسب و قرابت کے وہ لوگ ہیں جن پر صدقہ حرام ہے ۔ ایک جماعت نے اسی پر اعتماد کیا اور اسی کو ترجیح دی اور ابن کثیرنے بھی اسی کی تائید کی ہے ۔ (الصواعق المحرقۃ، الباب الحادی عشر،الفصل الاول فی الآیات الواردۃ فیہم  صفحہ نمبر ۱۴۳،چشتی)

اس سے پتا چلا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن جو مومنین کی مائیں ہیں ، وہ بھی اہل بیت رضی اللہ عنہم ہیں ، اگرچہ اس پر قرآن و حدیث گواہ ہیں ، مگر یہ بات تفضیلی پیر و مولوی صاحبان چھپاتے ہیں ، لوگوں کے سامنے بیان کرنے سے کتراتے ہیں ، کہ کہیں سُنّی عوام پوچھ ہی نہ لیں کہ جب یہ بھی اہل بیت ہیں ، تو پھر روافض کی جانب سے امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن خصوصاً امّا عائشہ صدیقہ پاک سلام اللہ علیہا کی توہین و گستاخیوں پر تم گونگے کیوں بن جاتے ہو ؟

کبھی ایسے گستاخ رافضی ذاکروں کے نام سوشل میڈیا پر لے کر ، ان پر بھی دو چار لعنتیں ڈال دیا کریں ؛ کبھی اپنے درباری مولویوں کے ذریعے سے ان کا رد بھی کروا دیا کریں ؛ کبھی اپنے چاپلوس نعت خوانوں اور نقیبوں سے دو اشعار ایسوں کی مذمت میں بھی لکھوا دیا کریں ؛ کبھی اِن اہل بیت کی ناموس کی خاطر بھی خود تھانے جاکر گستاخ روافض کے خلاف ایف آئی آر کٹوا دیا کریں ؛ اور کبھی کبھی اپنے مریدین و متعلقین کی تربیت ایسی بھی کر دیا کریں ، کہ اُن سے جب پوچھا جائے ، کہ اہلبیت اطہار رضی اللہ عنہم کون ہیں ؟ تو وہ نام لیتے وقت امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کو بھی یاد رکھیں ۔

احادیث پر جب نظر کی جاتی ہے تو مفسرین کی دونوں جماعتوں کو ان سے تائید پہنچتی ہے ۔ امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ یہ آیت پنجتن پاک کی شان میں نازل ہوئی ۔ پنجتن سے مراد حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم اور حضرت علی و حضرت فاطمہ و حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین ہیں ۔ (صلوات اللہ تعالیٰ علی حبیبہ و علیہم وسلم)

خلاصہ یہ کہ دولت سرائے اقدس کے سکونت رکھنے والے اس آیت میں داخل ہیں (یعنی ازواجِ مُطَہَّرات) کیونکہ وہی اس کے مُخاطَب ہیں (اور) چونکہ اہلِ بیتِ نسب (نسبی تعلق والوں) کا مر اد ہونا مخفی تھا ، اس لئے آں سَرور ِعالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے اپنے اس فعل مبارک (جس میں پنجتن پاک کو چادر میں لے کر ان کے لئے دعا فرمائی) سے بیان فرمادیا کہ مراد اہلِ بیت سے عام ہیں ۔ خواہ بیت ِمسکن کے اہل ہوں جیسے کہ اَزواج یا بیت ِنسب کے اہل (جیسے کہ) بنی ہاشم و مُطّلب ۔ (سوانح کربلا باب اہل بیت نبوت ، چشتی)

اہل بیت کون ہیں ؟

بیت عربی زبان میں گھر کو کہتے ہیں۔ گھر تین قسم کا ہوتا ہے

(1) بیت نسب

(2) بیت مسکن یا بیت سکنٰی

(3) بیت ولادت

اسی اعتبار سے گھر والوں کے بھی تین طبقے ہیں

(1) اہل بیت نسب

(2) اہل بیت سکنٰی

(4) اہل بیت ولادت

اہل بیت نسب سے مراد انسان کے وہ رشتہ دار ہیں جو نسب میں آتے ہیں یعنی وہ رشتہ دار جو باپ اور دادا کی وجہ سے ہوتے ہیں مثلاً چچا، تایا، پھوپھی وغیرہ نسب کے رشتے ہیں ۔

اہل بیت مسکن سے مراد وہ رشتہ دار ہیں جو گھر کے اندر آباد ہوتے ہیں یعنی شوہر کی بیوی ۔

اہل بیت ولادت سے مراد وہ نسل ہے جو گھر میں پید اہوئی ہے۔ اس میں بیٹے، بیٹیاں اور آگے ان کی اولاد شامل ہے۔ جب مطلق اہل بیت کا لفظ بولا جائے تو اس سے مراد مذکورہ تینوں طبقات ہوتے ہیں بشرطیکہ وہ اہل ایمان ہوں ۔ ان میں سے کسی ایک طبقے کو خارج کردینے سے اہل بیت کا مفہوم پورا نہیں ہوتا ۔

جب انسان متعصب ہو جاتا ہے تو پھر اسے اپنے مطلب کی چیز کے علاوہ کچھ نظر ہی نہیں آتا۔ جب دین تعصب کی نظر ہوجاتا ہے تو ہر کوئی اپنے مطلب کی بات نکالنے لگتا ہے ۔ وہ دو طبقے جو حب صحابہ اور حب اہل بیت رضی اللہ عنھم کے نام پر افراط و تفریط کا شکار ہوئے ان میں سے ایک طبقے نے مذکورہ آیت کریمہ کی تفسیر کرتے ہوئے اس میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کو نکال دیا ۔ گویا انہوں نے اہل بیت میں سے اہل بیت مسکن کو نکال دیا ۔ جب اہل بیت میں سے بیویاں ہی نکل جائیں تو پھر اولاد کا گھر سے کیا تعلق رہا ؟

بہر حال انہوں نے ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کو نکال کر کہا کہ اہل بیت سے مراد حضرت علی رضی اللہ عنہ شیر خدا ، حضرت فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا ، حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ ہیں ۔

بے شک مذکورہ چاروں ہستیاں اہل بیت میں شامل ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے انہیں چادر تطہیر میں چھپایا اور ان کے اہل بیت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم ہونے کا انکار فرمان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا انکار ہے مگر سمجھانا یہ مقصود ہے کہ ایک طبقے نے کچھ اہل بیت مراد لیے اور باقی چھوڑ دیے ۔ اس کے رد عمل کے طور پر دوسرے طبقے نے کہا کہ اہل بیت سے مراد صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن ہیں ، حضرت علی رضی اللہ عنہ ، سیدہ دوعالم حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا اور حسنین کریمین رضی اللہ عنھما اہل بیت میں شامل ہی نہیں ۔ دونوں طبقوں نے قرآن پاک کو گویا سکول کا رجسٹر داخل خارج سمجھ لیا ہے کہ جسے چاہا داخل کر دیا اور جسے چاہا خارج کر دیا ۔ من مانی تاویلیں کر کے امت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور نہ صرف امت بلکہ نسبت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کو بھی متنازعہ بنا دیا ۔

محترم قارئینِ کرام : جو گھر والا ہے وہ تو ہر گھر والے کو پیارا ہے اور وہ ذات مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم ہے پھر جو بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سے نسبی تعلق والا ہے ، آپ کے گھر میں ہے یا آپ کی نسل پاک میں سے ہے اور اہل ایمان ہے ۔ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا اہل بیت اور ہر ایک کو پیارا ہونا چاہیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سے نسبی تعلق ہونا ، آپ کے گھر میں ہونا یا آپ کی اولاد پاک میں سے ہونا تو ایک طرف حضرت سلیمان فارسی رضی اللہ عنہ جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے گھر صرف خدمت کرتے تھے اور سودا سلف لاکر دیتے تھے انہیں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے اپنے اہل بیت میں شامل فرمایا ہے حالانکہ نہ تو ان کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سے نسبی تعلق تھا نہ وہ اہل بیت مسکن میں سے تھے اور نہ ہی وہ آپ کی اولاد پاک میں سے تھے ، بیت کی تینوں نسبتیں مفقود تھیں لہذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے رحمت کے ہاتھ بڑھاتے ہوئے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو بھی اہل بیت میں شامل فرمالیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا سلمان ہمارے اہل بیت میں سے ہے ۔ (مستدرک امام حاکم 3 : 691 رقم 6539،چشتی)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے جب اپنے اہل بیت میں سے کسی ایک طبقے کو خارج نہیں کیا تو ہم کسی ایک طبقے کو خارج کرکے کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سے انصاف کر رہے ہیں ؟ یقیناً یہ انصاف نہیں بلکہ محض جہالت اور تعصب ہے ۔

حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کا ارشادِ مبارک

راہ اعتدال کو چھوڑ کر افراط و تفریط کا راستہ اپنانے والوں کےلیے حضرت علی شیر خدا رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان مبارک ایک تازیانے کی حیثیت رکھتا ہے ۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے مجھ سے فرمایا کہ تمہیں حضرت عیسٰی علیہ السلام سے ایک مشابہت ہے ۔ ان سے یہود نے بغض کیا یہاں تک کہ ان کی والدہ ماجدہ پر زنا کی تہمت لگائی اور نصاریٰ ان کی محبت میں ایسے حد سے گزرے کہ ان کی خدائی کے معتقد ہوگئے ۔ ہوشیار ! میرے حق میں بھی دو گروہ ہلاک ہوں گے ۔ ایک زیادہ محبت کرنے والا جو مجھے میرے مرتبے سے بڑھائے گا اور حد سے تجاوز کرے گا ۔ دوسرا بغض رکھنے والا جو عداوت میں مجھ پر بہتان باندھے گا ۔ (مسند احمد بن حنبل جلد نبر 2 صفحہ نمبر 167، رقم 1376،چشتی)

شیعہ مذہب کے نزدیک معتبر کتاب ’’نہج البلاغہ،، میں حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کا ارشاد گرامی ہے : میرے معاملہ میں دو قسم کے لوگ ہلاک ہوں گے ۔ ایک محبت کرنے والا ، حد سے بڑھانے والا ۔ وہ محبت اس کو غیر حق کی طرف لے جائے گی ۔ دوسرا بغض رکھنے والا حد سے کم کرنے والا ، وہ بغض اس کو خلاف حق کی طرف لے جائے گا اور سب سے بہتر حال میرے معاملہ میں میانہ رو جماعت کا ہے پس اس میانہ رو جماعت کو اپنے لئے ضروری سمجھو اور (بڑی جماعت) سواد اعظم کے ساتھ وابستہ رہو کیونکہ اللہ کا ہاتھ اسی جماعت پر ہے اور خبردار! اس جماعت سے الگ نہ ہونا کیونکہ جو شخص جماعت سے الگ ہوگا وہ اسی طرح شیطان کا شکار ہوگا جس طرح ریوڑ سے الگ ہونے والی بکری بھیڑیئے کا شکار ہوتی ہے ۔ (ترجمہ و شرح نہج البلاغہ جلد اول، 383)

ان آیات کا سیاق و سباق بتاتا ہے کہ أمہات المؤمنین رضی اللہ عنہن اس میں شامل ہیں ۔ کسی عامی آدمی کو بھی ان آیات کا ترجمہ پڑھنے کے لیے کہا جائے تو اس کو بھی سمجھ آ جائے گی کہ یہاں اہل بیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی بیویاں شامل ہیں ۔

اس پورے رکوع کو آپ اس آیت سے پہلے پڑھ لیں اس کے بعد پڑھ لیں سب کا اتفاق ہے کہ اس سے مراد امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن ہیں بلکہ یہی آیت اس کو شروع سے پڑھ لیں ۔ و قرن فی بیوتکن ۔ اس میں خطاب مؤنث کے صیغے کے ساتھ ہے ۔
اور پھر اس سے بعد والی آیت بھی واذکرن سے شروع ہورہی ہے جو خطاب جمع مؤنث کے لیے ہے ۔ جبکہ إنما یرید اللہ لیذہب عنکم الرجس أہل البیت و یطہرکم تطہیرا ۔ میں یہ نکتہ ہے ۔ واللہ أعلم ۔ تاکہ امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کے ساتھ دیگر اہل بیت رضی اللہ عنہم کی شمولیت کا بھی امکان باقی رہے ۔ یہی وجہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت پڑھی تو حضرت علی و حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا اور امامِ حسن و امامِ حسین رضی اللہ عنہما کو بطور خاص اہل بیت میں شامل کیا تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ سیاق سباق تو امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کے لیے ہے یہ چار ہستیاں اس میں کیسے شامل ہیں ۔

اور امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن چونکہ اس سے پہلے بنص قرآن اس میں شامل تھیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے اس کی ضرورت نہ سمجھی کیونکہ یہ تو ایک قسم کا تحصیل حاصل تھا ۔ اور ویسے بھی معروف بات ہے کہ اہل بیت کے واقعے والی اس حدیث میں یہ تو ذکر ہے کہ چار ہستیاں اہل بیت میں سے ہیں لیکن باقیوں کی نفی کہیں بھی نہیں ۔ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے یہ تو کہا تھا کہ یہ چار میرے اہل بیت ہے لیکن یہ نہیں کہا تھا کہ ان کے علاوہ اور کوئی اہل بیت میں سے نہیں ہے ۔ (مزید حصّہ سوم میں ان شاء اللہ) ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

No comments:

Post a Comment

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا امی ہونا

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا امی ہونا محترم قارئینِ کرام : عرب میں  ایک چیز یا شخصیت کے متعدد نام رکھنے کا رواج ہے ا ن کے یہاں یہ بات...