ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی نکاح اور رخصتی کے وقت عمر
محترم قارئینِ کرام : مختف روایات میں یہ بات آئی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نکاح کے وقت حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی عمر 6 برس اور رخصتی کے وقت 9 برس تھی ۔ مگر یہ روایات قرآن ، حدیث ، تاریخ اور عقل عام سب کے خلاف ہیں ۔ بہت سے اہل علم نے عمر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے متعلق واضح کیا ہے کہ نکاح کے وقت حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی عمر وہ نہیں تھی جو بیان کی جاتی ہے ، بلکہ وہ ایک بالغ اور نوجوان خاتون تھیں ۔ نکاح کے وقت ان کی عمر سولہ برس اور رخصتی کے وقت انیس برس تھی ۔ مگر راوی نے اسے غلطی سے چھ اور نو بنا دیا ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ عربی زبان میں دس سے اوپر کے اعداد کو ایک مرکب عدد کے طور پر بولا جاتا ہے ۔ انگریزی میں یہ بیس کے بعد ہوتا ہے ۔ اس لیے اکیس کے عدد کو Twenty one کہتے ہیں ۔ عربی میں دس سے اوپر یہی اصول ہے ۔ چنانچہ سولہ کا ہندسہ الفاظ کی شکل میں ست عشرۃ اور انیس کا ہندسہ تسع عشرۃ کے طور پر بیان کیا گیا ہو گا جسے راوی کی غلطی نے ست (6) اور تسع (9) بنا دیا ۔ منکرین حدیث نے اس بات کو بہت اچھالا ہے کہ حدیث شریف میں حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی شادی کے وقت 9 سال عمر بتائی گئی ہے جو عقل و نقل کی رو سے غلط ہے ۔ اس سے غیر مسلموں بلکہ پڑھے لکھے مسلمانوں کو بھی انکار حدیث کا بہانہ مل گیا ہے ۔ فقیر کی تحقیق یہ ہے کہ حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی عمر مبارک شادی کے وقت کم سے کم 17 یا 19 سال تھی ۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی بڑی بہن سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا طویل العمر صحابیات میں سے ہیں ۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی والدہ محترمہ ہیں ۔ بڑی خدا رسیدہ عبادت گذار اور بہادر خاتون ان کی عمر تمام مورخین نے سو سال لکھی ہے ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ان سے دس سال چھوٹی ہیں ۔ سیدہ اسماء حضرت عبداللہ بن زبیر کی شہادت کے پانچ یا دس دن بعد فوت ہوئیں ۔ سن وفات 73ھ ہے ۔ اس حساب سے سیدہ اسماء کی عمر ہجرت کے وقت 27 سال ہوئی اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ان سے دس سال چھوٹی ہیں تو آپ کی عمر ہجرت کے وقت 17 سال ہوئی ۔ اگر سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی 2ھ کو مانی جائے تو رخصتی کے وقت آپ کی عمر مبارک 19 سال ہوئی ۔ حوالہ جات ملاحظہ ہوں : ⏬
اسلمت اسماء قديما وهم بمکة فی اول الاسلام... وهی آخر المهاجرين والمهاجرات موتا. وکانت هی اکبر من اختها عائشة بعشر سنين.. بلغت من العمر ماته سنة ۔
ترجمہ : اسماء مکہ میں اوائل اسلام میں مسلمان ہوئیں۔ مہاجرین مردوں عورتوں میں سب سے آخر فوت ہونے والی ہیں۔ اپنی بہن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دس سال بڑی تھیں ۔ (ابن کثير، البدايه والنهايه 8 / 346 طبع بيروت)
اسلمت قديما بعد اسلام سبعة عشر انسانا... ماتت بمکة بعد قتله بعشره ايام وقيل بعشرين يوماً وذلک فی جمادی الاولیٰ سنة ثلاث وسبعين ۔
ترجمہ : مکہ معظمہ میں سترہ آدمیوں کے بعد ابتدائی دور میں مسلمان ہوئیں۔۔۔ اور مکہ مکرمہ میں اپنے بیٹے (عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ) کی شہادت کے دس یا بیس دن بعد فوت ہوئیں اور یہ واقع ماہ جمادی الاولیٰ سن 73ھ کا ہے ۔ (علامه ابن حجر عسقلانی، تهذيب التهذيب 12 ص 426 طبع لاهور، الامام ابوجعفر محمد بن حرير طبری، تاريخ الامم والملوک ج 5 ص 31 طبع بيروت، حافظ ابونعيم احمد بن عبدالله الاصبهانی م 430ه، حلية الولياء وطبقات الاصفياء 2 ص 56 طبع بيروت)
اسلمت قديما بمکة وبايعت رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم.. ماتت اسماء بنت ابی بکرالصديق بعد قتل ابنها عبدالله بن الزبير وکان قتله يوم الثلثاء لسبع عشرة ليلة خلت من جمادی الاولیٰ سنة ثلاث وسبعين ۔
ترجمہ : سیدہ اسماء بنت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما مکہ معظمہ میں قدیم الاسلام ہیں ۔ آپ نے رسول اللہ A کی بیعت کی ۔ اپنے بیٹے عبداللہ بن زبیر کی شہادت کے چند دن بعد فوت ہوئیں۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی شہادت بروز منگل 12 جمادی الاولیٰ 73ھ کو ہوئی ہے ۔ (محمد ابن سود الکاتب الواقدی 168ه م 230ه الطبقات الکبریٰ ج 8 / 255 طبع بيروت)
کانت اسن من عائشة وهی اختها من ابيها.. ولدت قبل التاريخ لسبع وعشرين سنة ۔
ترجمہ : سیدہ اسماء ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما سے زیادہ عمر کی تھیں ۔ باپ کی طرف سے سگی بہن تھیں۔ ہجرت سے 27 سال قبل پیدا ہوئیں ۔ (امام ابن الجوزی، اسدالغايه فی معرفة الصحابة ج 5 ص 392 طبع رياض)
اسلمت قديما بمکة قال ابن اسحق بعد سبعة عشر نفسا .. بلغت اسماء مائة سنة ولدت قبل الهجرة لسبع وعشرين سنة ۔
ترجمہ : سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا مکہ مکرمہ میں ابتداءً مسلمان ہوئیں ۔ ابن اسحاق نے کہا سترہ انسانوں کے بعد سو سال عمر پائی ہجرت سے 27 سال پہلے پیدا ہوئیں ۔ (شهاب الدين ابوالفضل احمد بن علی بن حجر عسقلانی، الاصابة فی تميز الصحابة 4 ص 230 م 773ه طبع بيروت ، سيرة ابن هشام جلد 1 صفحہ 271 طبع بيروت، علامه ابن الاثير، الکامل فی التاريخ 4، ص 358 طبع بيروت،چشتی،علامه ابوعمر يوسف ابن عبدالله بن محمد بن عبدالقرطبی 363ه، الاستيعاب فی اسماء الاصحاب علی هامش الاصابة 463ه ج 4 ص 232 طبع بيروت، حافظ شمس الدين محمد بن احمد الذهبی، تاريخ الاسلام ودفيات المشاهير والاسلام ج 5 ص 30 طبع بيروت، الروض الانف شرح سيرة ابن هشام جلد 1 صفحہ 166 طبع ملتان)
حضرت عائشہ صدیقہ کی عمر اور حضرت اسماء رضی اللہ عنہما کی عمر کی نسبت : ⏬
بقول عبدالرحمن ابن ابی الذناد۔ حضرت اسماء ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما سے دس سال بڑی تھیں ۔ (سیار العلم النبالہ، الذہابی ، جلد 2 ، صفحہ 289 عربی ۔ موسستہ الرسالہ، بیروت ، 1992،چشتی)
بقول ابن کثیر : حضرت اسماء اپنے بہن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما سے 10 سال بڑی تھیں ۔ (البدایہ والنہایہ، ابن کثیر، جلد 8، ص371، دار الفکر العربی الجزاہ، 1933)
بحوالہ ابن کثیر : حضرت اسماء نے اپنے بیٹے کو 73ھ میں مرتے ہوئے دیکھا ۔ اور پھر 5 دن ، یا 10 دن یا 20 دن یا ، کچھ دن ، یا 100 دن بعد( دنوں کی تعداد مورخ یا محدث پر منحصر ہے) ان کی وفات 100 برس کی عمر میں ہوئی ۔ (البدیاہ والنہایہ ابن کثیر جلد 8 صفحہ 372 دار الفکر العربی الجزاہ 1933)
بحوالہ ابن حجار الاثقلینی : حضرت اسماء - 100 سو برس زندہ رہیں اور 73ھ یا 74 ھجری میں وفات پائی ۔ (تقریب التہذیب، ابن حجار الاثقلینی، ص 654، عربی۔ باب فی النساء، الحرف الیف، لکھنئو،چشتی)
تمام مؤرخین اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت اسماء کی وفات - سو برس کی عمر میں 73ھ یا 74 ھ میں ہوئی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ ھجرت کے وقت ، 27 یا 28 برس کی تھیں ۔ جس کے حساب سے حضرت عائشہ کی عمر ہجرت کے وقت 17 یا 18 سال اور رسول اللہ کے گھر 19 یا 20 سال کی عمر سے رہنا شروع کیا ۔
حجار ، ابن کثیر ، اور عبدالرحمن کی درج روایات کے مطابق ، حساب کرنے سے ، حضرت عائشہ کی عمر ، شادی کے وقت 19 یا 20 سال بنتی ہے ۔
یہ حقیقت بھی پیش نظر رہے کہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبہ میں سن ہجری کا آغاز نہیں ہوا اور سن عیسوی یا کسی اور سن کا عرب معاشرے میں تعارف یا چلن نہ تھا ۔
اہل عرب کسی مشہور تاریخی واقعہ سے سالوں کا حساب کرتے تھے مثلاً واقعہ اصحاب فیل ، سے اتنا عرصہ پہلے یا بعد وغیرہ۔ باقاعدہ سن ہجری کا آغاز حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں کیا اور اس کا آغاز سال ہجرت سے کیا ۔
پہلی سن ہجری ، دوسری سن ہجری ، تیسری سن ہجری میں کم سے کم امکانی مدت ۔ پہلی سن ہجری کا آخری دن یعنی 30 ذی الحجہ لیں اور دوسری سن ہجری کا پہلا دن یعنی یکم محرم ، دو سنوں میں وقفہ ایک دن ۔ دوسرے رخ سے دیکھیں پہلی سن ہجری کا پہلا دن یعنی یکم محرم، دوسری سن ہجری کا آخری دن یعنی 30 ذی الحجہ، کل مدت دو سال مکمل۔ دونوں صورتوں میں سن بدل گئے مگر ایک طرف ایک دن ملا اور دوسری طرف پورے دو سال ۔ جب تک تاریخ اور مہینہ متعین نہ ہو یہ فرق باقی رہ کر ابہام پیدا کرتا رہے گا ۔
صحیح بخاری ہی میں بعض ایسی احادیث ہیں جو بالواسطہ طور پر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی صحیح عمر خود بیان کر دیتی ہیں ۔ مثلاً بخاری میں کتاب التفسیر کی ایک روایت ہے جس میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سورۂ قمر کی ایک آیت کا حوالہ دے کر کہتی ہیں کہ اس کے نزول کے وقت میں ایک ، جاریۃ ، یعنی لڑ کی تھی اور کھیلا کودا کرتی تھی ۔ سورۂ قمر میں شق قمر کا مشہور واقعہ بیان ہو ا ہے ۔ اس واقعہ کی بنا پر مفسرین اور محدثین علیہم الرحمہ اس سورہ کے زمانۂ نزول کے بارے میں متفق ہیں کہ یہ سورت نبوت کے پانچویں برس نازل ہوئی ۔ ہشام بن عروہ کی روایت کی رو سے سیدہ کی پیدایش 5نبوی میں ہونی چاہیے ۔ گویا ہشام کے مطابق جس سن میں ان کی پیدایش ہونی چاہیے ، بخاری کی اِس روایت کے مطابق ٹھیک اسی سن کا واقعہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں اس وقت کھیلنے کودنے کی عمر میں داخل ہو جانے والی ایک لڑ کی تھی ۔ اس واقعے کے آٹھ برس بعد ہجرت ہوئی اور ہجرت کے ایک دو برس بعد آپ کی رخصتی ہوئی ۔ اس حساب سے سورۂ قمر کے نزول کے نو دس برس بعد رخصتی کے وقت آپ لڑ کپن سے نکل کر جوانی کے دور میں داخل ہو چکی تھیں ۔ فقیر چشتی کے نزدیک یہی بات ٹھیک ہے ۔
اس تفصیل کا صاف مطلب یہ ہے کہ اگر ہم ہشام والی روایت کو ٹھیک مانیں گے تو ہمیں بخاری کی اِس روایت کا انکار کرنا ہو گا ۔ جبکہ دوسری طرف بخاری و مسلم کی مستند روایات کے مطابق سیدہ جنگ بدر اور احد میں شریک تھیں ۔ جنگ احد کے موقع پر آپ ام سلیم کے ہمراہ پانی کے مشکیزے اٹھائے مسلمانوں کو پانی پلاتی پھر رہی تھیں ۔ (بخار ی کتاب الجہاد و السیر، باب غزوالنساء وقتالھن مع الرجال ) ۔ جنگ جنگ ہوتی ہے بچوں کا کھیل نہیں ہوتی ۔ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احد کے موقع پر 15 برس سے کم عمر بچوں کو جنگ میں شرکت سے منع کر دیا تھا ۔ جبکہ سیدہ کی عمر جنگ احد کے وقت ہشام کی روایت کے مطابق گیارہ برس کی تھی۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ اتنی کم سنی میں انہیں جنگ میں شریک ہونے کی اجازت دے دی جائے ۔ اس سے بھی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سیدہ کی عمر سے متعلق ہشام کی روایت درست نہیں ، بلکہ سیدہ کی عمر نکاح کے وقت زیادہ تھی ۔ متعدد تاریخی حوالے بھی یہ بات واضح کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی عمر اس سے زیادہ ہے جتنی ہشام کی روایت میں بیان ہوئی ہے ۔ مثلاً مورخ طبری اپنی کتاب تاریخ طبری میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے حالات کے ضمن میں بیان کرتے ہیں کہ ان کی چار اولادیں تھیں اور سب کی سب زمانۂ جاہلیت یعنی اعلان نبوت سے قبل پیدا ہوئیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا 5 نبوی کو نہیں ، بلکہ اس سے کہیں پہلے پیدا ہوئی تھیں ۔
آج کل پرنٹ میڈ یا کتنی ترقی کر چکا ہے مگر کتابوں میں ، اخبارات میں ، حد تو یہ کہ قرآن کریم کی طباعت و کتابت میں غلطی ہو جاتی ہے ، پہلا دور تو ہاتھوں سے کتابت کا دور تھا ، ممکن ہے ’’تسع عشر‘‘ انیس سال عمر مبارک ہو ، مگر کتابت کی غلطی سے تسع یا تسعاً رہ گیا اور عشر کا لفظ کتابت میں ساقط ہوگیا ہو ، تسع عشر انیس سال کی جگہ تسعاً یا تسع یعنی نو سال باقی رہ گیا اور آنے والوں نے نقل درنقل میں اسی کو اختیار کرلیا کہ نقل کرنے والے اعلیٰ درجہ کے ایماندار ، پرہیزگار ، علوم وفنون کے ماہر ، صحیح و سقیم میں امتیاز کرنے والے ، نہایت محتاط لوگ تھے ۔ وجہ سقوط کچھ بھی ہونا ممکن نہیں ۔ حقائق بہر حال حقائق ہوتے ہیں ، ان کے چہرے پر گردو غبار تو پڑ سکتا ہے مگر ہمیشہ کےلیے اسے مسخ نہیں کیا جا سکتا ۔ احادیث کی تمام کتب میں ایسے تسامحات کا ازالہ کیا جانا چاہیے تاکہ بد اندیش کو زبان طعن دراز کرنے کی ہمت نہ رہے ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

No comments:
Post a Comment