Thursday, 1 April 2021

دیوبندی عقیدہ رَحْمَۃٌ لِّلْعَالَمِیْن صفت خاصہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نہیں ہے کا جواب

دیوبندی عقیدہ رَحْمَۃٌ لِّلْعَالَمِیْن صفت خاصہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نہیں ہے کا جواب



محترم قارئینِ کرام : دیوبندیوں کے نزدیک رَحْمَۃٌ لِّلْعَالَمِیْن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صفت مخصوص نہیں بلکہ علما ء ربانین کوبھی رحمۃ للعالمین کہنا جائز ہے ۔ آخر وجہ کیا ہے کہ یہ لوگ ہر اس بات کا انکار کرتے ہیں جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان مبارک کا اظہار ہوتا ہے میرے ناقص خیال کے مطابق ان لوگوں کے سرپرستوں نے ان کی ڈیوٹی ہی یہی لگائی تھی کہ مسلمانوں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شانوں کو گھٹاؤ اور لوگوں کے دلوں سے عظمت و احترامِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکال دو اس مشن کی تکمیل کےلیئے کبھی اپنے جیسا بشر کہا تو کبھی جانوروں کے علم کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم مبارک سے تشبیہ دی ، کبھی شیطان کے علم کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم سے زیادہ بتایا تو کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بڑا بھائی اور گاؤں کے چودھری کی طرح قرار دیا اسی ڈیوٹی میں یہ بھی شامل ہے چونکہ رَحْمَۃٌ لِّلْعَالَمِیْن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صفتِ خاصہ ہے اور اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایسی شانیں ظاہر ہوتی ہیں جن کے بعد کوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمسری کا دعویٰ نہیں کر سکتا ان لوگوں نے اپنے اندر چھپے اس بغض کو ظاہر کرنے اور اپنے ارادوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کےلیے جہاں اور شانوں کا انکار کیا وہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صفتِ خاصہ رَحْمَۃٌ لِّلْعَالَمِیْن کا بھی انکار کر دیا ان الفاظ میں کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صفتِ خاصہ نہیں آیئے پہلے دیوبندیوں کے عالمِ ربانی ، قطبُ العالم جناب گنگوہی صاحب کا فتویٰ بمعہ اصل اسکینز پڑھتے ہیں پھر معتبر تفاسیر کی روشنی میں شانِ رَحْمَۃٌ لِّلْعَالَمِیْن صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھتے ہیں ۔


دیوبندیوں کا پیشوا مولوی رشید احمد گنگوہی دیوبندی لکھتا ہے : رَحْمَۃٌ لِّلْعَالَمِیْن صفت خاصہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نہیں ہے بلکہ دیگر اولیا ء وانبیاء اور علمائے ربانین بھی موجب رحمتِ عالم ہوتے ہیں اگر چہ جناب رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب میں اعلیٰ ہیں ۔ لہٰذا اگر دوسرے پر اس لفظ کو بتاویل بول دیوے ، تو جائز ہے ۔ فقط بندہ رشید احمد گنگوہی عفی عنہ ۔ (فتاویٰ رشیدیہ جدید جلد اول صفحہ نمبر 396 المکتبة الحنفیہ،چشتی)(فتاویٰ رشیدیہ صفحہ نمبر 245 مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ اردو بازار لاہور)


مولوی اشرفعلی تھانوی دیوبندی کہتا ہے : جب مولوی رشید احمد گنگوہی دیوبندی کو جب حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کی خبر ملی تو قطبُ الاقطاب دیوبند رشید احمد گنگوہی حاجی صاحب (یعنی حاجی امداد اللہ مہاجر مکی) رحمۃ اللہ علیہ کی نسبت بار بار فرماتے رَحْمَۃٌ لِّلْعَالَمِیْن تھے ۔ (ملفوظاتِ حکیمُ الاُمّت جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 138 مطبوعہ ادارہ تالیفاتِ اشرفیہ ملتان)


علمائے دیوبند کے نزدیک چونکہ مولوی رشید احمد صاحب عالم ربّانی ہیں اور ان کا حکم ہے کہ عالم ربانی کو رَحْمَۃٌ لِّلْعَالَمِیْن کہنا درست ہے ۔ لہٰذا علمائے دیوبند کے نزدیک مولوی رشید احمد رحمۃ للعالمین ہوئے ۔ اسی لیے مولوی رشید احمد گنگوھی نے اپنی رحمت کے بہت سے جلوے دکھائے ، جن میں سے ایک خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہے ۔ وہ یہ کہ آپ نے کوّا کھانے پر ثواب مقرّر کردیا ہے ۔ یہ بے پیسہ اور بغیر دام ، مفت کا سیاہ مرغ مولوی رشید احمد گنگوھی نے حلال فرما کر اس کے کھانے والے کےلیے ثواب بھی مقررکردیا ہے ۔ اس سے زیادہ دیوبندیوں کےلیے اور کیا رحمت ہوگی کہ پیسہ لگے نہ کوڑی ، مفت ہی میں سالن کا سالن اور ثواب کا ثواب ۔


اہلِ اسلام کا عقیدہ ہے کہ : رَحْمَۃٌ لِّلْعَالَمِیْن ، خاص نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصفِ جمیل ہے اس میں دوسرے کو شریک کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان کو گھٹانا ہے ۔


ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَمَاۤ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیۡنَ ۔ (سورۃُ الانبیاء آیت نمبر 107)

ترجمہ : اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کےلیے ۔


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت : ⏬


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نبیوں ، رسولوں اور فرشتوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کےلیے رحمت ہیں ، دین و دنیا میں رحمت ہیں ، جِنّات اور انسانوں کےلیے رحمت ہیں ، مومن و کافر کے لئے رحمت ہیں ، حیوانات ، نباتات اور جمادات کےلیے رحمت ہیں الغرض عالَم میں جتنی چیزیں داخل ہیں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سب کےلیے رحمت ہیں ۔ چنانچہ حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رحمت ہونا عام ہے ، ایمان والے کےلیے بھی اور اس کےلیے بھی جو ایمان نہ لایا ۔ مومن کےلیے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا و آخرت دونوں میں رحمت ہیں اور جو ایمان نہ لایا اس کےلیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیامیں رحمت ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بدولت اس کے دُنْیَوی عذاب کو مُؤخَّر کر دیا گیا اور اس سے زمین میں دھنسانے کا عذاب، شکلیں بگاڑ دینے کا عذاب اور جڑ سے اکھاڑ دینے کا عذاب اٹھا دیا گیا ۔ (تفسیر خازن سورة الانبیاء تحت الآیۃ: ۱۰۷، ۳/۲۹۷،چشتی)


امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : عالَم ماسوائے اللّٰہ کو کہتے ہیں جس میں انبیاء وملائکہ سب داخل ہیں ۔ تو لاجَرم (یعنی لازمی طور پر) حضور پُر نور ، سیّد المرسَلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سب پر رحمت و نعمت ِربُّ الارباب ہوئے ، اور وہ سب حضور کی سرکارِ عالی مدار سے بہرہ مند وفیضیاب ۔ اسی لیے اولیائے کاملین وعلمائے عاملین تصریحیں فرماتے ہیں کہ : ازل سے ابد تک ،ارض وسماء میں، اُولیٰ وآخرت میں ،دین ودنیا میں ، روح وجسم میں ، چھوٹی یا بڑی ، بہت یا تھوڑی ، جو نعمت ودولت کسی کو ملی یا اب ملتی ہے یا آئندہ ملے گی سب حضور کی بارگاہ ِجہاں پناہ سے بٹی اور بٹتی ہے اور ہمیشہ بٹے گی ۔ (فتاوی رضویہ رسالہ:ل تجلی الیقین جلد ۳۰ صفحہ ۱۴۱)

اور فرماتے ہیں : حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رحمۃٌ لِّلْعالَمین بنا کر بھیجے گئے اور مومنین پربالخصوص کمال مہربان ہیں ، رؤف رحیم ہیں ، ان کامشقت میں پڑنا ان پرگراں ہے ، ان کی بھلائیوں پرحریص ہیں ،جیسے کہ قرآن عظیم ناطق : لَقَدْ جَآءَکُمْ رَسُوۡلٌ مِّنْ اَنۡفُسِکُمْ عَزِیۡزٌ عَلَیۡہِ مَاعَنِتُّمْ حَرِیۡصٌ عَلَیۡکُمۡ بِالْمُؤْمِنِیۡنَ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ ۔ (سورہ توبہ آیت نمبر ۱۲۸)

ترجمہ : بیشک تمہارے پاس تم میں سے وہ عظیم رسول تشریف لے آئے جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا بہت بھاری گزرتا ہے، وہ تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے، مسلمانوں پر بہت مہربان ، رحمت فرمانے والے ہیں ۔

تمام عاصیوں کی شفاعت کے لیے تو وہ مقررفرمائے گئے : وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنۡۢبِکَ وَ لِلْمُؤْمِنِیۡنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ ۔ (سورہ محمد آیت نمبر ۱۹)

(ترجمہ : اور اے حبیب ! اپنے خاص غلاموں اور عام مسلمان مردوں اور عورتوں کے گناہوں کی معافی مانگو ۔ (فتاوی رضویہ جلد ۲۴ صفحہ ۶۷۴ - ۶۷۵)


آیت وَمَاۤ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیۡنَ اور عظمتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ⏬


یہ آیتِ مبارکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت و شان پر بہت بڑی دلیل ہے، یہاں اس سے ثابت ہونے والی دو عظمتیں ملاحظہ ہوں : ⏬


(1) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مخلوق میں سب سے افضل ہیں ۔ چنانچہ امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہِ فرماتے ہیں : جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام عالَمین کے لئے رحمت ہیں تو واجب ہو اکہ وہ (اللّٰہ تعالیٰ کے سوا) تمام سے افضل ہوں ۔ (تفسیرکبیر، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۵۳، ۲/۵۲۱،چشتی)


تفسیر روح البیان میں اَکابِر بزرگانِ دین کے حوالے سے مذکور ہے کہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام جہانوں کے لئے خواہ وہ عالَمِ ارواح ہوں یا عالَمِ اجسام ، ذوی العقول ہوں یا غیر ذوی العقول سب کےلیے مُطْلَق ، تام ، کامل ، عام ، شامل اور جامع رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے اور جو تمام عالَموں کے لئے رحمت ہو تو لازم ہے کہ وہ تمام جہان سے افضل ہو ۔ (تفسیر روح البیان، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱۰۷، ۵/۵۲۸)


(2) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دونوں جہاں کی سعادتیں حاصل ہونے کا ذریعہ ہیں کیونکہ جو شخص دنیا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائے گا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت و پیروی کرے گا اسے دونوں جہاں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت سے حصہ ملے گا اور وہ دنیا وآخرت میں کامیابی حاصل کرے گا اور جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان نہ لایا تو وہ دنیا میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت کے صدقے عذاب سے بچ جائے گا لیکن آخرت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت سے کوئی حصہ نہ پا سکے گا ۔


امام فخرالدین رازی رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہِ فرماتے ہیں : لوگ کفر ، جاہلیت اور گمراہی میں مبتلا تھے ، اہلِ کتاب بھی اپنے دین کے معاملے میں حیرت زدہ تھے کیونکہ طویل عرصے سے ان میں کوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف نہ لائے تھے اور ان کی کتابوں میں بھی (تحریف اور تبدیلیوں کی وجہ سے) اختلاف رو نما ہو چکا تھا تو اللّٰہ تعالیٰ نے اس وقت اپنے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو مبعوث فرمایا جب حق کے طلبگار کو کامیابی اور ثواب حاصل کرنے کی طرف کوئی راہ نظر نہ آ رہی تھی ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کوحق کی طرف بلایا اور ان کے سامنے درست راستہ بیان کیا اور ان کے لئے حلال و حرام کے اَحکام مقرر فرمائے ،پھر اس رحمت سے(حقیقی) فائدہ اسی نے اٹھایا جو حق طلب کرنے کا ارادہ رکھتا تھا (اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لا کر دنیا و آخرت میں کامیابی سے سرفراز ہوا اور جو ایمان نہ لایا) وہ دنیا میں آپ کے صدقے بہت ساری مصیبتوں سے بچ گیا ۔ (تفسیر کبیر، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱۰۷، ۸/۱۹۳،چشتی)


تم ہو جواد و کریم تم ہو رؤف و رحیم

بھیک ہو داتا عطا تم پہ کروڑوں درود


حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت میں فرق : ⏬


ویسے تو اللّٰہ تعالیٰ کے تمام رسول اور اَنبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام رحمت ہیں لیکن اللّٰہ تعالیٰ کے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عین رحمت اور سراپا رحمت ہیں ، اسی مناسبت سے یہاں حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت میں فرق ملاحظہ ہو،چنانچہ تفسیر روح البیان میں ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں ارشاد فرمایا : وَ رَحْمَۃً مِّنَّا ۔ (سورہ مریم :۲۱)

ترجمہ : اور اپنی طرف سے ایک رحمت (بنادیں) ۔

اور اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حق میں ارشاد فرمایا : وَمَاۤ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیۡنَ ۔

ترجمہ : اور ہم نے تمہیں تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر ہی بھیجا ۔


ان دونوں کی رحمت میں بڑا عظیم فرق ہے اور وہ یہ کہ اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے رحمت ہونے کو حرف مِنْ کی قید کے ساتھ ذکر فرمایا اور یہ حرف کسی چیز کا بعض حصہ بیان کرنے کےلیے آتا ہے اور اسی وجہ سے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ان لوگوں کےلیے رحمت ہیں جو آپ پر ایمان لائے اور اس کتاب و شریعت کی پیروی کی جو آپ لے کر آئے اور ان کی رحمت کا یہ سلسلہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبعوث ہونے تک چلا ، پھر آپ کا دین منسوخ ہونے کی وجہ سے اپنی امت پر آپ کا رحمت ہونا منقطع ہو گیا جبکہ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں مُطْلَق طور پر تمام جہانوں کے لئے رحمت ہونا بیان فرمایا ۔ اسی وجہ سے عالَمین پر آپ کی رحمت کبھی منقطع نہ ہو گی ، دنیا میں کبھی آپ کا دین منسوخ نہ ہو گا اور آخرت میں ساری مخلوق یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت کے محتاج ہوں گے ۔ (تفسیر روح البیان سورة الانبیاء تحت الآیۃ : ۱۰۷، ۵/۵۲۸) ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

No comments:

Post a Comment

آج بھی چار نبی علیہم السلام دنیاوی حیات کے ساتھ زندہ ہیں

آج بھی چار نبی علیہم السلام دنیاوی حیات کے ساتھ زندہ ہیں محترم قارئینِ کرام : چار انبیاء علیہم السلام ابھی تک زندہ ہیں ۔ دو آسمان میں (1) ح...