نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان المبارک میں بیس رکعات تراویح ادا فرماتے تھے
محترم قارئینِ کرام : رمضان المبارک کے مہینہ میں نمازِ عشاء کے بعد بیس 20 رکعت نماز تراویح پڑھنی صحیح مذہب میں سنت مؤکدہ ہے اور تمام آئمہ دین یعنی امام اعظم ابو حنیفہ اور ان کے تلامذہ ، امام مالک اور ان کے تلامذہ ، امام شافعی اور ان کے تلامذہ ، امام احمد بن حنبل اور ان کے تلامذہ کے علاوہ وہ دیگر مجتہدین بھی علیہم الرحمہ (جن کے مقلدین آج دنیا میں نہیں ہیں) اس کے سنت ہونے اور بیس رکعات ہونے پر متفق ہیں ۔ رافضیوں کے علاوہ کوئی جماعتِ تراویح کا منکر نہیں ہے ۔ غیر مقلدین (نام نہاد اہلحدیث یا اہل الظواہر) بیس رکعات پر کمزور اعتراض کرتے ہیں اور اپنی ہٹ دھرمی کے باعث آٹھ رکعات پڑھتے ہیں ، جو ثابت نہیں ۔ آٹھ رکعات کوتراویح کہنا بھی غلط اور باطل ہے ، کیونکہ ”تراویح” جمع ہے ”ترویحہ ”واحد ہے ، ایک ترویحہ چار رکعات کا ہوتا ہے توعربی قواعد کے اصولو ں کے مطابق آٹھ رکعات ادا کرنے کے نتیجے میں دو ترویحہ بنتے ہیں جس پر تثنیہ کا اطلاق ہوتا ہے اور لغت کے حساب سے ”ترویحتان” کہا جاتا ہے ۔ عربی میں کسی بھی لفظ کی جمع کا اطلاق دو سے زائد پر ہوتا ہے لہٰذا آٹھ رکعات کو کبھی بھی تراویح قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی بھی رمضان میں آٹھ رکعات تراویح کے طور پر ادا نہیں فرمائیں ۔ اور نہ ہی آٹھ رکعات ادا کرنے کی ہدایت فرمائی ۔ امام بیہقی علیہ الرحمۃ نے بسند صحیح حضرت سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، سے روایت کی کہ” لوگ فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، کے زمانہ میں بیس رکعتیں پڑھا کرتے تھے اور عثمان و علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے عہد میں بھی ایسا ہی تھا ”اور ”موطا ” میں یزید بن رومان سے روایت ہے کہ ” عمر رضی اللہ عنہ ، کے زمانہ میں لوگ تئیس 23 رکعات پڑھتے ” ۔ بیہقی نے کہا اس میں تین رکعتیں وتر کی ہیں اور مولیٰ علی رضی اللہ عنہ ، نے ایک شخص کو حکم فرمایا کہ ” رمضان میں لوگوں کو بیس ٢٠ رکعتیں پڑھائے ۔ نیز اس کے بیس رکعت میںیہ حکمت ہے کہ فرائض و واجبات کی اس سے تکمیل ہوتی ہے اور کل فرائض و واجبات کی ہر روز بیس رکعتیں ہیں (یعنی فجر 2 + ظہر 4 + عصر 4 + مغرب 4 + عشاء فرض 4 + وتر 3 = 20رکعات) لہٰذا مناسب تھا کہ یہ بھی بیس ہوں ۔ (بہار شریعت حصہ چہارم ، صفحہ نمبر 30،چشتی)
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی الله عنهما قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یُصَلِّي فِي رَمَضَانَ عِشْرِیْنَ رَکْعَةً وَیُوْتِرُ بِثَـلَاثٍ ۔
ترجمہ : حضرت (عبد اللہ) بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان المبارک میں بیس رکعات نمازِ(تراویح) اور تین وتر پڑھا کرتے تھے ۔
(أخرجه ابن أبي شیبۃ في المصنف، 2: 164، الرقم: 7692)(عبد بن حمید في المسند: 218، الرقم: 653)(الطبراني في المعجم الأوسط، 5: 324، الرقم: 5440)(المعجم الکبیر، 11: 393، الرقم: 12102)(ابن عبد البر في التمھید، 8: 115، والهیثمي في مجمع الزوائد، 3: 172)(عسقلاني في المطالب العالیۃ، 4: 425، الرقم: 598)
وَفِي رِوَایَةٍ عَنْهُ رضی الله عنه، قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کَانَ یُصَلِّي عِشْرِیْنَ رَکْعَةً سِوَی الْوِتْرِ ۔
ترجمہ : حضرت (عبد اللہ) بن عباس رضی اللہ عنہما سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان المبارک میں وتر کے علاوہ بیس(20) رکعات نمازِ (تراویح) پڑھتے تھے ۔ (طبراني في المعجم الأوسط، 1: 243، الرقم: 798)
وَفِي رِوَایَةٍ عَنْهُ قَالَ:کَانَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یُصَلِّي فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فِي غَیْرِ جَمَاعَةٍ بِعِشْرِیْنَ رَکْعَةً وَالْوِتْرِ ۔
ترجمہ : ایک اور روایت میں حضرت (عبد اللہ) بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہِ رمضان المبارک میں جماعت کے بغیر بیس (20) رکعات نمازِ (تراویح) اور وتر پڑھتے تھے ۔ (بیهقي في السنن الکبری، 2: 496، الرقم: 4391)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان المبارک میں بیس رکعات ( تراویح) اور وتر ادا فرماتے تھے ۔ (مصنف شیبہ مترجم اردو جلد نمبر 2 صفحہ نمبر 669 حدیث نمبر 7774،چشتی)
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں ۔کو بیس (20) رکعات نماز تراویح اور وتر پڑھائے رمضان المبارک میں ۔ ( تاریخ جرجان صفحہ نمبر 276)
حدیث : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمضان المبارک میں دو راتیں لوگوں کو بیس رکعات (20) نماز تراویح پڑھائی۔(تلخیص الجبیر جلد 2 صفحہ نمبر 45)
منکرین بیس (20) غیر مقلد وھابی حضرات کو چیلنج ہے کہ آٹھ رکعات نماز تراویح پر ایک حدیث پیش کرو جس میں لفظ تراویح اور رمضان المبارک کا ذکر ہو اور جسے محدثین کرام علیہم الرّحمہ نے لکھا اور قبول کیا ہو نماز تہجد والی روایت سے دھوکہ دے کر لوگوں کا بابرکت مہینے میں عبادت سے مت روکو وقت تا قیامت ہے ہم بحوالہ جواب کے منتظر رہیں گے ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیس رکعات نماز تراویح پڑھنا متعدد حوالہ جات کے ساتھ ثابت کر دیا ہے الحمد للہ ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)




No comments:
Post a Comment