شیطان کا سب سے بڑا مقصد ہی ہماری نیتوں کو خراب کرنا ہے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : شیطان کے انسان کو ہلاکت میں ڈالنے کا ایک بڑا حملہ انسان کی نیت کو خراب کردینا ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ وہ انسان کو عبادات، نماز، حج و زکوٰۃ اور سب نیک کام کرنے دے مگر ان سب اعمال کے پیچھے نیت کو خراب کر دے۔ نیت فاسدہ، باطلہ اور کدرہ ہو جائے۔ یعنی نماز جی بھر کے پڑھیں مگر طبیعت میں ریا، تکبر، حسد، عداوت، بغض و عناد اور اللہ کے بندوں کے ساتھ نفرت موجود ہو۔ اس سے سارے اعمال برباد ہوگئے ۔ یہ سب سے بڑا خطرناک حملہ ہے کہ شکل میں تو نیک لگے مگر پتہ نہ چلے کہ یہ آدمی برا ہے ۔ ذوالخویصرہ تمیمی نے مال غنیمت کی تقسیم کے موقع پر اعتراض کیا اور آقا علیہ السلام کی بارگاہ میں کھڑے ہو کر کہا تھا : اِتَّقِ اللہ (اللہ سے ڈرو) ۔ دوسری روایت میں ہے کہ اُس نے کہا : اعْدِل (عدل کرو) ۔ اس کی اس بات پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہ جیسی شخصیات نے تلواریں نکال لیں کہ اس بے باکی و بے ادبی پر اس کی گردن اڑادیں مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا۔ اُس نے جب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا یہ ردعمل دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف پیٹھ پھیر کر اُس مجلس سے چلا گیا۔ اس کے اس عمل پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : اس کی نسل سے ایسے لوگ ہوں گے کہ اے صحابہ! تمہیں اپنی نمازیں ان کی نمازوں کے مقابلے میں چھوٹی نظر آئیں گی۔ تمہیں اپنے روزے ان کے روزوں کے مقابلے میں قلیل نظر آئیں گے۔ تمہیں اپنی تلاوت قرآن ان کی قرات قرآن کے مقابلے میں چھوٹی نظر آئے گی مگر ان کا قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ۔ يمرقون من الدين کمروق السهم من الرمية ۔
ترجمہ : دین سے اس طرح خارج ہوں گے جس طرح تیر شکار سے خارج ہوتا ہے ۔ (صحيح بخاری کتاب الادب جلد 5 صفحہ 2281 رقم : 5811)
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اُس کو تقویٰ ، عبادات اور تسبیحات کو عام صحابہ سے کئی زیادہ دیکھتے تھے مگر عبادات کی یہ تمام کثرت اُس کی طرف سے بے ادبیِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارتکاب کی وجہ سے رائیگاں گئی ۔
سوال پید اہوتا ہے کہ کیا اس نے کوئی برا کلمہ کہا ہے ؟ نہیں بلکہ اس نے عدل اور تقویٰ کی بات کی۔ مگر خرابی کیا تھی؟ خرابی یہ تھی کہ اس کے اندر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حیاء اور ادب نہ تھا۔ جس ذات کو عدل اور تقویٰ اختیار کرنے کا کہہ رہا تھا ، بدبخت یہ نہ جانتا تھا کہ ان کے قدموں کی دھول سے تو عدل اور تقویٰ کائنات میں پیدا ہوا ہے۔ پس حیا اور تعظیمِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ ہونے کے سبب وہ جہنم کا ایندھن ہو گیا ۔
حضرت جندب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب مولیٰ علی شیر خدا کرم اللہ وجہہ الکریم خوارج کے خلاف جنگ کررہے تھے تو سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم نے مجھے خوارج کی طرف جنگ سے پہلے پیغام دے کر بھیجا ۔ میں ان کی تہجد گزاری ، ان کے ماتھوں پر سجدوں کے نشان ، عبادت کی کثرت اور تلاوت قرآن میں مشغول حال دیکھ کر متزلزل ہوگیا کہ ان سے جنگ کرنا کہیں ہماری غلطی نہ ہو کیونکہ یہ تو شریعت کے بڑے پابند ہیں ۔ وہ فرماتے ہیں کہ اگر مولیٰ علی شیر خدا کرم اللہ وجہہ الکریم کی زبان سے میں نے یہ نہ سنا ہوتا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی یہی نشانیاں بیان کرکے فرمایا ہے کہ یہ لوگ دین سے خارج ہوںگے۔ اگر یہ حدیث نہ سنی ہوتی تو ہم ان کے ظاہری حال کو دیکھ کر انہیں ولی سمجھتے۔ مگر بدعقیدگی اور تعظیم و ادبِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ ہونے کی وجہ سے ان کا دین برباد ہوگیا اور وہ دوزخ کا ایندھن بن گئے ۔ (طبرانی المعجم الاوسط جلد 4 صفحہ 227 رقم : 4651،چشتی)
گویا شیطان کے ایسے حملے بھی ہوتے ہیں کہ وہ بندوں کے ظاہری اعمال اسی طرح رہنے دیتا ہے مگر ان کی نیتوں ، عقائد اور اخلاق سیئہ میں فتنہ داخل کر دیتا ہے ۔ انہیں مغرور اور مکرزدہ کر دیتا ہے ۔ نتیجتاً ان کی عبادت ، عبادت نہیں رہتی ۔ اس لیے ضروری ہے کہ شیطان اور اس کے سارے حملوں کی پہچان پیدا ہو تاکہ ان حملوں سے بچنے کی سعی کی جاسکے ۔
شیطان انسان کو مقام و مرتبہ پر فائز ہونے سے کیسے کیسے روکتا ہے ؟ آئیے ایک اور واقعہ سے اس کے حملوں کا اندازہ لگاتے ہیں : ایک عبادت گزار ولی اللہ ایک دیوار کے سائے میں سوئے ہوئے تھے کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور ان کو جگا کر کہنے لگا کہ اللہ کے بندے دیوار گرنے لگی ہے جلدی سے یہاں سے اٹھ جا ۔ وہ دیوار سے تھوڑے ہی دور ہوئے تھے کہ دیوار گر گئی ۔ ولی اللہ نے اس شخص کو پکڑ لیا اور کہا مجھے اپنا تعارف کرا کہ تو میرا اتنا ہمدرد اور بہی خواہ کون ہے ؟ اس نے کہا میں ابلیس ہوں ۔ پوچھا : میرے ساتھ ہمدردی کیوں کی ؟ حالانکہ میری تو ساری زندگی تیرے ساتھ جنگ رہی ہے ۔ شیطان نے کہا کہ تجھ سے ہمدردی نہیں ہے ، اس لیے بچایا کہ اگر دیوار گرنے سے تیری موت واقع ہو جاتی تو اللہ کی بارگاہ میں تو شہید گردانا جاتا اور تیرا درجہ جنت میں شہداء تک جا پہنچتا ۔ میں تمہیں درجہ شہادت سے بچانا چاہتا تھا ۔ تمہیں راہ حق سے تو ہٹا نہ سکا ، اللہ کی عبادت سے روک نہ سکا ، مگر اتنا ہی کر لیا کہ شہادت کے درجے سے تمہیں روک لوں ۔
ہر نیک عمل کے پیچھے حسنِ نیت اور اخلاص کا ہونا ضروری ہے : ⏬
نیت اور عمل میں ایک خاص تعلق ہے اور کوئی بھی عمل حسنِ نیت کے بغیر قبولیت اور درجہ کمال کو نہیں پہنچتا ۔ اگر ہم زندگی میں کسی اچھے اور نیک کام کی نیت کریں لیکن بعد ازاں کسی رکاوٹ کے باعث نہ کرنے کے باوجود بھی ہمیں اس نیک نیت کا اجر مل جائے گا ۔ نیت خود ایک مطلوب عمل ہے ۔ یہ دل کا عمل ہے اور دل کے عمل کا درجہ جسمانی اعضاء کے اعمال سے زیادہ قوی ہوتا ہے ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ : إِذَا هَمَّ عَبْدِي بِحَسَنَةٍ وَلَمْ يَعْمَلْهَا كَتَبْتُهَا لَهُ حَسَنَةً ، فَإِنْ عَمِلَهَا كَتَبْتُهَا لَهُ عَشْرَ حَسَنَات إِلَى سَبْعِمَائَةِ ضِعفٍ ۔ (مسلم، الصحيح، 1: 117، رقم: 128، بيروت، لبنان: دار احياء التراث العربى)
ترجمہ : اگر کوئی شخص کسی نیک کام کی نیت کر لے لیکن کسی مجبوری کے باعث نہ کر سکے تب بھی اس کے نامہ اعمال میں ایک نیکی لکھی جائے گی اور اگر وہ عمل کر لے تو پھر اس عمل کے کرنے پر دس گنا اجر لکھا جاتا ہے ۔ ارشاد فرمایا : مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ اَمْثَالِهَا ’’ جو کوئی ایک نیکی لائے گا تو اس کے لیے (بطورِ اجر) اس جیسی دس نیکیاں ہیں ۔(سورہ الانعام آیت نمبر 166)
یہ نیکی کا کم سے کم اجر ہے ۔ ایک نیکی پر اجر کہاں تک بڑھتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ ، الْحَسَنَةُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعمِائَة ضِعْفٍ ، قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ : إِلَّا الصَّوْمَ ، فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ ۔
ترجمہ : ابن آدم کے ہر عمل میں روزے کے علاوہ نیکی کو دس سے سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بے شک روزہ میرے لیے ہے اور اس کی جزا میں خود دوں گا ۔(صحیح مسلم جلد 2 صفحہ 807 رقم : 1151،چشتی)
نیکیوں اور درجات کے کم و بیش ہونے کی وجہ حسنِ نیت ہے ۔ نیت عمل کے پیچھے ٹمٹاتے ہوئے چراغ کی مانند ہے ۔ نیت کا یہ چراغ جس قدر روشنی دے گا ، وہ عمل اسی قدر روشنی پا کر جگمگائے گا اور اجر و ثواب پائے گا ۔ کسی شخص کی نیت ٹمٹماتے ہوئے چراغ جیسی ہے ، کسی کی لالٹین جیسی ، کسی کی چراغ جیسی ، کسی کی بلب جیسی، کسی کی ٹیوب لائٹ جیسی ، کسی کی چاند جیسی اور کسی کی نیت سورج جیسی ہے ۔ الغرض جتنی روشنی اور نور کسی کی نیت میں ہے ، اسی قدر اس کے عمل کا ثواب بڑھتا جاتا ہے ۔ نیت کے اندر موجود خالصیت اور للہیت اس نیت کے نور ، قوت ، برکت ، قبولیت اور درجے کو بڑھانے کا سبب ہے ۔ جوں جوں نیت کی قوت بڑھتی چلی جاتی ہے توں توں عمل کا درجہ اور اجر و ثواب بھی بڑھتا چلا جاتا ہے ۔ اس کے برعکس اگر عمل میں دکھوا پایا جائے تو وہ محض ایک عمل بن جاتا اس کا اصل مقصد فوت ہو جاتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے : وَمَنْ يُّرِدْ ثَوَابَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَاج وَمَنْ يُّرِدْ ثَوَابَ الْاٰخِرَةِ نُؤْتِهِ مِنْهَا ۔
ترجمہ : اور جو شخص دنیا کا انعام چاہتا ہے ہم اسے اس میں سے دے دیتے ہیں، اور جو آخرت کا انعام چاہتا ہے ہم اسے اس میں سے دے دیتے ہیں ۔ (سورہ آل عمران آیت نمبر 145)
اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث مبارکہ میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ ، بے شک اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے ۔ (صحیح بخاری جلد 1 صفحہ 3 رقم : 1 بيروت لبنان دار ابن کثير اليمامة،چشتی)(صحیح مسلم جلد 3 صفحہ 1515 رقم : 1907)
ایک اور حدیث مبارکہ میں ہے کہ آقا علیہ السلام نے فرمایا : نِيَّةُ المُؤْمِنِ خَيْرٌ مِنْ عَمَلِهِ، وَعَمَلُ المُنَافِقِ خَيْرٌ مِنْ نِيَّتِهِ ۔
ترجمہ : مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے اور منافق کا عمل اس کی نیت سے بہتر ہے ۔(طبرانی المعجم الکبير جلد 6 صفحہ 185 رقم : 5942 الموصل مکتبه الزهراء)
یاد رکھیں ! نیت ایک میدان ہے جہاں شیطان کے حملے ہوتے رتے ہیں ۔ اگر نیت کے محاذ پر انسان جیت گیا اور شیطان شکست کھا گیا تو کیے گئے اعمال اللہ کی قربت کا باعث بن جاتے ہیں ۔ لیکن اگر نیت کے محاذ پر بندہ شکست کھا گیا اور شیطان جیت گیا تو سارے اعمال بیکار اور رائیگاں گئے ۔ لہٰذا پوری زندگی میں خیر اور شر کا مدار نیت پر ہے ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو جو اعلیٰ درجہ ملا ، ان کے ایمان کو دوسروں پر جو ترجیح ملی کہ وہ سب پر فوقیت لے گئے ، اس کی وجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان فرمائی کہ : ما فاق ابوبکر رضی الله عنه اصحاب محمد بصوم ولا صلوٰة ولکن بشیء کان فی قلبه ۔ (جامع العلوم والحکم زين الدين ابی الفرج جلد 2 صفحہ 361،چشتی)
حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو فضیلت اور اعلیٰ درجات ملنے کی وجہ کثرت صوم و صلوٰۃ نہیں ہے ۔ بلکہ وہ ایک خاص حالت اور کیفیت ہے جو ان کے دل کے اندر جاگزیں ہے اور وہ نیت صافیہ ہے ، صدقِ قلب ہے ۔ دل کی اس کیفیت اور صدق نے انہیں ایمان اور درجے میں اعلیٰ فضیلت دی ۔ اسی بنیادی چیز کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : إنما الأعمال بالنيات ، بے شک اعمال کی قبولیت اور اعمال کے کمال کا دارومدار نیتوں پر ہے ۔ (صحیح بخاری کتاب الايمان جلد 1 صفحہ 36 رقم : 54)
شر کی بنیاد نیت کی خرابی میں ہے اور زندگی میں خیر کی ابتداء بھی نیت کی اصلاح سے ہے ۔ جدھر بھی ہم شر دیکھتے ہیں وہاں بنیادی سبب نیت کی خرابی کی صورت میں نظر آتا ہے ۔ پاکستان کے حالات نہ سنورنے کی بنیادی وجہ بھی یہ ہے کہ مقتدر طبقہ کی نیتیں صحیح نہیں ہیں ۔ امت کی قیادت تباہ حال ہے ۔ جن کے ہاتھ میں زمام کار ہے ان کی نیتیں درست نہیں ہیں ۔ ان کے آقا و مولیٰ اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہیں بلکہ انہوں نے آقا و مولیٰ کسی اور کو بنا رکھا ہے اور ہوائے نفس کے پجاری ہیں ۔ اگر ہم اپنی انفرادی و اجتماعی زندگیوں کی اصلاح کے متمنی ہیں تو ہمیں اپنے اعمال کی بنیاد کی طرف متوجہ ہونا ہو گا ۔ نیت کو خالص کرنے سے ہی ہم اپنے اعمال کی سمت مثبت رکھتے ہوئے کامیابی کی طرف گامزن ہو سکتے ہیں ۔ مقدار زیادہ ظاہر کر کے عمل کے اجر و ثواب بڑھایا نہیں جا سکتا ۔ اگر خلوصِ نیت کے ساتھ کیے گئے عمل کی مقدار کم ہی کیوں نہ ہو وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں زیادہ اجر کا مستحق ہوتا ہے ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
No comments:
Post a Comment