Sunday, 28 July 2019

دیوبندیوں اور قادیانیوں کا عقیدہ امتی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ سکتا ہے

دیوبندیوں اور قادیانیوں کا عقیدہ امتی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ سکتا ہے




بانی دارالعلوم دیوبند مولوی محمد قاسم نانوتوی لکھتا ہے : انبیاء اپنی امت سے اگر ممتاز ہوتے ہیں تو علوم ہی میں ممتاز ہوتے ہیں باقی رہا عمل سو اس میں بسا اوقات بظاہر امتی مساوی ہو جاتے ہیں بلکہ بڑھ بھی جاتے ہیں ۔ (تحذیر الناس صفحہ نمبر 8 مطبوعہ دار الکتاب دیوبند)

مرزا غلام قادیانی کہتا ہے : یہ بالکل صحیح ہر شخص ترقی کر سکتا ہے حتیٰ کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی بڑھ سکتا ہے ۔ (اخبار الفضل قادیان جلد 10 ، 1922)

مرزا غلام قادیانی کہتا ہے : یہ بالکل صحیح ہر شخص ترقی کر سکتا ہے حتیٰ کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی بڑھ سکتا ہے ۔ (ثبوت حاضر ہیں جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 163 بحوالہ اخبار الفضل قادیان جلد 10 ، 1922،چشتی)

علماءِ دیوبند کا متفقہ فتویٰ : ہمارا اور ہمارے اکابر کا عقیدہ ہے کہ سیدنا و مولانا شفیعنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام مخلق سے افضل ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے برابر تو کیا کوئی قریب نہیں ہو سکتا آپ سردار ہیں جملہ انبیاء و رسل علیہم السلام کے ۔ (المھند صفحہ 49 از خلیل احمد انبیٹھوی)

محترم قارئینِ کرام : اس عبارت میں نانوتوی صاحب نے انبیاء علیہم السّلام کا اپنی امت سے ممتاز ہونا صرف علم میں منحصر فرمایا ہے ۔ باقی رہے اعمال تو ان میں امتی کے مساوی ہو جانے بلکہ بڑھ جانے کو بھی تسلیم کر لیا ہے اور لفظ ’’بظاہر‘‘ محض بظاہر ہے ۔ کیونکہ لفظ ’’ہی‘‘ کے ساتھ حصر ہو چکا جس میں ماسوا مذکور کی نفی ہوتی ہے تو اس کے ضمن میں امتیاز فی العمل کی نفی ہو چکی ۔ اب لفظ ’’بظاہر‘‘ سے کیا فائدہ ہوا ؟ یہاں یہ لفظ ’’بظاہر‘‘ ایسا ہی مہمل اور بے معنی ہے ۔

ہمیں الزام دینے والے اپنے گریباں میں منہ ڈالیں : ⏬

لوگ ہم پر الزام عائد کرتے ہیں کہ یہ لوگ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں حدود شرعی کتاب و سنت کے ارشادات و علمائے امت کی تصریحات سے بے نیاز ہو کر جو کچھ ان کے دل میں آتا ہے کہہ دیا کرتے ہیں اور کبھی اس بات کا خیال نہیں کرتے کہ قرآن و حدیث اور سلف صالحین علیہم الرّحمہ نے اس مسئلہ میں کیا فیصلہ کیا ہے لیکن میں بتانا چاہتا ہوں کہ ہمیں موردِ الزام قرار دینے والے ذرا اپنے گریبانوں میں منہ ڈال کر دیکھیں کہ ان کے سب سے بڑے مقتدا (بزعم ایشاں قاسم العلوم والخیرات) نانوتوی صاحب نے کیا گل کھلائے ہیں ۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ تحذیر الناس لکھتے وقت نانوتوی صاحب کے پیش نظر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے فضل و کمال کے اثبات سے زیادہ اپنے کمال علمی کا اظہار تھا جس کا نتیجہ ان اغلاط کی صورت میں ظاہر ہوا ۔ پرستارانِ تحذیر کے اس ادعا سے اختلاف کرنے کی ہمیں کوئی ضرورت نہیں کہ نانوتوی صاحب نے یہ رسالہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کمالِ فضل کو ثابت کرنے کی غرض سے لکھا ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ غرض پوری بھی ہوئی یا نہیں ۔ میں عرض کروں گا کہ ہرگز یہ غرض پوری نہیں ہوئی ۔ نانوتوی صاحب نے اپنے قیاساتِ فاسدہ کو معیار فضیلت سمجھا ہے جس کی بنا پر ختم ذاتی کی دور از کار تاویل میں انہیں جانا پڑا اور نبوت کی تقسیم بالذات اور بالعرض کی جرأت عظیمہ سے کام لینے پر وہ مجبور ہوئے ۔ حقیقت یہ ہے کہ فضیلت صرف اس وصف میں ہے جس کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے موجب فضیلت قرار دیا ۔ قرآن و حدیث کو لاکھ بار پڑھ جایئے ختم ذاتی اور نبوت بالذات کا کوئی ذکر آپ کو نہ ملے گا ۔ نہ عہد رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لے کر آج تک کسی مفسر و محدث یا متکلم و مجتہد رحمۃ اللہ علیہ نے ان باتوں کا ذکر کیا ۔ جس چیز کو قرآن و حدیث اور سلف صالحین علیہم الرّحمہ نے فضیلت قرار نہیں دیا ۔ نانوتوی صاحب اسے مدارِ فضیلت اور بنائے خاتمیت قرار دیتے ہیں ۔ یہ کتاب و سنت و ارشادات سلف صالحین کی طرف سے آنکھیں بند کر کے حدودِ شرع سے تجاوز کرنا نہیں تو اور کیا ہے ؟ ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

No comments:

Post a Comment

امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ اور اصلاح مساجد

امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ اور اصلاح مساجد محترم قارئینِ کرام : امام عشق و محبت مجدد دین و ملت ، اعلیٰ حضرت الحاج الشاہ ام...