امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ اور اشرف علی تھانوی نے ایک ساتھ پڑھا کا جواب
محترم قارئین کرام : اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش 1272 ھجری میں ہوئی اور فارغ التحصیل ہوکر 1286 ھجری میں مسند افتاء پر رونق افروز ہوئے یعنی چودہ سال کی عمر میں فتوے دینا شروع کر دیے ۔ اور تھانوی 1280 ھجری میں پیدا ہوا دیوبند میں داخلہ 1295 ھجری میں لیا اور 20 سال بعد فارغ ہوئے اس وقت تک اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ 100 کتابیں لکھ چکے تھے ، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ فراغت علم کے بعد مفتی بن گئے ، اس وقت تھانوی کے کھیلنے کودنے کے دن تھے جھوٹ بولنے سے شرم کرو ۔ بعض انتشار پسند حضرات بغیر تحقیق کے بڑے زور و شور سے یہ پروپیگنڈہ پھیلاتے نہیں تھکتے کہ بریلویوں کے امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ اور اشرف علی تھانوی نے دیوبند کے ایک ہی مدرسے میں ایک ساتھ تعلیم حاصل کی اور دوران تعلیم کسی دینی مسئلہ میں ان دونوں کا اختلاف ہو گیا تو امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ اشرف علی تھانوی سے حسد کرنے لگے اور بریلی میں اعلیٰ حضرت نے اپنا الگ مدرسہ کھول کر ایک نئے فرقہ (بریلویت) کی بنیاد رکھی ۔ اب قارئین کرام تحریر کو پڑھیں اور اس پروپیگنڈہ کی حقیقت دیکھیں کیا واقعی امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ اور اشرف علی تھانوی نے ایک ساتھ تعلیم حاصل کی ؟ ۔ امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ اور مولوی اشرف علی تھانوی کے تعلق سے یہ جو افسانہ بیان کیا جاتا ہے کہ مذکورہ دونوں شخصیات نے ایک ساتھ دارالعلوم دیوبند میں تعلیم حاصل کی اور دورانِ طالب علمی مولوی اشرف علی تھانوی سے کسی علمی مسٔلہ میں اختلاف کی بنا پر امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ نے دارالعلوم دیوبند سے کنارہ کشی اختیار کرلی اور بریلی میں آ کر ایک مدرسہ قائم کیااور اس طرح سنی دیوبندی اختلاف کی بنیاد پڑی ۔ بغیر کسی مستحکم دلیل کے بس کانوں ہی کانوں میں مذکورہ باتیں ایک طبقہ کی طرف سے مسلسل پھیلائی جاتی رہی ہیں ۔ لیکن جب ہم تاریخ پر نظر ڈالیں حقائق کا پتا لگائیں تو اس کی ہمیں کوئی اصل نہیں ملتی ۔ بلکہ یہ بھی ان بے شمار من گھڑت اور مذموم پروپیگنڈہ کا ایک حصہ نظر آتا ہے جس کے پیش نظر صرف ایک ہی مقصد کارفرما ہے کہ امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت کو مجروح کیا جاۓ ۔ یاد رہے کہ امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ اور مولوی اشرفعلی تھانوی نے دارالعلوم دیوبند میں ایک ساتھ تعلیم حاصل کی اس خود ساختہ اور من گھڑت افسانے کا حقیقت و صداقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے ۔ آئیے سب سے پہلے یہ دیکھیں کہ دونوں کی تاریخ پیدایش اور عمروں میں کیا فرق ہے ؟
پیدائش امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ 10 شوال 1272ھ ۔ (حیات اعلیٰ حضرت)
اور اشرف علی تھانوی 5 ربیع الثانی 1280ھ (اشرف السوانح)
تعلیم کا آغاز امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ ماہ صفر 1276ھ ۔ (حیات اعلیٰ حضرت)
اور اشرف علی تھانوی ماہ ذیقعدہ 1295ھ ۔ (اشرف السوانح)
تعلیم کی تکمیل امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ 14شعبان 1286ھ ۔ (حیات اعلیٰ حضرت)
اور اشرف علی تھانوی 1301ھ ۔ (اشرف السوانح)
امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ 1286ھ میی تمام علوم عقلیہ و نقلیہ کے تکمیل کر کے مسند افتاء پر فایز ہوچکے تھے ۔ تب اشرف علی تھانوی صرف 6 سال کا بچہ تھا ۔ نیز تھانوی1301ھ میی دارالعلوم دیوبند سے فارغ التحصیل ہوا تھا ۔ تب امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ کے علم کی تکمیل کو 15 سال کا عرصہ گزر چکا تھا ۔
دارالعلوم دیوبند کا قیام 15 محر الحرام 1283ھ محلّہ چھتہ کی پرانی مسجد میی انار کے درخت کے نیچے صرف ایک استاد اور ایک شاگرد سے ہوا ۔ ( تاریخ دارالعلوم دیوبند) ۔ تب امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ بریلوی شریف میی اپنے مکان پر ایک جلیل القدر اساتزہ کرام سے اعلیٰ درجہ کی تعلیم کرنے کی آخری منزل میی تھے ۔
دارالعلوم دیوبند کی پہلی عمارت کا سنگ بنیاد 2 ذی الحجہ 1292ھ کو رکھا گیا اور آٹھ سال کی مدت میی یعنی 1300ھ میی نودرہ نامی پہلی عمارت کی تعمیر مکمل ہوٸی ۔ (تاریخ دارالعلوم دیوبند) ۔ تب امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ کو بحشییت مفتی دینی خدمات انجام دینے کو 14 سال کا عرصہ گزر چکا تھا ۔
دارالعلوم دیوبند کے مطبخ mess کا آغاز دارالعلوم پڑھنے والے بیرونی طلبہ جو دارالاقامہ میں ٹھہرتے تھے ان کے کھانے پینے کا انتظام بصورت مطبخ 1328ھ میی کیا گیا ۔ (تاریخ دارالعلوم دیوبند) ۔ تب امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ مجدد اعظم کے شان سے پورے عالمِ اسلام کے محبوب نظر بن کر خورشیدِ علم و عرفان کی حشییت سے درخشاں تھے اور علم کی تکمیل کو 42سال کا عرصہ گزر چکا تھا ۔
علامہ ظفرالدین بہاری رحمۃ اللہ علیہ حیات اعلیٰ حضرت (ناشر قادری بک ڈپو بریلی) کی پہلی جلد کے صفحہ نمبر ۱۱ پر رقمطراز ہیں : مولوی احمدرضا خاں صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ نے بتاریخ ۱۰ ماہ دہم یعنی شوال المکرم بروز دوشنبہ ۱۲۷۲ ہجری عرصۂ دنیا میں قدم مبارک رکھا ۔
اسی طرح مولوی اشرف علی تھانوی کے خلیفۂ خاص خواجہ عزیز الحسن اشرف السوانح (ناشر مکتبۂ تالیفاتِ اشرفیہ تھانہ بھون) کی جلد اول صفحہ نمبر ۱۶ پر لکھتے ہیں کہ : حضرت والا کی ولادتِ باسعادت ۵ ربیع الثانی ۱۲۸۰ ہجری کو چہار شنبہ کے دن بوقت صبح صادق ہوئی ۔
دونوں شخصیات کی تاریخ پیدائش سے علم ہوتا ہے کہ امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ کی عمر مولوی اشرف علی تھانوی سے ساڑھے آٹھ سال زیادہ ہے ۔ ہم امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں معلوم کریں کہ کن اساتذہ سے انھوں نے علوم و فنون کی تکمیل کی اس بابت معلومات فراہم کرتے ہوۓ امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ کے اولین سوانح نگار مولانا ظفرالدین بہاری رحمۃ اللہ علیہ حیات اعلیٰ حضرت جلد اول کے صفحہ ۱۱ پر لکھتے ہیں کہ : اعلیٰ حضرت الشاہ مولانا احمدرضا نے بریلی شریف میں اپنے مکان پر والد ماجد ریٔس الاتقیا علامہ نقی علی خاں رحمۃ اللہ علیہ اپنے جد امجد مولانا رضا علی خاں رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت غلام عبدالقادر بیگ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ سے صرف ۱۴ سال کی عمر میں یعنی ۱۲۸۶ ہجری میں علوم کی تکمیل کرلی اور اسی سال ۱۲۸۶ ہجری میں آپ مسند افتا پر جلوہ افروز ہوۓ ۔
اب آئیے مولوی اشرفعلی تھانوی کے سوانح نگار سے ملیے خواجہ عزیز الحسن اشرف السوانح جلداول صفحہ نمبر ۲۴ باب نمبر ۱۶ پر لکھتے ہیں کہ : حضرت والا نے ۱۵ سال کی عمر کے بعد ۱۲۹۵ہجری میں دارالعلوم دیوبند میں حصول تعلیم کے لیے داخلہ لیا اور ۱۳۰۱ہجری میں فارغ التحصیل ہوۓ ۔
محترم قارٸینِ کرام : غور کیجیے کہ ۱۲۸۶ ہجری میں امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ جب مسند افتا پر بیٹھ کر عالمِ اسلام سے اپنے علم کا لوہا منوارہے تھے اور لوگوں کے استفتا کے جوابات عنایت کر رہے تھے اس وقت تھانوی صاحب کی عمر صرف ۶ سال تھی اور اپنی عمر کے پندرہ سال کے بعد انہوں نے دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیا ۔
فقیر چشتی یہاں پر ایک اور بات واضح کرنا چاہتا ہے کہ امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ ۱۳۰۰ہجری تک پچہتر کتابیں تصنیف کر چکے تھے ۔ علامہ ظفرالدین بہاری رحمۃ اللہ علیہ حیات اعلیٰ حضرت جلداول صفحہ نمبر ایک سوبیس پر لکھتے ہیں کہ : ماہ جمادی الآخر ۱۳۰۰ ہجری میں مفضلہ بریلی ، بدایوں ، سنبھل ، رام پور وغیرہ نے متفقہ طریقہ سے مسٔلہ تفضیل میں اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ سے مناظرہ کیا ۔۔۔۔ اس وقت تک پچہتر کتابیں تصنیف فرما چکے تھے ۔
غور کریں کہ جب مولوی اشرفعلی تھانوی ۱۳۰۱ہجری میں فارغ التحصیل ہی ہوۓ تھے تب امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ ۷۵ کتابوں کے مصنف کی حیثیت سے افق علوم اسلامیہ پر چمک رہے تھے ۔ ان تمام حقایق سے یہ واضح ہو جا تا ہے کہ امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ نے دینی علوم کی تحصیل اور تکمیل بریلی ہی میں فرماییٔ اور ان کا دارالعلوم دیوبند سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے ۔ اگر ایسا ہوتا تو کم از کم دیوبند کے ریکارڈ یا کتاب تاریخ دارالعلوم دیوبند میں تو اس کاذکر ملتا ۔
مندرجہ بالا تاریخی حقایق و شواہد کے بعد بھی یہ کہنا کہ مولوی اشرفعلی تھانوی اور امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ دونوں ہم سبق تھے گویا سورج کو ظلمت ، پھول کو بدبو ، چاند کو گرمی ، سمندر کو خشکی ، بہار کو پت جھڑ ، صبا کو صر صر ، پانی کو حدت ، ہوا کو حبس اور حکمت کو جہالت کہنے کے مترادف ہے ۔
پاپوش میں لگایٔی کرن آفتاب کی
جو بات کی خدا کی قسم لاجواب کی
لہٰذا محترم قارین کرام کی خدمت میی مودبانہ عرض ہے کہ امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ اور تھانوی دارالعلوم دیوبند میی ہم سبق اور ہم جماعت ہونے کے ساتھ ساتھ دارالافتا میی ایک ساتھ رہتے تھے یہ ایک ایسا گھنونا جھوٹ ہے کہ تاریخ کو بھی مسخ کرنی کی کوشش کی جارہی ہے ۔ اپنے عقاٸدِ باطلہ پر امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ کی علم گرفت کو ڈھیلی کرنے کی عرض سے دورِ حاضر کے منافقین عوام میی یہ جھوٹی کہانی راٸج کر رہے ہیی کہ امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ اور تھانوی دیوبند میی ایک ساتھ پڑھتے تھے رہتے تھے کھاتے تھے اور دوراب طالب علمی ان دونوں میی جگڑا ہوا گیا لہٰذا امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ نے تھانوی اور دیگر اکابر علماء دیوبند پر کافر کا فتویٰ صادر کر دیا اور تعلیم ادھوری چھوڑ کر دیوبند سے بریلوی واپس چلے گے اور یہی اصلی وجہ سنی اور وہابی کے اختلاف کی ہے ۔ لیکن اگر خود دیوبندی مکتبہ فکر کی مستند کتابوں کا جاٸزہ لیا جاۓ تو تاریخ کی روشنی میی یہ حقیقت روز روشن کی طرح سامنے آۓ گی کہ
تھانوی کا امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ پڑھنا ایک غیر ممکن تصور ہی ہے کیونکہ جب امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ تکمیل علومِ دینیہ کے بعد ایک عظیم مفتی کی حشییت سے خدمتِ دین متین میی ہمہ تن مصروف تھے اس وقت تھانوی بلکل جاہل تھے اور جہالت کے اندھیرے میی بھٹکنے بعث ایسی ایسی حرکتیی کرتے تھے کہ وہ حرکتیی دیکھ کر ایک جاہل بلکہ فٹ پاٹھ کے موالی کا بھی سر شرم سے جھک جاۓ اس کی چند جھلکیاں پڑھیں اور سوچیں : ⏬
1 : تھانوی نے اپنے والد کی چارپائی کے پائی رسی سے باندھ دے نتیجاً برسات میی چارپائیاں بھیگتی گٸیں ۔ (الافاضات الیومیہ)
2 : تھانوی نے اپنے بھائی کے سر پر پیشاب کیا ۔ (الافاضات الیومیہ)
3 : مسجد کے نمازیوں کے جوتے تھانوی نے شامیانہ پر ڈال دے ۔ (الافاضاتالیومیہ)
4 : تھانوی نے اپنے سوتیلے ماموں کی دال کی رکابی میی کتے کا پلہ ڈال دیا ۔ (الافاضاتالیومیہ)
کیا اب بھی یہ دعویٰ ہے کہ امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ اور تھانوی نے ایک ساتھ پڑھا تھا ہرگز نہیں ان دونوں کا ایک ساتھ پڑھنا ممکن ہی نہیں بلکہ ساتھ میی پڑھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اختتام پر صرف اتنا عرض کرنا ہے کہ : ⏬
نہ تم صدمے ہمیی دیتے نہ ہم فریاد یوں کرتے
نہ کھلتے راز بستہ نہ یوں رسوائیاں ہوتیں
حاصل کلام یہ ہے کہ : امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ اور تھانوی دارالعلوم دیوبند میی ہم سبق اور ہم جماعت ہونے کے ساتھ ساتھ دارالاقامت میی ایک ساتھ رہتے تھے یا کسی دوسرے مدارس میں ایک ساتھ تعلیم حاصل کی جھوٹ ہے ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

No comments:
Post a Comment