Thursday, 2 June 2022

چور مرد یا عورت ہاتھ کاٹ دو

چور مرد یا عورت ہاتھ کاٹ دو
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام ارشادِ باری تعالیٰ ہے : وَالسَّارِقُ وَ السَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْۤا اَیْدِیَهُمَا جَزَآءًۢ بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِّنَ اللّٰهِؕ - وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ ۔ (سورہ الماٸدہ 38)
 ترجمہ : اور جو مرد یا عورت چور ہو تو اللہ کی طرف سے سزا کے طور پر اُن کے عمل کے بدلے میں اُن کے ہاتھ کاٹ دو اور اللہ غالب حکمت والا ہے ۔

اس آیت میں چور کی سزا بیان کی گئی ہے کہ شرعی اعتبار سے جب چوری ثابت ہوجائے تو چور کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا ۔

چوری گناہِ کبیرہ ہے اور چور کےلیے شریعت میں سخت وعیدیں ہیں ۔

حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ سے روایت ہے ، نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا : چور چوری کرتے وقت مؤمن نہیں رہتا ۔ (مسلم کتاب الایمان باب بیان نقصان الایمان بالمعاصی ۔ الخ صفحہ ۴۸ الحدیث ۱۰۰)

حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ سے روایت ہے ، نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا : اگر اس نے ایسا کیا (یعنی چوری کی) تو بے شک اس نے اسلام کا پٹہ اپنی گردن سے اُتار دیا پھر اگر اس نے تو بہ کی تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی تو بہ قبول فرما لے گا ۔(نسائی کتاب قطع السارق تعظیم السرقۃ صفحہ نمبر ۷۸۳، الحدیث: ۴۸۸۲،چشتی)

چوری کی تعریف

سَرِقَہْ یعنی چوری کا لغوی معنی ہے خفیہ طریقے سے کسی اور کی چیز اٹھا لینا ۔ (ہدایہ کتاب السرقۃ ، ۱ / ۳۶۲)

جبکہ شرعی تعریف یہ ہے کہ عاقل بالغ شخص کا کسی ایسی محفوظ جگہ سے کہ جس کی حفاظت کا انتظام کیا گیا ہو دس درہم یا اتنی مالیت (یا اس سے زیادہ) کی کوئی ایسی چیز جو جلدی خراب ہونے والی نہ ہو چھپ کر کسی شبہ و تاویل کے بغیر اٹھا لینا ۔ (فتح القدیر، کتاب السرقۃ، ۵ / ۱۲۰)

چوری کے ثبوت کے دو طریقے ہیں (1) چور خود اقرار کر لے اگرچہ ایک بار ہی ہو ۔ (2) دو مرد گواہی دیں ، اگر ایک مرد اور دو عورتوں نے گواہی دی تو ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ۔

قاضی گواہوں سے چند باتوں کا سوال کرے ، کس طرح چوری کی ، اور کہاں کی ، اور کتنے کی کی ، اور کس کی چیز چرائی ؟ جب گواہ ان امور کا جواب دیں اور ہاتھ کاٹنے کی تمام شرائط پائی جائیں تو ہاتھ کاٹنے کا حکم ہے ۔

حدود و تعزیر کے مسائل میں عوامُ النّاس کو قانون ہاتھ میں لینے کی شرعاً اجازت نہیں ۔

فَمَنۡ تَابَ مِنۡۢ بَعۡدِ ظُلۡمِهٖ وَاَصۡلَحَ فَاِنَّ اللّٰهَ يَتُوۡبُ عَلَيۡهِؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ۔ (سورہ المائدة آیت نمبر 39)
ترجمہ : پھر جس نے اپنے ظلم کرنے کے بعد توبہ کرلی اور اپنی اصلاح کرلی تو بیشک اللہ اس کی توبہ قبول فرمائے گا ۔ بیشک اللہ بہت بخشنے والا بےحد رحم فرمانے والا ہے ۔

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے بتلایا تھا کہ ڈاکو کے ہاتھ اور پیر کاٹ دیئے جائیں اور اس آیت میں چور کے بھی ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا ہے اور حدیث میں ہے کہ دوسری چوری پر اس کا پیر کاٹ دیا جائے گا۔ حضرت علی بن ابی طالب نے فرمایا جب کسی شخص نے چوری کی تو اس کا دایاں ہاتھ کاٹ دیا جائے گا اور اگر دوبارہ چوری کی تو اس کا بایاں پیر کاٹ دیا جائے گا۔ (کتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشیبانی ‘ ص ١٣٨) 
دوسری وجہ یہ ہے کہ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے انسان کی جان کی اہمیت بیان کی تھی کہ ایک انسان کو قتل کرنا اللہ کے نزدیک گویا تمام انسانوں کو قتل کرنا ہے پھر فرمایا کہ اگر یہی انسان ڈاکہ ڈالے تو اس کو قتل کردیا جائے گا ۔
 
سرقہ کا لغوی معنی : علامہ جمال الدین ابن منظور افریقی متوفی ٧١١ ھ لکھتے ہیں : اہل عرب چور اس شخص کو کہتے ہیں جو کسی محفوظ جگہ میں چھپ کر جائے اور مال غیر لے کر چلا جائے۔ مگر وہ چھپ کرلینے کے بجائے کھلم کھلا لے تو وہ اچکا اور لٹیرا (مختلس اور منتھب) ہے اور اگر زبردستی چھینے تو غاصب ہے (لسان العرب ‘ ج ١٠ ص ١٥٦‘ مطبوعہ نشرادب الحوذہ ‘ قم ‘ ایران ‘ ١٤٠٥) 
سرقہ کا اصطلاحی معنی : علامہ کمال الدین محمد بن عبدالواحد بن ہمام حنفی متوفی ٨٦١ ھ لکھتے ہیں : عاقل بالغ کسی ایسی محفوظ جگہ سے کسی کے دس درہم (یا اس سے زیادہ) یا اتنی مالیت کی کوئی چیز چھپ کر بغیر کسی شبہ اور تاویل کے اٹھالے ‘ جس جگہ کی حفاظت کا انتظام کیا گیا ہو ‘ درآنحالیکہ وہ چیز جلدی خراب ہونے والی ہو تو وہ سرقہ (چوری) ہے۔ (فتح القدیر ج ٥ ص ‘ ٣٣٩‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)

شان نزول : امام ابو الحسن علی بن احمد واحدی متوفی ٤٦٨ ھ لکھتے ہیں : یہ آیت طعمہ بن ابیرق کے متعلق نازل ہوئی ہے جس نے زرہ کی چوری تھی اس کی تفصیل ہم النساء : ١٠٥ میں بیان کرچکے ہیں۔ (اسباب النزول ‘ ص ١٩٧‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت)
علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں بھی چور کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا تھا ‘ زمانہ جاہلیت میں جب کا سب سے پہلے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا گیا ‘ وہ ولید بن مغیرہ تھا ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اسلام میں بھی ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا ۔ اسلام میں جس چور کا سب سے پہلے مردوں میں نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ہاتھ کاٹا ‘ وہ خیار بن عدی بن نوفل بن عبد مناف تھے ‘ اور عورتوں میں جس چور کے سب سے پہلے ہاتھ کاٹے گئے ‘ وہ مرہ بنت سفیان بن عبدالاسد تھیں۔ ان کا تعلق بنو مخزوم سے تھا۔ حضرت ابوبکر نے ایک شخص کا ہاتھ کا ٹا جس نے ہار چرایا تھا۔ حضرت عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے عبدالرحمن بن سمرہ کے بھائی کا ہاتھ کاٹا تھا ‘ ان واقعات میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن ‘ ج ٣ ص ١١١‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)

چور کا ہاتھ کاٹنے کی حکمت : اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل اور احسان ہے کہ اس نے چور کا ہاتھ کاٹنے کی حد مقرر فرما کر مسلمانوں کے اموال کو محفوظ کردیا اور اگر کوئی شخص اچک کر کوئی چیز لے جائے یا لوٹ کرلے جائے یا غصب کرے ‘ تو اس پر حد مقرر نہیں (ہر چند کہ اس میں تعزیر ہے) کیونکہ یہ جرائم چوری کی بہ نسبت معمولی ہیں اور ان کے خلاف گواہ قائم کیے جاسکتے ہیں اور گواہوں کے ذریعہ عدالت سے اپنا حق آسانی سے وصول کیا جاسکتا ہے۔ اس کے برخلاف چورچھپ کر مال لے جاتا ہے ‘ لہذا اس پر گواہی قائم کرنا مشکل ہے ‘ اس لیے اس کی سزا سخت رکھی ‘ تاکہ اس سزا کو دیکھ کر دوسرے لوگ عبرت پکڑیں اور چوری کرنے سے باز رہیں اور مسلمانوں کے اموال محفوظ رہ سکیں ۔ 
بعض علماء نے یہ فتوی دیا ہے کہ اگر چور کا ہاتھ کاٹنے کے بعد اس کو فوراً جوڑ دیا جائے تو یہ جائز ہے لیکن یہ فتوی صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے چور کے ہاتھ کاٹنے کو فرمایا ہے ‘ یہ اللہ کی طرف سے عبرت ناک تعزیر ہے ‘ اگر چور کا ہاتھ جوڑ دیا گیا ‘ تو پھر یہ عبرت نہیں رہے گا اور یہ قرآن مجید کے صریح خلاف ہے ‘ اس کی مکمل بحث ہم نے شرح صحیح مسلم جلد رابع میں کی ہے۔ 
ایک بحث یہ ہے کہ چور ہاتھ سے چوری کرتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے ‘ تو زانی جب زنا کرتا ہے تو اس کا آلہ تناسل کیوں نہیں کاٹا جاتا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ چور کا جب ایک ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے ‘ تو اس کا دوسرا ہاتھ موجود ہوتا ہے جس سے وہ کام کاج کرسکتا ہے ‘ جبکہ زانی کے پاس دوسرا آلہ نہیں ہوتا۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ حدود اس لیے مقرر کی گئی ہیں کہ لوگ دیکھ کر عبرت پکڑیں۔ کٹا ہوا ہاتھ تو دکھائی دیتا ہے ‘ اور آلہ مستور ہوتا ہے۔ تیسرا جواب یہ ہے کہ آلہ تناسل کاٹ دینے سے فروغ نسل کا سلسلہ منقطع ہوجائے گا ‘ اور ہاتھ کاٹنے میں یہ خطرہ نہیں ہے۔ 
دوسری بحث یہ ہے کہ زنا کی سزا میں جرم تو صرف ایک جز نے کیا ہے ‘ اور کوڑوں یا رجم کی شکل میں سزا پورے جسم کو ملتی ہے ‘ اس کی کیا وجہ ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ زنا کرنے سے پورا جسم لذت حاصل کرتا ہے اس لیے پورے جسم کو سزا دی جاتی ہے۔

حجیت حدیث پر دلیل : اس آیت میں کئی وجوہ سے اجمال ہے۔ اول : یہ کہ مطلقا چوری کرنے پر حد واجب نہیں ہوتی۔ مثلا ایک پیسہ یا روپیہ چرانے پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ‘ بلکہ ایک معین مقدار کی چوری پر ہاتھ کاٹا جائے گا اور اس آیت میں اس مقدار کا بیان نہیں ہے۔ ثانیا : اس آیت میں ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا ہے اور ہاتھ کا اطلاق انگلیوں پر ‘ ہتھیلی پر ‘ پہنچے تک ‘ کلائی کے وسط تک ‘ کہنی تک اور بازو تک ‘ پر ہاتھ کا اطلاق ہوتا ہے۔ ثالثا : اس آیت میں یہ بیان نہیں ہے کہ ہاتھ کاٹنے کا حکم امت کے عام افراد کو یاد گیا ہے ‘ یا یہ حکم صرف مسلمان حاکم کےلیے ہے ۔ ان تمام امور کا بیان نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سنت اور احادیث میں ہے ‘ اس سے معلوم ہوا کہ احادیث کے بغیر قرآن مجید کے معنی کو سمجھنا اور اس کے حکم پر عمل کرنا ممکن نہیں ہے۔ 
حد سرقہ کے نصاب میں امام شافعی کا نظریہ : امام ابو عبداللہ محمد بن ادریس شافعی متوفی ٢٠٤ ھ لکھتے ہیں : جب چور کسی چیز کو چرائے تو اس چیز کی قیمت کا اس دن سے لحاظ کیا جائے گا ‘ جس دن اس نے چوری کی تھی۔ اگر اس کی قیمت چوتھائی دینار کو پہنچ گئی تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا ‘ ورنہ اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ (الام ‘ ج ٦‘ ص ١٤٧‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٢٠٤ ھ) 
امام شافعی کا استدلال اس حدیث سے ہے ۔ امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ عَنْہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ میں ہاتھ کاٹ دیا جائے گا ۔ (صحیح البخاری ‘ ج ٧‘ رقم الحدیث :‘ ٦٧٨٩‘ صحیح مسلم ‘ حدود ١‘ (١٦٨٤) ٤٣١٩) سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث :‘ ٤٣٨٣‘ سنن نسائی ‘ ج ٨‘ رقم الحدیث :‘ ٤٩٤٩‘ مسند احمد ‘ ج ٩‘ رقم الحدیث :‘ ٢٣١٣٤‘ سنن کبری للبیہقی ‘ ج ٨‘ ص ٢٥٤‘ موطا امام مالک ‘ رقم الحدیث :‘ ١٥٧٥‘ مصنف ابن ابی شیبہ ‘ ج ٩‘ ص ٤٧٠‘ صحیح ابن حبان ‘ ج ١٠‘ رقم الحدیث :‘ ٤٤٦٢‘ مسند حمیدی ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٧٩‘ مسند الشافعی ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٨٣‘ شرح السنہ للبغوی ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٥٩٥،چشتی) ۔ واضح رہے کہ چوتھائی دینار تین درہم کے مساوی ہے ۔ 
امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں : حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ عَنْہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا چوتھائی دینار میں ہاتھ کاٹو اور اس سے کم میں نہ کاٹو ‘ اور ان دنوں میں چوتھائی دینار تین درہم کے برابر تھا اور دینار بارہ درہم کا تھا اور اگر چوری چوتھائی درہم سے کم ہوتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹنے کا نہ کہتی۔ 
(علامہ احمد شاکر نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے ‘ مسند احمد ‘ (مسند احمد بتحقیق احمد شاکر ‘ ج ١٧‘ رقم الحدیث : ٢٤٣٩٦۔ ٢٣٩٦٠‘ طبع قاہرہ) 
حد سرقہ کے نصاب میں امام مالک کا نظریہ : امام سحنون بن سعید التنوخی مالکی متوفی ٢٥٦ ھ لکھتے ہیں : میں نے امام مالک سے پوچھا یہ بتائیے کہ اگر کوئی شخص آج تین درہم کی چوری کرے اور وہ چوتھائی دینار کے برابر آج نہ ہوں کیونکہ دینار کی قیمت بڑھ گئی ہو تو کیا آپ کے قول کے مطابق اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ امام مالک نے فرمایا ہاں اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا ‘ جبکہ اس نے اس دن تین درہم کی مالیت کی چوری کی ہو۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین درہم کی چوری میں ہاتھ کاٹ دیا اور حضرت عثمان (رض) نے تین درہم کی چوری میں ہاتھ کاٹ دیا۔ (المدوۃ الکبری ‘ ج ٦‘ ص ٢٦٥‘ مطبوعہ مطبعہ السعادۃ ‘ مصر ١٣٢٣ ھ) 
امام مالک کی دلیل یہ حدیث ہے : 
امام مالک بن انس اصبحی متوفی ١٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہُ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ایک ڈھال کی چوری میں ہاتھ کاٹ دیا جس کی قیمت تین درہم تھی ۔ (الموطا امام مالک ‘ رقم الحدیث :‘ ١٥٧٢‘ مسند الشافعی ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ٨٣‘ صحیح البخاری ‘ ج ٧‘ رقم الحدیث :‘ ٧٦٩٥‘ صحیح مسلم ‘ حدود ‘ ٦‘ (٦٨٦) ٤٣٢٧‘ سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث :‘ ٤٣٨٥‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث :‘ ١٤٥١‘ سنن نسائی ‘ ج ٨‘ رقم الحدیث :‘ ٤٩٢١‘ مسند احمد ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٥٣١٠‘ صحیح ابن حبان ‘ ج ١٠‘ رقم الحدیث :‘ ٤٤٦٣‘ سنن کبری للبیہقی ‘ ج ٣‘ ص ١٩٠‘ سنن دارقطنی “ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٣٣٨٥‘ سنن کبری للبیہقی ‘ ج ٨ ص ٢٥٦‘ شرح السنہ للبغوی رقم الحدیث ٢٥٩٦،چشتی) 
حد سرقہ کے نصاب میں امام احمد بن حنبل کا نظریہ : علامہ موفق الدین عبداللہ بن احمد بن قدامہ حنبلی متوفی ٦٢٠ ھ لکھتے ہیں : تمام فقہاء کے نزدیک نصاب سے کم چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ البتہ احسن بصری ‘ داؤد ظاہری ‘ امام شافعی کے نواسے اور خوارج کا قول یہ ہے کہ قلیل چیز کی چوری ہو یا کثیر کی ‘ چور کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔ کیونکہ قرآن مجید میں مطلقا ارشاد ہے (آیت) ” السارق والسارقۃ فاقطعوا ایدیھما “۔ (المائدہ : ٣٨) چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی عورت کے ہاتھ کاٹ دو اور حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے بیان کیا ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا اللہ تعالیٰ چور پر لعنت فرمائے ‘ وہ رسی چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے اور وہ بیضہ چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے۔ (صحیح بخاری ‘ و صحیح مسلم) نیز قلیل چیز کی چوری کرنے والا بھی حرز (جس جگہ کی حفاظت ہو) سے چیز چراتا ہے ‘ تو کثیر چیز کی چوری کی طرح اس پر بھی اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔ 
علامہ ابن قدامہ حنبلی فرماتے ہیں ‘ ہماری دلیل یہ ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا صرف تین چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ کی چوری میں ہاتھ کاٹا جائے گا ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) اور اس پر صحابہ کا جماع ہے اور اجماع کی وجہ سے آیت کے عموم میں تخصیص کی جائے گی اور ہوسکتا ہے کہ اس رسی پر ہاتھ کاٹا جائے جس کی مالیت ربع دینار ہو (جیسے جہازوں کی رسی) اور بیضہ سے مراد مرغی کا انڈا نہ ہو ‘ بلکہ لوہے کا بیضہ یعنی ” خود “ مراد ہو۔ 
امام احمد سے نصاب سرقہ میں مختلف روایات ہیں۔ ابو اسحاق جو زجانی سے ربع طلائی دینار یا تین چاندی کے درہموں کی ‘ روایت ہے ‘ یا جو ان کی مالیت ہو۔ امام مالک اور اسحاق کا بھی یہی قول ہے اور اثرم سے یہ روایت ہے کہ اگر سونے یا چاندی کے علاوہ کسی چیز کی چوری کی ہے تو چوتھائی دینار یا تین درہم کی مالیت نصاب ہے ‘ اور ان میں سے کم ترمالیت کو نصاب مانا جائے گا۔ لیث اور ثور سے بھی یہی مروی ہے۔ 
حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ عَنْہا نے فرمایا صرف چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ کی چوری پر ہاتھ کاٹا جائے گا ‘ حضرت عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہُ ‘ حضرت عثمان رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اور حضرت علی رَضِیَ اللہُ عَنْہُ سے بھی یہی روایت ہے۔ عمر بن عبدالعزیز ‘ اوزاعی ‘ امام شافعی اور ابن منذر کا بھی یہی قول ہے اور عثمان بتی نے کہا کہ ایک درہم یا اس سے زیادہ کی چوری میں ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔ حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اور ابو سعید (رض) سے روایت ہے ‘ کہ چار درہم یا اس سے زیادہ کی چوری میں ہاتھ کاٹا جائے گا ‘ اور حضرت عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہُ سے ایک روایت ہے کہ صرف پانچ درہم میں ہاتھ کاٹا جائے گا۔ سلیمان بن یسار ‘ ابن ابی لیلی اور ابن شبرمہ کا بھی یہی قول ہے۔ جو زجانی نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے ‘ کہ حضرت ابوبکر رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے اس ڈھال کے عوض ہاتھ کاٹ دیا جس کی قیمت پانچ درہم تھی۔ عطاء ‘ امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب کا یہ قول ہے کہ ایک دینار یا دس درہم سے کم کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ‘ کیونکہ حجاج بن ارطاۃ نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے ‘ نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا دس درہم سے کم میں قطع ید نہیں ہے اور حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہُ عَنْہُما سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ایک ڈھال کے عوض ایک آدمی کا ہاتھ کاٹ دیا ‘ اس کی قیمت ایک دینار یا دس درہم تھی اور نخعی سے روایت ہے کہ چالیس درہم سے کم میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ 
علامہ ابن قدامہ حنبلی لکھتے ہیں : ہماری دلیل یہ ہے کہ حضرت ابن عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہُما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس ڈھال کی چوری میں ہاتھ کاٹ دیا جس کی قیمت تین درہم تھی۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) علامہ ابن عبدالبر نے کہا یہ حدیث اس باب میں صحیح ترین حدیث ہے اور اس میں اہل علم کا کوئی اختلاف نہیں ہے اور امام ابوحنیفہ کی جو پہلی حدیث (جس میں ایک دینار یا دس درہم کی ڈھال پر قطع ید کا ذکر ہے) اس پر دلالت نہیں کرتی کہ دس درہم سے کم میں ہاتھ کاٹنا جائز نہیں۔ کیونکہ جو تین درہم کی چوری پر ہاتھ کاٹتے ہیں ‘ وہ دس درہم کی چوری پر بھی ہاتھ کاٹتے ہیں۔ (المغنی ج ٩‘ ص ٩٥۔ ٩٤‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٤٠٥ ھ،چشتی) 
حد سرقہ کے نصاب میں امام ابوحنیفہ کا نظریہ اور ائمہ ثلاثہ کے جوابات : ⬇
علامہ شمس الائمہ محمد بن احمد سرخسی متوفی ٤٨٣ ھ لکھتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہُما روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ڈھال کی قیمت کے ماسوا میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے ‘ اور ان دونوں اس کی قیمت دس درہم کے برابر تھی ‘ اور اس میں یہ دلیل ہے کہ چور کا ہاتھ کاٹنے کے لیے سرقہ میں نصاب معتبر ہے۔ 
پھر نصاب کی مقدار میں اختلاف ہے۔ ہمارے علماء رحہم اللہ نے کہا یہ نصاب دس درہم یا ایک دینار ہے۔ امام شافعی نے کہا چوتھائی دینار ہے۔ امام مالک نے کہا : تین درہم ہے۔ حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اور حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے کہا چالیس درہم ہے ۔ امام شافعی نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے۔ از زھری از عروہ از حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ عَنْہا روایت ہے نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا چوتھائی درہم یا اس سے زیادہ میں ہاتھ کاٹا جائے گا اور اس لیے کہ ان کا اتفاق ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے عہد میں صرف ڈھال کی قیمت میں ہاتھ کاٹا جاتا تھا ‘ اور ڈھال کی قیمت میں اختلاف ہے اور اختلاف کے وقت اس کی کم سے کم قیمت کا اعتبار کیا جائے گا۔ اور کم سے کم قیمت جو منقول ہے ‘ وہ تین درہم ہے۔ اس لیے امام مالک نے سرقہ کا نصاب تین درہم قرار دیا ہے اور نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے عہد میں دینار کی قیمت بارہ درہم تھی ‘ تو تین درہم چوتھائی دینار ہوگئے اور ہمارے علماء نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے۔ 
از عمرو بن شعیب از والد خود از جد خود روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ایک دینار یا دس درہم سے کم میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا اور حضرت ابن مسعود رَضِیَ اللہُ عَنْہُ سے موقوفا اور مرفوعا مروی ہے کہ ایک دینار یا دس درہم سے کم میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ اسی طرح حضرت علی رَضِیَ اللہُ عَنْہُ سے بھی مروی ہے اور حدیث مشہور میں ہے کہ ایک دینار یا دس درہم سے کم میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا اور ایمن بن ابی ایمن ‘ حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہُ عَنْہما اور حضرت ابن عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہُما سے مروی ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے عہد میں جس ڈھال کی چوری میں ہاتھ کاٹا گیا تھا ‘ وہ دس درہم کی تھی ‘ اور ان صحابہ کرام کے قول کی طرف رجوع کرنا زیادہ لائق ہے۔ کیونکہ وہ مجاہدین میں سے تھے اور ہتھیاروں کی قیمت اور لوگوں کی بہ نسبت زیادہ جاننے والے تھے ‘ اور یہ کہنا درست نہیں ہے کہ ڈھال کی اس قیمت کا اعتبار کرنا چاہیے جو کم سے کم ہو ‘ کیونکہ چوری شدہ مال کی کم قیمت اس لیے لگائی جاتی ہے ‘ تاکہ حد کو ساقط کیا جاسکے ‘ اور یہاں حد کو ساقط کرنا اس وقت متحقق ہوگا جب ڈھال کی قیمت زیادہ سے زیادہ لگائی جائے۔ 
اور روایت ہے کہ حضرت عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کے پاس ایک چور کو لایا گیا ‘ جس نے کپڑا چرایا تھا۔ حضرت عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ حضرت عثمان رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے کہا اس کی چوری دس درہم کے مساوی نہیں ہے ‘ پھر اس کپڑے کی قیمت معلوم کی گئی تو اس کی قیمت آٹھ درہم ڈالی گئی تو اس شخص سے حد ساقط کردی گئی۔ یہ روایت اس پر دلالت کرتی ہے کہ نصاب سرقہ کا دس درہم ہونا صحابہ کے درمیان معروف اور مشہور تھا۔ نیز نصاب حد کو نصاب مہر پر قیاس کیا گیا ہے اور یہ امر ثابت ہوچکا ہے کہ کم از کم مہر دس درہم ہے ‘ اور نکاح اور ہاتھ کاٹنے دونوں میں ایک عضو پر تصرف کیا جاتا ہے ‘ جو شریعت میں تصرف کرنے سے محفوظ اور مامون ہے ۔ اس لیے اس تصرف کا استحقاق مال کثیر کے بغیر نہیں ہونا چاہیے۔ 
حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ عَنْہا سے چوتھائی دینار کی جو حدیث مروی ہے ‘ اس میں بہت زیادہ اضطراب ہے اور اکثر محدثین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ صرف حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ عَنْہا کا قول ہے ‘ نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ارشاد نہیں ہے ‘ اور حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ عَنْہا کا مشہور قول یہ ہے کہ کسی معمولی چیز کے عوض ہاتھ نہیں کاٹا جاتا تھا ‘ بلکہ ڈھال کی قیمت کے عوض ہاتھ کاٹ دیا جاتا تھا۔ اگر حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ عَنْہا کے پاس چوتھائی دینار کی صریح حدیث ہوتی تو وہ یہ مبہم جواب نہ دیتیں۔ پھر یہ بھی احتمال ہے کہ ابتداء میں چوتھائی دینار کی چوری پر ہاتھ کاٹا جاتا ہو ‘ بعد میں دس درہم کو نصاب سرقہ مقرر کر کے چوتھائی دینار کے حکم کو منسوخ کردیا ‘ تاکہ ناسخ حکم ‘ منسوخ حکم سے خفیف اور آسان ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ہم جس آیت کو منسوخ کرتے ہیں ‘ یا اس کو بھلا دیتے ہیں تو اس سے بہتر یا اس کی مثل لے آتے ہیں۔ (المبسوط ج ٩‘ ١٣٨۔ ١٣٦‘ ملخصا ‘ مطبوعہ دارالمعرفہ ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ،چشتی) 
مذہب احناف کے ثبوت میں احادیث : ⬇
علامہ سرخسی کی اس مفصل عبارت میں ائمہ ثلاثہ کے دلائل کا جواب آگیا ہے ‘ تاہم علامہ سرخسی نے جن احادیث سے استدلال کیا ہے ‘ ہم ان کی تخریج اور مذہب احناف کی تائید میں مزید احادیث بیان کر رہے ہیں۔ 
امام ابو عبدالرحمن احمد بن شعیب نسائی متوفی ٣٠٣ ھ روایت کرتے ہیں : ایمن بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے صرف ڈھال کی قیمت میں ہاتھ کاٹا ہے اور اس دن ڈھال کی قیمت ایک دینار تھی۔ امام نسائی نے اس حدیث کو چھ مختلف سندوں سے روایت کیا ہے۔ ہارون بن عبداللہ کی روایت میں ہے ‘ اس کی قیمت ایک دینار یادس درہم تھی۔ (سنن نسائی ‘ ج ٨‘ رقم الحدیث : ٤٩٦٣‘ ٤٩٦٢‘ ٤٩٦١‘ ٤٩٦٠‘ ٤٩٥٩‘ ٤٩٥٨) 
امام نسائی نے حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہُ عَنْہُما سے روایت کیا ہے ‘ کہ ڈھال کی قیمت اس دن دس درہم تھی۔ (سنن نسائی ‘ ج ٨‘ رقم الحدیث : ٤٩٦٦‘ ٤٩٦٥‘ سنن ابوداؤد رقم الحدیث : ٤٣٨٧‘ یہ حدیث عطا سے مرسلا بھی روایت کی ہے۔ رقم الحدیث : ٤٩٦٦‘ ٤٩٦٧‘ المستدرک ‘ ج ٤‘ ص ٣٧٩‘ حاکم نے اس کو اس کو صحیح کہا اور ذہبی نے اس کی موافقت کی۔ امام بیہقی نے متعدد اسانید کے ساتھ ایمن سے روایت کیا ہے۔ سنن کبری ‘ ج ٨‘ ص ٢٥٧‘ مصنف ابی شیبہ ‘ ج ٩ ص ٤٧٤‘ مصنف عبدالرزاق ‘ ج ٠ ا ص ٢٣٣‘ سنن دارقطنی ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث : ٣٣٩٢‘ ٣٣٩١‘ ٣٣٩٠‘ ٣٣٨٩) 
امام نسائی از عمرو بن شعیب از والد خود از جد خود روایت کرتے ہیں ‘ ڈھال کی قیمت نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے عہد میں دس درہم تھی ۔ (سنن نسائی ‘ ج ٨ رقم الحدیث : ٤٩٧١‘ سنن دارقطنی ج ٣‘ ج ٣‘ رقم الحدیث : ٣٣٨٨‘ ٣٣٨٧،چشتی) 
امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں : از عمرو بن شعیب از والد خود از جد خود ‘ نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : دس درہم سے کم میں قطع ید (ہاتھ کاٹنا) نہیں ہے۔ 
(علامہ احمد شاکر ‘ متوفی ١٣٧٧ ھ نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ مسند احمد بتحقیق احمد شاکر ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث : ٦٩٠٠‘ سنن دارقطنی ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث : ٣٣٩٣‘ مجمع الزوائد ‘ ج ٦‘ ص ٣٧٣) 
امام عبدالرزاق بن ھمام متوفی ٢١١ روایت کرتے ہیں : قاسم بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کے پاس ایک شخص کو لایا گیا جس نے کپڑا چرایا تھا۔ آپ نے حضرت عثمان رَضِیَ اللہُ عَنْہُ سے فرمایا : اس کی قیمت لگاؤ۔ حضرت عثمان رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے اس کی آٹھ درہم قیمت لگائی ‘ تو آپ نے اس کا ہاتھ نہیں کاٹا ‘ (المصنف ‘ ج ١٠‘ ص ٢٣٥‘ ٢٣٤‘ ابن ابی شیبہ ‘ ج ٩‘ ص ٤٧٦‘ سنن کبری للبیہقی ‘ ج ٨ ص ٢٦٠) 
حضرت علی رَضِیَ اللہُ عَنْہُ بیان کرتے ہیں کہ ایک دینار یا دس درہم سے حکم میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ (مصنف عبد الرزاق ‘ ج ١٠‘ ص ٤٣٣) 
حضرت ابن مسعود رَضِیَ اللہُ عَنْہُ بیان کرتے ہیں کہ ایک دینار یا دس درہم سے کم میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ (مصنف عبدالرزاق ‘ ج ١٠‘ ص ٢٣٣‘ مصنف عبدالرزاق ‘ ج ١٠‘ ص ٢٣٣‘ مصنف ابن ابی شیبہ ‘ ج ٩‘ ص ٤٧٥‘ سنن کبری ‘ للبیہقی ‘ ج ٨‘ ص ٢٦٠‘ کتاب الاثار لامام محمد ‘ ص ١٣٧‘ سنن دارقطنی ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث ٣٣٩٨‘ ٣٣٩٧،چشتی) 
امام محمد بن حسن شیبانی متوفی ١٨٩ ھ لکھتے ہیں : ابراھیم نخعی نے کہا کہ ڈھال سے کم قیمت میں چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا اور اس وقت ڈھال کی قیمت دس درہم تھی اور اس سے کم میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ (کتاب الآثار ‘ ص ١٣٧‘ مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی ‘ ١٤٠٧ ھ) 
ابن مسیب بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ جب چور اس قدر (مال کی) چوری کرے تو ڈھال کی قیمت کی پہنچ جائے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا اور اس وقت ڈھال کی قیمت دس درہم تھی (مصنف عبدالرزاق ‘ ج ١٠‘ ص ٢٣٣‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٠ ھ) 
خلاصہ یہ ہے کہ ائمہ ثلاثہ تین درہم یا چوتھائی دینار کو ہاتھ کاٹنے کا نصاب قرار دیتے ہیں اور امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب دس درہم یا ایک دینار کو نصاب قرار دیتے ہیں۔ دس درہم دو اعشاریہ چھ دو پانچ (٦٢٥، ٢) تولہ اور تیس اعشاریہ چھ ‘ ایک آٹھ پانچ چار (١٨٥٤ ء ٩) گرام چاندی کے برابر ہے۔ 
کون سا ہاتھ کس جگہ سے کاٹا جائے ؟ 
چور کا دایاں ہاتھ کاٹا جائے گا ‘ کیونکہ امام بیہقی نے ابراہیم نخعی سے روایت کیا ہے۔ ہماری قرات میں ہے (آیت) ” فاقطعوا ایمانھما “ چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی عورت کے دائیں ہاتھ کو کاٹ دو ۔ (سنن کبری للبیہقی ‘ ج ٨ ص ٢٧٠‘ مطبوعہ نشرالسنہ ‘ ملتان) 
دایاں ہاتھ پہنچے سے کاٹا جائے گا۔ 
امام دارقطنی متوفی ٣٨٥ ھ روایت کرتے ہیں : از عمرو بن شعیب از والد خود از جد خود ‘ حضرت صفوان بن امیہ بن خلف مسجد میں سوئے ہوئے تھے ‘ ان کے سرہانے ان کے کپڑے تھے ‘ ایک چور آکر وہ کپڑے لے گیا ‘ وہ اس چور کو پکڑ کر نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پاس لے آئے اس نے چوری کا اقرار کرلیا ‘ نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ حضرت صفوان نے کہا یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! کیا عرب کے ایک شخص کا میرے کپڑوں کے عوض ہاتھ کاٹا جائے گا نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کیا میرے پاس پکڑ کر لانے سے پہلے یہ عرب نہیں تھا ؟ پھر نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا جب تک مجرم حاکم کے پاس نہ پہنچے ‘ تم شفاعت کرسکتے ہو۔ اور جب وہ حاکم تک پہنچ گیا ‘ پھر اس کو معاف کیا تو اللہ اس کو معاف نہ کرے ‘ پھر آپ نے حکم دیا کہ پہنچے (ہتھیلی اور کلائی کا جوڑ) سے اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے۔ (سنن دارقطنی ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث : ٣٤٣٠‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤١٧ ھ) 
امام ابوبکراحمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨‘ ھ روایت کرتے ہیں : 
عدی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چور کا ہاتھ ہتھیلی کے جوڑ سے کاٹ دیا۔ 
حضرت عبداللہ بن عمرو رَضِیَ اللہُ عَنْہُما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ایک چور کا ہاتھ ہتھیلی کے جوڑ سے کاٹ دیا۔ عمرو بن دینار بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر چور کا ہاتھ ہتھیلی کے جوڑ سے کاٹ دیتے تھے۔ (سنن کبری ج ٨‘ ص ٢٧١‘ مطبوعہ نشرالسنہ ‘ ملتان) 
جن صورتوں میں چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جاتا : 
فتاوی عالمگیری میں ہاتھ کاٹنے کی حسب ذیل شرائط بیان کی گئی ہیں : ⬇
(١) جو چیز دارالسلام میں مباح یا خسیس اور حقیر ہو اس کے چرانے پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ‘ جیسے افتادہ لکڑی ‘ گھاس پھوس ‘ سرکنڈا ‘ مچھلی ‘ ہڑتال اور چونا وغیرہ۔ (ہدایہ کافی ‘ اور اختیار) 
(٢) سونا ‘ چاندی اگر مٹی یا پتھر میں مخلوط ہو اور اس کو اس شکل میں چرایا جائے تو اس پر حد سرقہ نہیں ہے۔ (ظاہر الروایہ ) ۔ 
(٣) جو چیز جلد خراب ہوجاتی ہے جیسے دودھ ‘ گوشت اور تازہ پھل ‘ ان کے چرانے پر حد نہیں ہے۔ (ہدایہ) 
(٤) جو پھل درخت پر لگے ہو یا گندم کھیت میں ہو ‘ اس کے چرانے پر حد نہیں ہے۔ (السراج الوہاج) 
(٥) قحط کے ایام میں طعام کی چوری پر حد نہیں ہے۔ خواہ طعام جلد خراب ہونے والا ہو یا نہ ہو ‘ حفاظت میں رکھا گیا ہو یا نہ ہو اور قحط کا سال نہ ہو لیکن جس طعام کو چرایا ہے وہ جلد خراب ہونے والا ہے ‘ پھر بھی حد نہیں ہے اور اگر طعام جلد خراب ہونے والا نہ ہو ‘ لیکن غیر محفوظ ہو ‘ پھر بھی حد نہیں ہے۔ (ذخیرہ) 
(٦) مٹی کی دیگچی کی چوری میں حد نہیں ہے۔ (تبیین) 
(٧) درخت کو باغ سے جڑ سمیت چرانے پر حد نہیں ہے۔ (السراج الوہاج) 
(٨) ہاتھی کے دانت کی چوری میں حد نہیں ہے ‘ بشرطیکہ اس سے کوئی چیز بنائی نہ گئی ہو۔ (ایضاح) 
(٩) شیشہ کی چوری میں حد نہیں ہے۔ (فتح) 
(١٠) جن جانوروں کا شکار کیا جاتا ہے ‘ ان کے چرانے پر حد نہیں ہے ‘ خواہ وہ وحشی ہوں یا غیر وحشی ‘ بری ہو یا بحری ‘ (تتارخانیہ) 
(١١) مہندی ‘ سبزیوں ‘ تازہ پھلوں ‘ گھاس ‘ پانی ‘ گٹھلی اور جانوروں کی کھالوں کے چرانے میں حد نہیں۔ الایہ کہ کھال سے مصلی یا کوئی اور چیز بنائی گئی ہو۔ (عتابیہ) 
(١٢) خمر ‘ خنزیر ‘ باقی پرندوں ‘ وحشی جانوروں ‘ کتے ‘ چیتے ‘ مرغی ‘ بطخ اور کبوتر کے چرانے میں حد نہیں ہے۔ (تمرتاشی) 
(١٣) طنبور ‘ دف ‘ مزمار اور باقی گانے بجانے کے آلات کے چرانے میں حد نہیں ہے۔ (السراج الوہاج) 
(١٤) طبل اور بربط اگر لہو ولعب کے لیے ہوں ‘ تو ان کے چرانے میں حد نہیں ہے ‘ اگر جہاد کا طبل ہے تو اس میں اختلاف ہے۔ (محیط) 
(١٥) پنیر اور روٹی کے چرانے میں حد نہیں ہے۔ (السراج الوہاج) 
(١٦) شطرنج اور چوسر خواہ سونے کی بنی ہوئی ہوں ‘ ان کے چرانے میں حد نہیں ہے۔ (محیط) 
(١٧) مصحف (قرآن مجید) کے چرانے میں حد نہیں ہے۔ (السراج الوہاج) 
(١٨) فقہ ‘ نحو ‘ لغت اور شعر وادب کی کتابوں کے چرانے میں بھی حد نہیں ہے۔ (السراج الوہاج) 
(١٩) تیر کے چرانے میں حد نہیں ہے۔ (ذخیرہ) 
(٢٠) سونے یا چاندی کی صلیب یا بت کے چرانے میں حد نہیں ہے۔ البتہ سونے اور چاندی کے جن سکوں پر تصویریں ہوں ‘ ان پر حد ہے۔ (عتابیہ) 
(٢١) بڑی عمر یا سمجھ دار غلام کے چرانے میں حد نہیں ہے۔ (ہزفائق) 
(٢٢) جس شخص نے اپنے مقروض سے دس درہم غیر موجل قرض لینا ہو اور وہ اس سے اتنی مالیت کی چیز چرالے تو حد نہیں ہے اور اگر قرض موجل ہو تو قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ حد ہو اور استحسان کا تقاضا ہے کہ حد نہیں ہے۔ (السراج الوہاج) 
(٢٣) اگر نابالغ بیٹے کے مقروض کے مال سے چوری کی تو حد نہیں ہے۔ (محیط) 
(٢٤) اگر چاندی کے برتن میں نبیذ یا جلد خراب ہونے والی کوئی چیز (مثلا دودھ) تھی ‘ اس کو چرا لیا تو حد نہیں ہے۔ 
(٢٥) جس برتن میں خمر (شراب) تھی اس کو چرا لیا تو اس میں حد نہیں ہے۔ (محیط) 
(٢٦) اگر قبر سے سے درہم ‘ دینار یا کفن کے علاوہ کوئی اور چیز چرائی تو اس پر حد نہیں ہے۔ (السراج الوہاج) 
(٢٧) کفن چرانے پر حد نہیں ہے۔ (کافی) 
(٢٨) مال غنیمت یا مسلمانوں کے بیت المان سے چوری کرنے پر حد نہیں ہے۔ (نہایہ) 
(٢٩) جس چیز پر ایک بار حد لگ چکی ہو ‘ اس کو دو بار چرانے پر حد نہیں ہے۔ (شرح الطحاوی ‘ ظہیریہ) 
(٣٠) حربی مستامن کے مال سے چوری کرنے پر حد نہیں ہے۔ (مبسوط) 
علامہ ابن ہمام حنفی لکھتے ہیں : 
(٣١) مسجد کا سامان مثلا چٹائیاں اور قندیل چرانے پر حد نہیں ہے۔ 
(٣٢) کعبہ کے پرودوں کو چرانے پر حد نہیں ہے۔ 
(٣٣) جن کاغذوں پر کچھ لکھا ہوا یا چھپا ہوا ہو ‘ ان کے چرانے پر حد نہیں ہے۔ 
(٣٤) اگر کسی شخص نے امانت میں خیانت کی تو اس پر حد نہیں ہے۔ 
(٣٥) لٹیرے اور اچکے پر حد نہیں ہے۔ 
(٣٦) اگر کوئی شخص اپنے شریک کے مال سے چوری کرے تو اس پر حد نہیں ہے۔ 
(٣٧) ماں ‘ باپ ‘ اولاد یا دیگر محارم کے مال سے چوری پر حد نہیں ہے۔ 
(٣٨) اگر محرم کے گھر سے کسی ایک نے دوسرے کا مال چرایا تو اس پر حد نہیں ہے۔ 
(٣٩) اگر زوجین میں سے کسی ایک نے دوسرے کا مال چرایا تو اس پر حد نہیں ہے۔ 
(٤٠) غلام یا لونڈی نے اپنے مالک کا مال چرایا یا لونڈی نے اپنی مالکہ کا مال چرایا تو اس پر حد نہیں ہے۔ 
(٤١) اگر مالک نے اپنے مکاتب کا مال چرایا تو اس پر حد نہیں ہے۔ 
(٤٢) حمام یا جس گھر میں جانے کا اذن عام ہو ‘ اس میں چوری کرنے پر حد نہیں ہے ۔ (فتاوی یالمگیری ‘ ج ٢‘ ص ١٧٩‘ ١٧٥‘ ملخصا مطبوعہ مطبعہ امیریہ ‘ کبری بولاق ‘ مصر ‘ ١٣١٠ ھ) ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

قوموں کی تباہی و بربادی حصّہ سوم

قوموں کی تباہی و بربادی حصّہ سوم
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
امت مسلمہ کوئی نسلی یا جغرافیائی قوم نہیں  جو کسی خاص نسل اور خاص ملک کی نمائندگی کرتی ہو ۔ بلکہ یہ ایک آفاقی اور نظریاتی ملت ہے جس کا ایک خاص مقصد وجود اور خاص نصب العین ہے اور پوری دنیا میں اس کی دعوت اور اشاعت کے لیے برپا کی گئی ہے ۔ اس کا ایک لائحہ عمل ہے جس کی تکمیل پر وہ مامور ہے ۔

عدل درحقیقت اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی عظیم الشان صفت ہے ، قرآن کریم میں ارشاد ہے : شَھِدَ اللّٰہُ أَنَّہٗ لَا إِلٰہَ إِلَّا ھُوَ وَالْمَلٰئِکَۃُ وَأُولُوْا الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ لَا إِلٰـہَ إِلاَّ ھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ۔ (آلِ عمران:۱۸)
ترجمہ :  اللہ نے گواہی دی کہ کسی کی بند گی نہیں اس کے سوااور فر شتوں نے اور علم والوں نے بھی، وہی حاکم انصاف کا ہے ۔ کسی کی بند گی نہیں سوا اس کے ، زبردست ہے حکمت والا ۔

اللہ عزوجل خود عادل ہے ، اس کا نازل کر دہ قانون ( شریعتِ محمدیہ) سراپا عدل ہے ، اس لیے بے شمار آیتوں میں بندوں کو عدل وانصاف کا حکم دیا گیا ہے اور اس میں ایسی باریکیوں کو ملحوظ رکھا گیا ہے کہ عقل حیران ہے۔ قرابت کے مو قع پر بڑے سے بڑے انصاف پرور کے قدم ڈگمگا جاتے ہیں اور وہ جانب داری کی خاطر عدل وانصاف کا دامن چھوڑ دیتا ہے، مگر فرزندانِ اسلام سے ایسی نازک صورت حال میں بھی عدل وانصاف قائم رکھنے کا عہد لیا گیا ہے : یٰآ أَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُھَدَائَ لِلّٰہِ وَلَوْ عَلٰی أَنْفُسِکُمْ أَوِالْوَالِدَیْنِ وَالْأَقْرَبِیْنَ إِنْ یَّکُنْ غَنِیًّا أَوْفَقِیْرًا فَاللّٰہُ أَوْلٰی بِھِمَا فَلاَ تَتَّبِعُوْا الْھَوٰی أَنْ تَعْدِلُوْا ۔ (النساء:۱۳۵)
ترجمہ : اے ایمان والو! قائم رہو انصاف پر ، گواہی دو اللہ کی طرف کی ، اگر چہ نقصان ہو تمہارا ، یا ماں باپ کا ، یا قرابت والوں کا، اگر کوئی مالدار ہے یا محتاج ہے تو اللہ ان کا خیرخواہ تم سے زیادہ ہے ، سو تم پیروی نہ کرو دل کی خواہش کی انصاف کرنے میں ۔

اسی طرح جب کسی سے بغض و عداوت ہو تو عدل و انصاف کے تقاضے عمومًا بالائے طاق رکھ دیے جاتے ہیں اور اپنے حریف کو نیچا دکھا نے کےلیے آدمی ہر جائز و ناجائز حربہ تلاش کرتا ہے ، لیکن احکم الحاکمین کی جانب سے مسلمانوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ ایسے موقع پر بھی عدل و انصاف کی ترازو ہاتھ سے نہ چھوڑیں ، بلکہ ہر حال میں عدل و انصاف کو قائم رکھیں : یٰآ أَیُّھَا الَّذِیْنَ أٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوَّامِیْنَ لِلّٰہِ شُھَدَائَ بِالْقِسْطِ وَلَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَأٰنُ قَوْمٍ عَلٰی أَنْ لَّا تَعْدِلُوْا اِعْدِلُوْا ھُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی وَاتَّقُوْا اللّٰہَ إِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ ۔ (المائدۃ:۸)
ترجمہ : اے ایمان والو! کھڑے ہوجایا کرو اللہ کے واسطے گواہی دینے کو اور کسی قوم کی دشمنی کے باعث انصاف کو ہرگز نہ چھوڑو ، عدل کرو ، یہی بات زیادہ نزدیک ہے تقویٰ سے اور ڈرتے رہو اللہ سے ، اللہ کو خوب خبر ہے جو تم کر تے ہو ۔

نظامِ عالم اور عدل و انصاف 
دراصل کا ئنات کا نظام ہی عدل و انصاف سے وابستہ ہے ، نظامِ عالم کےلیے عدل و انصاف سے بڑھ کر اور کوئی چیز ضروری نہیں ۔ بلاشبہ حاکمِ عادل کا وجود اس عالم کےلیے سایۂ رحمتِ الٰہی اور کسی عدل کش حاکم کا تسلُّط عذابِ الٰہی ہے ، جو بندوں کی نا فرمانیوں کی پاداش میں ان پر نازل کیا جاتا ہے : ⬇

شامتِ اعمالِ ما صورتِ نادر گرفت

 کسی زمانے میں مطلق العنان بادشاہ کوسِ ’’ لِمَنِ الْمُلْکُ‘‘ بجاتے تھے اور آئین وقانون ان کے اشاروں پر رقص کر تا تھا ، لیکن دورِ جد ید نے ملو کیت کو جمہور یت میں بدل ڈالا ، آئین و دستور وضع کیے گئے ، بادشاہت کی جگہ کہیں صدارتی نظام رائج ہوا اور کہیں وزراتی نظام نا فذ کیا گیا ، گویا دورِ قدیم کے شہنشاہ کا منصب دورِ جدید کے صدرِ مملکت یا وز یر اعظم کو تفویض ہوا ۔ فرق یہ پڑا کہ دورِ قدیم میں بادشاہ اوپر سے آتے تھے اور دورِ جدید میں نیچے سے جاتے ہیں ، لیکن عدل و انصاف محض ملوکیت یا آج کی جمہوریت کا نام نہیں ، بلکہ اس کا مدار خدا ترس اور عدل پرور اربابِ اقتدار پر ہے ۔ حاکم اعلیٰ عدل و انصاف کے جوہر سے مالامال ہو تو ملوکیت بھی رحمت ہے، یہ نہ ہو تو جمہوریت بھی چنگیزی کا روپ دھار لیتی ہے ، جس طرح مملکت کی آبادی و شادابی عدل و انصاف سے وابستہ ہے ، اسی طرح اشخاص کی بقاء و فلاح عدل و انصاف کی رہینِ منت ہے ۔

کسی مملکت کی تباہی وبربادی کے عوامل کا جائزہ لیجیے تو دو بنیادی چیزیں سامنے آئیں گی ، قوم کا فسق و فجور اور حکمرانوں کا ظلم و عدوان ، جب کوئی قوم خدا فراموشی کی روش اختیار کرتی ہے ، الٰہی قوانین سے سرکشی کرتی ہے اور فسق و معصیت کے نشہ میں بدمست ہو کر حلال و حرام اور جائز و ناجائز کے حدود علانیہ توڑنے لگتی ہے تو ان پر جفا کیش اور جابر و ظالم حاکم مسلَّط کردیے جاتے ہیں ۔ قرآن کر یم میں کسی قوم کی تباہی و بربادی کے بارے میں ایک قانون عام بیان فرمایا ہے : وَإِذَا أَرَدْنَا أَنْ نُّھْلِکَ قَرْیَۃً أَمَرْنَا مُتْرَفِیْھَا فَفَسَقُوْا فِیْھَا فَحَقَّ عَلَیْھَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰھَا تَدْمِیْرًا ۔ (بنی اسرائیل:۱۶)
ترجمہ : اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کر نا چاہتے ہیں تو اس کے خوش عیش لوگوں کو حکم دیتے ہیں ، پھر جب وہ لوگ وہاں شرارت مچا تے ہیں ، تب ان پر حجت تمام ہوجاتی ہے ، پھر اس بستی کو تباہ اور غارت کر ڈالتے ہیں ۔

قوم کا فسق و فجور اور ملوک و سلاطین کا ظلم ہی سب سے پہلے اس عالم کی تباہی و بربادی کا ذریعہ بنتا ہے ۔ ظلم و استبداد کی چکی میں پہلے سر کش قوم پستی ہے ، بالآ خر یہی چکی ظالم و جا بر کو بھی پیس ڈالتی ہے ۔ اہلِ دانش کا قول ہے کہ : کفر کے ساتھ حکومت رہ سکتی ہے ، مگر ظلم و استبداد کے ساتھ نہیں رہ سکتی ۔ (چشتی)

درحقیقت کا ئنات کا حقیقی تصرف و اقتدار اللہ رب العالمین اور احکم الحاکمین کے دستِ قُدرت میں ہے ۔ حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ ظالم کو چندے مہلت دیتا ہے ، لیکن جب اسے پکڑتا ہے تو پھر اسے نہیں چھوڑتا ۔ یہی وجہ ہے کہ ظالم حکمران زیادہ دیر تک مسندِ اقتدار پر نہیں رہ سکتا ، بلکہ دوسروں کےلیے درسِ عبرت بن کر بہت جلد رخصت ہو جاتا ہے ۔ تاریک دور کے فرعون و ہامان اور شداد و نمرود کو جانے دو ، ماضی قریب میں اسٹالن ، ہٹلر اور مسولینی وغیرہ کا عبرت ناک حشر کس نے نہیں دیکھا اور برطانیہ کا حشر بھی سب کے سامنے ہے ۔ وہ ظالم جس کی بادشاہی میں آفتاب غروب نہیں ہوتا تھا ، آج سمٹ سمٹا کر ایک چھوٹے سے جز یرے میں پناہ گز ین ہے ۔ خود ہماری مملکتِ خدا داد پاکستان کی چھوٹی سی عمر میں جابر حکمرانوں کی بے بسی کے عبرت ناک مظا ہر سامنے آتے رہے ہیں ، کیا سکندر مر زا ، غلام محمد ، ایوب خاں اور یحییٰ خاں کے قصوں کو دنیا بھول جائے گی ۔

بہر حال بقائے مملکت اور بقائے حکومت کےلیے بے حد ضروری ہے کہ اربابِ اقتدار عدل و انصاف کو قائم کریں اور قوم فسق و معصیت کا راستہ ترک کر کے انابت اور رجوع الی اللہ کا راستہ اختیار کرے ۔ دنیا کی تاریخ بالعموم اور اسلامی تاریخ بالخصوص اس حقیقت پر شاہد ہے کہ مسلمان قوم کو من حیث القوم ناؤ نوش ، فسق و فجور اور فحاشی و بدکاری کبھی راس نہیں آئی اور اس کا انجام ہمیشہ ہولناک ہوا ۔ پاکستان کی پاک سر زمین جوحق تعالیٰ نے ہمیں عطا فرمائی اس کا تقاضا یہ تھا کہ یہاں عدل و انصاف کا دور دورہ ہوتا ، پاکیزہ معاشرہ وجود میں آتا ، تقویٰ و طہارت کی فضا قائم ہوتی ، راعی اور رعایا اسلام کا سچا نمونہ پیش کرتے اور یہ مملکتِ خداداد دورِ جد ید میں اسلام کی نشأۃِ ثانیہ کی علمبر دار ہوتی ، لیکن افسوس صدا فسوس کہ : ⬇

خود غلط بود آنچہ ما پنداشتیم

 یہاں نہ صرف یہ کہ دورِ غلامی کے تمام آثارِ کفر کو جوں کا توں باقی رہنے دیا گیا ، بلکہ آزادی کے بعد یہ فرض کر لیا گیا کہ ہم اللہ عزوجل و رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بھی آزاد ہیں ۔ سود ، قمار اور دیگر صریح محر مات کو حلال کر نے کی کوشش کی گئی ۔فواحش و منکرات کی ترویج کی گئی ۔ سینما ، ریڈیو ، ٹیلی ویژن کو بے حیائی کا مناد بنا دیا گیا ۔ رہی سہی کسر اخبارات نے پوری کردی ۔ شعائرِ دین کا مذاق اُڑایا گیا ، اسلامی قوانین کو مسخ کیا گیا ، دین کے قزاقوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع دیا گیا ۔ بے خدا قوموں کی تقلید میں آزادیِ نسواں کا پرچار کیا گیا ۔ اسلام کے مقابلہ میں نئے نئے اِزموں کے نعرے لگائے گئے اور اب تو خدا فر اموشی کی حالت ایسی نا گفتہ بہ صورت اختیار کر چکی کہ اس کے انجام کا تصور کر کے بھی رو نگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔

 یہ ایک فطری اصول ہے کہ جرم انفرادی ہو تو اس کی سز ابھی افراد تک محدود رہتی ہے اور جب قوم کی قوم ہی جرم و بغاوت کا راستہ اختیار کر ے تو اس کی سزا بھی عام ہوتی ہے ۔ یہ سزا ہمیں ایک بار سقوطِ ڈھاکہ کی صورت میں مل چکی اور ابھی یہ زخم مندمل نہیں ہو پایا تھا کہ سزا کی دوسری قسط کے خطرات سر پر منڈلانے لگے ۔ (چشتی)

جس طرح روح نکل جانے کے بعد لاشۂ بے جان اپنے وجود کو محفوظ نہیں رکھ سکتا ، بلکہ اس کے اعضاء میں انحلال و انفصال کا عمل شروع ہو جاتا ہے اور بالآخر سڑ گل کر منتشر ہو جاتا ہے ۔ ٹھیک اسی طرح مسلمان قوم سے اسلام کی روح نکل جائے تو نتیجہ انحلال و انتشار کے سوا کیا ہو سکتا ہے ۔ شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ جس طرح امریکہ ، روس اور ہند وستان کی سازش سے ہم اپنے ملک کے ایک بڑے حصہ سے محروم ہو بیٹھے ہیں ، اسی طرح خاکم بد ہن مز ید تباہی و بربادی سے دو چار نہ ہو جائیں ۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ عقلوں پر کیسے پردے آجاتے ہیں اور ان حقائق سے کیوں عبرت نہیں لی جاتی ؟ ایک طرف پورا ملک بے چینی و بے قراری کا شکار ہے ، بیم و یاس کی کیفیت طاری ہے ، ہو شربا مہنگاٸی و گِرانی سے کمر ٹوٹ رہی ہے ، خیر و برکت اُٹھ چکی ہے ۔ یہی خطۂ زمین جو دوسرے علاقوں کو غلہ فراہم کرتا تھا خود دانے دانے کےلیے دریوزہ گر ہے ۔ ہر چیز کا قحط ہے ، باہمی اُلفت و محبت اور اتحاد و اعتماد نصیبِ دشمناں ہے ۔ رشوت ، لالچ ، چور بازاری ، سٹہ بازی جیسے امراض دَق کی طرح چمٹے ہوئے ہیں ۔ چوری اور ڈاکے کی وار داتیں روز مرہ کا معمول بن چکی ہیں ۔ کیا یہ سب عذابِ الٰہی کی شکلیں نہیں؟ صد حیف کہ ان تنبیہات سے سبق نہیں لیا جاتا ، بلکہ فواحش ومنکرات میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے ۔ کلبوں اور ناچ گھروں میں عریانی بے حیائی کے دردناک مظاہر ہیں ۔ ظلم و بربریت کی آخری حدوں کو چھویا جا رہا ہے ۔ غفلت و خدا فراموشی کا نشہ دن بدن تیز سے تیز تر ہوتا جا رہا ہے ۔ آخر حق تعالیٰ کے غضب کو دعوت دینے والی زندگی کب تک برداشت کی جائے گی ؟ اور انتقامِ الٰہی کی بے آواز لاٹھی کب تک تھمی رہے گی ؟ گزشتہ بے خدا قوموں کے بارے میں فرمایا ہے : الَّذِیْنَ طَغَوْا فِيْ الْبِلَادِ فَأَکْثَرُوْا فِیْھَا الْفَسَادَ فَصَبَّ عَلَیْھِمْ رَبُّکَ سَوْطَ عَذَابٍ إِنَّ رَبَّکَ لَبِالْمِرْصَادِ ۔ (الفجر: ۱۱ تا ۱۴)
ترجمہ : یہ سب وہ تھے جنہوں نے زمین میں سرکشی کی ، پس اس میں بہت اودھم مچا یا ، پھر بر سایا ان پر تیرے رب نے کوڑا عذاب کا ، بلاشبہ تیرا رب گھات میں ہے ۔

اِس سب دردناک صورت حال سے نجات حاصل کرنے کےلیے ازبس ضروری ہے کہ راعی اور رعایا بارگاہِ ربوبیت میں توبہ و انابت اختیار کریں ، اجتماعی معاصی سے یکسر پرہیز کریں اور گزشتہ گناہوں پر بارگاہِ رحمت میں توبہ و استغفار کریں ، اسلامی شعائر کو بلند کریں اور غیر اسلامی نشانات کو پامال کریں ۔ سورۂ نوح میں اس قسم کے معاصی کی کثرت سے قحط و تنگ سالی جیسے عذاب کا نازل ہونا اور اس کا علاج توبہ و استغفار بتایا گیا ہے : فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ إِنَّہٗ کَانَ غَفَّارًا یُرْسِلِ السَّمَائَ عَلَیْکُمْ مِّدْرَارًا وَّیُمْدِدْکُمْ بِأَمْوَالٍ وَّبَنِیْنَ وَیَجْعَلْ لَّکُمْ جَنّٰتٍ وَّیَجْعَلْ لَّکُمْ أَنْھٰرًا ۔ (نوح:۱۰تا۱۲)
ترجمہ : (نوح  علیہ السلام  بارگاہِ الٰہی میں عرض کرتے ہیں قوم سے خطاب کرتے ہوئے) میں نے کہا : گناہ بخشواؤ اپنے رب سے ، بے شک وہ ہے بخشنے والا ، چھوڑ دے گا تم پر آسمان کی دھاریں اور بڑھادے گا تم کو مال اور بیٹوں سے اور بنادے گا تمہارے واسطے باغ اور بنادے گا تمہارے لیے نہریں ۔

مقصد یہ کہ تو بہ و انابت کی برکت سے نہ صرف آخرت کی کامیابی و کامرانی نصیب ہوگی ، بلکہ دنیا کے عیش و آرام کی صورتیں بھی اللہ تعالیٰ اپنے فضل و احسان سے مہیا فرما دیں گے ۔ دلوں کو سکون و اطمینان نصیب ہوگا ، اموال میں خیروبرکت ہو گی ، اولاد صالح اور خدمت گار ہوگی ۔ آسمان سے ابرِ رحمت کا نزول ہوگا ، پھلوں اور غلوں کی کثرت اور بہتات ہوگی ۔ فرصت کے لمحات بہت مختصر ہیں اور فیصلے کی گھڑی سر پر آئی کھڑی ہے ، اس لیے ہمیں موجودہ حالات کا صحیح علاج فورًا کرلینا چاہیے ، ورنہ ہماری ظاہری اور سطحی تدبیریں سب ناکام ہوں گی ۔ اللہ تعالیٰ ہم پر رحمت فرمائے ، ہماری قوم کو فسق و فجور اور حکمرانوں کو ظلم و عدوان سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Wednesday, 1 June 2022

قوموں کی تباہی و بربادی حصّہ دوم

قوموں کی تباہی و بربادی حصّہ دوم
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ظلم ایک ایسا بدترین فعل ہے جس سے انسان اپنے بنیادی حق سے محروم ہو کر اَذِیَّت اور کَرب کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتا ہے اور یہ وہ عمل ہے جس سے جھگڑے اور فسادات جنم لیتے ، لوگ بغاوت اور سرکشی پر اتر آتے اور اصول و قوانین ماننے سے انکار کر دیتے ہیں جس کے نتیجے میں انسانی حقوق تَلف ہوتے اور معاشرے کا امن و سکون تباہ ہو کر رہ جاتا ہے ، دینِ اسلام چونکہ انسانی حقوق کا سب سے بڑا محافظ اور معاشرتی امن کو برقرار رکھنے کا سب سے زیادہ حامی ہے اسی لیے اس دین نے انسانی حقوق تَلف کرنے اور معاشرتی امن میں بگاڑ پیدا کرنے والے ہر فعل سے روکا ہے اوران چیزوں  میں ظلم کا کردار دوسرے افعال کے مقابلے میں کہیں  زیادہ ہے اس لیے اسلام نے ظلم کے خاتمے کےلیے بھی انتہائی احسن اِقدامات کیے ہیں تاکہ لوگوں کے حقوق محفوظ رہیں اور وہ امن و سکون کی زندگی بسر کریں ، ان میں سے ایک اِقدام لوگوں  کو یہ حکم دینا ہے کہ وہ ظالم کو روکیں اور دوسرا اِقدام ظالم کو وعیدیں سنانا ہے تاکہ وہ خوداپنے ظلم سے باز آجائے ۔

حضرت انس رَضِیَ اللہ عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : اپنے بھائی کی مدد کر وخواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ کسی نے عرض کی ، یا رسولَ اللہ ! صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اگر وہ مظلوم ہو تو مدد کروں  گا لیکن ظالم ہو تو کیسے مدد کروں ؟ ارشاد فرمایا ’’اس کو ظلم کرنے سے روک دے یہی (اس کی)مدد کرنا ہے۔(صحیح بخاری، کتاب الاکراہ، باب یمین الرجل لصاحبہ... الخ، ۴ / ۳۸۹، الحدیث: ۶۹۵۲،چشتی)

حضرت علی رَضِیَ اللہ عَنْہُ سے روایت ہے ، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ مظلوم کی بددعا سے بچو ، وہ اللہ تعالیٰ سے اپنا حق مانگتا ہے اور اللہ تعالیٰ کسی حق والے کا حق اس سے نہیں  روکتا ۔ (شعب الایمان،التاسع والاربعون من شعب الایمان ... الخ، فصل فی ذکر ماورد من التشدید... الخ، ۶ / ۴۹، الحدیث: ۷۴۶۴)

حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ عَنْہُ سے روایت ہے ، نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : جس کا اپنے مسلمان بھائی پر اس کی آبرو یا کسی اور چیز کا کوئی ظلم ہو تو وہ آج ہی اس سے معافی لے لے ، اس سے پہلے کہ (وہ دن آجائے جب) اس کے پاس نہ دینار ہو نہ درہم ، (اس دن) اگر اس ظالم کے پاس نیک عمل ہوں  گے تو ظلم کے مطابق اس سے چھین لیے جائیں  گے اور اگر اس کے پاس نیکیاں  نہ ہوں  گی تو اس مظلوم کے گناہ لے کر اس پر ڈال دیئے جائیں  گے ۔(صحیح بخاری ، کتاب المظالم و الغصب ، باب من کانت لہ مظلمۃ عند الرجل... الخ، ۲ / ۱۲۸، الحدیث: ۲۴۴۹، مشکاۃ المصابیح، کتاب الآداب، باب الظّلم، الفصل الاول، ۲ / ۲۳۵، الحدیث: ۵۱۲۶،چشتی)

اس سے معلوم ہوا کہ معاشرتی امن کو قائم کرنے اور اس کی راہ میں  حائل ایک بڑی رکاوٹ ’’ظلم‘‘ کو ختم کرنے میں  اسلام کا کردار سب سے زیادہ ہے اور اس کی کوششیں دوسروں  کے مقابلے میں  کہیں  زیادہ کارگَر ہیں  کیونکہ جب لوگ ظالم کو ظلم کرنے سے روک دیں  گے تو وہ ظلم نہ کر سکے گا اور ظالم جب اتنی ہَولْناک وعیدیں  سنے گا تواس کے دل میں  خوف پیدا ہو گا اور یہی خوف ظلم سے باز آنے میں  اس کی مدد کرے گا ، یوں  معاشرے سے ظلم کا جڑ سے خاتمہ ہو گا اور معاشرہ امن و سکون کا پُرلُطف باغ بن جائے گا ۔

حضرت انس رَضِیَ اللہ عَنْہُ سے روایت ہے ، نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جو کسی مظلوم کی فریاد رسی کرے، اللہ تعالیٰ اس کےلیے 73 مغفرتیں  لکھے گا ، ان میں  سے ایک سے اس کے تمام کاموں  کی درستی ہوجائے گی اور 72 سے قیامت کے دن اس کے درجے بلند ہوں  گے۔( شعب الایمان، الثالث والخمسون من شعب الایمان... الخ، ۶ / ۱۲۰، الحدیث: ۷۶۷۰،چشتی)

حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ عَنْہُمَا سے روایت ہے ، نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : جو کسی مظلوم کے ساتھ اس کی مدد کرنے چلے تو اللہ تعالیٰ اسے اس دن ثابت قدمی عطا فرمائے گا جس دن قدم پھسل رہے ہوں  گے۔(حلیۃ الاولیاء، مالک بن انس، ۶ / ۳۸۳، الحدیث: ۹۰۱۲،چشتی)

ملک غَسَّان کا بادشاہ جبلہ بن ایہم اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر مسلمان ہو گیا ، کچھ دنوں بعد امیرُ المومنین حضرت عمر فاروق  رَضِیَ اللہُ عَنْہُ حج کے ارادے سے نکلے تو جبلہ بن ایہم بھی اس قافلے میں شریک ہو گیا۔ مکۂ مکرمہ پہنچنے کے بعد ایک دن دورانِ طواف کسی دیہاتی مسلمان کا پاؤں اس کی چادر پر پڑ گیا تو چادر کندھے سے اتر گئی۔ جبلہ بن ایہم نے اس سے پوچھا: تو نے میری چادر پر قدم کیوں رکھا ؟ اس نے کہا : میں نے جان بوجھ کر قدم نہیں رکھا غلطی سے پڑ گیا تھا۔ یہ سن کر جبلہ نے ایک زور دار تھپڑ ان کے چہرے پر رسید کر دیا، تھپڑ کی وجہ سے ان کے دو دانت ٹوٹ گئے اور ناک بھی زخمی ہو گئی۔ یہ دیہاتی مسلمان حضرت عمر فاروق رَضِیَ ا للہُ عَنْہُ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور جبلہ بن ایہم کے سلوک کی شکایت کی ۔ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جبلہ بن ایہم کو طلب فرمایا اور پوچھا : کیا تو نے اس دیہاتی کو تھپڑ مارا ہے ؟ جبلہ نے کہا: ہاں میں نے تھپڑ مارا ہے، اگر اس حرم کے تقدس کا خیال نہ ہوتا تو میں اسے قتل کر دیتا ۔ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے فرمایا : اے جبلہ ! تو نے اپنے جرم کا اقرار کر لیا ہے ، اب یا تو تو اس دیہاتی سے معافی مانگ یا میں تم سے اس کا قصاص لوں گا ۔ جبلہ نے حیران ہو کر کہا : کیا آپ رَضِیَ ا للہُ عَنْہُ اس غریب دیہاتی کی وجہ سے مجھ سے قصاص لیں گے حالانکہ میں تو بادشاہ ہوں ؟ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے فرمایا : اسلام قبول کرنے کے بعد حقوق میں تم دونوں برابر ہو ۔ جبلہ نے عرض کی : مجھے ایک دن کی مہلت دیجئے پھر مجھ سے قصاص لے لیجیے گا ۔ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے اس دیہاتی سے دریافت فرمایا : کیا تم اسے مہلت دیتے ہو ؟ دیہاتی نے عرض کی : جی ہاں ۔ آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے اسے مہلت دے دی ، مہلت ملنے کے بعد راتوں رات جبلہ بن ایہم غسانی ملک شام کی طرف بھاگ گیا اور اس نے عیسائی مذہب اختیار کر لیا ۔ (فتوح الشام ذکر فتح حمص صفحہ نمبر ۱۰۰ الجزء الاول،چشتی)

ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اور حضرت اُبی بن کعب رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کا آپس میں کسی بات پر اختلاف ہوا ، دونوں نے یہ طے کیا کہ ہمارے معاملے کا فیصلہ حضرت زید بن ثابت رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کریں ۔ چنانچہ یہ فیصلے کےلیے حضرت زید بن ثابت رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کے گھر پہنچے ۔ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے ان سے فرمایا : ہم تمہارے پا س اس لیے آئے ہیں تاکہ تم ہمارے معاملے کا فیصلہ کر دو ۔ حضرت زید رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے بستر کے درمیان سے جگہ خالی کرتے ہوئے عرض کی : اے امیر المومنین ! یہاں تشریف رکھیے ۔ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے فرمایا : یہ تمہارا پہلا ظلم ہے جو تم نے فیصلے کے لئے مقرر ہونے کے بعد کیا ، میں تو اپنے فریق کے ساتھ ہی بیٹھوں گا ۔ یہ فرما کر حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ عَنْہُ  حضرت ابی بن کعب رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کے ساتھ حضرت زید رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کے سامنے بیٹھ گئے ۔ مقدمے کی کارروائی شروع ہوئی ، حضرت ابی بن کعب رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے دعویٰ کیا اور حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے اس کا انکار کیا (حضرت ابی بن کعب رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اپنے دعوے کے ثبوت کے لئے گواہ پیش نہ کر سکے تو اب شرعی اصول کے مطابق حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ عَنْہُ پر قسم کھانا لازم آتا تھا) حضرت زید بن ثابت رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے (حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کی شخصیت اور رتبہ کا لحاظ کرتے ہوئے) حضرت ابی بن کعب رَضِیَ  اللہُ عَنْہُ سے کہا : آپ امیر المومنین رَضِیَ اللہُ عَنْہُ سے قسم لینے سے در گزر کیجیے ۔ حضرت عمر فاروق  رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے فوراً حلف اٹھالیا اور قسم کھاتے ہوئے فرمایا: زید اس وقت تک منصبِ قضاء (یعنی جج بننے) کا اہل نہیں ہو سکتا جب تک کہ عمر (رَضِیَ اللہُ عَنْہُ) اور ایک عام شخص اس کے نزدیک (مقدمے کے معاملے میں ) برابر نہیں ہو جاتے ۔ (ابن عساکر ، ذکر من اسمہ زید، زید بن ثابت بن الضحاک۔۔۔ الخ، ۱۹ / ۳۱۹)

نظامِ عالم اور عدل و انصاف 
قوموں اور ملکوں کی تباہی کے اسباب
 
صحیح بخاری شریف میں حضرت ابو ہریرہ  رضی اللہ عنہ  کی حدیث میں ان سات اشخاص کا ذکر آیا ہے جو قیامت کے دن عرشِ الٰہی کے سائے میں ہوں گے، ان میں سر فہر ست امام عادل کا نام آتا ہے : عن أبي ھریرۃ رضي اللّٰہ عنہ عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال : ’’سبعۃ یظلھم اللّٰہ في ظلہٖ یوم لا ظل إلا ظلہ، إمام عادل ، وشاب نشأ في عبادۃ اللّٰہ ، ورجل معلق قلبہٗ في المساجد، ورجلان تحابا في اللّٰہ اجتمعا علیہ وتفرقاعلیہ، ورجل دعتہ امرأۃ ذات منصب وجمال فقال: إني أخاف اللّٰہ، ورجل تصد ق بصد قۃٍ فأخفاھا حتی لا تعلم شمالہٗ ما تنفق یمینہٗ، ورجل ذکر اللّٰہ خالیاً ففاضت عیناہ ۔ (صحیح البخاری،کتاب الاذان،باب من جلس فی المسجدینتظرالصلوۃوفضل المساجد، ج:۱، ص:۹۱،ط: قدیمی)
ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ  رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سات آدمی ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنے (عرش) کے سائے میں جگہ دے گا جس دن کہ اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا۔ عادل بادشاہ ۔ وہ جوان جو اللہ کی عبادت میں پلا بڑھا ہو ۔ وہ آدمی جس کا دل مسجد میں اَٹکا ہوا رہتا ہے ۔ ایسے دو آدمی جن کی محبت محض اللہ کی خاطر تھی ، اسی کے لیے جمع ہوئے اور اسی پر جدا ہوئے ۔ وہ آدمی جس کو کسی صاحبِ حسب و جمال عورت نے دعوت دی تو اس نے کہا : مجھے خدا کا خوف ہے۔ وہ آدمی جس نے اس قدر چھپا کر صدقہ کیا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہوئی۔ اور وہ آدمی جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا تو آنکھیں اُبل پڑیں ۔ مزید حصّہ سوم میں ان شاء اللہ ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

قوموں کی تباہی و بربادی حصّہ اوّل

قوموں کی تباہی و بربادی حصّہ اوّل
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام ارشادِ باری تعالیٰ ہے : فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَ اَقْسِطُوْاؕ - اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ ۔ (سورہ الحجرات آیت نمبر 9)
 ترجمہ : تو انصاف کے ساتھ ان میں صلح کروا دو اور عدل کرو ، بیشک اللہ عدل کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم سے پہلی قومیں اس لیے برباد ہوئیں جب اُن کا کوئی بڑا جرم کرتا تو اُسے چھوڑ دیا جاتا اور جب کوئی معمولی آدمی جرم کرتا تو اُسے سزا دی جاتی ۔ (صحیح بخاری ، رقم 4304)

مخذوم قبیلہ کی فاطمہ بنت الاسود نے جب چوری کا ارتکاب کیا تو اس وقت چور کی سزا ہاتھ کاٹنا مقررتھی ۔ قریش کو یہ تشویش لاحق ہوئی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کون کہے کہ اس عورت سے نرمی برتی جائے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نسبت کی بناء پر اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو اس مقصد کےلیے تیار کر کے مخذومی عورت کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کر دیا گیا مگر اسامہ رضی اللہ عنہ نے جب اس کی سفارش کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم اللہ کی مقرر کردہ سزا میں سفارش کر رہے ہو ؟ اسامہ نے معذرت کر لی ۔ اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر اللہ کی حمد و ثناء کے بعد لوگوں سے جو خطاب فرمایا اس کا مفہوم کچھ یوں ہے ۔ اے لوگو ! تم سے پہلی قومیں اس لیے تباہ ہوئیں کہ جب کوئی بڑا آدمی جرم کرتا تو اسے چھوڑ دیا جاتا اور جب کوئی معمولی شخص اسی جرم کا ارتکاب کرتا تو اسے سزا دے دی جاتی۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹنے کا حکم دیتا ۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ایک عام آدمی ان سے خطبے کے دوران ان کے کُرتے کے بارے میں سوال کرتا ہے اور وہ خندہ پیشانی سے جواب دیتے ہوئے اس کی وضاحت پیش کر نے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے ۔ حضرت عمر فاروق رضی ﷲ عنہ جب کسی کو کسی صوبے یا شہر کا والی مقرر کرتے تھے تو پہلے اس کی جائیداد اور مال کا حساب لے لیتے تھے اور جب وہ اپنے منصب سے الگ ہوتے یا ان کے متعلق دوران تقرر اگر ان کو یہ علم ہوجاتا کہ ان کے پاس غیر معمولی دولت جمع ہوگئی ہے تو وہ اس کا محاسبہ کرتے اور زائد دولت بیت المال میں جمع کروا دیتے ۔ ان کے دور میں گورنر وں کو قانون کی خلاف ورزی کی پاداش میں سزا بھگتنا پڑی ۔
فاتح مصر عمرو بن العاص کے بیٹے عبدﷲ کو (جس نے کسی شخص کو بلاوجہ مارا تھا) آپ نے اس کے باپ کے سامنے کوڑے لگوائے مگر کسی کو حوصلہ نہ پڑا کہ کچھ مخالفت کر سکے ۔ فاتح شام حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو معزول کیا ۔ فاتح ایران سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے جواب طلبی کی ۔ (چشتی)

عدل کے بغیر کوئی ملک اور معاشرہ اپنا اخلاقی وجود برقرار نہیں رکھ سکتا ۔ ناانصافی اور ظلم سے انتشار، ہیجان ، بے یقینی ، مایوسی ، اشتعال ، فساد فی الارض ، انتہا پسندی ، تشدد اور پھر دہشت گردی جنم لیتی ہے ۔ دنیا کا کوئی بھی معاشرہ ہو وہاں پر قانون ہاتھ میں لینے والے ، قانون کو توڑنے والے ، کمزور کا استحصال کرنے والے اور اپنے مفادات کےلیے کمزور کی جان تک لے لینے والے افراد ، گروہ اور عناصر پائے جاتے ہیں ۔ ایسے درندہ صفت عناصر اور گروہوں کی حیوانی اور خون آشام خواہشات کے سامنے قانون اور ریاست ڈھال بنتی ہے ۔ آج کل ریاستِ مدینہ کے انتظامی ماڈل کا بہت تذکرہ ہے ۔ اگر میثاقِ مدینہ کی جملہ شقوں کا بغور مطالعہ کیا جائے تو اس میثاق کی روح لاء اینڈ آرڈر کو برقرار رکھنا اور انسانی جان کا تحفظ کرنا ہے ۔ میثاقِ مدینہ کی بنیاد انسانیت کے تحفظ اور بقاء کی فکر پر رکھی گئی ۔ اس معاہدے میں مسلمانوں کے علاوہ دیگر مذاہب بھی شامل تھے ، اس لیے یہ کائنات کا پہلا بین الاقوامی تحریری معاہدہ ہے جس میں انسانی جان کے تحفظ ، قانون کی بالادستی اور انصاف کی فراہمی کو ضبطِ تحریر میں لایا گیا ۔

اسلام وہ واحد ضابطۂ حیات ہے جس نے انسانی جان کے تحفظ کےلیے اخلاقی تعلیمات بھی دیں اور تعزیری احکامات بھی دیے ۔ جدید جمہوری نظام اور جمہوری اقدار میں بھی انصاف کی فراہمی اور انسانی جان کے تحفظ کو اولین ترجیح دی گئی ہے کیونکہ یہ دو ایسے انسانی ، سماجی اور اخلاقی امور ہیں جن سے انحراف کر کے ایک متوازن انسانی سوسائٹی کو پروان نہیں چڑھایا جا سکتا اور جب بھی کوئی گروہ اپنی افرادی قوت ، وسائل یا طاقت کے زعم میں کسی کا حق سلب کرتا ہے تو مظلوم کی مدد کےلیے سب سے پہلے قانون پہنچتا ہے ۔ جب مظلوم کو طاقتور کے مقابلے میں قانون کی مدد نہیں ملتی تو کمزور بےبسی اور اشتعال کا شکار ہوتا ہے اور سوسائٹی کا انتظامی انفراسٹرکچر اپنی اخلاقی اہمیت اور افادیت کھو دیتا ہے ۔ (چشتی)

اللہ رب العزت نے سورۃ الحجرات میں انصاف کی اہمیت اور ناگزیریت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا : وَاِنْ طَآىٕفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَاۚ - فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىهُمَا عَلَى الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰى تَفِیْٓءَ اِلٰۤى اَمْرِ اللّٰهِۚ - فَاِنْ فَآءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَ اَقْسِطُوْاؕ - اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ ۔(سورہ الحجرات آیت نمبر 9)
 ترجمہ : اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑپڑیں تو تم ان میں صلح کرادوپھر اگران میں سے ایک دوسرے پر زیادتی کرے تو اس زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے پھر اگر وہ پلٹ آئے تو انصاف کے ساتھ ان میں صلح کروا دو اور عدل کرو ، بیشک اللہ عدل کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے ۔

سورۃ المائدہ میں فرمایا : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰهِ شُهَدَآءَ بِالْقِسْطِ٘ - وَ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰۤى اَلَّا تَعْدِلُوْاؕ - اِعْدِلُوْا - هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى٘ - وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ ۔ (سورہ الماٸدہ آیت نمبر 8)
 ترجمہ : اے ایمان والو! انصاف کے ساتھ گواہی دیتے ہوئے اللہ کے حکم پر خوب قائم ہوجاؤ اور تمہیں کسی قوم کی عداوت اس پر نہ اُبھارے کہ تم انصاف نہ کرو (بلکہ) انصاف کرو، یہ پرہیزگاری کے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ تمہارے تمام اعمال سے خبردار ہے ۔ (چشتی)

معلوم ہوا کہ عدل کرنا حبِ الٰہی کے حصول کا ذریعہ اور تقویٰ کی علامت ہے ۔ نظامِ انصاف میں منصف کی بہت زیادہ اہمیت ہے ۔ انصاف کا عمل منصف کے ذریعے پایہ تکمیل کو پہنچتاہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : سات طرح کے انسانوں کو (قیامت کے دن) اللہ تعالیٰ اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا جب کہ اس دن عرشِ الہٰی کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں ہوگا ، ان میں ایک امامِ عادل ہے (یعنی انصاف کرنے والا حکمران یا قاضی ہے) ۔ (صحیح بخاری)

پس کتنی ہی ایسی بستیاں ہیں جو ظالم تھیں ہم نے انہیں تباہ کر دیا تو وہ اپنی چھتوں سمیت گری پڑی ہیں اور کئی ایک بیکار کنویں اور کتنے ہی مضبوط محل ویران پڑے ہیں ۔ کیا انہوں نے کبھی زمین میں گھوم پھر کر نہیں دیکھا کہ ان کے دل ان باتوں کو سمجھنے والے ہوتے یا کانوں سے ہی ان کی باتیں سن لیتے بات یہ ہے کہ صرف آنکھیں ہی اندھی نہیں ہوئیں بلکہ وہ دل اندھے ہو چکے ہیں جو سینوں میں پڑے ہیں ۔ (سورہ الحج 45 ، 46)

اور کتنی ایسی بستیاں تھیں ، جنہیں ہم نے ہلاک کر دیا ۔ تب آیا ان پر ہمارا عذاب رات کے دوران یا دوپہر کے وقت جب وہ آرام کر رہے تھے ۔ پھر جب ان پر ہمارا عذاب آ گیا تو ان کا کہنا یہی تھا کہ ہم خود ہی اپنے اوپر ظلم کرنے والے تھے ۔ (سورہ الاعراف آیات 4,5 ) ۔ (چشتی)

آگے فرمایا : کیا ان بستیوں کے لوگ اس بات سے مامون ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب رات کے دوران آ جائے اور وہ سوئے پڑے ہوں؟ کیا ان بستیوں کے لوگ اس بات سے مامون ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب چاشت کے وقت آ جائے اور وہ کھیل میں لگے ہوں ؟ ۔ (سورہ الاعراف آیات 97,97)

عذاب کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ دشمن بستیاں ویران کر دے ۔ عزت و آبرو برباد کر دے ۔ قوم کو اپنا غلام بنا لے ۔ عزت و آبرو تو ہم لوگوں کی تار تار ہو چکی ہے ، کبھی اس در کبھی اس در کبھی دربدر، کبھی امریکہ کے ہر اول دستہ کے غلام ، کبھی چین کے ہر اول دستہ کے غلام ، علما و ذاکر حضرات کبھی سعودی عرب کی چوکھٹ پر اور باقی کبھی ایران کی چوکھٹ پر ، الغرض ندامت و پشیمانی ہی ہمارا مقدر ہے، لیکن عبرت ہم نے حاصل نہیں کرنی ۔

یہ بات تو طے ہے کہ احتساب عام آدمی کا ہی ہوتا ہے ، اور ہوتا رہے گا ۔ عام آدمی اگر 1 مہینہ بجلی کا بل نا دے تو واپڈا کی ضلعی انتظامیہ اس کا میٹر کاٹ جاتی ہے ۔ جبکہ سرکاری دفاتر اور ملازم دل کرے تو بل دے دیں ، نہیں تو نادہندہ بن کر بھی بجلی استعمال کرتے رہیں ، کیونکہ ان کو کچھ نہیں کہا جاتا ۔ عام آدمی اگر کسی جرم میں پکڑا جائے تو پولیس اس سے وہ جرم بھی قبول کروا لیتی ہے ، جو اس نے کیے نہیں ہوتے ہیں ۔ جبکہ امرا جرم کر کے ثبوت نا ہونے اور نامکمل تفتیش کی بنیاد پر رہا ہو جاتے ہیں اور اگر اس سے بھی کام نا بنے تو ڈیل و ڈھیل ، پلی بارگین اور دیت کا قانون ہی کافی ہے ، نواز شریف ، شیباز شریف ، حمزہ شہباز ، شاہد خاقان عباسی ، علیم خان ، جہانگیر ترین ، سراج درانی ، آصف زرداری ، خرشید شاہ ، مجید اچکزئی اور مزید ناموں کے لیے فہرست چھاپنا پڑے گی ، اب تو اس فہرست میں ان کے نام بھی آ سکتے ہیں جو اس ملک کی نظریاتی و جغرافیائی حدود کے نگہبان ہیں ۔ عام آدمی ٹیکس نا دے تو حکومت جائیداد کی قرقی کا فرمان جاری کر دیتی ہے ۔

پاکستان بنا تو اسلام کے نام پر تھا، مگر اسلامی اصولوں کے استعمال پر پابندی ہے ، کیونکہ مسلم ممالک میں جس دن اسلامی نظام نافذ ہو گیا ، اس دن ملک میں ججز اور جلادوں کی قلت پیدا ہو جائے گی ۔ مزید حصّہ دوم میں ان شاء اللہ ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Thursday, 26 May 2022

جھوٹوں پر اللہ کی لعنت

 جھوٹوں پر اللہ کی لعنت

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

محترم قارئینِ کرام : سب جانتے ہیں کہ بے بنیاد باتوں کو لوگوں میں پھیلانے ، جھوٹ بولنے اور افواہ کا بازار گرم کرنے سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا ۔ ہاں! اتنی بات تو ضرور ہے کہ یہی جھوٹ ، چاہے جان کر ہو ، یا اَنجانے میں ، کتنے لوگوں کو ایک دوسرے سے بدظن کر دیتا ہے ، یہ لڑائی ، جھگڑے اور خون وخرابے کا باعث ہوتا ہے ، کبھی تو بڑے بڑے فساد کا سبب بنتا ہے اور بسا اوقات پورے معاشرے کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیتا ہے ۔ جب جھوٹ بولنے والے کی حقیقت لوگوں کے سامنے آتی ہے ، تو وہ بھی لوگوں کی نظر سے گرجاتا ہے ، اپنا اعتماد کھو بیٹھتا ہے اور پھر لوگوں کے درمیان اس کی کسی بات کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا ۔ انسان جب بھی کچھ بولتا ہے تو اللہ کے فرشتے اسے نوٹ کرتے رہتے ہیں ، پھر اسے اس ریکارڈ کے مطابق اللہ کے سامنے قیامت کے دن جزا و سزا دی جائے گی ۔


ارشادِ باری تعالیٰ ہے : لَعْنَتَ اللّٰهِ عَلَى الْكٰذِبِیْنَ ۔ (سورہ العمران آیت نمبر 61)

ترجمہ : جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ڈالیں ۔


اِنَّمَا یَفْتَرِی الْكَذِبَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِۚ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ ۔ (سورہ النحل آیت نمبر 105)

ترجمہ : جھوٹ بہتان وہی باندھتے ہیں جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتےاور وہی جھوٹے ہیں ۔


کافروں  کی طرف سے قرآنِ پاک سے متعلق نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر جو اپنی طرف سے قرآن بنالینے کا بہتان لگایا گیا تھا اس آیت میں  اس کا رد کیا گیا ہے ۔ آیت کا خلاصۂ کلام یہ ہے کہ جھوٹ بولنا اور بہتان باندھنابے ایمانوں  ہی کا کام ہے ۔ (خازن، النحل الآیۃ: ۱۰۵، ۳ / ۱۴۴)


اس آیت میں مشرکین کے متعلق فرمایا ہے اولئک ھم الکاذبون ہے اور یہ جملہ اسمیہ ہے اور عربی قواعد کے مطابق جب کسی کام کو جملہ اسمیہ کے ساتھ تعبیر کیا جائے تو وہ دوام و استمرار پر دلالت کرتا ہے ، اس کا معنی یہ ہے کہ مشرکین ہمیشہ جھوٹ بولتے ہیں، اور جب کسی کام کو جملہ فعلیہ کے ساتھ تعبیر کیا جائے تو اس کا معنی یہ ہوتا ہے کہ اس میں دوام و استمرار کا قصد نہیں کیا گیا ۔ قرآن مجید میں ہے : ثم بدالھم من بعد ما راوا الایت لیسجننہ حتی حین ۔ (یوسف : ٣٥) پھر یوسف کی پاکیزگی دیکھنے کے بعد انہوں نے یہی مناسب جانا کہ کچھ عرصہ کےلیے ان کو قید کر دیں ۔


چونکہ وہ حضرت یوسف علیہ السلام کو ہمیشہ قید میں نہیں رکھنا چاہتے تھے ، اس لیے انہوں نے لیس جننہ کہا اور قید کرنے کو جملہ فعلیہ کے ساتھ تعبیر کیا ، اور فرعون کا ارادہ حضرت موسیٰ کو ہمیشہ قید میں رکھنا تھا ، اس لیے انہیں قید میں رکھنے کو اس نے اسم کے ساتھ تعبیر کیا اور من المسجونین کہا ۔


قال لئن اتخذت الھا غیر لاجعلنک من المسجونین ۔ (الشعراء : ٢٩) فرعون نے کہا (اے موسی) اگر تم نے میرے علاوہ کسی اور کو معبود بنایا تو میں تم کو ضرور قیدیوں میں شامل کردوں گا ۔


اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق الکاذبون فرمایا اور اس میں یہ تنبیہ ہے کہ کذب ان کی صفت ثابتہ راسخہ دائمہ ہے ۔ یعنی جھوٹ بولان ان کی دائمی عادت ہے ، اسی لیے انہوں نے اللہ تعالیٰ پر بھی جھوٹ باندھنے کی جرات کی ۔


اس آیت میں مشرکین کا رد ہے ، وہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی طرف افترا کی نسبت کرتے تھے کہ ایک عجمی شخص سے کلام سیکھ کر العیاذ باللہ یہ افترا کرتے ہیں کہ یہ اللہ کا کلام ہے ۔ حالانکہ وہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو الصادق الامین کہتے تھے ، پھر بھی ان ظالموں نے یہ کہا کہ آپ معاذ اللہ اللہ پر افترا کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا افترا تو وہی لوگ کرتے ہیں کہ جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے ، یہ آیت اس پر بھی دلالت کرتی ہے کہ کاذب اور مفتری وہی ہے جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتا ، کیونکہ سب سے بڑا کزب اور افترا اللہ کا شریک قرار دینا اور رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوت کا انکار کرنا ہے ۔


جھوٹ کبیرہ گناہوں میں بدترین گناہ ہے ۔ قرآنِ مجید میں  اس کے علاوہ بہت سی جگہوں  پر جھوٹ کی مذمت فرمائی گئی اور جھوٹ بولنے والوں پر اللّٰہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ۔ بکثرت اَحادیث میں  بھی جھوٹ کی برائی بیان کی گئی ہے ۔


حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ سے روایت ہے ، رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : صدق کو لازم کرلو ، کیونکہ سچائی نیکی کی طرف لے جاتی ہے اور نیکی جنت کا راستہ دکھاتی ہے ۔ آدمی برابر سچ بولتا رہتا ہے اور سچ بولنے کی کوشش کرتا رہتا ہے ، یہاں  تک کہ وہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک صدیق لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ سے بچو ، کیونکہ جھوٹ فُجور کی طرف لے جاتا ہے اور فجور جہنم کا راستہ دکھاتا ہے اور آدمی برابر جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ بولنے کی کوشش کرتا ہے ، یہاں  تک کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک کذّاب لکھ دیا جاتا ہے ۔ ( بخاری، کتاب الادب باب قول اللّٰہ تعالی : یا ایّہا الذین آمنوا اتقوا اللّٰہ وکونوا مع الصادقین، ۴ / ۱۲۵، الحدیث: ۶۰۹۴،چشتی)(مسلم کتاب البر والصلۃ والآداب باب قبح الکذب وحسن الصدق وفضلہ صفحہ ۱۴۰۵، الحدیث: ۱۰۵(۲۶۰۷))


حضرت انس رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ سے روایت ہے ، رسول اکرم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : جو شخص جھوٹ بولنا چھوڑ دے اور جھوٹ باطل ہی ہے (یعنی جھوٹ چھوڑنے کی چیز ہی ہے) اس کے لیے جنت کے کنارے میں  مکان بنایا جائے گا اور جس نے جھگڑا کرنا چھوڑا حالانکہ وہ حق پر ہو یعنی حق پر ہونے کے باوجود جھگڑا نہیں  کرتا ، اس کےلیے جنت کے وسط میں مکان بنایا جائے گا اور جس نے اپنے اَخلاق اچھے کیے ، اس کےلیے جنت کے اعلیٰ درجے میں  مکان بنایا جائے گا ۔ ( ترمذی، کتاب البر والصلۃ، باب ما جاء فی المراء، ۳ / ۴۰۰، الحدیث: ۲۰۰۰،چشتی)


حضرت سفیان بن اَسِید حَضْرَمی رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ سے روایت ہے نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ بڑی خیانت کی یہ بات ہے کہ تو اپنے بھائی سے کوئی بات کہے اور وہ تجھے اس بات میں  سچا جان رہا ہے اور تو اس سے جھوٹ بول رہا ہے ۔ (ابوداؤد، کتاب الادب باب فی المعاریض ۴ / ۳۸۱، الحدیث: ۴۹۷۱،چشتی)


حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ سے روایت ہے ، نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’بندہ بات کرتا ہے اور محض اس لیے کرتا ہے کہ لوگوں کو ہنسائے اس کی وجہ سے جہنم کی اتنی گہرائی میں  گرتا ہے جو آسمان و زمین کے درمیان کے فاصلہ سے زیادہ ہے اور زبان کی وجہ سے جتنی لغزش ہوتی ہے ، وہ اس سے کہیں  زیادہ ہے جتنی قدم سے لغز ش ہوتی ہے ۔ ( شعب الایمان، الرابع والثلاثون من شعب الایمان ۔ الخ، ۴ / ۲۱۳، الحدیث: ۴۸۳۲)


حدیث میں یہ ہے کہ جھوٹ اور ایمان جمع نہیں ہو سکتے ، لہٰذا اللہ کے رسول صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے جھوٹ کو ایمان کے منافی عمل قرار دیا ہے ۔


حضرت صفوان بن سلیم رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ بیان کرتے ہیں : اللہ کے رسول صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے پوچھا گیا : کیا مومن بزدل ہو سکتا ہے ؟ آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے جواب دیا : ’’ہاں‘‘ پھر سوال کیا گیا : کیا مسلمان بخیل ہو سکتا ہے ؟ آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نےفرمایا : ’’ہاں‘‘ پھر عرض کیا گیا : کیا مسلمان جھوٹا ہو سکتا ہے ؟ آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : نہیں (اہلِ ایمان جھوٹ نہیں بول سکتا) ۔ (مؤطا امام مالک حدیث : ۳۶۳۰/۸۲۴،چشتی)


ایک حدیث شریف میں جن چار خصلتوں کو نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے نفاق کی علامات قرار دیا ہے ، ان میں ایک جھوٹ بولنا بھی ہے ، لہٰذا جو شخص جھوٹ بولتا ہے ، وہ خصلتِ نفاق سے متصف ہے ۔ حدیث شریف ملاحظہ فرمائیے : جس میں چار خصلتیں ہوں گی ، وہ خالص منافق ہے اور جس شخص میں ان خصلتوں میں کوئی ایک خصلت پائی جائے ، تو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہے ، تا آنکہ وہ اسے چھوڑدے : جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے ، جب بات کرے تو جھوٹ بولے ، جب وعدہ کرے تو دھوکا دے اور جب لڑائی جھگڑا کرے تو گالم گلوچ کرے ۔ (صحیح بخاری، حدیث : ۳۴،چشتی)


ایک حدیث میں آیا ہے کہ جب بندہ جھوٹ بولتا ہے ، تورحمت کے فرشتے اس سے ایک میل دور ہو جاتے ہیں : جب آدمی جھوٹ بولتا ہے تو اس سے جو بدبو آتی ہے اس کی وجہ سے فرشتہ اس سے ایک میل دور ہوجاتا ہے ۔ (سنن ترمذی : ۱۹۷۲)


ایک حدیث میں نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے جھوٹ کو فسق و فجور اور گناہ کی طرف لے جانے والی بات شمار کیا ہے ۔ حدیث کے الفاظ ہیں : یقیناً جھوٹ برائی کی رہنمائی کرتا ہے اور برائی جہنم میں لے جاتی ہے اور آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے ، تا آنکہ اللہ کے یہاں ’’کذّاب‘‘ (بہت زیادہ جھوٹ بولنے والا) لکھا جاتا ہے ۔ (صحیح بخاری، حدیث : ۶۰۹۴)


نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ایک حدیث میں جھوٹ بولنے کو بڑی خیانت قرار دیا ہے ۔ خیانت تو خود ہی ایک مبغوض عمل ہے ، پھر اس کا بڑا ہونا یہ کتنی بڑی بات ہے ! حدیث ملاحظہ فرمائیں : یہ ایک بڑی خیانت ہے کہ تم اپنے بھائی سے ایسی بات بیان کرو ، جس حوالے سے وہ تجھے سچا سمجھتا ہے ، حالانکہ تم اس سے جھوٹ بول رہے ہو ۔ (سنن ابو داود، حدیث: ۴۹۷۱)


ایک حدیث شریف میں نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے جھوٹ کو کبیرہ گناہوں میں بھی بڑا گناہ شمار کیا ہے : حضرت ابوبکرہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں وہ گناہ نہ بتلاؤں جو کبیرہ گناہوں میں بھی بڑے ہیں ؟ تین بار فرمایا ۔ پھر صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُم نے عرض کیا : ہاں ! اے اللہ کے رسول صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا اور والدین کی نافرمانی کرنا ۔ پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بیٹھ گئے ، جب کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ (تکیہ پر) ٹیک لگائے ہوئے تھے ، پھر فرمایا : خبردار ! اور جھوٹ بولنا بھی (کبیرہ گناہوں میں بڑا گناہ ہے) ۔ (صحیح بخاری، حدیث: ۲۶۵۴)


صرف یہی نہیں کہ ایسا جھوٹ جس میں فساد و بگاڑ ہو اور ایک آدمی پر اس جھوٹ سے ظلم ہو رہا ہو، وہی ممنوع ہے ، بلکہ لطف اندوزی اور ہنسنے ہنسانے کے لیے بھی جھوٹ بولنا ممنوع ہے ۔ اللہ کے رسول صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : وہ شخص برباد ہو جو ایسی بات بیان کرتا ہے، تاکہ اس سے لوگ ہنسیں ، لہٰذا وہ جھوٹ تک بول جاتا ہے ، ایسےشخص کےلیے بربادی ہو ، ایسے شخص کےلیے بربادی ہو ۔ (سنن ترمذی، حدیث: ۲۳۱۵)


شریعتِ مطہرہ میں جھوٹ بولنا اکبر کبائر (کبیرہ گناہوں میں بھی بڑا گناہ) اور حرام ہے ، جیسا کہ قرآن و حدیث کی تعلیمات سے ثابت ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پس جھوٹ افتراء کرنے والے تو یہ ہی لوگ ہیں ، جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے اور یہ لوگ ہیں پورے جھوٹے ۔ (سورۃ النحل:۱۰۵)

ایک دوسری جگہ ارشادِ خداوندی ہے : اور جن چیزوں کے بارے میں محض تمہارا جھوٹا زبانی دعویٰ ہے ، ان کی نسبت یوں مت کہہ دیا کرو کہ فلانی چیز حلال ہے اور فلانی چیز حرام ہے ، جس کا حاصل یہ ہوگا کہ اللہ پر جھوٹی تہمت لگادو گے ، بلا شبہ جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں ، وہ فلاح نہ پائیں گے ۔ (سورۃ النحل:۱۱۶)


جھوٹ کبیرہ گناہوں میں سے ہے ، لہٰذا جھوٹ بولنا دنیا و آخرت میں سخت نقصان اور محرومی کا سبب ہے ۔ جھوٹ اللہ رب العالمین اور نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ناراضی کا باعث ہے ۔ یہ ایک ایسی بیماری ہے ، جو دوسری بیماریوں کے مقابلے میں بہت عام ہے ۔ لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں کے لیے جھوٹ کا ارتکاب کرتے ہیں اور اس بات کی پروا نہیں کرتے کہ اس جھوٹ سے انہوں نے کیا پایا اور کیا کھویا ؟ جب لوگوں کو جھوٹے شخص کی پہچان ہو جاتی ہے، تو لوگ اسے کبھی خاطر میں نہیں لاتے ۔ جھوٹ بولنے والا شخص کبھی کبھار حقیقی پریشانی میں ہوتا ہے ، مگر سننے والا اس کی بات پر اعتماد نہیں کرتا ۔ ایسےشخص پر یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے ، کیوں کہ وہ اپنے اعتماد و یقین کو مجروح کر چکا ہے ۔ جھوٹ ایک ایسی بیماری ہے جو معاشرے میں بگاڑ پیدا کرتی ہے ۔ لوگوں کے درمیان لڑائی ، جھگڑے کا سبب بنتی ہے ۔ دو آدمیوں کے درمیان عداوت و دشمنی کو پروان چڑھاتی ہے ۔ اس سے آپس میں ناچاقی بڑھتی ہے ۔ اگر ہم ایک صالح معاشرے کا فرد بننا چاہتے ہیں ، تو یہ ہماری ذمے داری ہے کہ ہم لوگوں کو جھوٹ کے مفاسد سے آگاہ اور باخبر کریں ، جھوٹے لوگوں کی خبر پر اعتماد نہ کریں ، کسی بھی بات کی تحقیق کے بغیر اس پر ردِّ عمل نہ دیں ۔ اگر ایک آدمی کوئی بات آپ سے نقل کرتا ہے تو اس سے اس بات کے ثبوت کا مطالبہ کریں ۔ اگر وہ ثبوت پیش نہیں کر پاتا تو اس کی بات پر کوئی توجہ نہ دیں اور اسے دھتکاریں ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

کھلی ہوئی روشن فتح

کھلی ہوئی روشن فتح
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام ارشادِ باری تعالیٰ ہے : اِنَّا فَتَحۡنَا لَكَ فَتۡحًا مُّبِيۡنًا ۔ (سورۃ الفتح آیت نمبر 1)
ترجمہ : (اے حبیب ﷺ) ہم نے آپ کےلیے کھلی ہوئی روشن فتح عطا فرمائی ۔

اس آیت میں صرف نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے خطاب فرمایا گیا ہے اور اس کا معنی یہ ہے کہ اے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، بے شک ہم نے آپ کےلیے ایسی فتح کا فیصلہ فرما دیاہے جو انتہائی عظیم ، روشن اور ظاہر ہے ۔

الفتح : ١ میں جس فتح کا ذکر فرمایا ہے ، اس سے مراد کون سی فتح ہے ؟ اس میں مفسرین کے کوئی اقوال ہیں : (١) فتح مکہ (٢) فتح روم (٣) صلح حدیبیہ کی فتح (٤) دلائل اور براہین سے اسلا کی فتح (٥) اسلحہ سے اسلام کی فتح (٦) حق اور باطل کے اختلاف میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ۔

جمہور مفسرین کے نزدیک اس سے مراد حدیبیہ کی فتح ہے ، حضرت انس (رض) نے الفتح : ١ کی تفسیر میں کہا : اس سے مراد حدیبیہ ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٨٣٤) حضرت جابر نے کہا : ہم فتح مکہ کا شمار نہیں کرتے تھے مگر حدیبیہ کے دن اور فراء نے کہا : حضرت جابر نے فرمایا : تم لوگ فتح مکہ کو فتح کہتے ہو ، فتح مکہ بھی فتح تھی اور ہم حدیبیہ کے دن بیعت رضوان کو فتح شمار کرتے ہیں، ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ چودہ سو افراد تھے، اور حدیبیہ ایک کنواں ہے ، ضحاک نے کہا : یہ فتح بغیر جنگ کے حاصل ہوئی اور یہ صلح بھی فتح تھی، مجاہد نے کہا : اس سے مراد حدیبیہ میں اونٹوں کو نحر کرنا اور سروں کو مونڈنا ہے اور کہا : فتح حدیبیہ میں بہت عظی نشانیاں ہیں، حدیبیہ کا پانی تقریباً ختم ہوگیا تھا، نبی و نے اس میں کلی فرمائی تو اس کا پانی کناروں سے چھلکنے لگا، حتیٰ کہ آپ کے ساتھ جتنے لوگ تھے سب نے وہ پانی پی لیا، اور موسیٰ بن عقبہ نے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے حدیبیہ سے واپسی کے وقت کہا : یہ فتح نہیں ہے، ہم کو بیت اللہ کی زیارت کرنے سے روک دیا گیا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بلکہ یہ سب سے عظیم فتح ہے ، مشرکین اس بات سے راضی ہوگئے کہ وہ تم کو اپنے شہروں سے دور رکھیں اور تم سے مقدمہ کا سوال کریں اور امان کے حصول میں تمہاری طرف رظبت کریں اور انہوں نے تم سے وہ چیزیں دیکھیں جو ان کو ناپسند ہیں ۔ (المستدرک رقم الحدیث : ٣٧١١)

شعبی نے اس آیت کی تفسیر میں کہا : اس فتح سے مراد فتح حدیبیہ ہے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس فتح میں وہ چیزیں حاصل ہوئیں جو کسی اور غزوہ میں حاصل نہیں ہوئیِ آپ کو اس میں اگلے اور پچھلے بہ ظاہر خلافِ اولیٰ سب کاموں پر مغفرت حاصل ہوئی، آپ کو بیعت رضوان حاصل ہوئی، اسی غزوہ کے بعد خیبر فتح ہو اور رومی ایرانیوں پر غالب ہوئے اور مسلمانوں کو اس سے خوشی ہوئی کہ اہل کتاب کو مجوسیوں پر غلبہ ہوا اور زہری نے کہا کہ حدیبیہ کی فتح سب سے بڑی فتح تھی، حدیبیہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ چودہ سو مسلمان تھے اور اس کے صرف دو سال بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دس ہزار مسلمانوں کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے ۔ (الجامع الاحکام القرآن جز ١٦ ص ٢٣٩، دار الفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)

حضرت اَنَس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : جب ’’اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِیْنًا‘‘ سے لے کر ’’فَوْزًا عَظِیْمًا‘‘ تک آیات نازل ہوئیں  اس وقت نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ حدیبیہ سے واپس لوٹ رہے تھے اور صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عَنْہُمْ کو بہت حزن وملال تھا اور نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حدیبیہ میں  اونٹ نحر فرما دیا تھا ، (جب یہ آیات نازل ہوئیں) تو ارشاد فرمایا : ’’مجھ پرایک ایسی آیت نازل ہوئی ہے جو مجھے ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہے ۔ (مسلم کتاب الجہاد والسّیر، باب صلح الحدیبیۃ فی الحدیبیۃ، ص۹۸۷، الحدیث: ۹۷،چشتی)

ترمذی شریف کی روایت میں  ہے،حضرت اَنَس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں  کہ حدیبیہ سے واپسی پرنبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پریہ آیت نازل ہوئی ’’لِیَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ‘‘ تو آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا : ’’ آج مجھ پر ایسی آیت نازل ہوئی ہے جو مجھے روئے زمین پر موجود تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے ، پھرنبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ عَنْہُمْ کے سامنے اس آیت کی تلاوت فرمائی توانہوں  نے عرض کی : یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، آپ کو مبارک ہو ، بیشک اللہ تعالیٰ نے بیان فرما دیا کہ آپ کے ساتھ کیامعاملہ کیا جائے گا لیکن (ابھی تک یہ بیان نہیں فرمایا گیاکہ) ہمارے ساتھ کیا کیاجائے گا ؟ پھر نبی کریم عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر یہ آیت نازل ہوئی : ’’لِیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ یُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْؕ-وَ كَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ فَوْزًا عَظِیْمًا ۔ (سورہ الفتح:۵)
ترجمہ : تاکہ وہ ایمان والے مردوں  اور ایمان والی عورتوں  کو ان باغوں  میں داخل فرمادے جن کے نیچے نہریں  بہتی ہیں ، ہمیشہ ان میں  رہیں  گے اورتاکہ اللہ  ان کی برائیاںان سے مٹادے، اور یہ اللہ کے یہاں  بڑی کامیابی ہے۔( ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ الفتح، ۵ / ۱۷۶، الحدیث: ۳۲۷۴)

اس آیت میں  جس فتح کی بشارت دی گئی اس سے کون سی فتح مراد ہے ، اس کے بارے میں  مفسّرین کے مختلف اقوال ہیں ، اکثر مفسّرین کے نزدیک اس سے صلحِ حدیبیہ کی فتح مراد ہے ۔حدیبیہ مکہ ٔمکرمہ کے نزدیک ایک کنواں  ہے اور اس سارے واقعہ کا مختصرخلاصہ یہ ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے خواب دیکھا کہ آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اپنے صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ عَنْہُمْ کے ہمراہ امن کے ساتھ مکہ ٔمکرمہ میں داخل ہوئے ، ان میں  سے کوئی حلق کیے ہوئے اور کوئی قصر کیے ہوئے تھا ، نیز آپ کعبۂ معظمہ میں داخل ہوئے ، کعبہ کی چابی لی ، طواف فرمایا اور عمرہ کیا ۔ نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ عَنْہُمْ کو اس خواب کی خبر دی تو سب خوش ہوئے ۔ پھر نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے عمرہ کا قصد فرمایا اور 1400 صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ عَنْہُمْ کے ساتھ ذی القعدہ کی پہلی تاریخ،سن 6 ہجری کو روانہ ہوگئے اور ذوالحُلَیْفَہ میں  پہنچ کر وہاں  مسجد میں  دو رکعتیں  پڑھیں ، عمرہ کا احرام باندھا اور نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ اکثر صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ عَنْہُمْ نے بھی احرام باندھا۔ بعض صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ عَنْہُمْ نے جُحْفَہ سے احرام باندھا ۔ راستے میں  پانی ختم ہو گیا تو صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ عَنْہُمْ نے عرض کی : لشکر میں  پانی بالکل باقی نہیں  ہے ، صرف حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے برتن میں  تھوڑا ساپانی بچا ہے ۔

نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنے برتن میں  دستِ مبارک ڈالا تو مبارک انگلیوں سے پانی کے چشمے جوش مارنے لگے ، پھر سارے لشکر نے پانی پیا اور وضو کیا ۔ جب مقامِ عُسفان میں  پہنچے تو خبر آئی کہ کفارِ قریش بڑے سازو سامان کے ساتھ جنگ کےلیے تیار ہیں ۔ جب حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تو پھر پانی ختم ہوگیا حتی کہ لشکر والوں  کے پاس ایک قطرہ نہ رہا ، اوپر سے گرمی بھی بہت شدید تھی ۔ نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے کنوئیں میں  کلی فرمائی تو اس کی برکت سے کنواں  پانی سے بھر گیا ، پھر سب نے وہ پانی پیا اور اونٹوں کو پلایا ۔

یہاں کفارِ قریش کی طرف سے حال معلوم کرنے کےلیے کئی شخص بھیجے گئے اور سب نے جا کر یہی بیان کیا کہ نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ عمرہ کےلیے تشریف لائے ہیں ، جنگ کا ارادہ نہیں  ہے ۔ لیکن انہیں  یقین نہ آیا توآخر کار انہوں نے عُرْوَہْ بن مسعود ثَقَفِی کو حقیقت حال جاننے کےلیے بھیجا ، یہ طائف کے بڑے سردار اور عرب کے انتہائی مالدار شخص تھے ، اُنہوں  نے آکر دیکھا کہ نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  دستِ مبارک دھوتے ہیں تو صحابہ کرام رَضِیَ اللہ عَنْہُمْ تَبَرُّک کے طور پر غُسالَہ شریف حاصل کرنے کےلیے ٹوٹ پڑتے ہیں ۔ اگر کبھی لعابِ دہن ڈالتے ہیں  تو لوگ اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں  اور جس کو وہ حاصل ہو جاتا ہے وہ اپنے چہرے اور بدن پر برکت کےلیے مل لیتا ہے ، جسمِ اقدس کا کوئی بال گرنے نہیں  پاتا اگر کبھی جدا ہوا تو صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ عَنْہُمْ اس کو بہت ادب کے ساتھ لیتے اور جان سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں  ، جب نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کلام فرماتے ہیں  تو سب خاموش ہوجاتے ہیں ۔ نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ادب و تعظیم کی وجہ سے کوئی شخص اوپر کی طرف نظر نہیں اُٹھا سکتا ۔ عُروَہ نے قریش سے جا کر یہ سب حال بیان کیا اور کہا : میں  فارس ، روم اور مصر کے بادشاہوں  کے درباروں  میں  گیا ہوں ، میں  نے کسی بادشاہ کی یہ عظمت نہیں  دیکھی جو محمد مصطفی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اُن کے اصحاب میں  ہے ، مجھے اندیشہ ہے کہ تم ان کے مقابلے میں  کامیاب نہ ہو سکو گے ۔ قریش نے کہا ایسی بات مت کہو ، ہم اس سال انہیں واپس کردیں گے وہ اگلے سال آئیں ۔ عُروَہ نے کہا : مجھے اندیشہ ہے کہ تمہیں  کوئی مصیبت پہنچے گی ۔ یہ کہہ کر وہ اپنے ہمراہیوں کے ساتھ طائف واپس چلے گئے اور اس واقعہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں مشرف بہ اسلام کیا ۔ اسی مقام پر نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنے اصحاب رَضِیَ اللہ عَنْہُمْ سے بیعت لی، اسے ’’بیعتِ رضوان‘‘ کہتے ہیں ۔ بیعت کی خبر سے کفار خوف زدہ ہوئے اور ان کے رائے دینے والوں نے یہی مناسب سمجھا کہ صلح کرلیں ، چنانچہ صلح نامہ لکھا گیا اور آئندہ سال نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا تشریف لانا قرار پایا اور یہ صلح مسلمانوں  کے حق میں  بہت نفع مند ہوئی بلکہ نتائج کے اعتبار سے فتح ثابت ہوئی، اسی لیے اکثر مفسّرین فتح سے صلحِ حدیبیہ مراد لیتے ہیں اور بعض مفسّرین وہ تمام اسلامی فتوحات مراد لیتے ہیں جو آئندہ ہونے والی تھیں  جیسے مکہ ، خیبر ، حنین اور طائف وغیرہ کی فتوحات۔اس صورت میں  یہاں  فتح کوماضی کے صیغہ سے اس لیے بیان کیاگیا کہ ان فتوحات کا وقوع یقینی تھا ۔ (تفسیر خازن الفتح تحت الآیۃ: ۱، ۴ / ۱۴۴)(روح البیان، الفتح الآیۃ: ۱، ۹ / ۳-۷)(تفسیر جلالین مع صاوی الفتح الآیۃ: ۱، ۵ ۔ ۱۹۶۵-۱۹۶۶) ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Monday, 9 May 2022

میر جعفر کون تھا ؟

میر جعفر کون تھا ؟
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : میر جعفر نام جعفر علی خان نواب سراج الدولہ کی فوج میں ایک سردار تھا ۔ بعد میں ترقی کرتے ہوئے سپہ سالار کے عہدے تک پہنچ گیا یہ نہایت بد فطرت آدمی تھا ۔ اس کی نگاہیں تخت بنگال پر تھیں یہ چاہتا تھا کہ نوجوان نواب کو ہٹاکر خود نواب بن جائے اس لیے اس نے نواب سراج الدولہ سے غداری کر کے ان کی شکست اور انگریزوں کی جیت کا راستہ ہموار کیا جس کے بعد بنگال پر انگریزوں کا عملاً قبضہ ہو گیا ۔ انہوں نے میر جعفر کو 1757ء برائے نام بنگال کا نواب مقرر کیا یہ ایک کٹھ پتلی حکمران تھا اصل اختیارات لارڈ رابرٹ کلائیو کے ہاتھ میں تھے اس لیے انگریزوں کو لوٹ مار کی آزادی تھی انہوں نے بنگالی عوام کو جی بھر لوٹا ان کے قالین کے کاروبار تباہ ہو گئے انگریز نے اسے معزول کر کے پنشن مقرر کر دی اوراس کے داماد میر قاسم علی خان کونواب بنایا یہ انگریزوں کا مخالف تھا اس نے انگریزوں سے جنگ کی تو انگریزوں نے میر جعفر کو دوبارہ نواب بنایا اسی وجہ سے بنگال سے اسلامی حکومت ختم ہوئی میر جعفر کی وفات 5فروری 1765ء میں ہوئی ۔ علامہ اقبال نے کہا تھا : ⬇

جعفر از بنگال و صدق از دکن
ننگ آدم ننگ دین ننگ وطن

جنگ پلاسی وہ جنگ ہے جسے برصغیر میں برطانوی حکومت کا سنگ بنیاد سمجھا جاتا ہے ۔ یہ جنگ 23جون 1757ء کو لڑی گئی تھی ۔ اس جنگ کا پس منظر یہ تھا کہ انگریزوں نے جو تاجروں کے روپ میں ہندوستان آئے تھے، ہندوستان کی دولت سے متاثر ہوکر اس پر قابض ہونے کے خواب دیکھنے لگے اور انہوں نے سب سے پہلے بنگال پر قبضہ کرنے کی منصوبہ بندی کی ۔ بنگال پر ان دنوں نواب سراج الدولہ کی حکمرانی تھی ۔ انگریزوں نے جن کی قیادت لارڈ کلائیو کر رہا تھا سراج الدولہ کے کئی امرا اور سپہ سالار میر جعفر کو لالچ دے کر اپنے ساتھ ملالیا ۔ 23 جون 1757ء کو پلاسی کے میدان میں انگریزوں اور سراج الدولہ کے درمیان فیصلہ کن جنگ ہوئی ۔ سراج الدولہ کی فوج کا ایک بڑا حصہ جس کی کمان میر جعفر کررہا تھا ، لاتعلق کھڑا رہا نتیجہ سراج الدولہ کی شکست کی صورت میں نکلا ۔ سراج الدولہ بھی میدان جنگ سے فرار ہونے پر مجبور ہو گیا جسے میر جعفر کے بیٹے نے گرفتار کرلیا اور قتل کر دیا یوں پلاسی کی فتح نے ہندوستان میں انگریزی حکومت کے قیام کے راستے ہموار کر دیے ۔

برطانوی نو آبادکاروں کے استعماری عہد کا ڈھانچہ نوآبادیاتی فلاسفی پر استوار ہوا، اس فلسفہ کی سماجی جڑیں مضبوط کرنے کے لیے یورپی افضلیت کا تصور رائج کیا گیا، گویا یہ بیانیہ تشکیل پایا کہ مغربی لوگ ترقی یافتہ اور آزاد خیال ہیں، مسلمان شدت پسند اور سائنسی تخیل کے خلاف ہیں۔ ان تصورات کو اٹل حقیقت بنا کر پیش کرنے کےلیے نصاب کو بہ طور ڈھال استعمال کیا گیا۔ اس مقصد کےلیے ، جیمز مل سے برٹش انڈیا کی تاریخ لکھوائی گئی اور بعد ازاں کمپنی نے انھیں 1823 ء میں ملازمت دی بلکہ ان کے دونوں بیٹوں جان سٹارٹ اور جیمز بینتھم کو بھی کمپنی نے ملازم رکھ لیا۔ جیمز مل نے نو آبادکاروں کے مفادات کو تحفظ دینے کے لیے ہندستان کی سیاسی تاریخ پر کتاب لکھی اور ان کے بیٹے جان سٹارٹ مل نے نوآبادیاتی تعلیمی ڈھانچے کی بنیاد رکھنے کے لیے انگریزی زبان میں تعلیم کی حمایت میں کتابچہ تحریر کیا ۔

ہندستان میں برطانوی نو آبادیاتی عہد کی تاریخ کے الم ناک چہروں کی ملمع کاری کی گئی چنانچہ برطانوی نو آباد کار جدت طراز کے روپ میں پیش کیے گئے، چنانچہ برٹش راج دو حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ پہلا دور ایسٹ انڈیا کمپنی اور دوسرا دور سلطنت برطانیہ کے ماتحت۔ درحقیقت استعماریت کے سہولت کاروں نے دانستہ طور پر یہ تقسیم کی جس کا مقصد 1857 ء سے قبل ہندستان میں اقتصادی تباہ کاریوں اور وسائل کی لوٹ مار کمپنی کے کھاتے میں ڈال کر، برطانوی استعمار اپنے مداخلتی کردار سے علیحدگی چاہتا ہے وگرنہ تھامس رو برطانوی بادشاہ کے سفیر کی حیثیت سے جہانگیر کے دربار میں تجارتی پروانہ حاصل کرنے کےلیے چار سال تگ و دو کرتا رہا ۔ (چشتی)

جب برطانوی بادشاہ کو یہ اجازت نامہ مل گیا تو برطانوی پارلیمان نے ہندستان سے تجارت کی غرض سے، ایسٹ انڈیا کمپنی کو چارٹر دیا۔ برطانوی پارلیمان کے ممبرز کمپنی کے شیئر ہولڈرز بنے، کمپنی نے 1765 ء میں جب ہندستان میں دیوانی کے اختیارات حاصل کیے تو ہندستانی دولت برطانوی خزانے میں جمع کرانے کے لیے 1769 ء میں کمپنی نے پارلیمان کے ساتھ معاہدہ کیا گویا دیوانی کی مد میں حاصل کی جانے والی رقم سے چار لاکھ پاونڈز سالانہ برٹش خزانے میں کمپنی نے جمع کرانا شروع کیے ۔

میر جعفر اور رابرٹ کلائیو
دیوانی کے اختیارات حاصل کرنے سے قبل، علی وردی خان کے انتقال ہوتے ہی، بائیس سالہ سراج الدولہ کو کمپنی کی ایماء پر تخت نشین کرایا گیا اور فروری 1757 ء میں بنگال، بہار اور اڑیسہ میں کمپنی نے معاہدے کے تحت ٹیکس چھوٹ اور سکہ جاری کرنے کا اختیار حاصل کر لیا۔ اس معاہدے پر میر جعفر خان بہادر نے بھی دستخط کیے، درحقیقت یہ معاہدہ کرانے میں میر جعفر کا کلیدی کردار تھا۔ اس کے بعد سراج الدولہ کی مہروں سے، بنگال، بہار اور اڑیسہ کے ماتحت منتظمین کو کمپنی سے ٹیکس وصول نہ کرنے کے پروانے جاری کیے گئے۔ سراج الدولہ کی تخت نشینی ہوتے ہی، اس کی نا اہلی، کم عقلی کی نشاندہی شاہ ولی اللہ نے اپنے مکتوب میں کر دی تھی اور پھر وہی ہوا ۔ (چشتی)

1757 ء میں جنگ پلاسی ہوئی، جرنیل میر جعفر نے اس دھرتی سے غداری کی اور تخت نشینی کی خاطر برطانوی استعماریت کی بنیاد رکھنے میں انگریز کا گماشتہ بنا، میر جعفر کی کوٹھی آج حرام کی ڈیوڑھی کے نام سے نشان عبرت ہے۔ آج کے دن ہی، 23 جون 1757 ء میں، جنگ پلاسی کے بعد میر جعفر کو غداری کا انعام دینے کے لیے تخت نشین کرایا گیا اور اس کے لیے کمپنی کے نمائندہ کرنل رابرٹ کلائیو نے ایک معاہدہ کیا۔ تیرہ نکات پر مشتمل یہ معاہدہ 15 رمضان المبارک 1757 ء میں کیا گیا۔ معاہدہ کی شقیں ملاحظہ کیجیے : ⬇

1۔ نواب سراج الدولہ منصور الملک شاہ قلی خان بہادر ہیبت جنگ کے ساتھ امن کے دنوں میں جو معاہدہ ہوا تھا، میں اس کی مکمل پاسداری کروں گا ۔

2۔ انگریز کے دشمن میرے (میر جعفر) دشمن ہیں، خواہ وہ ہندوستانی ہوں یا یورپی ۔

3۔ صوبہ بنگال، بہار اور اڑیسہ میں فرانسیسیوں سے وابستہ تمام اثاثہ جات اور کارخانے انگریزوں کے قبضے میں رہیں گے اور نہ ہی میں فرانسیسیوں کو اب کبھی بھی مذکورہ صوبوں میں آباد رہنے دوں گا ۔

4۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کلکتہ پر نواب (سراج الدولہ) کے قبضے کے دوران اور لوٹ مار سے ہونے والے نقصانات، اور فورسز پر ہونے والے اخراجات پورے کرنے کے لیے، میں (کمپنی کو) ایک کروڑ روپے (ہرجانہ) ادا کروں گا ۔

5۔ کلکتہ میں انگریز باشندوں سے لوٹی گئی دولت کا نقصان پورا کرنے کے لیے، میں 50 لاکھ روپے ادا کرنے پر رضامند ہوں ۔

6۔ ہندوؤں، مسلمانوں اور کلکتہ کے دیگر باشندوں سے لوٹی گئی دولت کا نقصان پورا کرنے کے لیے، میں 25 لاکھ روپے ادا کروں گا ۔

7۔ کلکتہ کے آرمینیائی باشندوں سے لوٹی گئی دولت کے عوض، میں کمپنی کو 7 لاکھ روپے کی رقم دوں گا۔ کمپنی کو دی جانے والی رقم کی انگریزوں، ہندوؤں اور مسلمانوں میں تقسیم کا اختیار کرنل کلائیو اور کمپنی کی کونسل کے سپرد ہوگا، جسے کمپنی مناسب سمجھیں یہ رقم تقسیم کر دے ۔

8۔ کلکتہ کی سرحدوں کے چار اطراف، کھائی کے اندر جو اراضی زمینداروں کی ملکیت ہے، اس کے علاوہ، کھائی والی زمین کے ارد گرد 100 گز زمین مستقل کمپنی کے نام کروں گا ۔

9۔ کلکتہ کے جنوب میں، جہاں تک کلیپی ( کلکتہ بندر گاہ کے قریب کا علاقہ) واقع ہے، کی تمام اراضی کمپنی کے زمینداری سسٹم کے ماتحت ہوگی، اور ان علاقوں کے تمام افسران کمپنی کے دائرہ اختیار میں ہوں گے، کمپنی دیگر زمینداروں کی طرح مذکورہ افسران سے بھی محصولات لے گی ۔ (چشتی)

10۔ جب بھی میں (میر جعفر) کمپنی کی معاونت کا مطالبہ کروں تو میں کمپنی کی دیکھ بھال کا بھی ذمہ دار ہوں گا ۔

11۔ میں دریائے گنگا کے قریب ہگلی کے نیچے کوئی نیا قلعہ تعمیر نہیں کروں گا ۔

12۔ جیسے ہی میں تینوں صوبوں میں حکومت قائم کروں گا، مذکورہ بالا رقوم کو پوری ایمانداری سے ادا کیا جائے گا ۔

اس معاہدے کے تحت، ایسٹ انڈیا کمپنی نے میر جعفر کو تخت پر بٹھانے کے لیے بنگال کے خزانے سے ایک کروڑ 70 لاکھ روپے وصول کیے صرف یہی نہیں بلکہ بنگال، بہار، اڑیسہ کے علاقوں میں محصولات جمع کرنے کا اختیار بھی حاصل کر لیا۔ اس معاہدے کے بعد، میر جعفر نے اپنے ماتحت علاقوں میں کمپنی کے گماشتوں کے لیے سند جاری کی پندرہ جولائی 1757 ء میں جاری کی گئی اس سند کا متن واضح کرتا ہے کہ کمپنی وسائل کی لوٹ مار اور مقامی تاجروں، صنعتوں کو تباہ کر رہی تھی ان گماشتوں کو یہ اختیار بھی مل گیا کہ وہ کسی بھی مقامی تاجر کا کاروبار بند کرانے کے مجاز ہوں گے، تین سال بعد میر جعفر کو تخت سے اتار کر میر قاسم کو 1760 ء میں تخت نشین کیا گیا، پھر 1762 ء میں دوبارہ میر جعفر کو تخت نشین کیا گیا، تخت نشینی بھی کمپنی کے لیے منافع بخش کاروبار بن گئی اس سے کمپنی نے پانچ کروڑ روپے پر مشتمل دولت ہندستانی خزانے سے حاصل کی ۔ (چشتی)

یورپ بالخصوص برطانیہ میں دولت کی اس فراوانی کے بعد، ایڈم سمتھ نے 1776 ء میں ویلتھ آف نیشنز کتاب لکھ کر اقتصادی ترقی کے نئے اصولوں پر پیدائش دولت سے لے کر تقسیم دولت کا طریقہ کار پیش کیا، برطانیہ میں لکھی گئی یہ کتاب یورپی سرمایہ داروں کے لیے بائبل کا درجہ اختیار کر گئی۔ بنگال کی دولت لوٹنے کے بعد، برطانیہ میں کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں کئی گنا اضافہ ہوگیا یوں برطانوی پارلیمان میں بیٹھے کمپنی کے شیئر ہولڈرز کی چاندی ہو گئی۔ 1700 ء میں ہندستان کا عالمی تجارت میں 24 اعشاریہ چار فیصد حصہ تھا اور برطانیہ کا حصہ محض 2 اعشاریہ آٹھ فیصد تھا، یہ تناسب ہندستان پر انگریز قبضے کے بعد 1870 ء میں کم ہو کر 12 اعشاریہ دو فیصد رہ گیا ۔

برطانیہ میں دولت کی فراوانی ہونے کے بعد ہی، یورپی ایجادات اور صنعتی ترقی کا آغاز ہوا۔ ہندستان میں اپنی مداخلت کی گرفت مضبوط رکھنے کے لیے، برطانوی پارلیمان نے گورنر جنرل کا عہدہ متعارف کرا دیا، 1773 ء میں گورنر جنرل کا یہ عہدہ کلکتہ کے لئے تشکیل دیا گیا جسے کمپنی کی بمبئی اور مدراس پریذیڈنسی پر فوقیت دی گئی، اس عہدے کی تنخواہ 25 ہزار پاونڈز مقرر کی گئی جس کی ادائیگی ہندستانی خزانے سے ہوتی، اس عہدے کے ساتھ برطانوی پارلیمان نے پانچ رکنی کونسل تشکیل دی اور اس کونسل کے تین ممبرز کی نامزدگی کا اختیار پارلیمان کے پاس رکھا گیا، جب 1858 ء میں ملکہ وکٹوریا نے آرڈیننس پاس کیا تو برطانوی پارلیمان ہندستان پر براہ راست مسلط کر دی گئی اور کمپنی کے تحت موجود تمام اثاثہ جات بھی برطانیہ نے اپنے قبضے میں لے لیے اور یہی گورنر جنرل کا عہدہ وائسرائے کے منصب سے تبدیل کر دیا گیا ۔

تقسیم ہند کے بعد بھی یہ منصب مختلف صورتوں میں یہاں موجود ہیں، ان منصبوں کے ذریعے سے ہی جدید عہد کا استعمار مقامی افراد کے لئے میر جعفر والے کردار متعین کرتا ہے اور مابعد نوآبادیاتی سیاسی ڈھانچے کے تناظر میں ملک کی اقتصادیات کی شہ رگ کو استعمار اپنی گرفت میں رکھتا ہے۔ نوجوان نسل کو اس خطے کی سیاسی و اقتصادی تاریخ کا گہرائی سے مطالعہ کر کے ایسے کرداروں کی نشاندہی کرنی چاہیے جو عہدوں کےلیے قوموں پر غلامی کا طوق مسلط کرتے ہیں ۔ یا اللہ ہمیں غدّاری اور غدّاروں سے بچا آمین ۔ (طالبِ دع و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

ایمانِ ابوطالب کے بارے میں مسلمانانِ اہلسنت کے اکابرین کے خلاف بکواس کرنے والوں کو انہی کے گھر سے جواب

ایمانِ ابوطالب کے بارے میں مسلمانانِ اہلسنت کے اکابرین کے خلاف بکواس کرنے والوں کو انہی کے گھر سے جواب محترم قارئینِ کرام : شیعہ مفسر قمی لک...