Thursday, 2 January 2020

مسٸلہ ایمانِ ابو طالب حصّہ دوم

مسٸلہ ایمانِ ابو طالب حصّہ دوم

محترم قارئینِ کرام : اس مسلہ کے متعلق پہلا حصّہ اُمید ہے آپ پڑھ چکے ہونگے آیئے اب اس موضوع سے متعلق دوسرا حصّہ پڑھتے ہیں :
سیدنا مسیب بن حزن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : أَنَّ أَبَا طَالِبٍ لَمَّا حَضَرَتْهُ الوَفَاةُ، دَخَلَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ أَبُو جَهْلٍ، فَقَالَ : أَيْ عَمِّ، قُلْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، كَلِمَةً أُحَاجُّ لَكَ بِهَا عِنْدَ اللَّهِ فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ : يَا أَبَا طَالِبٍ، تَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ المُطَّلِبِ، فَلَمْ يَزَالاَ يُكَلِّمَانِهِ، حَتَّى قَالَ آخِرَ شَيْءٍ كَلَّمَهُمْ بِهِ : عَلَى مِلَّةِ عَبْدِ المُطَّلِبِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ، مَا لَمْ أُنْهَ عَنْهُ فَنَزَلَتْ : ﴿مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الجَحِيمِ﴾ (التوبة : 113) وَنَزَلَتْ : ﴿إِنَّكَ لاَ تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ﴾ (القصص : 56)
ترجمہ : حضرت سعید بن مسیب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب ابو طالب کی وفات کا وقت آیا تو اس کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے ‘ آپ نے ان کے پاس ابوجہل اور عبد اللہ بن ابی امیہ بن المغیرہ کو پایا ۔ آپ نے فرمایا : اے چچا لا الٰہ الا اللہ کہیے ‘ میں اس کلمہ کی وجہ سے اللہ کے پاس آپ کی شفاعت کروں گا ‘ تو ابوجہل اور عبد اللہ بن ابی امیہ نے کہا کیا تم عبدالمطلب کی ملت سے اعراض کرو گے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان پر مسلسل کلمہ توحید پیش کرتے رہے ‘ اور وہ دونوں اپنے بات دہراتے رہے ‘ حتیٰ کہ ابو طالب نے آکر میں یہ کہا کہ وہ عبد المطلب کی ملت پہر ہے اور لا الٰہ الا اللہ پڑھنے سے انکار کردیا ‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں تمہارے لیے اس وقت تک استغفار کرتا رہوں گا جب تک کہ مجھے اس سے منع نہ کردیا جائے۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : ماکان للنبی والذین امنوا ان بستٖفر وا للمشرکین۔ (التوبۃ : ٣١١) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے اور مومنین کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ مشرکین کے لیے استغفار کریں ۔ اور اللہ تعالیٰ نے ابو طالب کے لیے یہ آیت نازل فرمائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرمایا : انک لا تھدی من احببت ولکن اللہ یھدی من یشاء ج ۔ (القصص : ٦٥) بیشک آپ جس کو پسند کریں اس کو ہدایت یافتہ نہیں بنا سکتے ‘ لیکن اللہ جس کو چاہے اس کو ہدایت یافتہ بنا دیتا ہے ۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٧٧٤‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٤٢‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٥٣٠٢‘ مسند احمد رقم الحدیث : ٤٧٠٤٢)
یہ حدیث اس بات پر نص ہے کہ ابوطالب کافر تھے ۔ انہوں نے مرتے وقت کلمہ پڑھنے سے انکار کر دیا تھا ۔ ان کو ہدایت نصیب نہیں ہوئی ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو ان کے حق میں دعا کرنے سے منع کر دیا تھا ۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، بیان کرتے ہیں : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمِّهِ: قُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ لَكَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، قَالَ: لَوْلَا أَنْ تُعَيِّرَنِي قُرَيْشٌ، يَقُولُونَ: إِنَّمَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ الْجَزَعُ لَأَقْرَرْتُ بِهَا عَيْنَكَ، فَأَنْزَلَ اللهُ : ﴿إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ﴾ ۔ (۲۸-القصص : ٥٦) ۔
ترجمہ : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چچا سے فرمایا آپ کہیے لا الٰہ الا اللہ قیامت کے دن اس کلمہ کی وجہ سے میں آپ کے حق میں شہادت دوں گا ۔ ابوطالب نے کہا اگر قریش مجھے عار نہ دلاتے اور یہ نہ کہتے کہ موت کی گھراہٹ میں انہوں نے کلمہ توحید پڑھ لیا تو میں یہ کلمہ پڑھ کر تمہاری آنکھوں کو ٹھنڈا کردیتا تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : انک لا تھدی من احببت ولکن اللہ یھدی من یشاء ۔ (سورۃُ القصص : ٦٥) ۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٨٨١٣‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٥٢‘ مسند احمد ج ٢ ص ٤٣٤۔ ١٤٤‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٠٧٢٦‘ دلائل النبوۃ للبیہقی ج ٢ ص ٥٤٣‘ ٤٤٣)

عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَفَعْتَ أَبَا طَالِبٍ بِشَىْءٍ فَإِنَّهُ كَانَ يَحُوطُكَ وَيَغْضَبُ لَكَ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ هُوَ فِي ضَحْضَاحٍ مِنْ نَارٍ وَلَوْلاَ أَنَا لَكَانَ فِي الدَّرْكِ الأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ ‏‏.‏
ترجمہ : سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا : اے اللہ عزّ و جل کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کیا آپ نے ابو طالب کو کوئی فائدہ دیا ۔ وہ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دفاع کیا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےلیئے دوسروں سے غصے ہو جایا کر تے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں ! (میں نے اُنہیں فائُدہ پہنچایا ہے) وہ اب با لائی طبقے میں ہیں ۔ اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے نچلے حصے میں ہو تے ۔ (صحیح البخاری : 548/1، ح : 3883، صحیح المسلم : 115/1۔ ح : 209،چشتی)،(صحيح مسلم - كتاب الإيمان باب شَفَاعَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لأَبِي طَالِبٍ وَالتَّخْفِيفِ عَنْهُ بِسَبَبِهِ ۔ 531)

امام ابنِ حجر رحمۃ اللہ علیہ (733-853ھ) اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں : فھذا شان من مات علي الكفر، فلو كان مات علي التوحيد لنجا من النار أصلا والاحاديث الصححة والاخبار المتكاثرة طاقحة بذلك ۔
ترجمہ : یہ صورتحال تو اس شخص کی ہوتی ہے جو کفر پر فوت ہوا ہو ۔ اگر ابوطالب توحید پر فوت ہوتے تو آگ سے مکمل طور پر نجات پا جاتے ۔ لیکن بہت سی احادیث و اخبار اس (کفر ابو طالب) سے لبریز ہیں ۔ (الاصابته في تميز الصحابته لابن حجر : 241/7)

حضرت سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : أنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم وذكر عنده عمه فقال : ‏‏‏‏ لعله تنفعه شفاعتي يوم القيامة، ‏‏‏‏ فيجعل في ضحضاح من النار يبلغ كعبيه يغلي منه دماغه ۔
ترجمہ : انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں آپ کے چچا (ابوطالب) کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : شاید کہ ان کو میری سفارش قیامت کے دن فائدہ دے اور ان کو جہنم کے بالائی طبقے میں رکھا جائے جہاں عذاب صرف ٹخنوں تک ہو اور جس سے (صرف) ان کا دماغ کھولے گا ۔ (صحیح البخاری : 548/1، ح3885، صحیح المسلم : 115/1، ح210)

حضرت سیدنا عبد اللہ بن عبا س رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : أَهْوَنُ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا أَبُو طَالِبٍ وَهُوَ مُنْتَعِلٌ بِنَعْلَيْنِ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ ۔
ترجمہ : جہنمیو ں میں سب سے ہلکے عذاب والے شخص ابو طالب ہوں گے ۔ وہ آگ کے جوتے پہنے ہوں گے جن کی وجہ سے اُن کا دماغ کھو ل رہا ہو گا ۔ (صحیح المسلم : ح : 515)

حضرت سیدنا مولا علی بن طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : لَمَّا تُوُفِّيَ أَبِي أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ : إِنَّ عَمَّكَ قَدْ تُوُفِّيَ قَالَ : اذْهَبْ فَوَارِهِ ، قُلْتُ : إِنَّهُ مَاتَ مُشْرِكًا، قَالَ : اذْهَبْ فَوَارِهِ وَلَا تُحْدِثَنَّ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي ، فَفَعَلْتُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَأَمَرَنِي أَنْ أَغْتَسِلَ ۔
ترجمہ : جب میرے والد فوت ہوئے تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خد مت میں حا ضر ہوا اور عرض کی : آپ کے چچا فوت ہو گئے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جا کر انہیں کسی گڑھے میں دبا دو ۔ میں نے عرض کی : یقیناً وہ تو مشرک ہونے کی حالت میں فوت ہوئے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جائیں اور انہیں دفنا دیں ، لیکن جب تک میرے پاس واپس نہ آئیں کوئی نیا کام نہ کریں۔“ میں ایسا ہی کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے غسل کرنے کا حکم فرمایا ۔ (مسند الطيالسي الجزء الاوّل عربی صفحہ نمبر 113 حدیث نمبر 122 ،حدیث صحیح وسنده ‘ حسن متصل،چشتی)،(مسندابو داؤد طیالسی مترجم اردو جلد 1 صفحہ نمبر 98 حدیث 122 مطبوعہ پروگریسو بکس اردو بازار لاہور)

ایک روایت کے الفاظ ہیں : إِنَّ عَمَّكَ الشَّيْخَ الضَّالَّ قَدْ مَاتَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ : ‏‏‏‏ اذْهَبْ فَوَارِ أَبَاكَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ لَا تُحْدِثَنَّ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي، ‏‏‏‏‏‏فَذَهَبْتُ فَوَارَيْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَجِئْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَرَنِي، ‏‏‏‏‏‏فَاغْتَسَلْتُ وَدَعَا لِي ۔
ترجمہ : حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے گمراہ چچا فوت ہو گئے ہیں ان کو کون دفنائے گا ؟ ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : جائیں اور اپنے والد کو دفنا دیں ۔ (مسند الامام احمد : 97/1،چشتی)(سنن ابي داؤد : 3214) (سنن النسائي : 190، 2008 ، واللفظ لهٗ ، وسندهٗ حسن) ، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمۃ اللہ علیہ نے الاصابته في تميز الصحابته لابن حجر : 114/7) اور امام ابنِ جارود رحمۃ اللہ علیہ (550ھ) نے ”صحیح“ قرار دیا ہے ۔ یہ حدیث نص قطعی ہے کہ ابو طالب مسلمان نہیں ہوئے تھے ۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ نے نمازِ جنازہ تک نہیں پڑھی ۔

محترم قارئینِ کرام : مسئلہ ایمانِ ابوطالب کے بارے میں بعض لوگ قدر غلو سے کام لے رہے ہیں کہ اللہ کی پناہ ۔ سنی کہلانے والے بڑے بڑے پیر بھی اس مسئلے میں متبع روافض نظر آرہے ہیں ۔ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی وجہ سے ابو طالب کے متعلق خاموشی کو احوط سمجھتے ہیں ۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اجلہ صحابہ و اہل بیت رضی اللہ عنہم اور ائمہ و فقہا علیہم الرّحمہ کے خلافِ عمل ، ابوطالب کے قصیدے پڑھے جائیں اور ابوطالب کو مسلمان نہ سمجھنے والوں کے متعلق گندی زبان استعمال کی جائے ۔ قائلین ایمانِ ابوطالب ہوش کے ناخن لیں ، شاید انہیں معلوم نہیں کہ صحیح حدیث کے مطابق حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ فداہ ابی وامی بھی ابوطالب کو ” ضال “ سمجھتے تھے ۔ تو کیا ان رافضی ذہنیت والے پیرانِ فرتوت کی زد میں حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ بھی نہیں آجاتے ۔ ان باطنی رافضیوں اور ظاہری خارجیوں کی زد میں صرف حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ ہی نہیں دیگر اہل بیت واصحاب رسول رضی اللہ عنہم بھی آجاتے ہیں جو ایمانِ ابوطالب کے قائل نہیں تھے ۔

حضرت سیدنا اُسامہ رضی اللہ عنہ کا انتہائی واضح بیان ملاحظہ ہو : ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ عَقِيلٌ وَرِثَ أَبَا طَالِبٍ هُوَ وَطَالِبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَرِثْهُ جَعْفَرٌ وَلَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا شَيْئًا لِأَنَّهُمَا كَانَا مُسْلِمَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ عَقِيلٌ وَطَالِبٌ كَافِرَيْنِ ۔ (صحیح بخاری 1588)
ترجمہ : عقیل اور طالب دونوں ابوطالب کے وارث بنے تھے ، لیکن (ابو طالب کے بیٹے) سیدنا جعفر اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما نے اُن کی وراثت سے کچھ بھی نہ لیا کیونکہ وہ دونوں مسلمان تھے جبکہ عقیل اور طالب دونوں کا فر تھے ۔ (صحیح البخاری:1588،صحیح المسلم:33/2،ح:1614مختصراً)

یہ روایت بھی بین دلیل ہے کہ ابوطالب کفر کی حا لت میں فوت ہو گئے تھے ۔ اسی لئے عقیل اور طالب کے برعکس حضرت سیدنا جعفر اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما اُن کے وارث نہیں بنے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا فرمان عالیشان ہے : لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ ، نہ مسلمان کافر کا وارث بن سکتا ہے نہ کافر مسلمان کا ۔ (صحیح البخاری:551/2،ح:6764،چشتی)(صحیح المسلم :33/2، ح :1614)

امام ابنِ عساکر رحمۃ اللہ علیہ (499-571ھ) فرماتے ہیں : وقيل : إنهُ أَسلَمَ وَلَا يَصِحٌ إسلامُهُ ۔
ترجمہ : ایک قول یہ بھی ہے کہ ابوطالب مسلمان ہو گئے تھے ، لیکن ان کا مسلمان ہونا ثابت نہیں ہے ۔ (تاریح ابن عساکر:307/66)

ابوطالب کے ایمان لائے بغیر فوت ہونے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو بہت صدمہ ہوا تھا ۔ وہ ہقیناً پوری زندگی اسلام دوست رہے ۔ اسلام اور پیغمبر اسلام کے لیے وہ ہمیشہ اپنے دل میں ایک نرم گو شہ رکھتے رہے لیکن اللہ کی مرضی کہ وہ اسلام کی دولت سے سرفراز نہ ہو سکے ۔

حافظ ابنِ کثیر (700-774ھ) ابو طالب کے کفر پر فوت ہونے کے بعد لکھتے ہیں : وَلَوْلَا مَا نَهَانَا اللَّهُ عَنْهُ مِنَ الِاسْتِغْفَارِ لِلْمُشْرِكِينَ، لَاسْتَغْفَرْنَا لابي طَالب وترحمنا عَلَيْهِ ۔
ترجمہ : اگر اللہ تعالیٰ نی ہمیں مشرکین کے لیے استغفار کرنے سے منع نہ فرمایا ہوتا تو ہم ابوطالب کے لیے استغفار کر تے اور اُن کے لیے رحم کی دعا بھی کرتے ۔ (سیرةالرسول ابن کثیر:132/2)

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : فلما رأی حرص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم علیه قال : یا ابن أخي! والله، لو لا مخافة السبة علیك وعلی بني أبیک من بعدي، وأن تظن قریش أني إنما قلتھا جزعا من الموت لقلتھا، لا أقولھا إلا لإسرک بھا، قال: فلما تقارب من أبي طالب الموت قال: نظر العباس إلیه یحرک شفتیه، قال: فأصغی إلیه بأذنه، قال: فقال: یا ابن أخي ! واللہ، لقد قال أخي الکلمة التي أمرته أن یقولھا، قال: فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم : لم أسمع ۔
ترجمہ : جب ابو طالب نے اپنے( ایمان کے) بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی حرص دیکھی تو کہا : اے بھتیجے ! اللہ کی قسم ، اگر مجھے اپنے بعد آپ اور آپ کے بھائیوں پر طعن و تشنیع کا خطرہ نہ ہوتا ، نیز قریش یہ نہ سمجھتے کہ میں نے موت کے ڈر سے یہ کلمہ پڑھا ہے تو میں کلمہ پڑھ لیتا۔ میں صرف آپ کو خوش کرنے کیلئے ایسا کروں گا۔ پھر جب ابو طالب کی موت کا وقت آیا تو عباس نے ان کو ہونٹ ہلاتے ہوئے دیکھا ۔ انہوں نے اپنا کان لگایا اور (نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے) کہا : اے بھتیجے ! یقیناً میرے بھائی نے وہ بات کہہ دی ہے جس کے کہنے کا آپ نے اُنہیں حکم دیا تھا ۔ (السیرۃ لابن ھشام: ۴۱۷/۱، ۴۱۸، المغازي لیونس بن بکیر: ص ۲۳۸،چشتی)(دلائل النبوۃ للبیھقي: ۳۴۶/۲)

یہ روایت سخت"ضعیف" ہے : امام ابن عساکر رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : اس حدیث کی سند کا ایک راوی نا معلوم ہے ۔ اس کے برعکس صحیح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ابو طالب کفر کی حالت میں فوت ہوئے ۔ (تاریخ ابن عساکر: ۳۳/۶۶)

امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ھٰذا إسنادمنقطع ۔ "الخ ، یہ سند منقطع ہے ۔ (تاریخ الاسلام: ۱۵۱/۲)

حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں : "إن في السند مبھما لا یعرف حاله، وھو قول عن بعض أھله، وھذا إبھام في الاسم و الحال، و مثله یتوقف فیه لو انفرد........ و الخبر عندي ما صح لضعف في سندہ" ۔
ترجمہ : اس کی سند میں ایک مبہم راوی ہے ، جس کے حالات معلوم نہیں ہوسکے ، نیز یہ اُس کے بعض اہل کی بات ہے جو کہ نام اور حالات دونوں میں ابہام ہے۔ اس جیسے راوی کی روایت اگر منفرد ہو تو اس میں توقف کیا جاتا ہے ۔۔۔ میرے نزدیک یہ روایت سند کے ضعیف ہونے کی بنا پر صحیح نہیں ۔ (البدایة و النھایة لابن کثیر: ۱۲۳/۳ ۔ ۱۲۵)

امام ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : بسند فیه لم یسم...... و ھذا الحدیث لو کان طریقه صحیحا لعارضه ھذا الحدیث الذی ھو أصح منه فضلا عن أنه لا یصح ۔
ترجمہ : یہ روایت ایسی سند کے ساتھ مروی ہے جس میں ایک راوی کا نام ہی بیان نہیں کیا گیا.... اس حدیث کی سند اگر صحیح بھی ہو تو یہ اپنے سے زیادہ صحیح حدیث کے معارض ہے۔ اس کا صحیح نہ ہونا مستزاد ہے ۔ (فتح الباری لابن حجر: ۱۸۴/۷)

امام بدر الدین عینی حنفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : في سند ھذا الحدیث مبھم لا یعرف حاله، وھذا إبھام في الاسم و الحال، و مثله یتوقف فیه لو انفرد ۔
ترجمہ : اس حدیث کی سند میں ایک مبہم راوی ہے جس کے حالات معلوم نہیں ہوسکے ۔ نام اور حالات دونوں مجہول ہیں۔ اس جیسے راوی کی روایت اگر منفرد ہو تو اس میں توقف کیا جاتا ہے۔ (شرح ابي داؤد للعیني الحنفي: ۱۷۲/۶)

ایمانِ ابو طالب حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی رحمۃ اللّٰہ علیہ کی نظر میں

تاجدار گولڑہ حضرت سیّد پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں : آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے چچے اور پھوپھیاں حارث ، قثم ، حمزہ ، عباس ، ابوطالب ، عبدالکعبہ ، جحل ، ضرّار ، غیداق ، ابولہب ، صفیہ ، عاتکہ ، اروی ، اُمّ حکیم ، بّرہ ، امیمہ اس جماعت میں سے حضرت حمزہ و عباس و حضرت صفیہ رضوان اللّٰہ علیھم اجمعین وعلیھن ایمان لائے ۔ اور حاشیہ میں لکھا ہے کہ حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے انہیں تین حضرات کے مشرف با اسلام ہونے کو جمہور علماء کا مذہب قرار دیا ہے ۔ (تحقیق الحق فی کلمة الحق صفحہ نمبر 153 مطبوعہ گولڑہ شریف،چشتی)

حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے چچاؤں میں سے بجز حضرت امیر حمزہ اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما کے کوئی مسلمان نہ ہوا ۔ ابو طالب اور ابو لہب نے زمانہ اسلام کا پایا لیکن اس کی توفیق نہ پائی جمہور علماء کا یہی مذہب ہے ۔ (مدارج النبوت مترجم اردو جلد دوم صفحہ نمبر 576 مطبوعہ ضیاء القرآن پبلیکیشنز لاہور پاکستان،چشتی)

حضرت میر عبدالواحد بلگرامی رحمۃ اللہ علیہ اور ایمانِ ابو طالب

محترم قارئینِ کرام : سبع سنابل کے حوالے سے رافضیوں نے یہ دھوکا دینے کی کوشش کی ہے کہ حضرت میر عبدالواحد بلگرامی رحمۃ اللہ علیہ ابو طالب کو مسلمان سمجھتے تھے ۔ جب یہ اتنا بڑا جھوٹ ہے کہ رافضیوں کو بولنے سے پہلے لکھنے سے پہلے یہ سوچنا چاہئے تھا کہ سبع سنابل شریف اب بھی چھپ رہی ہے جو چاہے وہ پڑھ کر خود ہی اندازہ لگا سکتا ہے کہ حضرت میر عبدلواحد بلگرامی رحمۃ اللہ علیہ کا وہی موقف ہے جو جمیع اہل سنت و جماعت کے اکابرین کا موقف ہے یعنی ابو طالب کا خاتمہ کفر پر ہوا ۔ اب آئیے سبع سنابل شریف کی عبارت آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں آپ خود فیصلہ کر لیجئے گا ۔

حضرت میر عبدالواحد بلگرامی رحمۃ اللہ علیہ سبع سنابل شریف میں فرماتے ہیں : میرے بھائی اگر چہ مصطفے صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے فضائل و شرف کے کمالات اہل معرفت کے دلوں میں نہیں سماں سکتے اور ان کے سچے دوستوں کے نہاں خانوں میں منزل نہیں بنا سکتے اس کے با وجود ان کے ان نسب عالوں میں اپنا کامل اثر نہیں دکھا سکتے خواہ وہ آباؤ اجداد ہوں یا اولاد در اولاد چنانچہ ابو طالب میں اس نسب نے کوئی اثر نہیں کیا حالانکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ان کے بارے میں بلیغ کوشش فرماتے رہے لیکن چونکہ خدائے قدوس جل و علا نے ان کے دل پر روز اول ہی سے مہر لگا دی تھی لہذا جواب دیا اخرت النار على العار میں عار پر نار کو ترجیح دیتا ہوں جیسا کہ مشہور ہے منقول ہے کہ جب ابو طالب کا انتقال ہوا مولی علی کرم اللہ وجہہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو یہ خبر پہنچائی کہ مات عمك الضال حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے گمراہ چچا کا انتقال ہوگیا بیت کبھی ایسے گوہر پیدا کرنے والے گھرانہ میں ابو طالب جیسے کو (خالق بے نیاز) پتھر پھینکنے والا بنا دیتا ہے ۔ (سبع سنابل صفحہ نمبر 90 مطبوعہ حامد اینڈ کمپنی اردو بزار لاہور) ۔ (مزید حصّہ سوم میں ان شاء اللہ العزیز) ۔ (طالبِ دعا ودعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)





مسٸلہ ایمانِ ابو طالب حصّہ اوّل

مسٸلہ ایمانِ ابو طالب حصّہ اوّل
محترم قارئینِ کرام : ایمانِ ابو طالب کے متعلق سب سے پہلی گزارش یہ ہے کہ اس مسٸلہ اختلاف موجود ہے ہم دنوں فریقوں کے دلائل کے ساتھ ساتھ جمہور کا مؤقف بھی پیش کرینگے تاکہ مسٸلہ کی مکمل وضاحت ہو سکے یہ مضمون چند حصّص پر مشتمل ہوگا احباب سے گزارش ہے گالم گلوچ اور پُر تشد رویے سے پرھیز کریں یہ مضمون مکمل حصّص پڑھنے کے بعد اہلِ علم کہیں غلطی پائیں تو از راہِ محبّت و شفقت اطلاع فرمائیں تاکہ اس کی اصلاح کی جا سکے شکریہ :

اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ ۚوَهُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَ ۔
ترجمہ : بیشک آپ جس کو پسند کریں اس کو ہدایت یافتہ نہیں بنا سکتے ، لیکن اللہ جس کو چاہے اس کو ہدایت یافتہ بنا دیتا ہے ، اور وہ ہدایت پانے والوں کو خوب جانتا ہے ۔ (سورۃُ القصص آیت نمبر 56)

یہ آیت کریمہ بالاتفاق ابوطالب کے بارے میں نازل ہوئی ہے

امام قاضی عبد اللہ بن احمد نسفی رحمۃ اللہ علیہ متوفی 719 ھ لکھتے ہیں : مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ آیت جب ابوطالب پر موت کا وقت آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا ! اے میر چچا ! لا الٰہ الا اللہ پڑھیے میں اس کلمہ کی وجہ سے اللہ کے پاس آپ کی شفاعت کروں گا ‘ تو ابوطالب نے کہا مجھے علم ہے کہ آپ سچے ہیں لیکن میں اس کو ناپسند کرتا ہوں کہ یہ کہا جائے کہ ابوطالب موت سے گھبرا گیا ۔ (تفسیر مدارک نسفی مترجم اردو جلد دوم صفحہ نمبر 978 مطبوعہ مکتبۃ العلم اردو بازار لاہور)

امام نووی رحمۃ اللہ علیہ (631-676ھ) فرماتے ہیں : فقد أَجمع المفسرون علي انھا نزلت في ابي طالب، وكذا نقل إجماعھم علي ھذا الزجاج وغيره، وھي عامه فانه لا يھدي الا يضل الا الله تعاليٰ ۔
ترجمہ : مفسرین کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ آیت کریمہ ابوطالب کے بارے میں نازل ہوئی تھی ۔ زجاج وغیرہ نے مفسرین کا اجماع اسی طرح نقل کیا ہے ۔ یہ آیت عام ( بھی ) ہے ۔ ہدایت دینا اور گمراہ کرنا اللہ تعالیٰ ہی کا کام ہے ۔ ( شرح صحیح مسلم للنووی : 41/1)

امام ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ (773-852ھ) فرمتے ہیں : بیان کرنے والے اس بات میں اختلاف نہیں کرتے کہ یہ آیت ابوطالب کے بارے میں نازل ہوئی تھی ۔ (فتح الباری لا بن حجر 506/8)

امام ابوعبد اللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٨٦٦ ھ لکھتے ہیں : مسلمانوں کا اجماع ہے کہ یہ آیت ابو طالب کے متعلق نازل ہوئی ہے ۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٣١ ص ٦٦٢‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ ٠٢٤١ ھ)

اللہ تعالیٰ نے ابو طالب کے لیے یہ آیت نازل فرمائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرمایا : انک لا تھدی من احببت ولکن اللہ یھدی من یشاء ج ۔ (سورۃُ القصص : ٦٥) بیشک آپ جس کو پسند کریں اس کو ہدایت یافتہ نہیں بنا سکتے ‘ لیکن اللہ جس کو چاہے اس کو ہدایت یافتہ بنا دیتا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٧٧٤‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٤٢‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٥٣٠٢‘ مسند احمد رقم الحدیث : ٤٧٠٤٢،چشتی)
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے چچا سے فرمایا آپ کہیے لا الٰہ الا اللہ قیامت کے دن اس کلمہ کی وجہ سے میں آپ کے حق میں شہادت دوں گا۔ ابوطالب نے کہا اگر قریش مجھے عار نہ دلاتے اور یہ نہ کہتے کہ موت کی گھراہٹ میں انہوں نے کلمہ توحید پڑھ لیا تو میں یہ کلمہ پڑھ کر تمہاری آنکھوں کو ٹھنڈا کردیتا تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : انک لا تھدی من احببت ولکن اللہ یھدی من یشاء ۔ ( القصص) ۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٨٨١٣‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٥٢‘ مسند احمد ج ٢ ص ٤٣٤۔ ١٤٤‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٠٧٢٦‘ دلائل النبوۃ للبیہقی ج ٢ ص ٥٤٣‘ ٤٤٣)

علامہ نجم الدین احمد بن محمد قمولی رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٧٢٧ ھ لکھتے ہیں : زجاج نے کہا مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے کہ یہ آیت ابو طالب کے متعلق نازل ہوئی ہے ‘ کیونکہ ابوطالب نے اپنی موت کے وقت کہا اے بنو عبد مناف کی جماعت سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کرو ‘ اور ان کی تصدیق کرو تم کو فلاح اور رشدو ہدایت حاصل ہوگی ‘ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے میرے چچا ! آپ لوگوں کو نصیحت کر رہے ہیں اور خود اس نصیحت پر عمل نہیں کر رہے ! ابو طالب نے پوچھا ! اے بھیتجے ! تم کیا چاہتے ہو ؟ آپ نے فرمایا یہ دنیا میں آپ کا آخری دن ہے آپ کلمہ توحید پڑھیے لا الٰہ ا لا اللہ میں اللہ کے پاس قیامت کے دن آپ کے حق میں گواہی دوں گا ۔ ابوطالب نے کہا اے بھیتجے ! میں جانتا ہوں کہ تم سچے ہو ‘ لیکن میں اس کو ناپسند کرتا ہوں کہ یہ کہا جائے کہ یہ موت سے گھبرا گیا ‘ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میرے بعد میری مذمت کی جائے گی تو میں یہ کلمہ پڑھ کر تمہاری آنکھیں ٹھنڈی کردیتا اور تم سے فراق کے وقت یہ کلمہ پڑھ لیتا ‘ کیونکہ مجھے تمہاری خیرخواہی کی شدت کا علم ہے ‘ لیکن میں عنقریب عبدالمطلب ‘ ہاشم اور عبد مناف کی ملت پر مروں گا ۔ (تفسیر کبیرج ٩ ص ٥‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ٥١٤١ ھ)

ابوطالب نے آپ کے جن اجداد ‘ عبدالمطلب ‘ ہاشم اور عبد مناف کا ذکر کیا ہے یہ سب موحد تھے اور ملت ابراہیم پر تھے ‘ ورنہ ان کا زمانہ فترت میں فوت ہونا یقینی ہے ‘ اس کے برخلاف ابو طالب نے آپ کی شریعت کا زمانہ پایا اور ایمان نہیں لائے ۔

علامہ عبدالرحمٰن بن علی بن محمد جوزی حنبلی رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٧٩٥ ھ لکھتے ہیں : ہم نے التوبۃ : ٣١١ میں اس آیت کا سبب نزول ذکر کردیا ہے ‘ پھر انہوں نے صحیح مسلم حدیث رقم : ٥٢ ذکر کی ہے ‘ اور لکھا ہے کہ زجاج نے کہا ہے کہ القصص آیت نمبر 56 کے متعلق مفسرین کا اجماع ہے کہ وہ ابوطلب کے متعلق نازل ہوئی ہے ۔ (زادالمسیر ج ٦ ص ١٣٢‘ مکتب اسلامی بیروت ‘ ٧٠٤١ ھ)

امام قاضی عبد اللہ بن عمر بیضاوی رحمۃ اللہ علیہ شافی متوفی ٥٨٦ ھ لکھتے ہیں : جمہور کے نزدیک یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب ابوطالب پر موت کا وقت آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا ! اے میر چچا ! لا الٰہ الا اللہ پڑھیے میں اس کلمہ کی وجہ سے اللہ کے پاس آپ کی شفاعت کروں گا ‘ تو ابوطالب نے کہا مجھے علم ہے کہ آپ سچے ہیں لیکن میں اس کو ناپسند کرتا ہوں کہ یہ کہا جائے کہ ابوطالب موت سے گھبرا گیا ۔ (تفسیر البیضاوی علی ھامش الخنفا جی ج ٧ ص ٩٠٣ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ٧١٤١ ھ)

علامہ ابوالحیان محمد بن یوسف اندلسی غرناطی رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٤٥٧ ھ لکھتے ہیں : مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے کہ یہ آیت ( القصص : ٥٦) ابو طالب کے متعلق نازل ہوئی ہے ‘ اس کی موت کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو اس سے بات کی تھی ‘ وہ مشہور ہے ۔ ( البحر المحیط ج ٨ ص ٥ د ١٣‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ٢١٤١ ھ)

حافظ اسماعیل بن عمر بن کثیر دمشقی متوفی ٤٧٧ ھ لکھتے ہیں : صحیح بخاری اور صحیح مسلم سے یہ ثابت ہے کہ یہ آیت ابو طالب کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ ابوطالب آپ کی مدافعت کرتا تھا اور آپ کی مدد کرتا تھا ‘ اور آپ کی تعریف کرتا تھا اور آپ سے بہت زیادہ طبعی محبت کرتا تھا نہ کہ شرعی ‘ جب اس کی موت کا وقت آیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو ایمان کی اور اسلام میں دکول کی دعوت دی ‘ لیکن تقدیر غالب آگئی اور وہ اپنے کفر پر مستمر اور برقرار رہا ‘ اور اللہ ہی کے لیے حکمت ناہ ہے ۔ ( تفسیر ابن کثیرج ٣ ص ٢٣٤‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ ٨١٤١ ھ،چشتی)

علامہ اسماعیل حنفی رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٧٣١١ ھ لکھتے ہیں : بعض روایات میں آیا ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجۃ الوداع پر واپس ہوئے توہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے والدین کو اور آپ کے چچا کو زندہ کردیا اور وہ سب آپ پر ایمان لے آئے۔ (روح البیان ج ٦ ص ١٣٥‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٢٤١ ھ)

علامہ سید محمود آلوسی حنفی رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٠٧٢١ ھ لکھتے ہیں : ابوطالب کے اسلام کا مسئلہ اختلافی ہے ‘ اور یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ تمام مفسرین کا یا تمام مسلمین کا اس پر اجماع ہے کہ یہ آیت ابو طالب کے متعلق نازل ہوئی ہے ۔ کیونکہ شیعہ اور بہت سے مفسرین کا یہ مذہب ہے کہ ابوطالب مسلمان تھے ‘ اور ان کا دعویٰ ہے کہ اس پر ائمہ اہل بیت کا اجماع ہے اور ابو طالب کے اکثر قصائد اس کی شہادت دیتے ہیں اور جو اجماع مسلمین کا دعویٰ کرتے ہیں وہ شیعہ کے اختلاف کو قابل شمار نہیں سمجھتے اور نہ ان کی روایات پر اعتماد کرتے ہیں ‘ پھر ابو طالب کے اسلام نہ لانے کو قول پر بھی ابوطالب کو برا نہیں ہے کہ اس سے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اذیت پہنچے ‘ کیونکہ اس آیت سے بہر حال یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو ابو طالب سے محبت تھی اور صاحب عقل کو احتیاط لازم ہے ۔ (روح المعانی جز ٠٢ ص ٤٤١۔ ٣٤١‘ دارالفکر بیروت ‘ ٧١٤١ ھ)

علاّمہ سید محمد نعیم الدین مراد آبادی حنفی رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٧٦٣١ ھ لکھتے ہیں : مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ یہ آیت ابو طالب کے متعلق نازل ہوئی ‘ پھر انہوں نے صحیح مسلم کی حدیث : ٥٢ کا ذکر کا ے اور لکھا کہ ابو طالب نے کہا اگر مجھے قریش کے دار دینے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں ضرور ایمان لا کر تمہاری آنکھیں ٹھنڈی کرتا پھر انہوں نے یہ شعر پڑھے : ولقد علمت بان دین محمد من خیر ادیان البریۃ دینا میں یقین سے جانتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دین تمام جہانوں کے دینوں سے بہتر ہے ۔ لولا الملامۃ اوحذارمسبۃ لوجدتنی سمحابذاک مبینا ۔ اگر ملامت وبد گوئی کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں نہایت صفائی کے ساتھ اس دین کو قبول کرتا ۔ اس کے بعد ابوطالب کا انتقال ہوگیا اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ۔ ( تفسیر خزائن العرفان ص ٦٢٢٦‘ تاج کمپنی لاہور)

پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٩١٤١ ھ لکھتے ہیں : اکثر مفسرین نے لکھا ہے کہ جب حضور کے چچا ابوطالب کا آخر وقت آپہنچا تو حضور نے جا کر کہا کہ چچا تم صرف اتنا کہ دو کہ لا الٰہ الا اللہ ‘ تاکہ میں اپنے رب سے تیری شفاعت کرسکوں ‘ لیکن انہوں نے ایس کہنے سے اندار کردیا تو اس وقت یہ آیت نازل ہوئی ۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بات بھی مروی ہے کہ آخری وقت میں حضرت ابوطالب کے ہونٹ ہل رہے تھے ۔ حضرت عباس نے کان لگا کر سنا ۔ حضور نے جب پوچھا کہ کیا کہہ رہے تھے تو آپ نے جواباً عرض کیا کہ وہی کہہ رہے تھے جس کا آپ نے ان سے مطالبہ فرمایا ۔ ( سیرت ابن ہشام) ، لیکن اگر کسی کے نزدیک دوسری روایتیں اس روایت سے زیادہ قابل اعتبار ہوں تب بھی اسے آپ کے حق میں کوئی ناشائستہ بات کہنے سے احتراز کرنا چاہے ۔ آپ کی بےنظیر خدمات کا یہ معاوضہ ہماری طرف سے نہیں دیا جانا چاہیے کہ ہم منبروں پر کھڑے ہو کر اپنا سارا زور بیان ان کو کافر ثابت کرنے اور ان کو کافر کہنے اور کہتے چلے جانے پر ہی صرف کرے رہیں۔ اس سے بڑھ کر ناشکری اور احسان فراموشی کی کوئی مثل نہیں کی جاسکتی ۔ (تفیسر ضیاء القرآن ج ٣ ص ٠٠٥‘ ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاہور ‘ ٩٩٣١ ھ)

ابو طالب کے اسلام لانے کی روایت پر امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ ابی رحمۃ اللہ علیہ کا تبصرہ : پیر محمد کرم شاہ رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہم کی جو روایت نقل کی ہے اس کی سند منقطع ہے ۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے اس روایت کو مسترد کردیا ہے ۔ علامہ ابوعبد اللہ محمد بن خلتہ وشتانی ابی مالکی رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٨٢٨ ھ لکھتے ہیں : احادیث میں یہ تصریح ہے کہ ابو طالب کا خاتمہ شرک پر ہوا ۔ سہیلی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ میں نے مسعودی کی بعض کتابوں میں دیکھا ہے کہ ابوطالب کی موت ایمان پر ہوئی لیکن یہ قرآن مجید کی ان آیات اور احادیث کی وجہ سے صحیح نہیں ہے ۔ جو اس باب میں مذکور ہیں ۔ (الروض الانف ج ٢ ص ٦٢٢) ۔ اور بعض سیرت کی کتابوں میں لکھا ہے کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا میرے بھئی نے وہ کلمہ پڑھ لیا جس کا آپ نے خھم دیا ۔ ( السیرۃ النبویہ لابن ہشام ج ٢ ص ١٣،چشتی) ۔ اس سے استدلال کرنا صحیح نہیں ہے ‘ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں نے نہیں سنا ‘ اور عباس اس وقت مسلان نہیں ہوئے تھے ‘ اس لیے ان کی شہادت معتر نہیں ہے ‘ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا اس کی سند منقطع ہے ‘ نیز صحیح بخاری و مسلم میں ہے کہ اسلام لانے کے بعد حضرت عباس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ابوطالب کے متعلق سوال کیا تا آپ نے فرمایا وہ ٹخنوں تک آگ میں ہے اور اگر میں نہ ہوتا تو وہ دوزخ کے آخری طبقہ میں ہوتا ۔ (دلائل النوۃ ج ٢ ص ٦٤٣ ) ۔ اگر یہ کہا جائے کہ ابو طالب دل سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مصدق تھا تو کیا اس وجہ سے اس کو مومن کہا جائے گا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس نے ایمان کو یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ وہ عبد المطلب کی ملت پر ہے ۔ (اکمال المبعلم ج ا ص ٣٨١‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ٥١٤١ ھ)

ابوطالب کے اسلام لانے کی روایت پر علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ کا تبصرہ : شیعہ نے جو یہ دلیل قائم کی ہے اس پر تو رو نے والی عورتیں بھی ہنس پڑیں گی ‘ اور ابوطالب کے جو اشعار منقول ہیں اول تو ان کی سند منقطع ہے اور اس کے علاوہ ان اشعار میں توحید اور رسالت کی شہادت نہیں ہے اور ایمان کا مدار اس شہادت پر ہے ‘ باقی رہا ان کی حضور پر شفقت اور ان کی نصرت تو ان کا کوئی منکر نہیں ہے اور ابوطالب کے ایمان پر جو شیعہ روایت ہیں تو وہ تار عنکبوت سے بھی زیادہ کمزور ہیں ۔ ہاں مومنین پر لازم ہے کہ وہ ابوطالب کے معاملہ کو اس طرح نہ قرار دیں جس طرح ابوجہل اور اس قسم کے باقی کافروں کے معاملہ کو قرار دیتے ہیں ‘ کیونکہ ابوطالب کو ان پر فضیلت حاصل ہے ‘ وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نیک سلوک کرتے تھے ‘ احادیث میں ہے کہ ابوطالب کی نیکیوں کی سجہ سے ان کو آخرت میں نفع پہنچھ گا تو دنیا میں اس کو کم از کم اتنا نفع تو پہنچنا چاہیے کہ ان پر عام کافروں کی طرح لعن طعن نہ کی جائے ‘ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب آپ کے سامنے آپ کے چچا کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا : شاید قیامت کے دن میری شفاعت سے اس کو فائدہ پہنچے گا اور اس کو تھوڑی سے آگ میں رکھا جائے گا جو اس کے ٹخنوں تک پہنچے گی اس سے اس کا دماغ کھول رہا ہوگا ۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٨٨٣‘ مسند احمد رقم الحدیث : ٣٧٠١‘ عالم الکتب) ۔ ایک اور روایت میں ہے حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ ! آپ نے اپنے چچا سے کس چیز کو دور کیا وہ آپ کی مدد کرتے تھے اور آپ کی خاطر غضبناک ہوتے تھے ؟ آپ نے فرمایا وہ اب تھوڑی سی آگ میں ہیں اور اگر میں نہ ہوتا تو وہ دوزخ کے سب سے نچلے طبقہ میں ہوتے ۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٨٨٣‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٩٠٢) ، اور میرے نزدیک ابو طالب کو برا کہنا سخت مذموم ہے ‘ خصوصاً اس لیے کہ اس سے بعض علویین کو ایذاء پہنچتی ہے اور ہم کو اس سے منع کیا گیا ہے اور حدیث میں ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مردوں کو برا کہہ کر زندوں کو ایذاء نہ پہنچاؤ ۔ ( تاریخ دمشا الکبیرج ٣٤ ص ٥٩١‘ رقم الحدیث : ١٥٨٨‘ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٢٤١ ھ) ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرماے کسی انسان کو اسلام کی اچھی صفات میں سے یہ ہے کہ وہ بےمقصد باتوں کو ترک کردے۔ ( المعجم الکبیررقم الحدیث : ٧٣٧١‘ المعجم الصغیر رقم الحدیث : ٠٨٠١) ، (روح المعانی جز ١١ ص ٩٤۔ ٨٤ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ٧١٤١ ھ) ۔ (مزید حصّہ دوم میں پڑھیں)۔(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Wednesday, 1 January 2020

ایمانِ ابو طالب حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کی نظر میں

ایمانِ ابو طالب حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کی نظر میں

حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی خدمت میں عرض کی : آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے گمراہ چچا فوت ہوگئے ہیں ۔ ان کو کون دفنائے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : جائیں اور اپنے والد کو کسی گڑھے میں دبا دیں ۔ (سنن ابی داؤد عربی جلد نمبر 3 حدیث نمبر 3214 مطبوعہ دارالحدیث قاہرہ)
اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمۃ اللہ علیہ نے اور امام ابن جارود رحمۃ اللہ علیہ نے "صحیح" قرار دیا ہے ۔ (کما في الاصابة لابن حجر: ۱۱۴/۷)

یہ حدیث نص قطعی ہے کہ ابو طالب مسلمان نہیں ہوئے تھے ۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ نے نمازِ جنازہ تک نہیں پڑھی ۔

محترم قارئینِ کرام : مسئلہ ایمانِ ابوطالب کے بارے میں بعض لوگ قدر غلو سے کام لے رہے ہیں کہ اللہ کی پناہ ۔ سنی کہلانے والے بڑے بڑے پیر بھی اس مسئلے میں متبع روافض نظر آرہے ہیں ۔ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی وجہ سے ابو طالب کے متعلق خاموشی کو احوط سمجھتے ہیں ۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اجلہ صحابہ و اہل بیت رضی اللہ عنہم اور ائمہ و فقہا علیہم الرّحمہ کے خلافِ عمل ، ابوطالب کے قصیدے پڑھے جائیں اور ابوطالب کو مسلمان نہ سمجھنے والوں کے متعلق گندی زبان استعمال کی جائے ۔ قائلین ایمانِ ابوطالب ہوش کے ناخن لیں ، شاید انہیں معلوم نہیں کہ صحیح حدیث کے مطابق حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ فداہ ابی وامی بھی ابوطالب کو ” ضال “ سمجھتے تھے ۔ تو کیا ان رافضی ذہنیت والے پیرانِ فرتوت کی زد میں حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ بھی نہیں آجاتے ۔ ان باطنی رافضیوں اور ظاہری خارجیوں کی زد میں صرف حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ ہی نہیں دیگر اہل بیت واصحاب رسول رضی اللہ عنہم بھی آجاتے ہیں جو ایمانِ ابوطالب کے قائل نہیں تھے ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ اور ایمانِ ابو طالب

حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ اور ایمانِ ابو طالب

محترم قارئینِ کرام : آج کل مسلہ ایمانِ ابو طالب پر بہت بحث ہو رہی ہے اس موضوع پر جلد ہم تفصیل سے لکھیں گے اور دونوں فریقین کے دلائل بھی پیش کرینگے اس وقت ہم صرف حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان مبارک پیش کر رہے ہیں اور یہ امید رکھتے ہیں کہ احباب اس پر غور فرمائیں گے کہ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر کوئی عالم یا حضرت ابو طالب کا ہمدرد نہیں ہو سکتا لہٰذا آیئے حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان پڑھتے ہیں :

حضرت سیّدنا علی بن طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : لَمَّا تُوُفِّيَ أَبِي أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ : إِنَّ عَمَّكَ قَدْ تُوُفِّيَ قَالَ : اذْهَبْ فَوَارِهِ ، قُلْتُ : إِنَّهُ مَاتَ مُشْرِكًا ، قَالَ : اذْهَبْ فَوَارِهِ وَلَا تُحْدِثَنَّ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي ، فَفَعَلْتُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَأَمَرَنِي أَنْ أَغْتَسِلَ ۔
ترجمہ : حضرت سیّدنا علی بن طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب میرے والد فوت ہوئے تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی خد مت میں حا ضر ہوا اور عرض کی : آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے چچا فوت ہو گئے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : جا کر انہیں کسی گڑھے میں چھپا دو ۔ میں نے عرض کی : یقیناً وہ تو مشرک ہونے کی حالت میں فوت ہوئے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : جائیں اور انہیں دفنا دیں ، لیکن جب تک میرے پاس واپس نہ آئیں کوئی نیا کام نہ کریں ۔ میں نے ایسا ہی کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے مجھے غسل کرنے کا حکم فرمایا ۔ (مسند الطيالسي الجزء الاوّل عربی صفحہ نمبر 113 حدیث نمبر 122 ،حدیث صحیح وسنده ‘ حسن متصل،چشتی)،(مسندابو داؤد طیالسی مترجم اردو جلد 1 صفحہ نمبر 98 حدیث 122 مطبوعہ پروگریسو بکس اردو بازار لاہور)

نئے شمسی یا قمری سال کے آغاز پر ایک دوسرے کو مبارکباد دینا

نئے شمسی یا قمری سال کے آغاز پر ایک دوسرے کو مبارکباد دینا
محترم قارئینِ کرام : نئے سال کی مبارک باد کے متعلق مختلف احباب اپنے خیالات کا اظہار فرماتے رہتے ہیں کچھ احباب نے فقیر ڈاکٹر فیض احمد چشتی کو اس کے متعلق میسج کیئے کہ اس بارے میں لکھوں سو فقیر نے تمام مکاتب فکر کے علماء کے فتاویٰ جات اور مزید کچھ دلائل پیش کر دیئے ہیں امید ہے اس مسلہ کے متعلق کافی ہونگے :

سال نو کا آغاز یقینا اللہ کی نعمت ہے ، ایک مدت کا اختتام اور دوسری مدت کا آغاز عطاء الہی ہے ، اس انعامِ خداوندی اور عطاءِ الہی پر پیش گاہ ذوالجلال میں نذرانۂ شکر پیش کرنا چاہئے لیکن اس موقع پرباہم مبارکباد دینا ، تہنیت پیش کرنا سلف صالحین وبزرگان دین کا طریقہ نہیں رہا ، ان نفوسِ قدسیہ نے ہمیشہ تکلفات عرفیہ سے بالاتر ہوکر مقاصد کوپیش نظر رکھا ، دینی اغراض کو اپنا مطمح نظربنایا ۔ البتہ اس اعتبار سے کہ نیا سال اللہ تعالی کی نعمت وعطا ہے ایک دوسرے کے حق میں خیر وبرکت کی دعاء کی نیت سے کلمات تبریک کہے جائیں تو شرعا کوئی مضائقہ نہیں - اسلامی سال کا آغاز توخلیفۂ دوم فاروق اعظم رضی اللہ عنہ اورامام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت سے ہوتا ہے اوراختتام حج اورقربانی کے مہینہ پرہوتا ہے ، سال کا آغاز واختتام اس جانب اشارہ کررہاہے کہ اہل اسلام کے شب وروز، ماہ وسال خالص اللہ تعالی کی رضا وخوشنودی کے لئے وقف ہونے چاہئے ۔ نئے شمسی یا قمری سال کے آغاز پر ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہوئے خیر و برکت کی دعا دینے اور نیک تمناؤں کا اظہار کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہيں، خاص طور پر جب اس کا مقصد محبت و الفت کا تعلق قائم کرنا اور خوشدلی کے ساتھ پیش آنا ہو۔ نئے سال کی مبارکباد دینے والا اس بات پر خوش ہوتا ہے کہ اللہ نے ہمیں زندگی کا ایک اور سال بھی دکھا دیا ہے ، جس میں ہمیں توبہ و استغفار اور نیک عمل کمانے کا مزید موقع میسر آسکتا ہے ۔ یہ مبارکباد خوشی اور اللہ تعالیٰ کے شکر کا اظہار ہے ۔ یہ نہ تو شرعی حکم ہے اور نہ اس کی قطعی ممانعت ہے ، یہ ایک مباح عمل ہے ۔

ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کے جو چھ حقوق ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب اسے خوشی پہنچے تو اسے مبارکباد دے۔ حضرت عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ کی روایت جسے امام طبرانی نے المعجم الاوسط میں درج کیا، اس میں ہے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول تھا کہ نئے سال یا مہینے کی آمد پہ وہ ایک دوسرے کو یہ دعا سکھاتے تھے : اللّٰهُمَّ أدْخِلْهُ عَلَیْنَا بِالأمْنِ وَ الإیْمَانِ، وَالسَّلَامَةِ وَالإسْلَامِ، وَرِضْوَانٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ وَجِوَازٍ مِّنَ الشَّیْطَانِ ۔
ترجمہ : اے اللہ! اس (نئے مہینے یا نئے سال) کو ہمارے اوپر امن و ایمان ، سلامتی و اسلام اور اپنی رضامندی ، نیز شیطان سے پناہ کے ساتھ داخل فرما ۔ (الطبرانی المعجم الاوسط، 6: 221، حدیث: 6241،چشتی)

علاّمہ مفتی سید ضیاءالدین صاحب شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ کا فتویٰ

سرخی : f 1510 نئے سال کی مبارکباد دینا کیسا ہے ؟ مقام : اسپین,
نام : لئیق احمد ۔ سوال : مفتی صاحب میرا سوال یہ ہے کہ ہجری ہو یا عیسوی ، نئے سال کی مبارکباد دینا کیسا ہے ؟
............................................................................
جواب : سال نو کا آغاز یقینا اللہ کی نعمت ہے ، ایک مدت کا اختتام اور دوسری مدت کا آغاز عطاء الہی ہے ، اس انعامِ خداوندی اور عطاءِ الہی پر پیش گاہ ذوالجلال میں نذرانۂ شکر پیش کرنا چاہئے لیکن اس موقع پرباہم مبارکباد دینا ، تہنیت پیش کرنا سلف صالحین وبزرگان دین کا طریقہ نہیں رہا ، ان نفوسِ قدسیہ نے ہمیشہ تکلفات عرفیہ سے بالاتر ہوکر مقاصد کوپیش نظر رکھا ، دینی اغراض کو اپنا مطمح نظربنایا ۔ البتہ اس اعتبار سے کہ نیا سال اللہ تعالی کی نعمت وعطا ہے ایک دوسرے کے حق میں خیر وبرکت کی دعاء کی نیت سے کلمات تبریک کہے جائیں تو شرعا کوئی مضائقہ نہیں - اسلامی سال کا آغاز توخلیفۂ دوم فاروق اعظم رضی اللہ عنہ اورامام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت سے ہوتا ہے اوراختتام حج اورقربانی کے مہینہ پرہوتا ہے ، سال کا آغاز واختتام اس جانب اشارہ کررہاہے کہ اہل اسلام کے شب وروز،ماہ وسال خالص اللہ تعالی کی رضا وخوشنودی کے لئے وقف ہونے چاہئے - واللہ اعلم بالصواب سید ضیاءالدین عفی عنہ شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن ۔

وہابی مکتبہ فکر کے مفتی صاحبان کے فتوے

مفتی سعودی عبر عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز کا فتویٰ

سوال ہوا : فضیلۃ الشیخ نئے سال کی آمد آمد ہے اور بعض لوگ آپس میں مبارکبادیوں کا تبادلہ کررہے ہیں ، یہ کہتے ہوئے کہ ’’كل عام وأنتم بخير‘‘ (آپ ہرسال یا صدا بخیر رہیں) ، اس مبارکبادی کا شرعی حکم کیا ہے ؟
جواب : بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله رب العالمين ، والصلاة والسلام على عبده ورسوله، وخيرته من خلقه، وأمينه على وحيه، نبينا وإمامنا وسيدنا محمد بن عبد الله وعلى آله وأصحابه ومن سلك سبيله، واهتدى بهداه إلى يوم الدين. أما بعد : نئے سال کی مبارکباد دینے کی ہم سلف صالحین سے کوئی اصل نہیں جانتے ، اور نہ ہی سنت نبوی یا کتاب عزیز اس کی مشروعیت پر دلالت کرتے ہیں ۔ لیکن اگر کوئی آپ سے اس کی پہل کرے تو اس کے جواب میں خیرمبارک کہہ دینے میں کوئی حرج نہیں ۔ اگرکوئی آپ سے کہے کہ ’’کل عام وأنت بخیر‘‘ یا ’’فی کل عام وأنت بخیر‘‘ کہے تو کوئی مانع نہیں کہ آپ بھی اسے ’’وأنت کذلک‘‘ (آپ بھی ہرسال بخیر رہیں) اور ہم اللہ تعالی سے ہر بھلائی کے اپنے اور آپ کے لئے دعاءگو ہیں یا اسی سے ملتا جلتا کوئی کلمہ کہہ دے۔ البتہ خود اس میں پہل کرنے کے بارے میں مجھے کوئی اصل بنیاد (دلیل) نہیں معلوم ۔ (نور علی الدرب فتوی متن نمبر 10042 عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز کی آفیشل ویب سائٹ سے ماخوذ)

سعودی محقق و مفتی محمد بن صالح العثیمین کا فتویٰ

کتاب ’’الضياء اللامع‘‘ صفحہ نمبر 702 میں لکھتے ہیں : یہ سنت میں سے نہیں کہ ہم نئے ہجری سال کی آمد پر عید منائیں یا مبارکبادیوں کا تبادلہ کریں ۔ بعض دوسرے مواقع پر بھی سعودی محقق و مفتی محمد بن صالح العثیمین سے یہی سوال کیا گیا :
سوال : فضیلۃ الشیخ! آپ نے نئے سال کا ذکر فرمایا، ذرا یہ بھی بتادیجئے کہ نئے ہجری سال پر مبارکباد دینے کا کیا حکم ہے ؟ اور مبارکباد دینے والوں سے کیسا سلوک کرنا واجب ہے ؟
جواب : اگر کوئی آپ کو مبارکباد دے تو اس کا جواب دے دیجئے ، لیکن خود کبھی پہل نہ کریں ۔ یہی اس مسئلہ میں صواب مؤقف ہے ۔ اگر کوئی شخص مثلاً آپ کو کہے ، آپ کو نیا سال مبارک ہو تو آپ جواباً کہیں کہ آپ کو بھی مبارک ہو اور اللہ تعالی آپ کے اس سال کو خیر وبرکت والا بنادے ۔ لیکن آپ خود سے اس کی ابتداء نہ کیجئے ، کیونکہ مجھے سلف صالحین سے یہ بات نہیں ملی کہ وہ نئے سال پر ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہوں ۔ بلکہ یہ بات بھی معلوم ہونی چاہیے کہ سلف تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور سے قبل محرم الحرام کو نئے سال کا پہلا مہینہ ہی تصور نہیں کرتے تھے ۔ (اللقاء الشھري: 44، سن 1417ھ کے آخر میں)
سوال : فضیلۃ الشیخ آپ کی کیا رائے ہے نئے ہجری سال کی مبارکبادیوں کے تبادلے کے بارے میں ؟
جواب : میری رائے میں نئے سال کی مبارکباد دینے میں کوئی حرج نہیں البتہ یہ شریعت سے ثابت نہیں ۔ یعنی ہم لوگوں سے یہ نہیں کہیں گے کہ آپ کے لئے یہ سنت ہے کہ نئے سال کی ایک دوسرے کو مبارکباد دیں ، لیکن اگر کوئی ایسا کرلے تو کوئی حرج نہیں ۔ اور چاہیے کہ جب کوئی نیا سال مبارک کہہ دے تو وہ اسے اچھا جواب دے یعنی اللہ تعالی آپ کے اس سال کو خیروبرکت والا بنادے ۔ ہماری اس مسئلے میں یہی رائے ہے ، اور یہ امورِ عادیہ (عام عادات) میں شمار ہوتے ہیں ناکہ امورِ تعبدیہ (عبادت) میں ۔ (لقاء الباب المفتوح: 93، بروز جمعرات 25 ذی الحجۃ سن 1415ھ،چشتی)

دیوبندی مکتبہ فکر کے مفتی صاحبان کے فتوے

نئے اسلامی سال کی مبارک باد دینا ؟

سوال(۴۸) : - کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: پہلی محرم کو اگر ہم نئے سال کی مبارک بادی ایک دوسرے کو دیں، تو کیا یہ بدعت میں شمار ہوگا، یا یہ کہنا بہتر ہوگا ؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق : اگر مبارک باد دینے کا مقصد یہ ہو کہ لوگوں کو اِسلامی مہینوں کے متعلق اَہمیت کا احساس ہو اورمحض رسم مقصود نہ ہو ، تو اِسلامی سال پر مبارک باد دینے کی گنجائش ہے ۔
عن عبید اللّٰہ عن أبیہ عن جدہ طلحۃ بن عبید اللّٰہ رضي اللّٰہ عنہ أن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم کان إذا رأی الہلال، قال : اللّٰہم أہلِلہ علینا بالیمن والإیمان والسلامۃ والإسلام ربي وربک اللّٰہ۔ (سنن الترمذي، أبواب الدعوات / باب ما یقول عند رؤیۃ الہلال ۲؍۱۸۳، عمل الیوم واللیلۃ ۵۹۶) فقط واللہ تعالیٰ اعلم ۔ املاہ : احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۴؍۲؍۱۴۳۱ھ ، الجواب صحیح : شبیر احمد عفا اللہ عنہ ۔ (کتاب النوازل جلد 17)

پہلی جنوری کو سب ایک دوسرے کو خوشی کا اظہار کرتے ہیں اور ہیپی نیو اِیئر(happy new year.)کا میسیج بھی بھیجتے ہیں ، تو کیا ہم بھی اس کے جواب میں ہیپی نیو اِیئر کہہ سکتے ہیں ؟ کیا ایسا کہنا حرام ہے ؟ کیا ایسا کہنے سے ایمان ختم ہو جائے گا ؟ بسم الله الرحمن الرحيم الجواب => ہیپی نیو ایر (happy new year) کہنا حرام تو نہیں اور نہ ہی ایسا کہنے سے آدمی ایمان سے خارج ہوتا ہے ، تاہم پہلی جنوری کو ہیپی نیو ایر کہنا نصاریٰ وغیرہ کا طریقہ ہے ، اس لیے ”ہیپی نیو ایئر“ کہنے سے احتراز کرنا چاہیے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند۔

نئے سال(New Year) کی آمد پر خوشی منانا : مسئلہ : نئے سال کی آمد پر جو خوشی منائی جاتی ہے ، اور اس خوشی کے اظہار کیلئے جو افعال اختیار کئے جاتے ہیں مثلاً : پٹاخے پھوڑنا ، تالیاں بجانا ، سیٹیاں بجانا ، ناچ گانا کرنا ، Happy New Year کہنا ، یا نئے سال کی مبارکبادی دینے کیلئے موبائل سے ایک دوسرے کو SMS بھیجنا وغیرہ ،یہ سب ناجائز ہیں ، اور اس میں شرکت یہود و نصاری کی مشابہت اختیار کرنا ہے ، جس پر سخت وعید وارد ہوئی ہے ۔ (الحجۃ علی ما قلنا : (۱) ما فی ’’ السنن أبی داود ‘‘: لقولہ علیہ السلام:’’ من تشبہ بقوم فہو منہم‘‘۔ (ص: ۵۵۹) ما فی ’’ مشکوٰۃ المصابیح ‘‘: عن ابن عباس قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم : ’’أبغض الناس إلی اللہ ثلثۃ ؛ ملحد في الحرم ، مبتغ في الإسلام سنۃ الجاہلیۃ ، و مطلب دم امرئ مسلم بغیر حق لیہریق دمہ ‘‘ ۔ رواہ البخاري ۔ (ص : ۲۷) ) (محقق ومدلل جدید مسائل۸۳/۱) واللہ اعلم بالصواب ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل: ۸/۱۲۹،چشتی)

نئے سال کی آمد پر خوشیاں منانا مسئلہ : نئے سال کی آمد پر جو ہولی ڈے اور چھٹی رکھ کر جشن منایا جاتا ہے ، وہ یہود و نصاریٰ کی رسم ہے ، شریعتِ اسلامی میں اس کی کوئی اصل و بنیاد نہیں ہے ، بلکہ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو یہود ونصاریٰ کی مشابہت اور ان کی عیدوں اور تہواروں میں کسی بھی طرح کی شرکت سے سختی کے ساتھ منع فرمایا اور اس پر سخت وعید بیان فرمائی ، آپ صلی اللہ علیہ و و آلہ سلم کا ارشاد ہے : جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے وہ ان ہی میں سے ہے ۔ اور جو شخص مسلمان ہوتے ہوئے غیروں کے رسم و رواج کا طالب ہو ، وہ عند اللہ سخت مبغوض اور ناپسندیدہ ہے اس لیے کرسمس ڈے ، برتھ ڈے ، مدر ڈے ، ویلین ٹائن ڈے ، اور دیگر تمام ڈیز کو بطورِ عید منانا شرعاً ناجائز اور ممنوع ہے ۔ (الحجۃ علی ما قلنا : (۱) ما في ’’ سنن أبي داود ‘‘ : قولہ صلی اللہ علیہ و و آلہ سلم : ’’ من تشبہ بقوم فہو منہم ‘‘ ۔ (ص/۵۵۹) ما في ’’ مشکوۃ المصابیح ‘‘ :قولہ صلی اللہ علیہ و و آلہ سلم : ’’ أبغض الناس إلی اللہ ثلاثۃ : ملحد في الحرم ، و مبتغ في الإسلام سنۃ الجاہلیۃ ، و مُطّلب دم امریٍٔ مسلم بغیر حق لیہریق دمہ ۔ رواہ البخاري ۔(ص/۲۷ ، باب الاعتصام بالکتاب و السنۃ ، الفصل الاول) (المسائل المہمہ۱۷۲/۷) واللہ اعلم بالصواب ۔

امام جلال الدین سیوطی شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے تحریر فرمایا : قال القمولي في الجواهر: لم أر لأصحابنا كلاما في التهنئة بالعيدين والأعوام والأشهر كما يفعله الناس ورأيت فيما نقل من فوائد الشيخ زكي الدين عبد العظيم المنذري أن الحافظ أبا الحسن المقدسي سئل عن التهنئة في أوائل الشهور والسنين أهو بدعة أم لا ؟
فأجاب بأن الناس لم يزالوا مختلفين في ذلك
قال : والذي أراه أنه مباح ليس بسنة ولا بدعة
ونقلہ الشرف الغزی فی شرح المنھاج ولم یزد علیہ
ترجمہ : یعنی (احمد بن محمد) قمولی (شافعی) رحمۃ اللہ علیہ نے "جواہر"* میں فرمایا : میں نے عیدین , سالوں اور مہینوں کی مبارکباد دینے کے بارے میں اپنے اصحاب کا کوئی کلام نہیں دیکھا جیساکہ لوگ اسے کرتے ہیں (یعنی مبارکباد دیتے ہیں) اور میں نے اس میں دیکھا جس میں شیخ زکی الدین عبدالعظیم منذری کے فوائد سے نقل کیا گیا کہ بیشک حافظ ابوالحسن مقدسی رحمۃ اللہ علیہ سے مہینوں اور سالوں کی مبارکباد دینے کے متعلق پوچھا گیا کہ کیا وہ بدعت ہے یا نہیں ؟
تو جواب دیا کہ لوگ ہمیشہ اس بارے میں مختلف رہیں ہیں ، (اور) فرمایا : اور وہ جسے میں خیال کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ یہ (مبارکباد دینا) مباح (جائز) ہے, نہ سنت ہے اور نہ بدعت ہے ۔ اور اس کو شرف غزی نے *"شرح المنہاج"* نقل فرمایا ہے اور اس پر زیادتی نہیں کی ۔ (وصول الامانی باصول التھانی صفحہ 51, 52 )

شریعت نے نئے عیسوی سال کی مبارکباد دینے سے منع نہیں کیا اور جس کام سے شریعت منع نہ کرے وہ بالکل جائز ہوتا ہے ۔

چنانچہ حدیثِ مبارکہ میں ہے : اَلْحَلاَلُ مَا اَحَلَّ اللّٰہُ فِیْ کِتَابِہٖ وَ الْحَرَامُ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ فِیْ کِتَابِہٖ وَمَا سَکَتَ عَنْہُ فَھُوَ مِمَّا عَفَا عَنْہٗ ۔
ترجمہ : یعنی حلال وہ ہے جسے اللہ پاک نے اپنی کتاب میں حلال کیا اور حرام وہ ہے جسے اللہ پاک نے اپنی کتاب میں حرام کیا اور جس سے خاموشی اختیار فرمائی (یعنی منع نہ فرمایا) وہ معاف ہے (یعنی اس کے کرنے پر کوئی گناہ نہیں) ۔ (جامع ترمذی ابواب اللباس باب ماجاء فی لبس الفراء ،سنن ابن ماجہ ،المستدرک للحاکم)

کسی کو نیا عیسوی سال دیکھنا نصیب ہوجائے تو گویا اس کو نیکیاں کرنے کیلیے مزید مہلتِ زندگی دے دی گئی ہے اور یہ بات باعثِ سعادت و برکت اور اچھی ہے اور مبارک و اچھی بات کی مبارک باد دینے کی اصل صحیح حدیثِ مبارکہ سے ثابت ہے ۔ چنانچہ معراج کی رات جب نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر آسمانوں سے ہوا تو انبیائے کرام علیٰ نبینا و عليهم الصلاة والسلام نے آپ صلی الله علیہ وآلہ وسلم کو معراج پر مبارک باد پیش کی ۔ (کما فی کتب الاحادیث مشھور)

ان تمام حوالہ جات سے واضح ہوتا ہے کہ ایک مباح عمل سمجھتے ہوئے نئے شمسی یا قمری سال کے آغاز پر مبارکباد دینا ، دعا دینا ، نیک تمناؤں اور جذبات کا اظہار کرنے میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ۔ (طالبِ دعا ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اور میلادُالنَّبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اور میلادُالنَّبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم محترم قارٸینِ کرام : حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ ا...