Monday, 31 August 2015

نام نہاد اھلحدیثوں غیر مقلد وھابیوں کا بخاری و مسلم کی احادیث مبارکہ سے اختلاف اور بخاری و مسلم سے ناروا سلوک

 ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ قارئین کرام کی توجہ غیر مقلدین کے علماءکے ان بیانات کی طرف بھی کراتے چلیں جن میں امام بخاری سے عقیدت و محبت کے علی الرغم بخاری شریف اور امام بخاری پر حملے کئے گئے ہیں۔
بخاری شریف آگ میں
(العیاذ باﷲ)
مشہور صحافی اختر کاشمیری اپنے سفر نامہ ایران میں لکھتے ہیں۔
”اس سیشن کے آخری مقرر گوجوانوالہ کے اہل حدیث عالم مولانا بشیر الرحمن مستحسن تھے،مولانا مستحسن بڑی مستحب کی چیز ہیں علم محیط (اپنے موضوع پر، ناقل)جسم بسیط کے مالک، ان کا انداز تکلم جدت آلود اور گفتگو رف ہوتی ہے فرمانے لگے۔
”اب تک جو کچھ کہا گیا ہے وہ قابل قدر ضرور ہے قابل عمل نہیں، اختلاف ختم کرنا ضرور ہے مگر اختلاف ختم کرنے لئے اسباب اختلاف کو مٹانا ہوگا، فریقین کی جو کتب قابل اعتراض ہیں ان کی موجودگی اختلاف کی بھٹی کو تیز کر رہی ہے کیوں نہ ہم ان اسباب کو ہی ختم کر دیں؟ اگر آپ صدق دل سے اتحاد چاہتے ہیں تو ان تمام روایات کو جلانا ہوگاجو ایک دوسرے کی دل آزاری کاسبب ہیں ہم بخاری کو آگ میں ڈالتے ہیں، آپ اصول کافی کو نذر آتش کریں آپ اپنی فقہ صاف کریں ہم اپنی فقہ (محمدی۔ناقل) صا ف کر دینگے“
علامہ و حید الزمان صاحب کی امام بخاریؒ پر تنقید
صحاح ستہ کے مترجم علامہ وحیدالزماں صاحب امام بخاریؒ پر تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
امام جعفر صادق مشہور امام ہیں بارہ اماموں میں سے اور بڑے ثقہ اور فقیہ اور حافظ تھے، امام مالک اور امام ابوحنیفہ ؒ کے شیخ ہیں اور امام بخاری کو معلوم نہیں کیا شبہ ہو گیا کہ وہ اپنے صحیح میں ان سے روایت نہیں کرتے۔۔۔ اﷲ تعالیٰ بخاری پر رحم کر مروان اور عمران بن حطان اور کئی خوارج سے تو انہوں نے روایت کی اور امام جعفر صادق سے جو ابن رسول اﷲ ہیں ان کی روایت میں شبہ کرتے ہیں۔
(لغات الحدیث،۱:۶۲)
ایک دوسرے مقام پر رقمطراز ہیں:اور بخاری ؒ پر تعجب ہے کہ انہوں نے امام جعفر صادق سے روایت نہیں کی اور مروان وغیرہ سے روایت کی جو اعدائے اہل بیت علیہم السلام تھے۔
(لغات الحدیث،۲:۳۹)
نواب وحید الزماں صاحب کی بخاری شریف کے ایک راوی پر سخت تنقید نواب صاحب بخاری شریف کے ایک راوی مروان بن الحکم پر تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں
”حضرت عثمان ؓ کو جو کچھ نقصان پہنچا وہ اسی کمبخت شریر النفس مروان کی بدولت خدا اس سے سمجھے(خدا اس سے بدلہ لے)
(لغات الحدیث،۲:۲۱۳)۔
بخار شریف حکیم فیض عالم کی نظر میں
امام بخاری ؒ نے واقعہ افک سے متعلق جو احادیث بخاری شریف میں ذکر کی ہیں ان کى تردید کرتے ہوئے حکیم فیض عالم لکھتے ہیں:
”ان محدثین، ان شارح حدیث، ان سیرت نویس اور ان مفسرین کی تقلیدی ذہنیت پر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے جو اتنی بات کا تجزىہ یا تحقیق کرنے سے بھی عاری تھے کہ یہ واقعہ سرے سے ہی غلط ہے، لیکن اس دینی وتحقیقی جرات کے فقدان نے ہزاروں المیئے پیدا کیئے اور پیدا ہوتے رہیں گے، ہمارے امام بخاری ؒ نے اس صحیح بخاری میں جو کچھ درج فرما دیا وہ صحیح اور لاریب ہے خواہ اس سے اﷲ تعالیٰ کی الوہیت، انبیاء کرام کی عصمت، ازاوج مطہرات کی طہارت کی فضائے بسیط میں دھجیاں بکھرتی چلی جائیں، کیا یہ امام بخاری کی اسی طرح تقلید جامد نہیں جس طرح مقلدین ائمہ اربعہ کی تقلید کرتے ہیں“
بخاری شریف میں موضوع روایت
حکیم فیض عالم حضرت عائشہ ؓ کی عمر کے بارے میں بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
”اب ایک طرف بخاری کی نوسال والی روایت ہے اور دوسری طرف اتنے قوی شواہد حقائق ہیں اس سے صاف نظر آتا ہے کہ نو سال والی روایت ایک موضوع قول ہے جسے ہم منسوب الی الصحابة کے سوا کچھ نہیں کہہ سکتے“
بخاری شریف کے اىک مرکزی راوی پرحکیم فیض عالم کی جرح وتنقید
حکیم فیض عالم بخاری شریف کے ایک مرکزی راوی جلیل القدر تابعی اور حدیث کے مدون اول امام بن شہاب زہری ؒ پر تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
”ابن شہاب منافقین و کذابین کے دانستہ نہ سہی نادانستہ ہی سہی مستقل ایجنٹ تھے اکثر گمراہ کن خبیث اور مکذوبہ روایتیں انہیں کی طرف منسوب ہیں“
مزید لکھتے ہیں:
” ابن شہاب کے متعلق یہ بھی منقول ہے کہ وہ ایسے لوگوں سے بھی وبلا واسطہ روایت کرتا تھا جو اس کی ولادت سے پہلے مر چکے تھے، مشہور شیعہ مولف شیخ عباس قمی کہتا ہے کہ ابن شہاب پہلے سنی تھا پھر شیعہ ہوگیا (تتمتہ المنتہیٰ ص۱۲۸) عین الغزال فی اسماءالرجال میں بھی ابن شہاب کو شیعہ کہا گیا ہے“
قارئیں کرام !! علامہ وحید الزماں صاحب اور حکیم فیض عالم کی امام بخاریؒ اور ابن شہاب زہریؒ پر اس شدید جرح کے بعد غیر مقلدین کو بخاری شریف پر سے اعتماد اٹھا لینا چاہیئے اور بخاری شریف کی ان سینکڑوں احادیث سے ہاتھ دھو لینا چاہئیے جن کی سند میں ابن شہاب ؒ موجود ہیں بالخصوص حضرت عبداﷲ بن عمر ؓ کی رفع یدین والی حدیث اور حضرت عبادةؓ کی قرات فاتحہ والی حدیث سے تو بالکل دستبردار ہو جانا چاہىئیے کیونکہ ان احادیث کی سند میں یہی ابن شہاب ؒ موجود ہیں، دیکھئے غیر مقلدین کیا فیصلہ فرماتے ہیں؟۔
6۔غیرمقلدین کی احادیث میں بےاصولیاں
غیر مقلدین حضرات بخاری شریف کے معاملہ میں اس قدر غیر محتاط واقع ہوئے ہیں کہ بے دھڑک احادیث مبارکہ بخاری کی طرف منسوب کر دیتے ہیں حالانکہ وہ احادیث یا توسرے سے بخاری میں نہیں ہوتیں یا ان الفاظ کے ساتھ نہیں ہوتیں، دو چار حوالے اس سلسلہ کے نذر قارئین کیئے جاتے ہیں۔
)غیر مقلدین کے شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی صاحب نے اپنی کتاب رسول اکرم کی نماز" میں ص۴۸میں ایک حدیث درج کی ہے
”عن عبداﷲ بن عمر قال رایت النبی ﷺافتح التکبیر فی الصلوة فرفع یددہ حین یکبر حتی یجعلھما حدو منکیبہ واذاکبر للرکوع فعل مثلہ و اذا قال سمع اﷲ لمن حمدہ فعل مثلہ و اذ اقال ربنا رلک الحمد فعل مثلہ ولا یفعل ذالک حین یسجد ولا حین یرفع راسہ من السجود“
(سنن کبری ج۲ص۶۸، ابو داود ج۱ ص ۱۶۳، صحیح بخاری ج۱ص ۱۰۲ الخ)“
ان الفاظ کے ساتھ یہ حدیث بخاری شریف میں نہیں ہے، شائید غیر مقلدین کہیں کہ الفاظ کے ساتھ نہ سہی معنا سہی تو ان کے یہ بات بھی غلط ہے یہ معنا بھی بخاری میں نہیں ہے اس لئے کہ حدیث سے چار جگہ رفع یدین ہو رہا ہے۔(۱)تکبیر تحریمہ کے وقت (۲)رکوع میں جاتے وقت (۳) سمع اﷲ لمن حمدہ کہتے وقت (۴) اور ربنالک الحمد کہتے وقت جبکہ بخاری میں صرف تین جگہ رفع یدین کا ذکر ہے۔
(۲)غىر مقلدین کے شیخ الکل فی الکل مفتی ابو البرکات احمد صاحب ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں
”صحیح بخاری میں آنحضرت ﷺ کی حدیث ہے کہ تین رکعت کے ساتھ وتر نہ پڑھو، مغرب کے ساتھ مشابہت ہوگی“
یہ حد یث بخاری تو دور رہی پوری صحاح ستہ میں نہیں،من ادعی فعلیہ البیان
(۳)حکیم صادق سیالکوٹی صاحب تحریرفرماتے ہیں
”حالانکہ حضور نے یہ بھی صاف صاف فرمایا ہے : افضل الاعمال الصلوة فی اول و قتھا (بخاری) افضل عمل نماز کو اس کے اول وقت میں پڑھنا ہے“
ان الفاظ اور معنی کے ساتھ یہ حدىث پوری بخاری میں کہیں نہیں ہے
(۴) حکیم صادق صاحب نے ایک حدیث ان الفاظ کے ساتھ درج کی ہے
”عن ابن عباس قال کان الطلاق علی عہد رسول اﷲ ﷺ وا بی بکر و سنتین من خلافة عمر طلاق الثلاث واحدة (صحیح بخاری)
رسول اﷲ ﷺ کی زندگی میں اور حضرت اوبکر ؓ کی پوری خلافت میں اور حضرت عمرؓ کے ابتدائی دو برس میں(بیکبارگی)تین طلاقیں ایک شمار کی جاتی تھی“
اور الفاظ کے ساتھ اس حدیث کا پوری بخاری میں کہیں نام و نشان نہیں ہے
(۵)حکیم صادق سیالکوٹی صاحب نے ”صلوة الرسول “ ص۲۱۸ میں ”رکوع کی دعائیں“ کے تحت چوتھی دعا یہ درج کی ہے۔
”سبحان اﷲ ذی الجبروت والملکوت والکبریاء والعظمة“
اور حوالہ بخاری و مسلم کا دیا ہے حالانکہ یہ حدیث نہ بخاری میں ہیں نہ مسلم میں۔
(۶)حکیم صادی سیالکوٹی صاحب نے صلوة الرسول ص۱۵۳ پر” اذان کے جفت کلمات“ کا عنوان دے کر اذان کے کلمات ذکر کیئے ہیں اورحوالہ بخاری و مسلم کا دیا ہے حالانکہ اذان کے یہ کلمات نہ بخاری میں ہیں نہ مسلم میں۔
(۷) حکیم صاحب نے صلوة الرسول ص۱۵۴ پر”تکبیر کے طاق کلمات“ کا عنوان کے تحت تکبیر کے الفاظ درج کئے ہیں اور حوالہ بخاری ومسلم کا دیا ہے حالانکہ تکبیر کے یہ الفاظ نہ بخاری میں ہیں نہ مسلم میں۔
(۸)حکیم صاحب صلوة الرسول ص۱۵۶ پر ”اذان کا طریقہ اور مسائل“ کی جلی سرخی قائم کر کے اس کے ذىل میں لکھتے ہیں
”حی علی الصلوة کہتے وقت دائیں طرف مریں اور حی علی فلاح کہتے وقتا بائیں مڑیں ولایستدر اور گھو میں نہیں یعنی دائیں اور بائیں طرف گردن موڑیں گھوم نہیں جانا چاہئیے (بخاری ومسلم)
بخار ی شریف کے غلط حوالے
قارئین کرام!! غیر مقلدین حضرات جب کوئی عمل اختیار کرتے ہیں تو چاہے وہ غلط کیوں نہ ہو اس ثابت کرنے کے لئے غلط بیانی سے بھی گریز نہیں کرتے بلا حھجک بخاری کے غلط حوالے دےدیتے ہیں حالانکہ بخاری میں ان کو کوئی وجود نہیں ہوتا دو چار حوالے اس سلسلہ کے بھی نذر قارئین کیئے جاتے ہیں ملاحظہ فرمائیں۔
(۱) مولانا ثناءاﷲ امرتسری صاحب تحریر فرماتے ہیں
”سینہ پر ہاتھ باندھنے اور رفع یدین کرنے کی روایات بخاری و مسلم اور ان کی شروح میں بکثرت ہیں“
مولانا کی یہ بات بالکل غلط ہے بخاری ومسلم میں سینہ پر ہاتھ باندھنے کی روایات تو درکنار ایک روایت بھی موجود نہیں۔
(۲)فتاوی علما حدیث میں ایک سوال کے جواب میں تحریر ہے۔
”جواب صریح حدیث سے صراحتاً ہاتھ اٹھا کر یا باندھ کر قنوت پڑھنے کا ثبوت نہیں ملتا، دعا ہونے کی حیثیت سے ہاتھ اٹھا کر پڑھنا والیٰ ہے، رکوع کے بعد قنوت پڑھنا مستحب ہے، بخاری شریف میں رکوع کے بعد ہے الخ“
غیر مقلد مفتی صاحب کا یہ جواب بالکل غلط ہے، بخاری شریف پڑھ جائے، پوری بخاری میں قنوت وتر رکوع کے بعد پڑھنے کا کہیں ذکر نہیں ملے گا، بلکہ اس کا الٹ یعنی رکوع میں جانے سے پہلے قنوت پڑھنے کا ذکر متعدد مقامات پر ملے گا۔
7۔ غیرمقلدین کےچٹ پٹے مسائل
۔عیسائی کہتے ہیں کہ اللہ عیسی کی شکل میں ظاہر ہوا،غیرمقلد کہتے ہیں جس شکل میں چاہے ظاہر ہوسکتا ہے
(ہدیۃ المہدی)۔
۲۔اللہ آدم کی شکل کا ہے اس کی آنکھ ہاتھ ہھتیلی مٹھی انگلیاں پہنچا بازو سینہ پسلی پاؤں پنڈلی سب کچھ ہے
(ہدیۃ المہدی۱،۹)
۳۔حافظ عبداللہ روپڑی مسئلہ وحدۃ الوجود کو حق مانتے ہیں
(فتاوی اہل حدیث۱:۱۵۰)
۴۔نواب صدیق حسن خان مسئلہ وحدۃ الوجود کو حق مانتے ہیں
(ماثر صدیقی)
۵۔رام چندر کرشن جی لچھمن ،زراتشت مہاتما بدھ یہ سب انبیاء صالحین میں سے ہے ہم پر واجب ہے کہ سب رسولوں پر بلا تفریق ایمان رکھیں
(ہدیۃ المہدی۱:۲۴)
۶۔اہل حدیث شیعان علی ہیں۔
۷۔خلفائے راشدین کو گالیاں دینے سے آدمی کافر نہیں ہوتا
(نزل الابرار۲:۳۱۸)
۸۔خطبہ جمعہ میں خلفائے راشدین کےذکر کا التزام بدعت ہے
(ہدیۃ المہدی ۱:۱۱۰)
۹۔(صحابہ کرام میں سے)ولید(بن مغیرہ)معاویہ(بن سفیان)عمرو(بن عاص)مغیرہ(بن شعبہ) سمرہ (بن جندب)فاسق ہیں
(نزل الابرار۳:۹۴)
۱۰۔اصول میں یہ بات طے ہوگئی ہے کہ صحابہ کاقول حجت نہیں
(عرف الجادی:۱۰۱)
۱۱۔صحابہ کا اجتہاد امت میں سے کسی فرد پر بھی حجت نہیں
(عرف الجادی :۲۰۷)
۱۲۔اجماع اور قیاس کی کوئی حیثیت نہیں
(عرف الجادی:۳)
۱۳۔کافر کاذبیحہ حلال ہے اس کا کھانا جائز ہے
(عرف الجادی:۱۰)
۱۴۔اگر جانور کو ذبح کرتے وقت بسم اللہ نہ پڑھی ہوتو بھی حلال ہے کھاتے وقت پڑھ لے
(عرف الجادی:۱۱)
۱۵۔بیک وقت چار عورتوں سےزائدنکاح جائز ہے
(عرف الجادی:۱۱۱)
۱۶۔اونچی قبروں کو زمین کے برابر کردینا واجب ہے چاہے نبی کی قبر ہویا ولی کی۔
(عرف الجادی:۶۰)
۱۷۔انبیاء اور اولیاء کی قبروں پر نہیں جانا چاہئے تاکہ امر جاہلیت رواج نہ پائے۔
(عرف الجادی:۸۵)
۱۸۔مال تجارت اور سونے چاندی کےزیورات میں زکوۃ واجب نہیں ہے
(بدورالاہلہ:۱۰۲)
۱۹۔مرزائی مسلمان ہیں
(مظالم روپڑی:۳۷)
۲۰۔مرزائی عورت سے نکاح جائز ہے
(اہل حدیث،۲نومبر۱۹۳۴ء)
۲۱۔مرزائی مسلمانوں کےساتھ قربانی میں حصہ دار بن جائے توسب کی قربانی صحیح ہے
(فتاوی علمائے حدیث)
۲۲۔رسول اقدس ﷺ کی مزار مبارک کی زیارت کے لئے مدینہ منورہ کاسفر کرنا جائز نہیں
(عرف الجادی:۲۵۷)
۲۳۔مؤذن کے لئے مرد ہونا شرط نہیں
(بدورالاہلہ:۳۸)
۲۴۔عامی کے لئے مجتہد یا مفتی کی تقلید ضروری ہے
(نزل الابرار۱:۷)

ہر بات پر اہل مدینہ و مکّہ کا حوالہ دینے والے غیر مقلدین نام نہاد اھلحدیثوں کے مکّہ و مدینہ والوں سے مسائل میں شدید اختلافات

مکے اور مدینے والوں سے نام نہاد اہلحدیثوں کے شدید اختلافات
آج کل غیر مقلد ین (اہلحدیثوں) نے اپنی غیر مقلدیت کی مردہ تحریک میں جان ڈالنے کےلئے حرمین شریفین مکے اور مدینے کی خدمت گزار حکومت اور سعودی ائمہ اور مشائخ کے بارے میں یہ پروپیگنڈہ کیا ہوا ہے کہ وہ لوگ بھی ہماری طرح اہلحدیث (غیر مقلد) ہیں اس لئے ہم اہل سنت و جماعت کے سادہ لوح مسلمانوں کو اس دھوکے سے بچانے کے لیئے اختصار سے مکے اور مدینے والوں کا مسلک اور غیر مقلد ین (اہلحدیثوں) کے مسلک کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہیں ۔ جس سے یہ بات روشنی کی طرح عیاں ہو جائے گی کہ مکے اور مدینے والے غیر مقلدین (اہلحدیثوں کی طرح) نہیں ہیں بلکہ وہ اہل سنت و جماعت ہیں۔
(۱) مکے اور مدینے والے اجماع صحابہ رضی اللہ عنہم اور اجماع امت کے قائل ہیں (مکے اور مدینے والوں کا مسلک )
غیر مقلدین اجماع صحابہ رضی اللہ عنہم اور اجماع امت کے منکر ہیں ۔
(۲) مکے مدینے والے قیاس شرعی کے قائل ہیں ۔
غیر مقلدین قیاس شرعی کے منکر ہیں ۔
(۳) مکے مدینے والے اجتہاد ائمہ کے قائل ہیں ۔
غیر مقلدین اجتہاد ائمہ کے منکر ہیں ۔
(۴) مکے مدینے والوں کے نزدیک ہر ایک کو اجتہاد کا حق نہیں ہے ۔
غیر مقلدین کے نزدیک ہر خواندہ نا خواندہ مسلمان کو اجتہاد کا حق ہے ۔
(۵) مکے مدینے والوں کے نزدیک غیر مجہتد کیلئے اجتہاد حرام ہے اور تقلید واجب ہے ۔
غیر مقلدین کے نزدیک کسی بھی امام کی تقلید حرام اور شرک ہے ۔
(۶)مکے مدینے والے امام اہل سنت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے مقلد ہیں ۔
غیر مقلدین کے نزدیک کسی بھی امام کی تقلید حرام اور شرک ہے ۔
(۷) مکے مدینے والے فقہ کے قائل ہیں ۔
غیر مقلد ین فقہ کے منکر ہیں ۔
(۸)مکےمدینے والے اصول فقہ کے قائل ہیں ۔
غیر مقلدین اصول فقہ کے منکر ہیں ۔
(۹) مکے مدینے والے چاروں فقہ کو صراط مستقیم سمجھتے ہیں ۔
غیر مقلدین چاروں مکاتب کو صراط مستقیم سے منحرف چار خطوط یعنی چار شیطانی راستے قرار دیتےہیں ۔
(۱۰)مکے مدینے والے چاروں فقہ کو ائمہ اربعہ سے ثابت سمجھتے ہیں ۔
غیر مقلد ین کہتے ہیں کہ چاروں فقہ ائمہ اربعہ کے بعد ان کے شاگردوں نے ان کی طرف نسبت کر کے فقہ جعفریہ کی طرح جھوٹی بنالی ہے ۔
(۱۱) مکے مدینے والوں کے نزدیک تمام مقلدین حنفی، مالکی ، شافعی ، حنبلی سب فرقہ نا جیہ اہل السنة والجماعة ہیں ۔
غیرمقلدین کے نزدیک صرف اور صرف ان کی جماعت جنتی ہے باقی تمام مقلدین مشرک اور جہنمی ہیں۔
(۱۲)مکےمدینے والوں کے نزدیک سنت رسولﷺ کی طرح سنت خلفاءراشدین رضی اللہ عنہم دین و سنت کا حصہ ہے ۔
غیر مقلدین سنت خلفاءراشدین رضی اللہ عنہم کے منکر ہیں ۔
(۱۳) مکے مدینے والوں کی اہلحدیث کے نام سے کوئی جماعت نہیں ۔
غیر مقلدین اپنے آپ کو ہمیشہ اہلحدیث کہلواتے ہیں ۔
(۱۴) مکے مدینے والوں کے نزدیک اہلحدیث کوئی مذہبی لقب نہیں بلکہ علمی لقب ہے ۔
غیر مقلدین کے نزدیک اہلحدیث مذہبی لقب ہے یعنی اہلحدیث ہر وہ شخص ہے جو خواہ جاہل ہی کیوں نہ ہو ۔
(۱۵) مکے مدینے والوں کے نزدیک روضہ رسول ﷺ پر پڑھا ہوا درود و سلام وہ خود سنتے ہیں ۔
غیر مقلدین صلوٰة سلام کے منکر ہیں ۔
(۱۶) مکے مدینے والوں کے نزدیک روضہ رسول ﷺ کی حفاظت اور خدمت ضروری ہے ۔
غیر مقلدین کے نزیک روضہ رسول ﷺ شرک و بدت ہے اس کا گرانا واجب ہے ۔
(۱۷) مکے مدینے والے ننگے سر نماز نہیں پڑہتے ، نماز میں تو کجا وہ بازار میں بھی ننگے سر نہیں گھومتے۔
غیر مقلدین ہمیشہ ننگے سر نماز پڑہتے ہیں اور اس کو سنت سمجھتے ہیں ۔
(۱۸) مکے مدینے والے نماز میں سینے پر ہاتھ نہیں باندھتے ناف کے نیچے یا ناف کے اوپر ہاتھ باندھتے ہیں ۔
غیر مقلدین ہمیشہ نماز میں سینے پر ہاتھ باندھتے ہیں اور اپنے عمل کو سنت سمجھتے ہیں اور ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے کو خلاف سنت اور بیہودہ فعل سمجھتے ہیں
(۱۹) مکے مدینے والے امام نماز فجر ، مغرب، عشاءمیں سورہ فاتحہ سے پہلے بسم اللہ آواز بلند (جہر) نہیں پڑھتے اور نہ سنت سمجھتے ہیں ۔
غیر مقلدین ہمیشہ نماز فجر ، مغرب عشاءمیں بسم اللہ آواز بلند (جہر) سے پڑھتے ہیں ۔
(۲۔) مکے مدینے والوں کے نزدیک بغیر فاتح پڑھے امام کے ساتھ رکوع میں ملنے والی رکعت مکمل ہو جاتی ہے ۔
غیر مقلدین کے نزدیک بغیر فاتحہ کے رکوع پانے کے باوجود رکعت دوبارہ پڑھی جائے ۔
(۲۱) مکے مدینے والے پہلی اور دوسری رکعت کے دو سجدوں کے بعد سیدھے کھڑے ہوجاتے ہیں۔
غیر مقلدین دو سجدوں کے بعد بیٹھ کے پھر کھڑے ہوتے ہیں ۔
(۲۲) مکے مدینے والوں کے نزدیک مسنون تراویح بیس رکعت ہے اور بھی مکہ مدینے میں بیس رکعت ہی پڑھی جاتی ہے ۔
غیر مقلدین بیس رکعت سنت تراویح کو بدعت کہتے ہیں اور ہمیشہ آٹھ رکعت تراویح پڑھتے ہیں ۔
(۲۳) مکے مدینے والے سبحان الاعلی کا جواب بلند آواز سے نہیں دیتے-
غیر مقلدین بلند آواز سے سبحان الاعلی کہ کر جواب دیتے ہیں-
(۲۴) مکے مدینے والے پہلی اور تیسری رکعت میں دو سجدوں کے بعد سیدھے کھڑے ہوجاتے ہیں۔
غیر مقلدین دو سجدوں کے بعد بیٹھ کر پھر کھڑے ہوتے ہیں۔
(۲۵) مکے مدینے والے رمضان اور غیر رمضان میں صرف اور صرف تین (۳) رکعت وتر پڑھتے ہیں۔
غیر مقلدین رمضان میں تین (۳) رکعت وتر اور باقی مہینوں میں ایک (۱) رکعت وتر پڑھتے ہیں۔
(۲۶) مکے مدینے والے کے نزدیک نماز جنازہ میں سورہ فاتحہ اور دیگر سورہ پڑھنا واجب نہیں ہے۔
غیر مقلدین کے نزدیک بغیر سورہ فاتحہ پڑھے نماز جنازہ باطل ہے۔
(۲۷) مکے مدینے والے نماز جنازہ اہل سنت والجمات حنفیوں کی طرح پست آواز سے پڑھتے ہیں۔
غیر مقلدین نماز جنازہ بلند آواز سے پڑھتے ہیں۔
(۲۸) مکے مدینے والے سجدوں میں جاتے وقت گھٹنوں سے پہلے زمین پر ہاتھ نہیں رکھتے۔
غیر مقلدین سجدوں میں جاتے وقت ہمیشہ گھٹنوں سے پہلے زمین پر ہاتھ رکھتے ہیں اور اسے سنت سمجھتے ہیں۔.
(۲۹) مکے مدینے والے جمعہ میں دو (۲) اذانوں کے قا‌‌‍ ئل ہیں۔
غیر مقلدین جمعہ میں صرف ایک (۱) اذان کے قائل ہیں۔
(۳۰) مکے مدینے والے جمعہ کے خطبے میں خلفاء راشدین رضی اللہ عنہ اور صحابہ اکرام رضی اللہ عنہ کے ذکر کو بیان کرنا فخر سمجھتے ہیں۔
غیر مقلدین جمعہ کے خطبے میں خلفاء راشدین رضی اللہ عنہ اور صحابہ اکرام رضی اللہ عنہ کے ذکر کو بیان کرنا بدعت سمجھتے ہیں۔
(۳۱) مکے مدینے والوں کے نزدیک ایک مجلس میں دی گئی تین(۳) طلاقیں تین ہی شمار ہوتی ہیں اوربیوی شوہر پر حرام ہو جاتی ہے۔
غیر مقلدین ایک مجلس میں دی گئی تین(۳) طلاقیں ایک ہی شمار کرتے ہیں اور اوربیوی شوہر پر حلال سمجھتے ہیں۔
(۳۲) مکے مدینے والے تین(۳) طلاقوں کے بعد حلالہ شرعی کے قائل ہیں۔
غیر مقلدین والے تین(۳) طلاقوں کے بعد حلالہ شرعی کےمنکر ہیں۔
(۳۳) مکے مدینے والے ایصال ثواب کے قائل ہیں۔
غیر مقلدین والے ایصال ثواب کے منکر ہیں۔
(۳۴) مکے مدینے میں فقہی نظام رائج ہے۔
غیر مقلدین فقہی نظام کو کفر کے مترادف سمجھتے ہیں ۔

بخاری بخاری کی رٹ لگانے والے غیر مقلدین کے امام بخاری رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ سے اختلافات ( سوچئیے ضرور سوچئیے )

صبح و شام بخاری کی رٹ لگانے والے نہاد اہلحدیث ( غیر مقلدین) کے سامنے بخاری شریف پیش کی جاتی ہیں تو غیرمقلدین کو بخار ہو جاتا ہے

ہر شخص جانتا ہے کہ غیرمقلدین نام نہاد اہلحدیث بخار ی شریف اور امام بخاری کی ذات کو ہر مسئلے میں جو از بنا کر سادہ لوح طبقہ کو گمراہ کرنے کی مقدور بھر کوشش کرتے ہیں ہر وہ شخص جو صبح و شام بخاری بخاری کی رٹ لگائے پھرتا ہے کیا وہ خود بخاری شریف کی روایات اور خود امام بخاری سے ان کے بارے میں اتفاق بھی کرتا ہے یا نہیں، يہ سوال یقینا قابل غور ہے ذیل میں چند مسائل ذکر کئے جا رہے ہیں جن پر غیرمقلدین  نام نہاد اہلحدیث اور امام بخاری میں اختلاف ہے

امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے غیر مقلدین کے اختلافات

1 ۔ پیشاپ و پاخانہ کی حالت میں میدان میں قبلہ رو منہ یا پیٹھ کرنا درست نہیں اور عمارت میں درست ہے امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اسے اختیار کیا ہے (تیسرالباری ج1ص18) جبکہ غیر مقلدین (نواب صدیق حسن خان نے مسلم کی شرح السراج الوہاج ج 1ص1031میں اور عبید اﷲ مبارک پوری نے مرعاة المفاتیح ج 1ص411 ) کے ہاں دونوں جگہ منع ہے۔

2 ۔  امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے نزدیک کتے کا جھوٹا پاک ہے (تیسیر الباری ج1 ص134، فتح الباری ج1ص283) جبکہ غیر مقلدین( فرقہ جدید نام نہاد اہلحدیث) کے نزديک کتے کا جھوٹا ناپاک ہے (فتاوی علماے اہل حدیث ج1ص21،238)

2 ۔ امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے نزديک جماع کے وقت انزال نہ ہوتو ایسی حالت میں غسل کر لے تو زیادہ احتیاط ہے لیکن وضو بھی کافی ہے (تیسیر الباری ج1ص139) جبکہ غیر مقلدین ( فرقہ جدید نام نہاد اہلحدیث) کے ہاں اس حالت میں غسل واجب ہے (السراج الوہاج ج1ص124،تحفہ الاحوذی ج1ص111،فتاوی اہلحدیث ج1ص256)

3 ۔ امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے نزدک منی نجس ہے (تیسیر الباری ج1ص170) جبکہ نواب صدیق حسن خان کے نزديک منی پاک ہے مگر جب خشک ہوتو کھرچ دینا اور تر ہو تو دھولینا چاہےے (السراج الوہاج ج1ص142)

4 ۔ امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے نزديک چوہا اگر گھی میں گر جائے تو اس جگہ کو اور آس پاس والی جگہ کوپھینک دو اور باقی کھاﺅ (تیسیر الباری ج1ص173) جبکہ غیر مقلدین فرقہ جدید نام نہاد اہلحدیث)کے ہاں چوہا اگرگرم گھی میں گرچائے تو اس کے نزديک نہ جاﺅ (فتاوی علمائے اہلحدیث ج1ص24)

5 ۔ امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے نزدک غسل جنابت میں ناک میں پانی ڈالنا اور کلی کرنا واجب نہیں ہے (تیسیرالباری ج 1ص188)جبکہ غیر مقلدین( فرقہ جدید نام نہاد اہلحدیث) کے نزدیک واجب ہے۔ (تحفہ الاحوذی ج1ص40، مرعاة المفاتیح ج1ص454، السراج الوہاج ج1ص111)

6 ۔ امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے نزديک افضل يہ ہے کہ وضو اورغسل میں بدن کپڑے سے نہ پونچھے (تیسیر الباری ج1ص198) جبکہ غیر مقلدین ( فرقہ جدید نام نہاد اہلحدیث) کے ہاں پونچھنا اور نہ پونچھنا دونوں برابر ہیں

7 ۔ امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے نزديک جنبی اور حائضہ دونوں کو قرآن پڑھنا درست ہے (تیسیر الباری ج1ص216)جبکہ غیرمقلدیں ( فرقہ جدید نام نہاد اہلحدیث) کے ہاں حرام ہے(تحفہ الاحوذی ج1ص124،فتاوی اہلحدیث ج1ص263، فتاوی علمائے اہلحدیث ج1ص54)

8 ۔ امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے نزديک قرآن کو بے وضو ہاتھ لگانا درست ہے جبکہ غیرمقلدین( فرقہ جدید نام نہاد اہلحدیث) کے ہاں درست نہیں(مرعاة المفاتیح ج1ص522)

9 ۔ امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے نزديک ذَکر اور دبر کا چھپانا واجب ہے (فتح الباری ج2 ص22)جبکہ غیرمقلدین ( فرقہ جدید نام نہاد اہلحدیث) کے نزديک ناف سے لےکر گھٹنے تک کا حصہ پردہ ہے (السراج الوہاج ج1ص128)

10 ۔ امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے نزديک اونٹوں کے باڑہ میں نماز پڑھنا درست ہے جبکہ غیر مقلدین ( فرقہ جدید نام نہاد اہلحدیث) کے نزديک حرام ہے ( تیسیر الباری ج1ص304)

13 ۔ امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے نزديک مسجد میں محراب بنانا سنت نہیں ہے(تیسیرالباری ج1ص342،343) جبکہ غیر مقلدین ( فرقہ جدید نام نہاد اہلحدیث) کی سبھی مساجد میں محراب اور منبر چونے انیٹ سے بنائے جاتے ہیں

14 ۔ امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے نزديک نمازی کے آگے سے سے ہر جگہ گذرنا منع ہے (تیسیرالباری ج1ص344) جبکہ غیرمقلدین ( فرقہ جدید نام نہاد اہلحدیث) کے نزديک بیت اﷲ میں نمازی کے آگے سے گذرنا درست ہے (فتاوی اہل حدیث ج2ص117)

15 ۔ امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ عورت کو ہاتھ لگا جانے سے نماز فاسد نہیں ہوتی(تیسیر الباری ج1ص255) جبکہ غیرمقلدین ( فرقہ جدید نام نہاد اہلحدیث) کہ ہاں وضو ٹوٹ جاتا ہے۔

16 ۔ امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے نزديک سو کر اٹھنے والے کے نماز قضا نہیں جبکہ غیرمقلدین( فرقہ جدید نام نہاد اہلحدیث) کے نزديک وہ نماز ادا ہے جب وہ جاگا یا اس کو یا دآئی (تیسیرالباری ج ۱ ص298)

17 ۔ اگر امام بیماری کے وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھائے تو امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے نزديک قدرت رکھنے والے مقتدی کھڑے ہو کر نماز پڑھیں (فتح الباری ج 2ص298) جبکہ غیر مقلدین کے نزديک امام بیٹھ کر نماز پڑھیں تو مقتدی بھی بیٹھ کر نمازپڑھیں۔

18 ۔ امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے نزديک عالم امامت کا زیادہ حقدار ہے (تیسیر الباری ج1ص447) جبکہ غیرمقلدین( فرقہ جدید نام نہاد اہلحدیث) کے نزديک قاری زیادہ حق دار ہے( تحفہ الاحوذی ج1ص197)

19 ۔ امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے نزديک جمعہ کے دن غسل کرنا سنت ہے (تیسیرالباری ج1ص7)جبکہ غیرمقلدین کے نزديک واجب ہے (تیسیر الباری ج ۱ ص2، السراج الوہاج ج1ص253)

20 ۔ امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے نزديک تہجد اور وتر دو علیحدہ نمازیں ہے (فتح الباری ج1ص130)جبکہ غیر مقلدین کے نزديک تراویح،تہجد اور صلوة اللیل ايک ہی ہیں۔(تیسیر الباری ج2ص76)

21 ۔ امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے نزديک جنازہ کی میت اور امام مرد اور عورت دونوں کی میت میں کمرکے مقابل کھڑا ہو(تیسیر الباری ج2ص292) جبکہ غیرمقلدین ( فرقہ جدید نام نہاد اہلحدیث)کے نزديک امام عورت کی کمر اور مرد کے سر کے مقابل کھڑا ہو ۔(تیسیرالباری ج2ص291، فتاوی علمائے اہلحدیث ص2)

22 ۔ امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے نزدیک مشرکین کی نابالغ اولاد اگر مر جائے تو وہ جنتی ہے (تیسیرالباری ج2ص331)جبکہ غیرمقلدین ( فرقہ جدید نام نہاد اہلحدیث)کے نزديک دوزخی ہے (تیسیرالباری ج2ص 310)

23 ۔ امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ رمضان المبارک میں دن میں ايک قرآن ختم کیا کرتے تھے (مقدمہ فتح الباری ج2ص252، مقدمہ تیسیر الباری ج3ص136)جبکہ غیر مقلدین ( فرقہ جدید نام نہاد اہلحدیث)کے نزديک تین دن سے جلد ختم کرنا مکروہ ہے (تیسیرالباری ج6ص535)

24 ۔ بخاری کی روایت میں وتروں سمیت تہجد کی تیرہ رکعتیں بھی ثابت ہیں (فتح الباری ج3ص136، تیسیرالباری ج 2ص203) جبکہ غیرمقلدین کے نزدیک رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ کا ثبوت نہیں ہے ( عرف الجادی ص33)

25 ۔ امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے نزدیک حال احرام میں عقد کرنا درست ہے (تیسیر الباری ج3ص42) جبکہ غیر مقلدین( فرقہ جدید نام نہاد اہلحدیث) کے نزدیک حالت احرام میں نکاح درست نہیں (تحفہ الاحوذی ج2ص88، السراج الوہاج ج1ص526-27)

26 ۔ امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے نزديک مکہ اور اردگر کی بستیوں کوام القری کہتے ہیں جبکہ غیر مقلدین ( فرقہ جدید نام نہاد اہلحدیث)کے نزديک ام القری صرف مکہ ہی ہے (تیسیر الباری ج6ص293)

27 ۔ امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے نزدیک بسم اﷲ ہر سورة جز نہیں (فتح الباری ج10ص343،تیسیرالباری ج6ص470)جبکہ غیرمقلدین( فرقہ جدید نام نہاد اہلحدیث) کے نزدیک بسم اﷲ ہر سورة کاحصہ ہے۔ (السراج الوہاج، ج1ص192، عرف الجادی ص26، فتاوی علمائے اہلحدیث ج2ص110)

29 ۔ امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے نزدیک میں حیض میں دی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے (تیسیرالباری ج7ص236)جبکہ غیرمقلدین( فرقہ جدید نام نہاد اہلحدیث) کے نزديک نہیں ہوتی (تیسیرالباری ج7ص164)

30 ۔ امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے نزديک اگر میاں بیوی پہلے مسلمان نہ تھے اب ان میں بیوی پہلے مسلمان ہوگئی تو اسلام قبول کرتے ہی دونوں کے درماین علیحدگی ہو جائے گی (تیسیرالباری ج7ص199، فتح الباری ج11ص340) جبکہ غیر مقلدین ( فرقہ جدید نام نہاد اہلحدیث)کے نزديک عورت کے اسلام قبول کرتے ہی ان کا نکاحی تعلق ختم نہیں ہوتا بلکہ عورت کی عدت ختم ہونے تک باقی رہتا ہے۔(تیسیرالباری ج7ص199)

31 ۔ امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے نزدیک تین طلاقیں اکٹھی دے یا جداجدا دے تو تینوں واقع ہوجاتی ہیں (فتح الباری ج11ص281،تیسیرالباری ج7ص172) جبکہ غیر مقلدین( فرقہ جدید نام نہاد اہلحدیث) کے نزدیک اکٹھی دی ہوئی تین طلاقیں ايک ہوتیں ہیں (فتاوی ثنائیہ ج2ص231، فتاوی نذیریہ ج3ص39)

32 ۔ امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے نزدیک مصافحہ دونو ں ہاتھ سے کرنا چاہيے ( تیسیرالباری ج8ص179) جبکہ غیر مقلدین( فرقہ جدید نام نہاد اہلحدیث) کے نزديک مصافحہ ايک ہاتھ سے کرنا چاہيے ( فتاوی ثنائیہ ج2ص91,95)

33 ۔ امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے نزديک بچہ تھوڑا بہت جتنا دودھ بھی کسی عورت کا پی لے تو رضاعت ثابت ہو جاتی ہے (فتح الباری ج11ص49)جبکہ غیر مقلدین( فرقہ جدید نام نہاد اہلحدیث) کے نزديک ايک دوبار پینے سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی (تیسیرالباری ج7ص23، فتاوی اہل حدیث ج3ص180،فتاوی نذیریہ ج3ص152)

مذکورہ بالا مسائل کے رقم کرنے میں کہیں بھی ذاتی رائے کا اظہار نہیں کیا گیا صرف وہ الفاظ مختصر نقل کئے گئے ہیں جو غیر مقلدین  نام نہاد اہلحدیث نے اپنی کتب کے اندر لکھے ہیں ۔

( تیسیر الباری مشہور علام علامہ وحید الزماں کی بخاری کے شرح ہے، السراج الوہاج غیرمقلد عالم نواب صدیق حسن خان کی بخاری کی شرح ہے، مرعاة المفاتیح غیر مقلد عبیداﷲ مبارک پوری کی بخاری کی شرح ہے )

فتح الباری ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی تحریر کردہ بخاری کی شرح ہے اور يہ چھٹی صدی ہجری کے دور سے تعلق رکھتے ہیں تب غیر مقلدیت کا نشان بھی نہ تھا ۔ غیرمقلدین نام نہاد اہلحدیث کا جتنے مسائل میں امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے اختلاف ہیں ان میں سے چند کا خاکہ آپ کے سامنے پیش کیا گیا ہے اس کی روشنی میں یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ جو لوگ امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اور امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے اختلافات کو پیش کر کے عوام الناس کے اذہان کو خراب کرتے ہیں وہ انصاف سے کام نہیں ليتے انہیں چاہيے کہ وہ امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے اپنے اختلافات کو بھی ضرور بیان کیا کریں ۔

نوٹ : ۔ فیس بکی جاہل غیر مقلدین نام نہاد اھلحدیثوں سے گذارش ہے کہ جواب ضرور دیں مگر گالم گلوچ ، آئیں بائیں شائیں اور گھسی پٹی گندی پوسٹوں سے پرھیز کریں مدلّل با حوالہ جواب دیں جواب کا منتظر رہونگا ؟ ڈاکٹر فیض احمد چشتی لاہور پاکستان

Sunday, 30 August 2015

تقلید پر اعتراض کرنےوالےغیر مقلد وھابیوں کو ان کے گھر سےجواب

عبدالقادر حصاروی غیر مقلد ،جماعت غرباء اہل حدیث کے امام عبدالوہاب ملتانی کے باطل عقیدہ اور ان کی تقلید کرنے والے اہلحدیثوں کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’یہ خلاصہ ہے ان (ملتانی صاحب ) کے اس اصول اور عقیدہ کا جو سراسر باطل اور نقل وعقل کے بالکل خلاف ہے بلکہ یہ تقلید اور یہ عقیدہ تمام مقلدین کے اصول اور عقیدہ سے بھی بد ترین ہے ۔

(۱) اصلی اہل السنت کی پہچان ص 215

اس سے معلوم ہوا کہ غرباء والے اہل حدیث اپنے امام کے باطل اور نقل و عقل کے خلاف عقیدہ کی تقلید کرتے ہیں پھر اس پر طرہ یہ کہ وہ اپنے امام کو مثل معصوم سمجھتے ہوئے ان کی تقلید کو فرض قرار دیتے ہیں ۔چنانچہ حصاروی صاحب ان کے متعلق لکھتے ہیں: ’’عام لوگ ان کو’’ امامیہ ‘‘کہتے ہیں کہ یہ اپنے امام کی تقلید فرض جانتے ہیں۔ (۲) اصلی اہل السنت کی پہچان ص 209

حصاروی صاحب ایک اور مقا م پر لکھتے ہیں: ’’اپنے مقرر کردہ امام کی’’ تقلید ‘‘کرنا بھی ان کا شیوہ ہے اور یہ اپنے امام کو مثل معصوم سمجھتے ہیں ۔ (۳)اصلی اہل السنت کی پہچان ص 213

7: عبدالحق غزنوی غیر مقلد ،سردار اہل حدیث ثناء اللہ امر تسری کے متعلق لکھتے ہیں: ’’فلاسفہ اور نیچریوںاور معتزلہ کا مقلد ہے ۔ناسخ ومنسوخ ،تقدیر ،معجزات ،کرامات ،صفات باری ،دیدارالہی ،میزان ، عذاب قبر ،عرش ،لوح محفوظ ،دابۃ الارض ،طلوع شمس از مغرب وغیرہ وغیرہ ،جو اہل السنت میں مسائل اعتقادیہ اجماعیہ ہیں اور آیات قرآنیہ ان پر شاہد ہیں اور علماء اہل السنت نے اپنی تفاسیر میں بالاتفاق جن آیات کی تفاسیر ان مسائل کے ساتھ کی ہے انہوں نے ان سب آیتوں کو بتقلید کفرہ یونان وفرقہ ضالہ معتزلہ وقدریہ وجہمیہ خذلھم اللہ محرف ومبدل کرکے سبیل مومنین کو چھوڑ کر اپنے آپ کو ’’ویتبع غیر سبیل المومنین نولہ ماتولیٰ ونصلہ جہنم وساء ت مصیرا ‘‘کا مصداق بنایا۔

(۱)الاربعین جلد اول ،ص5مشمولہ رسائل اہل حدیث)

اس عبارت سے صراحتاً ثابت ہورہاہے کہ ثناء اللہ امرتسری نے قرآنی آیات کے خلاف یونان کے کافروں کی تقلید کو سینے سے لگالیا ہے ۔

: غزنوی صاحب ،ان کے متعلق مزید لکھتے ہیں ’’بر خلاف آیات کریمہ واجماع ائمہ کے ،جابجا اپنی تفسیر میں عرش کی تفسیر بتقلید قفال حکومت اور بادشاہت کے ساتھ کرتا ہے اتنا بھی نہیں سمجھتا کہ عرش کے انکار سے تو کفر تک کی نوبت پہونچتی ہے۔

(۲)الاربعین ص 17

غزنوی صاحب کی تصریح کے مطابق ،امرتسری صاحب نے قرآنی آیا ت کے خلاف قفال کی تقلید کو اختیار کر لیا ۔

غزنوی صاحب مزید لکھتے ہیں ’’احمد وبزار اور ابن حبان اور حاکم مرفوعا لائے ہیں کہ ’’لم یتکلم فی المہد الا اربعۃ وذکر شاھد یوسف ‘‘یعنی چار شخصوں نے گود میں بات کی ہے جن میں سے ایک شاہد یوسف بھی ہے ۔چونکہ مصنف تفسیر ثنائی (ثناء اللہ امرتسری ۔ناقل )کے خلاف ہے لہٰذا صریح حدیث سے خلاف کیا اور اس تفسیر میں ابو علی جبائی معتزلی کا مقلد ہو ا ۔

(۳)الاربعین ص19

غزنوی صاحب کے بقول امرتسری صاحب صریح حدیث کے خلاف ایک معتزلی کی تقلید پر راضی ہوگئے ۔

ثناء اللہ امرتسری کے استاد محمد حسین بٹالوی غیرمقلد ،اپنے ’’شاگرد رشید ‘‘کے متعلق لکھتے ہیں : ’’ حدیث نبو ی کا یہ شخص در پردہ منکر ہے اور حدیث کے مقابلہ میں اپنی رائے اور اپنے اسلاف معتزلہ ونیچریہ کی آرا کو واجب العمل اور مقدم سمجھتا ہے ۔تب ہی احادیث صحیحہ نبویہ مفسرہ قرآن کو چھوڑ کر بہ تقلید معتزلہ ونیچریہ قرآن کی تفسیر رائے سے کرتا ہے ۔

(۴)الاربعین ص 44

وکیل اہلحدیث محمد حسین بٹالوی کی تصریح کے مطابق ان کے شاگرد ثناء اللہ امرتسری نے احادیث صحیحہ کے خلاف معتزلہ اور نیچریہ کی’’ تقلید ‘‘کو گلے سے لگا لیا ۔

قرآن و حدیث میں کہیں ’’تقلید‘‘ کا لفظ یا ’’تقلید‘‘ کا حکم موجود ہے ؟

غیر مقلدین کے سوال کا جواب : ۔ اس قسم کے سوالات کہ قرآن و حدیث میں کہیں ’’تقلید‘‘ کا لفظ  موجود ہے؟، یہ  ضد اورجہالت کی نشانی ہے۔ کیا آپ ثابت کر سکتے ہیں کہ  قرآن و حدیث میں عربی زبان کا ہر مستعمل لفظ موجود ہے؟  اس سے پہلے آپ کا سوال تھا کہ  کون سا مسئلہ ہے جو قرآن و حدیث میں نہیں ہے؟ اس کا جواب میں اوپر دے چکا اور چند سوالات بھی بتا چکا جن کا جواب قرآن و حدیث سے دینا آپ پر قرض ہے۔ پہلے آپ یہ ثابت کریں کہ قرآن و حدیث میں عربی زبان کا ہر مستعمل لفظ موجود ہے۔ اس کے بعد آپ ہم سے یہ سوال کرنے کے حقدار ہیں کہ تقلید کا لفظ قرآن میں دکھائو۔

بہرحال کچھ تحقیق لکھتا ہوں۔ قرآن و حدیث میں لفظ اتباع موجود ہے اور تقلید کا بھی یہی مطلب ہوتا ہے۔ ملاحظہ ہوں عربی لغت کی کتب مثلا

المعجم  الوجیز ط ایران ص ۵۱۲ پر لکھا ہے:

( قَلَّدَ       ہ )  القِلادۃ:  جعلھا فی عنقہ۔۔۔۔ الفقیہ:  اتَّبَعہ        فیما             یقول او یفعل۔۔۔۔ (التقالید)    العادات المتوارثۃ التی یقلد فیھا الخلف و السلف۔ مفردھا: تقلید

اسی سے ملتا جلتا عربی اردو لغت میں ملتا ہے مثلامختار الصحاح للاما م محمد بن ابی بکربن عبدالقادر الرازی اس کا اردو ترجمہ کیا ہے پروفیسر عبدالرزاق صاحب فارغ التحصیل جامعۃ الریاض سعودی عرب نے۔ ط دارالاشاعت کراچی۔اس کے صفحہ ۷۵۸ پر لکھا ہے

ق ل  د ۔ القلادۃ: ہار۔ جو گلے میں پہنا جاتا ہے۔  قَلَدَّ ہُ، فَتَقَلَّد: اس نے اسے ہار پہنایا تو اس نے پہن لیا۔ اسی سے لفظ     تَقلِید مشتق ہے۔ یعنی التقلید فی الدین : دین میں کسی شخص کی پیروی۔

القاموس  الجدید (عربی اردو لغت) مولفہ مولانا وحید الزماں قاسمی کیرانوی (دیو بندی) ص ۷۶۰

قَلَّدَ: گلے   میں ہار ڈالنا، نقل کرنا، تقلید کرنا، اتباع کرنا، کاپی بنانا۔۔۔۔ تَقَلَّدَبِفُلَان: نقش قدم پر چلنا،  قلادہ   : ہار ج: قلائد،      تَقلِید: رسم، روایت ،ج: تَقَالِید

جس نے نہ ماننے کا عہد کیا ہو ، وہ تو مانے گا ہی نہیں۔ اور جس نے ماننا ہو وہ ایک آدھ حوالہ بھی مان جائے گا۔ میرا آپ سے سوال ہے کہ بیت المقدس کا قبلہ ہونا آپ کے نزدیک منسوخ ہے یا نہیں؟ متعہ آپ کے نزدیک منسوخ ہے یا نہیں؟ کیا حدیث الوضو   مما مست النار کے مطابق آپ روٹی کھانے، چائے پینے کے بعد وضو ٹوٹنے کے قائل ہیں یا اس حدیث کو منسوخ جانتے ہیں؟ اگر یہ منسوخ ہیں تو لفظ ’’منسوخ‘‘ قرآن و حدیث میں دکھائیں۔

حدیث میں تقلید کا لفظ موجود ہے:۔

ملاحظہ ہو مشکوۃ          ، باب مناقب الصحابۃرضی اللہ عنہم اجمعین، الفصل الثالث، (حدیث )

و قال            رسول اللہ ﷺ اصحابی کالنجوم فبایھم اقتدیتم   اھتدیتم ( میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں، ان میں سے تم جس کی بھی تقلید(پیروی) کرو  گے فلاح پائو گے ۵؍۶۴۹ مظاہر حق)

اگر آپ کسی غیر مقلد عالم کے پاس جائیں گے تو وہ کہے گا کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔مجھے ذاتی طور پر اس حدیث کی تحقیق نہیں ہے کہ یہ ضعیف ہے یا نہیں، لیکن غیر مقلدین کا شیوہ ہے کہ جو حدیث ان کے خلاف ہو اسے ضعیف کہ دیتے ہیں ، لہذا  دو باتیں یاد رکھیں

(۱)

اس بارے میں اہلحدیثوں کا نعرہ یاد رکھیں کہ

اہلحدیث   کے دو    اصول

فرمانِ خدا اور فرمانِ رسول

لہٰذا لازم ہے کہ ہر بات پر یہ حضرات صحیح صریح،غیر معارض حدیث یا قرآن کی صریح آیت پیش کریں۔ اگر یہ کسی انسان کا قول پیش کریں کہ فلاں محدث نے کہا ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے تو یہ بھی تو اس آدمی کی تقلید ہے کہ اس کا قول بغیر کسی آیت یا حدیث کے مان لیا۔االلہ یا اس کے رسول ﷺ نے تو کسی حدیث کو ضعیف نہیں کہا۔ اب کسی کے کہنے سے آپ اس حدیث کو ضعیف کہیں تو یہ انصاف نہیں ہے۔ بلکہ یہ بھی تقلید ہی ہے۔ اگر تقلید ہی کرنی ہے تو پھر اتنا شور مچانے کی کیا ضرورت ہے کہ تقلید شرک ہے۔

(۲)

جو غیر مقلد صاحب آپ کو ورغلائیں کہ یہ حدیث ضعیف ہے ان سے عرض کریں کہ ضعیف حدیث غیر مقلدین کے نزدیک حجت ہے، (اسی لئے تو ان کو اہلحدیث کہا جاتا ہوگا)۔

ملاحظہ ہو فتاوی ستاریہ ج ۴ ص ۳۷، مولانا حافظ عبدالستار صاحب سلفی، امام جماعت غربا   اہلحدیث فرماتے ہیں

ضعیف حدیث بھی قابل عمل ہوتی ہے۔

؂

زباں جل جائے گر میں نے کچھ کہا ہو

تمہاری تیغ کے چھینٹے تمہارا نام لیتے ہیں

دوسری حدیث:

انی   لا ادری ما بقایٔ فیکم فاقتد و     ابالذین   من بعدی ابی بکر وعمر۔ (ترمذی ۲/ ۲۰۷ مناقب ابی بکر الصدیق

مجھے نہیں معلوم کہ کب تک تمہارے درمیان زندہ رہوں گا ٗ  لہٰذا میرے بعد حضرت ابوبکر و عمر کی اقتدا (تقلید)کرنا۔

یہی تو تقلید شخصی ہے کہ کسی خاص شخص کے علم وتقویٰ پر اعتماد کرتے ہوئے اس کی پیروی کی جائے ٗ گویا اس حدیث میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آپ  ﷺ کے بعد جو لوگ خود اجتہاد کی صلاحیت نہیں رکھتے ٗ اگر وہ حضرت ابوبکر ؓ و حضرت عمرؓ کی تقلید شخصی کر لیں تو یہ کافی ہے۔ ( اسی لئے ہم حضرت عمر ؓ کی تقلید میں ۲۰ تراویح پڑھتے ہیں)۔مذید دلائل تقلید کے بیان میں ملاحظہ فرمائیں۔

دوسری بات کہ کیا قرآن و حدیث میں تقلید کا حکم آیا ہے؟ اس کا جواب ہے کہ جی ہاں آیا ہے۔  تقلید کے موضوع پر قرآن و حدیث کے دلائل ویب سایٹ پرذکرکردیئے ھیں ، وہ پڑھ لیں۔نیز یہ بھی درج ہے کہ اہلحدیث خود تقلید کرتے ہیں۔ اور مشہور محدثین مثلا بخاری مسلم وغیرہ بھی تقلید کرتے تھے۔

تقلید شخصی اور اس کی شرعی حیثیت

ائمہ اربعہ میں سے کسی ایک امام کے طریقہ پر احکامِ شرعیہ بجا لاناتقلیدِ شخصی کہلاتاہے، مثلاً امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ یا امام مالک رحمۃ اللہ علیہ یا امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ یا امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ میں سے کسی کے طریقے پر عمل کرنا۔
تقلید شخصی کی شرعی حیثیت میں حضرت شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
أنَّ الاُمَّةَ قَدْ اجْتَمَعَتْ عَلَی اَنْ يَعْتَمِدُوْا عَلَی السَلَفِ فِيْ مَعْرَفَةِ الشَرِيْعَةِ، فَالتَّابِعُوْنَ اعْتَمَدُوْا فِيْ ذَلِکَ عَلَی الصَحَابَةِ، وَ تَبْعُ التَابِعِيْنَ اعْتَمَدُوْا عَلَی التَّابِعِيْنَ، وَ هَکَذَا فِيْ کُلِّ طَبَقَةٍ إعْتَمَدَ العُلَمَاءُ عَلَی مِنْ قَبْلِهِمْ.
’’امت نے اجماع کر لیا ہے کہ شریعت کی معرفت میں سلف صالحین پر اعتماد کیا جائے۔ تابعین نے اس معاملہ میں صحابہ کرام پر اعتماد کیا اور تبع تابعین نے تابعین پر اعتماد کیا۔ اسی طرح ہر طبقہ میں علماء نے اپنے پہلے آنے والوں پر اعتماد کیا۔‘‘
شاه ولی اﷲ، عقد الجيد، 1 : 31
اسی طرح تقلید شخصی کو لازم کرنے کی ایک واضح نظیر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عہد میں جمعِ قرآن کا واقعہ ہے، جب انہوں نے قرآنِ حکیم کا ایک رسم الخط متعین کر دیا تھا۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے پہلے قرآنِ حکیم کو کسی بھی رسم الخط کے مطابق لکھا جا سکتا تھا کیونکہ مختلف نسخوں میں سورتوں کی ترتیب بھی مختلف تھی اور اس ترتیب کے مطابق قرآنِ حکیم لکھنا جائز تھا لیکن حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے امت کی اجتماعی مصلحت کے پیشِ نظر اس اجازت کو ختم فرما کر قرآن کریم کے ایک رسم الخط اور ایک ترتِیب کو متعین کر کے امت کو اس پر متفق و متحد کر دیا اور امت میں اسی کی اتباع پر اجماع ہوگیا۔
 بخاری، الصحيح، کتاب فضائل القرآن، باب جمع القرآن، 4 : 1908، رقم : 4702

تقلید کیا ہے اور عام آدمی کےلیے تقلید کیوں ضروری ہے ؟

تقلید کیا ہے اور عام آدمی کےلیے تقلید کیوں ضروری ہے ؟
محترم قارئینِ کرام : تقلید کا مادہ "قلادہ" ہے ، باب تفعیل سے "قلدقلادۃ" کے معنیٰ ہار پہننے کے ہیں ؛ چنانچہ خود حدیث میں بھی "قلادہ" کا لفظ "ہار" کے معنیٰ میں استعمال ہوا ہے ، ام لمومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے : اسْتَعَارَتْ مِنْ أَسْمَاءَ قِلَادَةً ۔ (صحیح بخاری كِتَاب النِّكَاحِ بَاب اسْتِعَارَةِ الثِّيَابِ لِلْعَرُوسِ وَغَيْرِهَا حدیث نمبر ۴۷۶۶)
ترجمہ : انہوں نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے ہار عاریۃً لیا تھا ۔

اصولین کے نزدیک تقلید کے اصطلاحی معنیٰ دلیل کا مطالبہ کیے بغیر کسی امام مجتہد کی بات مان لینے اور اس پرعمل کے ہیں، قاضی محمد علی لکھتے ہیں : التقلید اتباع الانسان غیرہ فیما یقول اویفعل معتقدا للحقیقۃ من غیرنظرالی الدلیل ۔ (کشف اصطلاحات الفنون صفحہ ۱۱۷۸)
ترجمہ : تقلید کے معنیٰ یہ ہے کہ کوئی آدمی کسی دوسرے کی قول و فعل میں دلیل طلب کیے بغیر اس کوحق سمجھتے ہوئے اتباع کرے ۔

صاحب مسلم الثبوت نے اس کو مزید وضاحت کے ساتھ لکھا ہے : التقليد العمل بقول الغير من غير حجة كأخذ العامي والمجتهد من مثله فالرجوع إلى النبي عليه الصلاة والسلام أوإلى الاجماع ليس منه وكذا العامي إلى المفتي والقاضي إلى العدول لايجاف النص ذلك عليهما لكن العرف على أن العامي مقلد للمجتهد قال الإمام وعليه معظم الاصوليين ۔ (فواتح الرحموت علی المستصفی جلد ۲ صفحہ ۴۰۰)
ترجمہ : کسی غیر کے قول پر بغیر حجت کے عمل کرنے کا نام تقلید ہے ، جیسے عامی اور مجتہد کا اپنے جیسے کے قول کوقبول کرلینا؛ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اجماع کی طرف رجوع کرنا تقلید نہیں ہے اور اسی طرح عامی کا مفتی اور قاضی کا عادل عوام کی طرف رجوع کرنا بھی تقلید نہیں ہے ، کیونکہ نص ان پر ایسا کرنا واجب قرار دیتی ہے ، مگر عرف اسی پر ہے کہ عامی مجتہد کا مقلد ہوتا ہے ، امام الحرمین فرماتے ہیں کہ اکثر علماء اصول کا یہی مذہب ہے ۔

اس عبارت سے واضح ہوتا ہے کہ اصطلاحی طور پر تقلید کا مطلب یہ ہے کہ جس کا قول حجتِ شرعیہ نہیں ہےاس کے قول کومان لیاجائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قول حجتِ شرعیہ ہے ، اجماعِ امت بھی ایک مستقل حجت ہے ، اسی طرح قاضی کا گواہوں کی طرف رجوع کرنا بھی تقلید نہیں ہے کیونکہ نصِ قرآنی "يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ" ۔ (المائدۃ:۹۵) ، کے تحت قاضی عادل گواہوں کی گواہی پرفیصلہ کرنے  کا پابند ہے ۔

تقلید کی قسمیں : ⏬

تقلید کی دوقسمیں ہیں : (۱) تقلیدِ مطلق ۔ (۲) تقلیدِ شخصی ۔

تقلید مطلق سے مراد یہ ہے کہ مسائل و احکام کی تحقیق میں انسان کسی ایک فقیہ کا پابند ہو کر نہ رہ جائے ، بلکہ مختلف مسائل میں مختلف اصحاب علم سے فائدہ اٹھائے ، یہ تقلید ہرزمانہ میں ہوتی رہی ہے ، خود قرآن اس تقلید کا حکم دیتا ہے ارشادِ خداوندی ہے : يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ ۔ (سورہ النساء آیت نمبر ۵۹)
ترجمہ : اے ایمان والو ! اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کرو اور تم میں جوصاحب امر ہیں ان کی اطاعت کرو ۔

اس آیتِ کریمہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد "أُولِي الْأَمْرِ" کی اتباع کا حکم فرمایا گیا ہے "أُولِي الْأَمْرِ" سے کون لوگ مراد ہیں ، اگرچہ اس میں علماء کی رائیں مختلف ہیں ، لیکن اکثر مفسرین اس سے فقہاء اور علماء مراد لیتے ہیں ، حاکم نے حضرت عبداللہ ابن جابر رضی اللہ عنہما کا قول نقل کیا ہے : أُولِي الْأَمْرِ، قال الفقہ والخیر ۔ (مستدرک جلد ۱ صفحہ ۱۲۳،چشتی)
ترجمہ : "أُولِي الْأَمْرِ" سے مراد اصحابِ فقہ وخیر ہیں ۔

ترجمان القرآن میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بھی یہی تفسیر نقل کی گئی ہے : أُولِي الْأَمْرِ، یعنی اھل الفقہ والدین ۔ (مستدرک جلد ۱ صفحہ ۱۲۳)
ترجمہ : "أُولِي الْأَمْرِ" سے اصحاب فقہ اور اہلِ دین مراد ہیں ۔

تابعین میں ، جیسے عطاء ، حسن بصری علیہما الرحمہ سے بھی "أُولِي الْأَمْرِ" کے معنی اہلِ علم اور اصحاب فقہ کے منقول ہیں ، آیتِ مذکورہ کے علاوہ قرآن پاک کی بعض اور آیات (النساء ، التوبۃ) میں بھی اس کی طرف اشارہ موجود ہے ، احادیث تو اس پر کثرت سے شاہد ہیں اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کا طرزِ عمل بھی تقلید مطلق کی تائید میں ہے ۔

تقلیدِ شخصی : ⏬

تقلید کی دوسری قسم تقلید شخصی ہے ، یعنی کسی ناواقف کے کسی متعین شخص کے علم و کمال پر بھروسہ کرکے اسی کے بتائے ہوئے طریقہ کار پر عمل کرنے کو تقلید شخصی کہتے ہیں ، مشہور حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کا حاکم بناکر بھیجا تاکہ وہ لوگوں کودین کے مسائل بتائیں اور فیصلہ کریں : عَنْ مُعَاذٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ كَيْفَ تَقْضِي فَقَالَ أَقْضِي بِمَا فِي كِتَابِ اللَّهِ قَالَ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللَّهِ قَالَ فَبِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَجْتَهِدُ رَأْيِي ۔ (سنن ترمذی كِتَاب الْأَحْكَامِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَاب مَاجَاءَ فِي الْقَاضِي كَيْفَ يَقْضِي، حدیث نمبر: ۱۲۴۹،چشتی)
ترجمہ : حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کا گورنر بنا کر بھیجا تو ان سے پوچھا کہ لوگوں کے مسائل کوحل کیسے کرو گے ؟ انہوں نے کہا ، قرآن سے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا اگرقرآن میں نہ ملے تو انہوں نے کہا : سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر پوچھا : اگرسنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نہ ملے تو ، کیسے فیصلہ کرو گے ؟ توانہوں نے کہا کہ میں اپنی رائے سے اجتہاد کرونگا ۔

یہ حدیث اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اگر مجتہد کوئی مسئلہ کتاب و سنت میں نہ پائے تو اجتہاد کر سکتا ہے اور لوگوں کےلیے اس کی اتباع و تقلید ضروری ہوگی ، پس گویا اہلِ یمن کوحضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی شخصی تقلید کا حکم دیا گیا ۔

ایک اور موقع پر ارشاد فرمایا : اقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ۔ (سنن ترمذی كِتَاب الْمَنَاقِبِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَاب فِي مَنَاقِبِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كِلَيْهِمَا حدیث نمبر ۳۵۹۵،چشتی)
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ دین کے معاملہ میں میرے بعد تم لوگ حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی اقتداء کرو ۔

اس حدیث پاک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نامزد کر کے لوگوں کوحضرت ابوبکر و حضرت عمر رضی اللہ عنہما کی اتباع و تقلید کا حکم فرمایا ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عہد میں گو تقلید شخصی اس درجہ مروج نہیں تھی ، جیسی آج ہے ، لیکن اس کے باوجود لوگ بعض مواقع پر کسی ایک ہی صحابی کے قول پرعمل کرتے تھے اور انہیں کی اتباع و تقلید کو پسند کرتے تھے ۔ چنانچہ اہلِ مدینہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے قول کو ترجیح دیتے تھے ، اہلِ مکہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول کو زیادہ قوی مانتے تھے ، تقلید شخصی کی ایک اور واضح مثال یہ ہے کہ تراویح کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چند ہی دن باجماعت ادا فرمائی تھی اور کتنی رکعت ادا فرمائی تھی ، پھر نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زندگی میں باجماعت ادا کی اور نہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ادا کی گئی ، ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ رمضان کے مہینہ میں مسجد میں تشریف لے گئے تو دیکھا کہ لوگ تنہا تنہا تراویح کی نماز ادا کر رہے ہیں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تمام صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کو ایک امام کے پیچھے جمع کر دیا ، لوگوں نے بلاچون و چرا اس کو مان لیا اور حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھنے لگے ۔

اب تقلیدِ مطلق کافی نہیں : ⏬

موجودہ دور میں اگر تقلیدِ مطلق کی اجازت دے دی جائے تو دین محض کھلونا بن کر رہ جائے گا اور اسلام کی شکل مسخ ہو کر رہ جائے گی ، اس لیے کہ ہر مجتہد کے یہاں نادر اور شاذ اقوال موجود ہیں جو خواہشاتِ نفس کےلیے مہمیز ہیں ، لوگ سہولت کےلیے اسی کو تلاش کرتے پھریں گے ، اس سے تحفظ کا واحد نسخہ تقلید شخصی ہے اور مصلحتِ دین کےلیے اس طرح کا لزوم کوئی نئی بات نہیں ، اس کی ایک واضح مثال یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قرآن لغتِ قریش پر اترا تھا ، کچھ دنوں کے بعد جب دوسرے قبیلے کے لوگ مسلمان ہونے لگے توصرف لغتِ قریش میں لوگوں کو دقت ہونے لگی ، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کی سہولت کےلیے اللہ سے دعا فرمائی ، اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو قبول فرمایا اور قرآن کو سات لغات پر نازل کیا گیا اِرشاد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے : إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ ۔ (سنن ترمذی، كِتَاب الْقِرَاءَاتِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَاب مَاجَاءَ أَنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ حدیث نمبر ۲۸۶۷،چشتی)
ترجمہ : بلاشبہ یہ قرآن سات لغتوں پرنازل کیا گیا ہے ۔

لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد عہد صحابہ رضی اللہ عنہم میں جب عجم کی فتوحات ہوئیں اور قرآنِ کریم عجم میں آیا تو لغات کا تعدد جو آسانی کےلیے تھا وجہ اختلاف بن گیا، تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے لغاتِ سبعہ کی بجائے صرف لغتِ قریش پر قرآن مجید کو جمع کرایا اور دوسری تمام لغات کو ممنوع قرار دیدیا ، نیز حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے اس فعل کو عام طور پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے قبول کیا؛ ، یہی نوعیت آج تقلید مطلق اور تقلید شخصی کی ہے ، خیرالقرون میں خواہشات اور ہوا کا غلبہ نہیں تھا اس لیے اس زمانہ میں تقلید مطلق اور شخصی دونوں میں اختیار تھا ، جس کو چاہے اختیار کرے ؛، لیکن بعد کے حالات ایسے نہیں رہے اس لیے اس کے سوا چارہ نہیں رہا کہ تقلیدشخصی کوضروری قرار دیا جائے ۔  (صحیح بخاری جلد ۲ صفحہ ۷۴۶)

حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : وبعد المأتین ظہر فیہم التمذہب للمجتھدین باعیانہم وقل من کان لایعتمد علی مذہب مجتہد بعینہ وکان ھذا ھوالواجب فی ذالک الزمان ۔ (الانصاف صفحہ ۵۹)
ترجمہ : اور دوسری صدی کے بعد لوگوں میں متعین مجتہدین کا مذہب اختیار کرنا شروع ہوا اور ایسے لوگ بہت کم تھے جو متعین مجتہد کے مذہب پر اعتماد نہ کرتے ہوں اور اس زمانہ میں یہ واجب تھا ۔

اور یہ تقلید شخصی بھی اب ائمہ اربعہ علیہم الرحمہ کی تقلید میں منحصر ہے ، حضرت شاہ ولی اللہ علیہ الرحمہ نے ائمہ اربعہ علیہم الرحمہ کی اتباع کو سوادِ اعظم کی اتباع قرار دیا ہے : ولما اندرست المذاهب الحقة إلاهذه الأربعة كان اتباعها اتباعا للسواد الأعظم والخروج عنها خروجا عن السواد الأعظم ۔ (عقدالجید صفحہ ۳۸،چشتی)
ترجمہ : جب صرف چار مذاہب کے علاوہ دوسرے تمام مذاہب مٹ گئے تو ان مذاہبِ اربعہ کی اتباع کرنا سوادِ اعظم کی اتباع ہے اور ان مذاہب سے نکل جانا سوادِ اعظم سے نکل جانا ہے ۔

امام ابن ہمام نے ائمہ اربعہ علیہم الرحمہ کے علاوہ دوسرے فقہاء کے مذہب پرعمل نہ کرنے پراجماع نقل کیا ہے : انعقد الاجماع علی عدم العمل بالمذاہب ۔ (عقد الجید صحہ ۳۸)
ترجمہ : ائمہ اربعہ علیہم الرحمہ کے علاوہ دوسرے تمام مخالف مذاہب پر عمل نہ کرنے پر اجماع منعقد ہو چکا ہے ۔

امان ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے : امافی زماننا فقال ائمتنا لایجوز تقلید غیرالائمۃ الاربع الشافعی ومالک وابی حنیفۃ واحمد بن حنبل ۔
ترجمہ : رہی ہمارے زمانے کی بات تو ہمارے ائمہ حضرات علیہم الرحمہ نے فرمایا کہ ائمہ اربعہ علیہم الرحمہ کے علاوہ کسی دوسرے کی تقلید کرنا جائز نہیں ہے ، امام شافعی ، امام مالک ، امام ابوحنیفہ اور امام احمد بن حنبل علیہم الرحمہ ۔ شرح مسلم الثبوت میں لکھا ہے کہ ابنِ صلاح کی رائے بھی یہی ہے کہ ائمہ اربعہ علیہم الرحمہ کے علاوہ کسی دوسرے کی تقلید جائز نہیں ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

ایمانِ ابوطالب کے بارے میں مسلمانانِ اہلسنت کے اکابرین کے خلاف بکواس کرنے والوں کو انہی کے گھر سے جواب

ایمانِ ابوطالب کے بارے میں مسلمانانِ اہلسنت کے اکابرین کے خلاف بکواس کرنے والوں کو انہی کے گھر سے جواب محترم قارئینِ کرام : شیعہ مفسر قمی لک...