Wednesday, 2 October 2019

امام احمد رضا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک عظیم عاشق رسول صلی الله علیہ وسلم

امام احمد رضا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک عظیم عاشق رسول صلی الله علیہ وسلم

امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ 1310 ہجری چودھویں صدی ہجری کی وہ مقتدر ، بلند پایہ اور یگانہ روزگار شخصیت ہیں جس کے فکر و فن ،علم و حکمت اور عشق و محبت کے پر شوق تذکروں سے عرب و عجم کا چپہ چپہ آج بہی گونج رہا ہے مختصر سی مدت میں تن تنہاں آپ نے جو کارہائے گراں مایہ انجام دئیے ہیں اس کی حیرت انگیز روداد سے اہل علم و خرد کا ایک عالم محو حیرت ہے ان کے پر شوکت سرمائہ قرطاس و قلم اور عشق پرور تحقیقات و ایجادات کی بلندیوں کے روبرو مشرق و مغرب کے کسی معاصر محقق کو کھڑا کرنا تو دور کی بات ہے ، صدیوں کے دامن پر پھیلی ہوئی منظم اور ہنگامہ خیز تحریکوں کے نتائج بھی ان کے ہم پلہ اور ہم نظر نھیں آتے ۔ آپ کی تحریک و عمل اور تجدید و اصلاح کا مرکزی نقطئہ نظر اور بنیادی نصب العین عظمت توحید اور ناموس رسالت کا تحفظ تھا ۔ اسی کے گرد آپ کا پورا کاروان فکر و عمل دائر نظر آتاہے۔ آپ کی حیات کا ایک ایک کردار اور ستر علوم وفنون پر ایک ھزار سے زائد تصانیف جس کے زندہ شواھد اور منھ بولتے حقائق ہیں ۔ نظر تقدیس الوھیت اور عظمت رسالت سے آشنا اور دل محبت الہی اور عشق رسول میں سرشار تھا ۔ سنئے آپ خود فرماتے ہیں : بحمد اللہ اگر میرے قلب کے دوٹکڑے کئے جائیں تو خدا کی قسم ایک پر لاالہ الا اللہ اور دوسرے پر محمد رسول اللہ ہوگا ۔ (الملفوظ جلد دوم صفہ ۱۶۷)

ایک فاضل جامعہ ازہر مصر آپ کی پوری زندگی کی تصویر کشی اس طرح کرتے ہیں : آپ کی زندگی کا لمحہ لمحہ ذکر خدا اور یاد مصطفی علیہ اجمل التحیة و الثناء سے معمور ہے پھیلا تو کائنات کی پنہائیوں کو سرشار کرتا گیا اور جب سمٹا تو عشق مصطفی بن کر رہ گیا ، یہی آپ کا ایمان تھا کہ جب حبیب کبریا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم جان ایمان اور روح دین ہیں ۔ اسی کے پر چار میں آپ نے اپنی ساری عمر صرف کردی ، اسی لئے اپنی ساری صلاحیتیں اور قابلیتیں وقف کردیں ۔ (پیر کرم شاہ ازھری رحمۃ اللہ علیہ ، مقالات یوم رضا حصہ دوم صفحہ ۲۲)

اس عاشق پرسوز کے عشق کا عالم یہ ہے کہ وہ اپنے جانثاروں وفا داروں کے قدموں کے نیچے دل کا فرش بچھا کر بھی اہتمام شوق کی تشنگی محسوس کرتا ہے ۔ اور محبوب کے غداروں کو اپنی محفل میں جگہ دینا تو بہت بڑی بات ہے نظر اٹھا کر دیکھنا بہی اپنے عشق کی توہین سمجھتاہے۔ اس تقاضئے عشق پر خود بھی عمل کیا اور زندگی بھر دوسروں کو بھی درس دیتا رہا ۔ مگر جب وصل حبیب کی گھڑیا ں قریب آئیں تو اس کا سوز و ساز اور بھی پر جوش ہوگیا تھا ، ان کی آخری مجلس وعظ و وصیت کا یہ تیور ملاحظہ کیجئے فرماتے ہیں : " جس سے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی شان میں ادنی توہین پاؤ پھر وہ تمہارا کیسا ہی پیارا کیوں نہ ہو ، اس سے جدا ہوجاؤ ، جس کی بارگاہ رسالت میں ذرا بھی گستاخی دیکھو پھر وہ تمہارا کیسا ہی بزرگ ، معظم کیوں نہ ہو اپنے اندر سے اسے دودھ سے مکھی کی طرح نکال کر پھینک دو ۔ (وصایا شریف از امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ،چشتی)

کہتے ہیں کہ عاشق کا عشق دلیل کا محتاج نہیں ہوتا ، دلیل البتہ نگاہ عشق کی محتاج ہوتی ہے نامحرم کے لئے تو قرآن جیسی کتاب بھی ایک سادہ ورق ہے ، اور نگاہ غیر کا انتظار کئے بغیر حق آشنا دل اور حقیقت پسندانہ نگاہیں لے کر فصیل عشق پر آئیے اور حریم عشق میں ایک مثالی عاشق کی صائے پر سوز پر کان لگائے ۔

جان ہے عشق مصطفی روز فزوں کرے خدا
جسکو ہو درد کا مزا ناز دوا اٹھائے کیوں

غیرت عشق تو ملاحظہ کیجئے یہ بھی گوارا نہیں کہ درد عشق منت کش دوا ہو ، بلکہ اس درد عشق میں وہ لذت قلب و جگر حاصل ہوئی کہ روز افزوں ہونے کی دعائیں مانگی جارہی ہیں۔ وہ عشق سرکار میں ایسا گم ہونا چاہتے ہیں کہ خبر کو بھی انکی حبر نہ ہو۔

ایسا گمادے ان کی ولا میں خدا ہمیں
ڈھونڈا کرے پر اپنی خبر کو حبر نہ ہو

فراق حبیب میں سلگتے ہوئے دل سے ان کے مزاج عشق کی برہمی ملاحظہ کیجئے۔

اے دل یہ سلگنا کیا جلناہے تو جل بھی اٹھ
دم گھٹنے لگا ظالم کیوں دھونی رمائی ہے

عشق رسالت میں جب ان کی وارفتگئی شوق کا اضطراب بڑھا تو ان کے سوز دروں اور آہ گرم سے ایسا دھواں اٹھا ، جس میں حرارت عشق سے بوئے کباب آنے لگی۔

تونے تو کردیا طبیب آتش سینہ کا علاج
آج کے درد آہ میں بوئے کباب آئی کیوں

آپ کی نگاہ عشق و مستی میں صرف اسی کی قدر و قیمت ہے جو یاد سرکار سے معمور اور حب حبیب سے لبریز ہو اور وہی سر لائق صد افتخار ہے جو ان کے قدموں پہ قربان ہونے کے لئے بے چین و مضطرب ہو ۔

دل ہے وہ دل جو تری یاد سے معمور رہا
سر ہے وہ سر جو تیرے قدموں پہ قربان گیا

آپ کے عشق نے رہگزر حیات کو تو روشن و منور کیا ہی تھا ۔ نبض حیات ڈوبنے کے بعد قبر کی تاریکی میں بھی شمع فروزاں کا کام کیا ۔

لحد میں عشق رخ شہ کا داغ لے کے چلے
اندھیری رات سنی تھی چراغ لے کے چلے

ان کے دل دیوانہ کی آخری آرزو کا نقطئہ عروج دیکھئے کونین کی ساری عظمتیں قربان کرنے کو جی چاہتا ہے۔

یا الہی جب رضا خواب گراں سے سر اٹھائے
دولت بیدار عشق مصطفی کا ساتھ ہو

امام احمد رضا کے عشق کی داستان جتنی طویل ہے اتنی ہی پر شوق اور ایمان افروز بھی ، چمن زار رضا میں جس طرف بھی رخ کیا جاتا ہے دیدہ و دل خیرہ ہوتے چلے جاتے ہیں ۔ آپ نے زندگی بھر ناموس رسالت کی حرمتوں کے تحفظ کے ساتھ ساتھ کردار عمل اور زبان و قلم سے عشق رسالت کا جو درس دیا ہے اس کی اتھاہ گھرائیوں اور بے پناہ وسعتوں کو دیکھ کر ایک عالم آج بھی انگشت بدنداں ہے۔ نعت کے اشعار ملاحظہ فرما لینے کے بعد عشق رسالت کے سوز و ساز میں ڈوبا ہوا ایک نثری شہ پارہ بھی دیکھئے ۔ جو وفاداروں کے لئے مژدہ جانفزا ہے اور غداروں کے لئے تازیانئہ عبرت ، فرماتے ہیں ۔
اے عزیز ایمان رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے مر بوط ہے ۔اور آ تش جاں اور سوز جہنم سے نجات انکی الفت پر منوط جو ان سے محبت نہیں رکھتاواللہ کہ ایمان کی بو اسکی مشام تک نہ آ ئی وہ خو د فر ماتے ہیں

لایو منو احد کم حتی اکو ن احب الیہ من والدہ وولدہ والناس اجمعین ۔

ترجمہ تم میں سے کسی کو ایمان حاصل نہیں ہو تا جب تک کہ میں اسکے ماں باپ اولاد اور سب آدمیوں سے پیارا نہ ہو جاؤں

مزید فر ماتے ہیں اے عزیز چشم خرد میں سرمئہ انصاف لگاکر اور گوش قبو ل سے پنبہ انکار نکال کر پھر تمام اہل اسلامیہ بلکہ ہر مذہب و ملت کے عقلاءسے پو چھتاپھر کہ عشاق کا اپنے محبوب کے ساتھ کیا طریقہ ہو تا ہے اور غلاموں کو مولی کے ساتھ کیا کر نا چا ہئے آیات کثیر فضائل وتکثیر مدائح اور انکی خو بی حسن سن کر باغ باغ ہونا جامے میں پھو لا نہ سمانا ۔رد محا سن نفئ کمالات اور ان کے اوصاف حمیدہ سے بانکاوتکذیب پیش آنااگرایک عاقل منصف بہی تجھ سے کہدےنہ وہ دوستی کا مقتضینہ یہ غلامی کے خلاف ہے تو تجھے اختیار ہے ورنہ خداورسول سے شر ما اور حر کت بے جاسے باز آ یقین ؛جان لے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خو بیاں تیرے مٹانے نہ مٹے گی دیار حبیب نگاہ عشق میں ایک سچے عاشق کے نگاہ میں محبوب کے کاکل درخت اور تن و پیرہن تو عزیز ہو تے ہی ہیں دیار حبیب کے بام و کوچہ وبازار بھی حسین حسین تر اور تسکین دل و جان کا سبب ہو تے ہیں مدینہ طیبہ کو دیار حبیب ہونے کی حیثیت سے کائنات عشق کی مرکزیت حا صل ہے عرش بریں کے نورانی قافلے ہوں یا فرش گیتی کے کار وان شوق سب کا رخ ارض طیبہ ہی کی طرف ہے عاشق کہیں بھی رہے دلوں کی دھڑ کن سے خاک طیبہ کا رشتہ نہیں ٹو ٹتا سلطان عشق امام احمد رضا کی نگاہ میں جلوہ گاہ حبیب پر کونین کی عظمتیں قر بان ہیں ۔خاک طیبہ کے زروں پر کہکشاں جمال بھی شر مندہ ہے اور اسکے صحراپر جنت کی بہاریں بھی نثار ہیں عشق سر مستی میں ڈوبے ہوئے یہوجد آفریں جزبات ملاحظہ ہوں فر ماتے ہیں :

جب سے آنکھوں میں سمائی ہے مدینہ کی بہار
نظر آتے ہیں خزاں دیدئہ گلستاں ہم کو
جس خاک پہ رکھتے قدم سید عالم
اس خاک پہ قربان دل شیداں ہے ہمارا

آتش گلہائے طیبہ پر جلانے کے لئے
جان کے طالب ہیں پیارے بلبلان سو ختہ
اے خار طیبہ دیکھ کہ دامن نہ بھیگ جائے
یوں دل میں آکہ دید ہ تر کو خبر نہ ہو

شفا شریف میں ہے : کان مالک رضی اللہ تعا لی عنہ لایر کب دابة بالمدینة وکان یقو ل استحی من اللہ تعالی ان اتا تربة فیہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بحافردابة امام مالک رضی اللہ تعالی عنہ مدینہ طیبہ میں سواری پر سوار نہ ہو تے اور فر ما تے مجھے شرم آتی ہے خدا تعالی سے کہ جس زمین میں حضو ر صلی اللہ تعالی علیہ وسلم جلوہ فرماہوں اسے جانور کے سم سے روندوں امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کے عشق و ادب کی سرفرازیوں کا آنداز بہی نرالا ہے وہ حرم محترم اور کو چہ حبیب مین پیدل پاؤں چلنا بھی پسند نہیں کر تے بلکہ چشم و سر کے بل چلنے کی آرزو مند نظر آتے ہیں اور فر ماتے ہیں کہ :

حرم کی زمیں اور قدم رکھ کے چلنا
ارے سر کا مو قعہ ہے او جانے و الے
ہاں ہاں راہ مدینہ ہے غا فل ذرا تو جاگ
او پاؤ ں رکھنے والے یہ جا چشم و سر کی ہ
واروں قدم قدم پہ کہ ہر دم ہے
جان لو یہ راہ جاں فزا میرے مولی کیے در کی ہے

آپ کے عشق ادب اور خاک طیبہ سے شیفتگی کا عالم کتنا کیف پر ور اور حیرت انگیز تھا کہ دیار حبیب سے انے والے ہر مومن اور محیب کے قدم چوم لیتےتھے چا ہے وہ ان سے عمر میں چھو ٹا اور علم میں فرو تر ہی کیوں نہ ہو مگر اسکے باوجود رشک و حسرت سے نڈھال ہو کر فر ما تے ہیں قیس کو عشق مجاز تہا تو مجنو بن کر صحرائے نجد کی خاک چھا ئی اور سگ دیار لیلی کے قدم چو مے اے رضا کیا ایسا مقدر اور بلندی نصیب تیرا بھی ہے ۔

رضا کسی سگ طیبہ کے پاؤں بھی چومے
تم اور آہ کہ اتنا دماغ لے کے چلے
تیرے قد موں میں جو ہیں غیر کا منہ کیا دیکھں
کون نظروں میں جنچے دیکھ کے تلوا تیرا
اس گلی کا گدا ہو ں میں جس میں
مانگتے تاجدا ر پھر تے ہیں

مکہ مدینہ اور مذ ہب عشق

ار باب علم ودانش اور علماء و فقہاء کے درمیان اس سلسلہ میں اختلاف ہے مکہ و مدینہ میں افضل کون ہے اور اپنے اپنے مدعا پر طر فین کے دلائل بھی ہیں ۔ مگر عشق کسی دلیل کا محتاج نہیں ہو تا اور امام احمد رضا صاحب علم و بصیرت کے ساتھ ایک عا شق بھی ہیں اسلئے اس سلسلے میں اس کا فیصلہ یہ ہے :

طیبہ نہ سہی افضل مکہ ہی بڑا زاہد
ہم عشق کے بندے ہیں کیوں بات بڑھائی ہے

حا جیوں آؤشہنشا کا روضہ دیکھو
کعبہ تو دیکھ چکے ہو کعبے کا کعبہ دیکھو

غور سے سن تو رضا کعبے سے آتی ہے صدا
میری آنکھوں سے میرے پیارے کا روضہ دیکھو

مکہ جلالت الہی کا مر کز ہے اور مدینہ کائنات عشق کی راج دھانی ہے ان تصورات کو ذہن میں رکھ بغیر کسی تبصرے کے پیکر عشق کے جذبات ملاحظہ کیجئے ۔

عاصی بھی ہیں چہیتے یہ طیبہ ہے زاہد و
مکہ نہیں کہ جانچ جہاں خیروشرکی ہے

شان جمال طیبہ جاناہے نفع محض
وسعت جلال مکہ میں سود وضر رکی ہے

کعبہ ہے بشک انجمن آرا دولہن مگر
ساری بہار دولہنوں میں دولہا کے گھرکی ہے

کعبہ دولہن ہے تربت اطہر نئی دولہن
یہ رشک آفتاب وہ غیرت قمر کی ہے

دیار حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم میں حاضری کی بے تاب آرزو

ایک محب صادق کی قلبی تمنا ہوتی ہے کہ اسے دیار نبی کی حاضری نصیب ہوجائے زبان ومکان کی وسعتیں سمٹ جائیں قوت پر واز کے لئے اسے بال وپرمل جائے ۔اور جتنی بھی جلدی ہو وہ چمنستان حبیب میں جابیٹھے ۔ اسی آرزو میں وہ تڑپتامچلتااور کروٹیں بدلتا ہے شام و سحر دعا ئیں اور التجائیں کرتاہے صبر کا دامن تھامتا ہے تو دم گھٹنے لگتاہے اور پیمانہ ضبط لبریز ہو جاتاہیےحسرت و غم کے اشک رواں ہو جاتے ہیں جب وہ مایوسیوں کی شب تاریک دیکھتاہے تو نبض حیات ڈوبنے لگتی ہے اور جب امیدوں کا سویرا نمودار ہو تاہے تو مردہ رگوں میں حیات و مسرت کا لہو دوڑنے لگتاہے کوچئے حبیب کی جانب عاشقوں کے قافلے روانہ ہوتے ہیں تو یہ ولولہ شوق اوربھی دو بالا ہو جاتا ہے ۔اس تناظر میں عاشق رسول امام احمد رضا کی فغان دل آرزوئے شوق اور فراق حبیب میں تپتی ہوئی زندگی کا اضطراب ملاحظہ کیجئے ۔

جان و دل ہوش خرد سب تو مدینے پہونچے
تم نہیں چلتے رضا سارا تو سامان گیا

سنگ در حضور سے ہم خدا نہ صبر دے
جاناں ہے سر کو جاچکے دل کو قرار آئے کیوں

شمع طیبہ سےمیں پروانہ رہوں میں کب تک دور
ہاں جلادے شرر آتش پنہاں ہم کو

حسرت میں خاک بوسئی طیبہ کو اے رضا
ٹپکاجو چشم مہر سے وہ خون ناب ہو ں

دل بستہ بے قرار جگر چاک اشکبار
غنچہ ہوں گل ہوں برق ہوں سحاب ہوں

قافلہ حجاج دیکھ کر امام احمد رضا کے دل کی بے تابی اور ہنگا مہ خیزی ملاحظ کیجئے۔

اے رضا سب چلے مدینہ کو
میں نہ جاؤں ارے خدانہ کرے
پھر اٹھا ولولئہ یاد مغیلان عرب
پھر کھینچادامن دل سوئے بیا بان عرب
اشک بر ساؤ ں چلے کوچہ جاناںسے
نسیم یاخدا جلد کہیں نکلے بخار دامن

جب صبا آتی ہے طیبہ سے ادھر کھل کھلاپڑتی ہیں کلیاں یکسر
پھول جامہ سے نکل کر باہر رخ رنگین کی ثناکر تے ہیں
صف عالم اٹھے خالی ہوئی زنداں ٹوٹیں زنجیر یں
گنہگا رو چلو آقانے درکھو لا ہے جنت کا

بارگاہ رسول میں عشق رضاکی سر فرازی

امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کی داستان عشق و ادب سے با خبر ہوجا نے کے بعد بار گاہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم میں آپی کی مقبو لیت کا اندزہ بخو بی لگایا جاسکتا ہے ۔ مگر پھر بھی تسکین کی خاطر اور اطمنان قلبی کے لئے چند واقعات ذیل میں پڑھئے اگر دل ودماغ کسی خارجی مانع سے بو جھل اور عناد وتعصب کے جرم میں ، ملوث نہیں ہیں ۔ تو ان شاء اللہ یہ چند شوا ہد اس حقیقت کو حلق کے نیچے اتار نے کے لئے کافی ہوں گے کہ امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کا عشق بار گاہِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم میں مقبول ہے مولانا محمد احمد مصباحی استاز الجامعة الاشرفیہ مبارک پور رقم تراز ہیں اعلی حضرت جب دوسری بار ۱۳۲۲ھ میں آقائے کونین صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کی بار گاہ میں حاضر ہوئے تو شو ق دید ار کے ساتھ موا جہ عالیہ میں درود شریف پڑھتے رہے انھیں امید تھی کہ ضرور سر کارِمدینہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم عزت افزائی فرمائینگے اور زیارت جمال سے سر فراز کریں گے لیکن پہلی شب تکمیل آرزو نہ ہو سکی یاس و حسرت کے عا لم میں ایک نعت کہی جس کا مطلع ہے :

وہ سوئے لالہ زار پھر تے ہیں
تیرے دن ائے بہار پھر تےہیں

مقطع میں عاشق مصطفی کا ناز اور جلیل القدر ولی کا عر فان پھر بے کسی ومحرومی کا اظہار کچھ عجب انداز لئے ہوے نظر آتاہے عر ض کر تے ہیں :

کو ئی کیوں پو چھے تیری بات رضا
تجھسے کِتے ہزار پھر تے ہیں
نوٹ : اس شعر میں کاف کے نیچے زیر کتے پورانی اردو ہے یعنی کتنے ہزار پھرتے ہیں نوٹ فرما لیں مغالطہ سے بچیں ۔

موا جہ شریف میں یہ نعت عرض کی اور مؤدب و منتظر بیٹھ گئے قسمت جاگی حجاب اٹھا اور عالم بیداری میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کی زیارت اور جمال جہاں آراکے دیدار سے شر ف یاب ہوئے ۔یہ آقائے کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے وہ اعزاز ہے جو بڑے ناز کے پالوں کو ہی میسر آتاہے ۔امام احمد رضا قد سرہ خواب میں تو بار بار جمال اقدس سے شرفیاب ہوئے مگر اس بار روضہ مقدسہ کے حضور عالم بیداری ميں دیدار سے سر فراز ہو ئے ہیں جو ان کے عشق وعر فاں کی کھلی ہو ئی دلیل اور بار گاہ رسالت میں ان کی مقبو لیت کا بین ثبوت ہے .

اعلی حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بہت بڑے عاشق رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّمفاضل گزرے ہیں جن کو فقہ حنفی اور اس کی جزئیات پر عبورحاصل تھا ۔ جس کے بارے میں علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ وه بےحد ذہین اور باریک بین عالم دین تھے فقہی بصریت میں انکا مقام بہت بلند تھا ۔

ان کے فتاوی کے مطالعے سے اندازه ہوتا ہے کہ وه کس قدر اعلی اجتہادی صلاحتیوں سے بہره ور اور پاک و ہند کے کیسے بابغہ روزگار فقیہ تھے ۔ ہندوستان کے اس دور متاخرین میں ان جیسا طباع اور ذہین فقیہ بمشکل ملے گا ۔ (عبدالنبی کوکب، مقالات یوم رضا، حصہ سوم)

آپ کا شمار ان بزرگان دین میں ہوتا ہے جن کو حضورپاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم نے ظاہری حالت میں اپنی بیعت نصیب فرمائی ۔

اعلی حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حضورپاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کی بارگاه میں ان سے ملاقات کی تمنا لیے حاضر ہوئے اور وہاں جا کر دوردپاک کی کثرت کردی بے حساب درودپاک پڑھا مگر حضورپاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کی طرف سے کوئی اشاره معصول نہ ہوا دوسرے دن بھی اسی طرح حضورپاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کی بارگاه میں حاضر ہوۓ اور درود پاک کی کثرت کردی مگر اس کے باوجود حضورپاک صلی الله علیہ وسلم کی طرف سے کوئی اشاره نہ ہوا تیسرے دن آپ حضورپاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کی بارگاه میں حاضر ہوئے اور روتے ہوئے یہ قیصدے پڑھنے لگے :

وه سوۓ لالہ زار پھرتے ہیں
تیرے دن اے بہار پھرتے ہیں
جوتیرے درسے یارپھرتے ہیں
دربدریونہی خوار پھرتے ہیں

یہ ہوتا ہے عشق کا مقام کہ خود کو معشوق کے قدموں میں گرا دیتا ہے عاشق خود کو معشوق کے سامنے حقیربنا کر پیش کرتا ہے ۔ یہ بات کہنے کی دیر تھی حضورصلی الله علیہ وسلم بشم خود ظاہری حالت میں تشریف لاۓ اور اعلی حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو اٹھا کر اپنے سینہ مبارک سے لگایا ۔ اس کے بعد اعلی حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو حضور صلی الله علیہ وسلم کے اتنے جلوے نظر آۓ کہ کبھی کہتے ہیں :

کس کے جلوے کی جھلک ہے یہ اجالا کیا ہے
کبھی کہتے ہیں
تو شمع رسالت ہے عالم ہے تیرا پروانہ
کبھی کہتے ہیں
وه کمال حسن حضور ہے کہ گمان نقص جہاں نہیں

غرض یہ کہ اس کے بعد اعلی حضرت کے قلم سے ایسے ایسے الفاظ نکلے کہ جنہیں سن کر بڑے بڑے اہل علم دنگ ہیں اعلی حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضورصلی الله علیہ وسلم کی شان میں اتنا کچھ لکھ دیا کہ جو آج تک کوئی نہ لکھ سکا اور کمال بات یہ اعلی حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے نہ کبھی حضورپاک صلی الله علیہ وسلم کی شان کو گھٹایا نہ کبھی بڑھایا بلکہ حضورپاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کے حکم کے مطابق آپ کی شان کو بیان کیا اور ایسی بیخودی کے عالم میں بیان کیا کہ اگر اعلی حضرت کو کوئی کلام بھری محفل میں پڑھ دیا جاۓ تو وہاں پر موجود ہر فرد جھوم اٹھتا ہے ۔

اعلی حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے سرورکہوں کے مالک و مولا کہوں تجھے کلام لکھ کر اپنی حیرت و بے بسی کی انتہا کر دی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کی جسم مبارک کی تعریف کرتے ہوۓ فرماتے ہیں کہ :

الله رے تیرے جسم منور کی تابشیں
اے جان جاں میں جان تجلا کہوں تجھے

پھر جب اعلی حضرت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کے وصف کا ذکر کرتے ہیں تو یوں فرماتے ہیں :

تیرے تو وصف عیب تناہی سے ہیں بری
حیراں میں میرے شاه میں کیا کیا کہوں تجھے

جب اعلی حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی نظر حضورپاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کے وصف پر پڑتی ہے ان کی عقل حیران ره جاتی ہے اگر کوئی ساری زندگی صرف آپ صلی الله علیہ وسلم کی وصف تحریر کرتا رہے تو وه مر جائے گا مگر آپ کے وصف کا ایک باب بھی پورا نہ ہوگا ۔ زندگیاں ختم ہوئیں قلم ٹوٹ گۓ مگر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کے وصف کا اک باب بھی پورا نہ ہوا یہاں پر آکراعلی حضرت کا علم اور قلم جواب دے جاتا ہے اور آپ برجستہ فرماتے ہیں :

حیراں ہوں میرے شاه میں کیا کیا کہوں تجھے
پھر فرماتے ہیں
کہہ لے گی سب کچھ تیرا ثنا خوان کی خاموشی
چپ ہو رہا ہے کہہ کہہ کے میں کیا کیا کہوں تجھے

محترم قارئین : ذرا سوچیۓ کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کتنی بڑی ہستی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کی تعریف کرتے کرتے ثناء خوان بھی خاموش ہوجاتے ہیں مگر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کی تعریف مکمل نہیں ہوپاتی اور آخر پر اعلی حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کلام کا ختم سخن کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

لیکن رضا نے ختم سخن اس پہ کر دیا
خالق کا بنده خلق کا آقا کہوں تجھے

حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم تو دور کی بات میں ان کے غلام کی تعریف کرنے کے بھی قابل نہیں اور نہ ہی میرے پاس ایسا علم ہے کہ میں اعلی حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو خراج تحسین پیش کرسکوں میں خود یہ سب لکھنے کیلۓ انہی کے کلام کا سہارا لے رہا ہوں میں کیا لکھ پاؤں گا اعلی حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے مطلق کہ میرے اعلی حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کون تھے بس اتنا سمجھ لیجیئے وه میری جان ہیں میری دھڑکن ہیں میری روح میں ہلچل بیپا کردینے والے انسان ہیں مجھ جیسوں کو عاشق رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم بنا دینے والے عظیم انسان اور ثناء خوان مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم ہیں ۔ دنیا کا کوئی کونہ ایسا نہیں جہاں اعلی حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے کلام کی گونج نہ ہو ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)












Tuesday, 1 October 2019

امیر معاویہ رضی اللہ عنہ صحابی ہیں ان کی خطاء اجتہادی ہے ان کا احترام واجب ہے

امیر معاویہ رضی اللہ عنہ صحابی ہیں ان کی خطاء اجتہادی ہے ان کا احترام واجب ہے

محترم قارئینِ کرام : بعض حضرات جو دن رات حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی شان اقدس میں گستاخیاں کر رہے ہیں اور گھٹیا زبان استعمال کر رہے ہیں اُن کے نام شیخ الاسلام منہاج القرآن جناب ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب کا پیغام :

بانی منہاج القرآن اور شیخ الاسلام منہاج القرآن جناب ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب لکھتے ہیں : حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا فیصلہ اجتہاد پر تھا اور ان کی کی خطاء اجتہادی تھی اور صحابی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ہونے کے ناطے ان پر ملامت ، طعن یا تنقید کرناحرام ہے اور ان کے معاملے میں خاموشی سکوت واجب ہے ۔ (اسلامن دین امن و رحمت صفحہ نمبر 430 ، 432)

مفتی عبدالقیوم خان ہزاروی مفتی منہاج القرآن کا فتویٰ

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کاتبِ وحی ، عظیم المرتب صحابی اور تمام اہل اسلام کے ماموں ہیں مفتی عبدالقیوم خان ہزاروی مفتی منہاج القرآن کا فتویٰ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عظیم المرتبت صحابی ہیں ، کاتب وحی ہیں۔ ام المومنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہ کے بھائی ہیں ۔ اس لحاظ سے تمام اہل اسلام کے قابل صد تکریم روحانی ماموں ہیں ۔ لہذا کوئی مسلمان ان کی شان میں گستاخی کا تصور بھی نہیں کرسکتا اور جو گستاخی کرے وہ مسلمان نہیں ہوسکتا ۔ (ماہنامہ منہاج القرآن جنوری 2013 ء الفقہ آپ کے دینی مسائل)

مجتہد کی غلطی پر بھی اجر ہے ڈاکٹر محمد طاہر القادری

شیخ الاسلام منہاج القرآن جناب ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب لکھتے ہیں : یہ صرف مجتہد کی شان کہ اجتہاد صحیح تھا مگر نتیجہ غلط نکلا تو اس کےلیئے بھی اجر ہے ۔ (اقسام بدعت احادیث واقوال ائمہ کی روشنی میں صفحہ 92)
مجتہد اگر غلطی کر بیٹھے تو اس کےلیئے اجر ہے کیونکہ مومنِ مجتہد کا ہر فیصلہ ہر صورت باعث اجر ہے ۔ (اقسام بدعت احادیث و اقوال ائمہ کی روشنی میں صفحہ 93)

شیخ الاسلام منہاج القرآن جناب ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب نے اپنے ایک بیان میں فرمایا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے قصیدے نہ پڑھے جائیں ، ان کا عرس نہ منایا جائے ، ان کے متعلق صرف کف لسان کیا جائے ۔

کف لسان کے متعلق جوابا عرض ہے

(1) کف لسان کا حکم صرف مشاجرات صحابہ رضی اللہ عنہم میں ہے ، فضائل بیان کرنے میں نہیں ! اگر فضائل بیان کرنے میں کف لسان کا حکم ہوتا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے لے کرآج تک کوئی بھی آپ کے فضائل بیان نہ کرتا ۔ جب کہ صحابہ ، تابعین ، تبع تابعین ، فقہا و متکلمین ، مجددین ، صوفیہ و صالحین رضی اللہ عنہم اور علماے ربانیین نے آپ کے فضائل بیان کیے ۔ آپ کی شان میں مستقل کتابیں لکھیں گئیں ، اورکتب اسلامیہ میں ابواب باندھے گئے ۔

(2) شیخ الاسلام منہاج القرآن جناب ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب جوش خطابت میں بات بات پرتیرہ سو سال اور چودہ سو سال کےعلمی سرمائے کا حوالہ دیتے ہیں ، جواس کلپ میں بھی دیتےنظر آئے ؛ لیکن ..... اتنا نہیں سوچا کہ : مخلوط دھرنے ، کرسمس ڈے ، طاہری قصیدے اور جملہ اعراس و ایام ایک طرف ، اگر کسی نے " شہر اعتکاف" کا ہی سوال کرلیا تو تیرہ سو سالہ علمی ذخیرے سے اس کی ایک بھی مثال پیش نہیں کرسکیں گے !! تعجب ہے! جب ان کے والدگرامی فرید ملت کا یوم منایا جاسکتا ہے تو صحابی رسول رضی اللہ عنہم کا کیوں نہیں ؟

ان کے والد محترم کے نام پر ادارے قائم ہوسکتے ہیں تو آقا کریم کے معزز صحابی کے نام پر مسجدیں کیوں تعمیر نہیں ہوسکتیں ؟

ان کے جلسے جلوسوں میں تصویریں اور جھنڈے بلند کیے جا سکتے ہیں تو صحابی رسول رضی اللہ عنہ کی تعظیم کے لیے جھنڈا کیوں بلند نہیں کیا جاسکتا ؟

کیا ان کے جملہ اعمال و افعال قرون اولیٰ کی یاد گار ہیں ، اور صحابی رسول کے عرس ، جھنڈوں اور قصیدوں کا کہیں نام و نشان تک نہیں ؟

(3) وہ کون سا سُنی ہے جو حضرت سیدنا مولا علی کرّم اللہ وجہہ الکریم کے مقام رفیع سے آگاہ نہ ہو ، بات صرف اتنی ہے کہ بعض لوگ سنیوں کو حضرت سیدنا مولا علی کرّم اللہ وجہہ الکریم کے نام پر بلیک میل کرنا چاہتے ہیں ۔ ان کا مقصد صرف ذکر صحابہ رضی اللہ عنہم سے روکنا اور صحاح کی اس حدیث : لاتذکروا معاویۃ الا بخیر " کی مخالفت کرنا ہے ۔

شیخ الاسلام منہاج القرآن جناب ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب کے محبین و متوسلین سے گزارش ہے کہ امام نبھانی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب اسالیب البدیعہ خود بھی پڑھیں پڑھیں اور ڈاکٹر صاحب کو بھی پیش کریں ، تاکہ آپ حضرات کا زاویہ نظر درست ہوسکے ، اور یہ جان سکیں کہ علمائے امت نے صرف تکفیر وتفسیق سے ہی منع نہیں کیا ، کچھ اور بھی کہا ہے ۔

اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ :

فرق مراتب بے شمار
اور حق بدست حیدر کرار

مگر معاویہ بھی ہمارے سردار
طعن ان پر بھی کارِ فجار

جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی حمایت میں عیاذ باﷲ حضرت علی اسد ﷲ رضی اللہ عنہ کے سبقت و اوّلیت و عظمت واکملیت سے آنکھ پھیر لے وہ ناصبی یزیدی اور جو حضرت علی اسد ﷲ رضی اللہ عنہ کی محبت میں معاویہ رضی اللہ عنہ کی صحابیت و نسبت بارگاہ حضرت رسالت بھلا دے وہ شیعی زیدی یہی روش آداب بحمد ﷲ تعالٰی ہم اہل توسط و اعتدال کو ہر جگہ ملحوظ رہتی ہے ـ (فتاویٰ رضویہ، جلد10، صفحہ199، مطبوعہ رضا فاؤبڈیشن لاھور،چشتی)

اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ فرما رہے ہیں کہ مولا علی شیر خدا رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان مرتبہ کا فرق شمار سے باھر ہے ۔ اگر کوئی حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کی حمایت میں حضرت امام المسلمین مولا علی مشکل کُشاء رضی اللہ عنہ کی شان و عظمت کو گرائے وہ ناصبی یزیدی ہے ۔ اور جو مولا علی شیرِ خُدا رضی اللہ عنہ کی محبت کی آڑ میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی شان میں تنقیص کرے وہ زیدی شیعہ ہے ۔ الحمد لله ہمارا اھلسنت کا مسلک مسلکِ اعتدال ہے جو ہر صاحبِ فضل کو بغیر کسی دوسرے کی تنقیص و توھین کے مانتا ہے ۔ آج کے جاھلوں نے محبتِ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کیلئے بُغضِ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ شرط بنا لیا ہے ۔ اللہ تعالٰی ہمیں آل و اصحاب کی محبت میں موت عطا فرمائے آمین ۔

محترم قارئینِ کرام : حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ مجتہد تھے ۔ صحابہ کا آپسی اختلاف اجتہاد پر مبنی تھا ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کےدرمیان ہونے والے اختلاف میں زبان بند رکھی جائے ۔ اور ان کے فضائل بیان کیے جائیں ۔ ناکہ جیسا کہ بعض جاہلوں نے سمجھ لیا کہ فضائل کے بارے میں کف لسان کیا جائے ۔ اللہ ان سب سے راضی ہے اور ان کا معاملہ اللہ کے سپر د ہے آئمہ اہلسنّت علیہم الرّحمہ کیا فرماتے ہیں آیئے پڑھتے ہیں :

اما م اہلسنت ابو الحسن الاشعری رحمۃ اللہ علیہ (324ھجری) فرماتے ہیں : جو جنگ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت زبیرو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہما کے مابین ہوئی یہ تاویل اور اجتہاد کی بنیاد پر تھی ، حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ ہی امام تھے اور یہ تمام کے تمام مجتہدین تھے اور ان کے لیئے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلّم نے جنت کی گواہی دی ہے اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلّم کی گواہی اس پر دلالت کرتی ہے کہ یہ تمام اپنے اجتہاد میں حق پر تھے ، اسی طرح جو جنگ حضرت سیدنا علی اور حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہما کے مابین ہوئی اس کا بھی یہی حال ہے ، یہ بھی تاویل واجتہاد کی بنیاد پر ہوئی ، اور تمام صحابہ پیشوا ہیں ، مامون ہیں ، دین میں ان پر کوئی تہمت نہیں ہے ، اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ان تمام کی تعریف کی ہے ، ہم پر لازم ہے کہ ہم ان تمام کی تعظیم و توقیر کریں ، ان سے محبت کریں اور جو ان کی شان میں کمی لائے اس سے براءت اختیار کریں ۔ (الابانہ عن اصول الدیانہ صفحہ 624۔625۔626،چشتی)

قاضی ابو بکر الباقلانی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 304ھجری) فرماتے ہیں : واجب ہے کہ ہم جان لیں : جو امور حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام علیہم الرضوان کے مابین واقع ہوئے اس سے ہم کف لسان کرے ، اور ان تمام کے لیئے رحمت کی دعا کریں ، تمام کی تعریف کریں ، اور اللہ تعالی سے ان کے لیئے رضا ، امان، کامیابی اور جنتوں کی دعا کرتے ہیں ، اور اس بات کا اعتقاد رکھتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ ان امور میں اصابت پر تھے ، اور آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے لیئے ان معاملات میں دو اجر ہیں ، اور صحابہ کرام علیہم الرضوان سے جو صادر ہوا وہ ان کے اجتہاد کی بنیاد پر تھا ان کے لیئے ایک اجر ہے ، نہ ان کو فاسق قرار دیا جائے گا اور نہ ہی بدعتی ۔ اس پر دلیل یہ ہے کہ ان کے لیئے اللہ تعالی نے فرمایا : اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ۔ اور یہ ارشاد فرمایا : بے شک اللہ راضی ہوا ایمان والوں سے جب وہ اس پیڑ کے نیچے تمہاری بیعت کرتے تھے تو اللہ نے جانا جو ان کے دلوں میں ہے تو ان پر اطمینان اتارا اور انھیں جلد آنیوالی فتح کا انعام دیا ‘ اور حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان ہے جب حاکم اجتہاد کرے اور اس میں اصابت پر ہو تو اس کے لیئے دو اجر ہیں ، اور جو اجتہاد کرے اور اس میں خطا کرے ، تو اس کے لیئے اجر ہے ۔ جب ہمارے وقت میں حاکم کے لیئے اس کے اجتہاد پر دو اجر ہیں تو پھر ان کے اجتہاد پر تمہارا کیا گمان ہے جن کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا : رضی اللہ عنھم ورضوا عنہ ۔ (الانصاف فی ما یجب اعتقاده صفحہ 64،چشتی)

غنیۃ الطالبین میں ہے : اہل سنت صحابہ علیہم الرضوان کے آپس کے معاملات میں کف لسان ، ان کی خطاؤں کے بیان سے رکنے اور ان کے فضائل ومحاسن کا اظہار کرنے پر اور جو معاملہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرات طلحہ وعائشہ ومعاویہ رضی اللہ تعالی عنہم کے مابین اختلاف ہوا اس کو اللہ تعالی کے سپرد کرنے پر متفق ہیں جیسا کہ ہم ماقبل میں بیان کرچکے ہیں اور ان میں ہر فضل والے کو اس کا فضل دینے پر متفق ہیں ۔ (الغنية لطالبي طريق الحق عز وجل صفحہ 163،چشتی)

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بُرا کہنے والوں پر اللہ کی لعنت ہو

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ ﷲِ رضي ﷲ عنهما قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ : إِنَّ النَّاسَ يَکْثُرُوْنَ، وَإِنَّ أَصْحَابِي يَقِلُّوْنَ، فَـلَا تَسُبُّوْهُمْ لَعَنَ ﷲُ مَنْ سَبَّهُمْ. رَوَاهُ أَبُوْ يَعْلٰی وَالطَّبَرَانِيُّ وَأَبُوْ نُعَيْمٍ ۔
ترجمہ ؛ حضرت جابر بن عبد ﷲ رضی ﷲ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : بے شک لوگ کثیر تعداد میں ہیں اور میرے صحابہ رضی ﷲ عنہم قلیل ہیں . سو میرے صحابہ رضی ﷲ عنہم کو برا بھلا مت کہو اور اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو جو ان کو برا بھلا کہے ۔ (أخرجه أبو يعلی في المسند، 4 / 133، الرقم : 2184، والطبراني في المعجم الأوسط، 2 / 47، الرقم : 1203، وأيضًا في الدعائ / 581، الرقم : 2109، وأبو نعيم في حلية الأوليائ، 3 / 350، والخطيب البغدادي في تاريخ بغداد، 3 / 149)

وفي رواية : عَنْ عَطَائٍ يَعْنِي بْنَ أَبِي رِبَاحٍ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : مَنْ حَفِظَنِي فِي أَصْحَابِي کُنْتُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَافِظًا وَمَنْ سَبَّ أَصْحَابِي فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ ﷲِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ ۔
ترجمہ : ایک روایت میں (تابعی) حضرت عطا بن ابی رباح رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس نے میرے صحابہ رضی ﷲ عنہم کے معاملے میں مجھے یاد رکھا (یعنی میرا لحاظ کیا) تو قیامت کے دن میں اسے یاد رکھوں گا اور جس نے میرے صحابہ رضی ﷲ عنہم کو گالی دی تو اس پر خدا کی لعنت ہو ۔ (اخرجه أحمد بن حنبل في فضائل الصحابة، 1 / 54، الرقم : 10،چشتی)

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي ﷲ عنهما قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : إِذَا رَأَيْتُمُ الَّذِيْنَ يَسُبُّوْنَ أَصْحَابِي، فَقُوْلُوْا : لَعْنَةُ ﷲِ عَلٰی شَرِّکُمْ. وفي رواية : فَالْعَنُوْهُمْ ۔
ترجمہ : حضرت عبد ﷲ بن عمر رضی ﷲ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو میرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو برا بھلا کہتے ہیں تو تم کہو : تم پر اللہ کی لعنت ہو تمہارے شر کی وجہ سے . ایک روایت میں ہے : انہیں لعنت (و ملامت) کرو ۔ (أخرجه الترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب ما جاء في فضل من رای النّبي صلی الله عليه وآله وسلم ، 5 / 697، الرقم : 3866، وأحمد بن حنبل في فضائل الصحابة، 1 / 397، الرقم : 606، والطبراني في المعجم الأوسط، 8 / 190.191، الرقم : 8366)

وفي رواية : عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : لَا تَسُبُّوْا أَصْحَابِي ، فَإِنَّهُ يَجِيءُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ يَسُبُّوْنَ أَصْحَابِي ، فَإِنْ مَرِضُوْا فَـلَا تَعُوْدُوْهُمْ ، وَإِنْ مَاتُوْا فَـلَا تَشْهَدُوْهُمْ ، وَلَا تُنَاکِحُوْهُمْ، وَلَا تُوَارِثُوْهُمْ ، وَلَا تُسَلِّمُوْا عَلَيْهِمْ، وَلَا تُصَلُّوْا عَلَيْهِمْ ۔
ترجمہ : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میرے صحابہ رضی اللہ عنہم کو گالی مت دو یقینا آخری زمانہ میں ایک ایسی قوم آئے گی جو میرے صحابہ رضی اللہ عنہم کو برا بھلا کہے گی. سو (یہ لوگ) اگر بیمار پڑ جائیں تو ان کی عیادت نہ کرنا اور اگر مر جائیں تو ان کی نمازِ جنازہ میں شریک مت ہونا، اور ان سے نکاح (وغیرہ کے معاملات) مت کرو، اور انہیں وارث مت بنانا، اور انہیں سلام مت کرنا، اور ان کے لیے دعا (مغفرت) بھی مت کرنا ۔ (أخرجه الخطيب البغدادي في تاريخ بغداد، 8 / 143، الرقم : 4240،چشتی)(والمزي في تهذيب الکمال، 6 / 499)(وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، 14 / 344، وابن الخلال في السنة، 2 / 483، الرقم : 769)

شیخ الاسلام منہاج القرآن جناب ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب لکھتے ہیں : حضرت امیر معاویہ رضی اللہ کی خطاء اجتہادی تھی اور صحابی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ہونے کے ناطے ان پر ملامت ،طعن یا تنقید کرناحرام ہے اور ان کے معاملے میں خاموشی سکوت واجب ہے ۔ (اسلامن دین امن و رحمت صفحہ 432)

مجتہد کی غلطی پر بھی اجر ہے ڈاکٹر محمد طاہر القادری

بانی منہاج القرآن اور شیخ الاسلام منہاج القرآن جناب ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب لکھتے ہیں : یہ صرف مجتہد کی شان کہ اجتہاد صحیح تھا مگر نتیجہ غلط نکلا تو اس کےلیئے بھی اجر ہے ۔ (اقسام بدعت احادیث واقوال ائمہ کی روشنی میں صفحہ 92)
مجتہد اگر غلطی کر بیٹھے تو اس کےلیئے اجر ہے کیونکہ مومنِ مجتہد کا ہر فیصلہ ہر صورت باعث اجر ہے ۔ (اقسام بدعت احادیث و اقوال ائمہ کی روشنی میں صفحہ 93)

مفتی منہاج القرآن مفتی محمد عبد القیوم ہزاروی صاحب لکھتے ہیں : حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عظیم المرتبت صحابی، کاتب اور ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے بھائی ہیں۔ قرآنِ مجید صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے اڑنے والے گرد و غبار کی قسمیں کھاتا ہے : وَالْعٰدِيٰتِ ضَبْحًاo فَالْمُوْرِيٰتِ قَدْحًاo فَالْمُغِيْرٰتِ صُبْحًاo فَاَثَرْنَ بِهِ نَقْعًاo
ترجمہ : (میدانِ جہاد میں) تیز دوڑنے والے گھوڑوں کی قَسم جو ہانپتے ہیں۔ پھر جو پتھروں پر سم مار کر چنگاریاں نکالتے ہیں۔ پھر جو صبح ہوتے ہی (دشمن پر) اچانک حملہ کر ڈالتے ہیں۔ پھر وہ اس (حملے والی) جگہ سے گرد و غبار اڑاتے ہیں۔ (العاديت، 100: 4)(آن لائن فتویٰ سوال نمبر 3990)

اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ :

فرق مراتب بے شمار
اور حق بدست حیدر کرار

مگر معاویہ بھی ہمارے سردار
طعن ان پر بھی کارِ فجار

جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی حمایت میں عیاذ باﷲ حضرت علی اسد ﷲ رضی اللہ عنہ کے سبقت و اوّلیت و عظمت واکملیت سے آنکھ پھیر لے وہ ناصبی یزیدی اور جو حضرت علی اسد ﷲ رضی اللہ عنہ کی محبت میں معاویہ رضی اللہ عنہ کی صحابیت و نسبت بارگاہ حضرت رسالت بھلا دے وہ شیعی زیدی یہی روش آداب بحمد ﷲ تعالٰی ہم اہل توسط و اعتدال کو ہر جگہ ملحوظ رہتی ہے ـ (فتاویٰ رضویہ، جلد10، صفحہ199، مطبوعہ رضا فاؤبڈیشن لاھور،چشتی)

اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ فرما رہے ہیں کہ مولا علی شیر خدا رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان مرتبہ کا فرق شمار سے باھر ہے ۔ اگر کوئی حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کی حمایت میں حضرت امام المسلمین مولا علی مشکل کُشاء رضی اللہ عنہ کی شان و عظمت کو گرائے وہ ناصبی یزیدی ہے ۔ اور جو مولا علی شیرِ خُدا رضی اللہ عنہ کی محبت کی آڑ میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی شان میں تنقیص کرے وہ زیدی شیعہ ہے ۔ الحمد لله ہمارا اھلسنت کا مسلک مسلکِ اعتدال ہے جو ہر صاحبِ فضل کو بغیر کسی دوسرے کی تنقیص و توھین کے مانتا ہے ۔ آج کے جاھلوں نے محبتِ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کیلئے بُغضِ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ شرط بنا لیا ہے ۔

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق صحیح عقیدہ اہلسنّت

محترم قارئینِ کرام : کتب عقائد اہلسنت میں اس بات کی دو ٹوک صراحت ہے کہ مشاجرات صحابہ کرام علیہم الرضوان میں سکوت کیا جائے گا . مولائے کائنات مولا مشکل کشا رضی اللہ تعالی عنہ حق پر تھے اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ خطا اجتہادی پر تھے کتب عقائد میں تو اسی بات کی صراحت کی گئی ہے . یہ عقیدہ تو اہلسنت کی کسی کتاب میں نہیں لکھا کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے فضائل بیان کرنے سے سکوت کیا جائے گا . ائمہ متقدمین ومتأخرین نے تو آپ کے فضائل میں کتابیں لکھی ہیں .
حافظ ابو بکر بن ابی الدنیا رحمہ اللہ تعالی متوفی ۲۸۱ھ نے حلم معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے نام سے کتاب لکھی۔
امام محدث ابو عمر محمد بن عبد الواحد غلام ثعلب رحمہ اللہ تعالی متوفی ۳۴۵ ھ شیخ القراء ابو بکر النقاش البغدادی متوفی ۳۵۱ نے فضائل معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ پر کتابیں لکھیں۔
ابو القاسم السقطی رحمہ اللہ تعالی متوفی ۴۰۶ ھ نے فضائل معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ پر ایک جزء لکھا ۔
متاخرین میں اہل سنت کے متفقہ امام یعنی امام اہل سنت اعلی حضرت رحمہ اللہ تعالی نے پانچ کتب لکھیں
البشرى العاجلة من تحف أجله... الأحاديث الراوية لمدح الأمير معاوية .... عرش الإعزاز والإكرام لأول ملوك الإسلام. ذب الأهواء الواهية في باب الأمير معاوية.. رفع العروش الخاوية من أدب الأمير معاوية..
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالی نے فضائل الصحابہ میں اور امام ترمذی رحمہ اللہ تعالی نے جامع ترمذی میں مناقب معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کا باب باندھ کر آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی فضیلت میں حدیثیں ذکر کیں ۔ اسی طرح دیگر محدثین نے اپنی کتب میں آپ کے مناقب پر باب باندھے تراجم یعنی حالات زندگی کی کتب میں آپ کے فضائل ذکر کیے گئے ۔
کتب عقائد میں تو یہ ہے کہ مشاجرات صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم میں سکوت کیا جائے گا ۔ یہ تو کسی عقیدے کی کتاب میں نہیں لکھا کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے فضائل کو بیان کرنے سے سکوت کیا جائے گا ۔ چودہ سو سال کا عقیدہ جو اہلسنت کا ہے وہ تو اوپر کی کتب سے ہر ایک جان سکتا ہے ۔ یہ بالکل نیا عقیدہ بنایا گیا ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے فضائل بیان کرنے سے سکوت کیا جائے گا ۔
حافظ مہنا رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالی سے عرباض بن ساریہ رضی اللہ تعالی عنہ والی اس حدیث کے بارے میں سوال کیا جو معاویہ بن صالح کی سند سے مروی ہے، جس میں عرباض بن ساریہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں مبارک ناشتے کی طرف بلایا اور میں نے آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : اے اللہ اس کو یعنی معاویہ کو کتاب وحساب کا علم سکھا اور عذاب سے بچا ۔ امام احمد رحمہ اللہ تعالی نے فرمایا ہاں یہ حدیث ہے اور یہ حدیث ہمیں عبد الرحمن بن مھدی نے معاویہ بن صالح کے طریق سے بیان کی ہے ، مہنا کہتے ہیں میں نے کہا :اہل کوفہ تو اس حصے : ان(معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ) کو کتاب اور حساب کا علم سکھا کو ذکر نہیں کرتے، کیا وہ یہ اس میں قطع وبرید کرتے ہیں ؟
امام احمد رحمہ اللہ تعالی نے فرمایا : عبد الرحمن بن مہدی اس حصے کو(ان کے سامنے) بیان ہی نہیں کرتے تھے، وہ اس حصے کو صرف مجھے ہی بیان کیا کرتے تھے ۔ (یعنی یہ فضیلت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ اہل کوفہ کے سامنے بیان کرنا ممکن ہی نہیں تھا، اگر ان کے سامنے کے بیان کرتے تو فتنہ برپا ہوجاتا اس لیے وہ میرے سامنے ہی بیان کرتے تھے ۔ (المنتخب من العلل للخلال للإمام ابن القدامة المقدسي صفحه ٢٣٤ رقم ١٤١ طبع دار الرأية،چشتی)


بانی منہاج القرآن اور شیخ الاسلام منہاج القرآن جناب ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب لکھتے ہیں : صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف کفر منسوب کرنے والا ان کو گالی دینے والا اشارہ یا کنایہ سےتو ایسا شخص دائرہ اسلام سے خارج ہے ۔ (فلسفہ شہادت صفحہ نمبر 270 ) ۔ آج آپ کے خطاب کے بعد کتنے ہی آپ کے فلاورز ہیں جو یہ سب کچھ کر رہے بقول آپ کے یہ آپ کے فلاورز مسلمان رہے کہ نہیں ؟

تفضیلیوں کے نام حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کا پیغام

بانی منہاج القرآن اور شیخ الاسلام منہاج القرآن جناب ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب لکھتے ہیں : حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ ہوشیار میرے حق میں دو گروہ ہلاک ہونگے ایک محبت میں میرا مرتبہ بڑھانے والے دوسرے بغض رکھنے والے ۔ (فلسفہ شہادت صفحہ نمبر 262 ، شیخ الاسلام منہاج القرآن ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب) ۔ کاش آپ کے فلاورز آپ ہی کے اس فرمان کو سمجھتے اور عمل کرتے ۔

بانی منہاج القرآن اور شیخ الاسلام منہاج القرآن جناب ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب لکھتے ہیں : ہمارا مطالبہ ہے گستاخِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم اور گستاخِ صحابہ و اہلبیت رضی اللہ عنہم کو پھانسی دی جائے ایسے شیطان کو جینے کا حق نہیں ہے ۔ (فلسفہ شہادت صفحہ نمبر 271 ، شیخ الاسلام منہاج القرآن )

جناب من بانی منہاج القرآن اور شیخ الاسلام منہاج القرآن جناب ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب کے بیان کی روشنی میں ہمارا بھی یہی مطالبہ ہے کہ صحابہ و اہلبیت رضی اللہ عنہم کی شان میں گستاخیاں کرنے والوں کو پھانسیاں دی جائیں کیا فرماتے ہیں بانی منہاج القرآن اور شیخ الاسلام منہاج القرآن جناب ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب اور اُن کے فلاورز اس سلسلہ میں ؟ یاد رہے آپ خود اور آپ کے ادارہ کے مفتی صاحب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو جلیل القدر صحابی مانتے ہیں ؟ ۔ (طالب دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)







پہلا گروہ جو سمندری جہاد کرے گا اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ

پہلا گروہ جو سمندری جہاد کرے گا اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ

شیخ الاسلام منہاج القرآن جناب ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب لکھتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا : أول جيش من أمتي يغزون البحر، قد أوجبوا ۔
ترجمہ : میری امت میں سے پہلا گروہ جو سمندری جہاد کرے گا انہوں نے (مغفرت و جنت کو) واجب کر لیا ۔ (صحيح البخاري : 410/1، ح : 2924 )،(خَیرُ المآب صفحہ نمبر 194 ، 195 ، 197 ڈاکٹر محمد طاہر القادری)

شارحِ صحیح بخاری حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ (852-773ھ) فرماتے ہیں : وقوله : قد أوجبوا، أى فعلوا فعلا، وجبت لهم به الجنة ۔
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے فرمان کہ انہوں نے واجب کر لیا ، کی مراد یہ ہے کہ انہوں نے وہ کارِ خیر سرانجام دیا ، جس کی بنا پر ان کے لیے جنت واجب ہو گئی ۔ (فتح الباري : 103/6)

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم على ابنة ملحان، فاتكأ عندها، ثم ضحك، فقالت : لم تضحك يا رسول الله؟ فقال : ناس من أمتي يركبون البحر الـأخضر فى سبيل الله، مثلهم مثل الملوك على الـأسرة ۔
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ایک دن (سیدہ ام حرام ) بنت ِ ملحان رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور وہاں ٹیک لگا کر بیٹھ گئے ، (اسی حالت میں سو گئے) پھر آپ (بیدار ہوئے اور) مسکرائے ۔ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا نے عرض کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم آپ کیوں مسکرائے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : میری امت میں کچھ لوگ جہاد کے لیے سبز سمندر میں سفر کریں گے ۔ وہ تختوں پر براجمان بادشاہوں کی طرح ہوں گے ۔ (صحيح البخاري : 403/1، ح : 2877، 2878،چشتی)(صحيح مسلم : 142-141/2، ح : 1912)

صحیح مسلم میں ہے کہ اس سمندری جہاد کی سعادت و قیادت اور فضیلت بھی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئی ۔ اس بات پر امت کا اجماع و اتفاق ہے کہ پہلا لشکر جس نے بحری جہاد کیا ، اس کے کمانڈر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ تھے ۔ اس حدیث سے آپ رضی اللہ عنہ کی منقبت و فضیلت کو چار چاند لگ گئے ہیں ۔ ثابت ہوا کہ یقیناً آپ رضی اللہ عنہ کو جنت کی سند حاصل ہے ۔

امامِ اندلس علامہ ابن عبدالبر رحمۃ اللہ علیہ (463-368 ھ) فرماتے ہیں : وفيه فضل لمعاوية رحمه الله، إذ جعل من غزا تحت رايته من الـأولين ، ورؤيا الـأنبياء ، صلوات الله عليهم، وحي ۔
ترجمہ : اس حدیث میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت ہے ، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے (بوحی الہٰی) ان کی کمان میں جہاد کرنے والوں کو اولین قرار دیا ہے اور انبیائے کرام علیہم السّلام کے خواب وحی ہی ہوتے ہیں ۔ (التمهيد لما فى المؤطإ من المعاني والأسانيد : 235/1 )۔(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)


ایسے لوگ پلید و خبیث اور جاہل ہیں جو یزید کے اعمال کو لے کر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر بک بک کرتے ہیں

ایسے لوگ پلید و خبیث اور جاہل ہیں جو یزید کے اعمال کو لے کر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر بک بک کرتے ہیں اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو جنتی نہیں مانتے ، آپ رضی اللہ عنہ کے فضائل کے منکر ہوتے ہیں ، آپ رضی اللہ عنہ کیلئے لعن طعن ، گالی گلوچ کرتے ہیں ۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ صحابی ہیں ۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی عیب جوئی کیلئے سوالات کرنا سوائے پلیدی ، فتنہ ، شر اورخباثت ذہنی کے ، اور کچھ حقیقت نہیں رکھتے ۔ یہ ذہنی خبث ہے ، اس کو خبثِ باطن کہتے ہیں ۔

شیخ الاسلام منہاج القرآن جناب ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے ویڈیو بیان کا خلاصہ

کسی نے یہ سوال کیا ہے کہ دس محرم کے موقع پر سوال ہے کہ یزید کس کا بیٹا تھا ، اس کا باپ کون تھا ؟

شیخ الاسلام منہاج القرآن جناب ڈاکٹر محمد طاہرالقادری جواب دیتے ہیں : اگر تو آپ میں سے کسی نے سوال کیا اور یہ خیال لکھنے والے کے خود اپنے ذہن میں آیا ہے تو اپنی اصلاح کر لے ، اور اگر کسی آدمی نے اس کو یہ سوال کیا ہےاور یہ بات اس کے ذہن میں ڈالی ہے تو اس کو جواب دے کہ ایسے سوالات کرنا سوائے پلیدی ، فتنہ ، شر اورخباثت ذہنی کے ، اور کچھ حقیقت نہیں رکھتے ۔ یہ ذہنی خبث ہے ، اس کو خبثِ باطن کہتے ہیں ۔ پوچھنے والے کو یا جس نے بھی آپ کو کہا ہوگا کیا نہیں پتا کہ یزید کس کا بیٹا ہے کس کو معلوم نہیں ؟ اس کے والد کا نام کیا تھا یہ معلوم نہیں ہے ؟ دراصل سوال کے ذریعے یہ باور کروانا چاہتا ہے کہ معاذاللہ ، استغفراللہ کہ جو کردار کا ہے وہی اس کے استغفراللہ باپ کا ہے ۔ یعنی یزید کے عمل اور کرتوت وہ اس کے والد کے کھاتے میں ڈالنا چاہتا ہے ۔ یہ جان کر کے معاذاللہ جیسے جاہل لوگ کہتے ہیں کہ جیسا بیٹا ویسا باپ ، یا جیسا باپ ویسا بیٹا معاذاللہ ۔ یہ پلیدی ہے اور خبثِ باطن ہے اپنے ذہن کو اس سے پاک کر نا چاہئیے ۔ یزید حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا بیٹا تھا ۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے صحابی تھے اور ان صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے تھے جن سب کیلئے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے جنت اور اور حسن آخرت کی ضمانت دی ۔ اور ان کو گالی گلوچ دینا اور لعنت و ملامت کرنا ، برا بھلا کہنا حرام ہے ۔ خود کو جہنم کا ایندھن بنانے کے مترادف ہے ۔ رہ گیا یزید ، وہ صحابی نہیں تھا وہ اپنے عمل بد کا اور اپنے کردار کا اور اپنے برے کرتوتوں کا خود ذمہ دار تھا ۔ وہ فاسق و فاجر تھا ۔ وہ دین کی بعض حدود کا منکر ہوا ، اور اس نے سیدنا اما حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت اور اہل بیت اطہار رضی اللہ عنھم کی اہانت اور مکہ و مدینہ کی ، حرمین شریفین کی اہانت کر کے کفر کا ارتکاب کیا اور وہ کافر ہوگیا ۔ بے ایمان ، بدبخت اور جہنم کا ایندھن جا بنا ۔
باپ کے عمل کا ذمہ دار بیٹا نہیں ہو گا آخرت میں اور بیٹے کے عمل کا ذمہ دار باپ نہیں ہوگا ۔ یہ ناجائز ہے کہ اس کے کرتوتوں کی بنیاد پر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ یعنی اس کے والد کو موردِ الزام ٹھہرایا جائے ۔ اگر یوں سوچیں تو حضرت نوح علیہ السلام کا بھی ایک بیٹا تھا اور وہ کافر تھا ، وہ ایمان ہی نہیں لایا قرآن نے ذکر کیا ہے ۔ تو بیٹے کا عمل معاذاللہ ٓپ کس بنیاد پر باپ کے کھاتے میں ڈالتے ہیں ، باپ پیغمبر ہے اور بیٹا کافر ہے ۔ ان چکروں میں مت پڑا کریں ۔ اپنے دل و دماغ کو پاک و صاف رکھیں۔ اللہ پاک نے فرمایا :م وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى ایک کا بوجھ دوسری جان نہیں اٹھائی گی۔ ان رضی اللہ عنہ کا عمل ان کیساتھ اور اس کا عمل اس کے ساتھ ۔ ہاں یہ بات ضرور ہےکہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے درجہ ، مرتبہ اور فضلیت میں نہ خلفاء راشدین رضی اللہ عنھم کے برابر ہیں اور نہ سیدنا علی شیرِ خدا رضی اللہ عنہ کے برابر ہیں،نہ حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کے برابر ہیں ۔ اہل بیت اطہار، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے شہزادگان ، سیدنا علی شیر خدا رضی اللہ عنہم کسی کے برابر بھی درجہ و فضلیت میں نہیں ہیں ۔ نہ وہ خلفائے راشدین رضی اللہ عنھم میں سے ہیں ، نہ عشرہ مبشرہ میں سے ، نہ پہلے چالیس میں سے اور نہ بدری تین سو تیرہ صحابہ میں سے ہیں ۔ وہ وہ حتیٰ کہ پہلے دس ہزار جو فتح مکہ سے قبل السابقون الاوالون میں سے ہیں (رضی اللہ عنھم اجمعین) ۔ وہ بعد میں ایمان لانے والے صحابہ میں ہیں ۔ ان کے والد حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ اور پھر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بھی ۔ مگر اس میں شک نہیں وہ صحابی ہوئے ۔ اور صحابی ہونے کے ناطے ، بحیثیت صحابی جو فضلیتیں صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے لئے بالعموم مقدر ہیں وہ ان رضی اللہ عنہ کو میسر ہوئیں ۔ اور جنت کا اور حسن آخرت کا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ان کیلئے وعدہ کیا ، سب صحابہ کیلئے ، یہ بھی اس وعدہ میں شریک ہیں ۔ لہٰذا ان کو تنقید کرنا یا گالی گلوچ کرنا یا ملامت کرنا مطلقاً حرام ہے اور اپنی آخرت تباہ کرنے کے مترادف ہے ۔ (طالبِ دعا ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

ایمانِ ابوطالب کے بارے میں مسلمانانِ اہلسنت کے اکابرین کے خلاف بکواس کرنے والوں کو انہی کے گھر سے جواب

ایمانِ ابوطالب کے بارے میں مسلمانانِ اہلسنت کے اکابرین کے خلاف بکواس کرنے والوں کو انہی کے گھر سے جواب محترم قارئینِ کرام : شیعہ مفسر قمی لک...