Tuesday, 28 July 2026

ایمانِ ابو طالب کتبِ شعیہ و اہلسنت اور حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کے ارشادت کی روشنی میں

ایمانِ ابو طالب کتبِ شعیہ و اہلسنت اور حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کے ارشادت کی روشنی میں

محترم قارئینِ کرام : مسئلہ ایمانِ ابو طالب اور اس جیسے دیگر مسائل پر خاموش رہنے میں ہی سلامتی ہے ۔ یہ عاجز اس طرح کے طرح کے مسائل پر بار بار نہیں لکھنا چاہتا مگر بعض شدت پسند و شرپسند عناصر نے اسے ایمان و کفر کا مسئلہ بنا لیا ہے اور عدمِ ایمان کے قائلین جمہور امت ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ سب پر کفر کے فتوے لگانا شروع کر دیے ہیں جیسا کہ آج کل جو کہ اہلسنت کے لبادے میں چھپے بعض شرپسند لوگ روافض سے بڑھ کر اس مسئلہ پر شدت دیکھا رہے ہیں اور کہتے ہیں جو ایمان کا قائل نہیں وہ کافر ہے ۔ أَسْتَغْفِرُ اللّٰه ۔ مسئلہ ایمانِ جنابِ ابو طالب پر نا چاہتے ہوۓ بھی ہمیں لکھنا پڑا وجہ جہلا پیر ، اجہل نقیب ، جاہل شعرا و نوٹ خوان اور کیسٹی مختی خطیب ہیں جو بنا تحقیق کیے عدمِ ایمان کے قاٸلین کے خلاف اس قسم کی غلیظ و جاہلانہ زبان استعمال کر رہے ہیں کہ بازاری رنڈیاں بھی شرما جاٸیں اور اِن جہلا کو اتنا بھی احساس نہیں کہ اِن کی جہالت و غلاظت کی زَد میں کون کون آ رہا ہے ۔ ہم اخلاق و تہذیب کا دامن تھامے ہم اکابرینِ امت علیہم الرحمہ کے فرامین اور فرامینِ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ پیش کر رہے ہیں اور یہ امید رکھتے ہیں کہ احباب اس پر غور فرمائیں گے کہ اکابرینِ امت علیہم الرحمہ اور حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر کوئی عالم و محقق ہو سکتا اگر بزعم خویش کوٸی ہے تو اسے مبارک ہو ۔ آئیے اِن فرامین کو پڑھتے ہیں اور فیصلہ آپ کے ایمان و ضمیر پہ چھوڑتے ہیں : ⏬


حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : لَمَّا تُوُفِّيَ أَبِي أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ : إِنَّ عَمَّكَ قَدْ تُوُفِّيَ قَالَ : اذْهَبْ فَوَارِهِ ، قُلْتُ : إِنَّهُ مَاتَ مُشْرِكًا ، قَالَ : اذْهَبْ فَوَارِهِ وَلَا تُحْدِثَنَّ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي ، فَفَعَلْتُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَأَمَرَنِي أَنْ أَغْتَسِلَ ۔

ترجمہ : جب میرے والد فوت ہوئے تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خد مت میں حا ضر ہوا اور عرض کی : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا فوت ہو گئے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جا کر انہیں دفنا دیں ۔ میں نے عرض کی : یقیناً وہ تو مشرک ہونے کی حالت میں فوت ہوئے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جائیں اور انہیں دفنا دیں ، لیکن جب تک میرے پاس واپس نہ آئیں کوئی نیا کام نہ کریں ۔ میں نے ایسا ہی کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے غسل کرنے کا حکم فرمایا ۔ (مسند الطيالسی صفحہ نمبر 19 حدیث نمبر 122 ، وسنده ، حسن متصل،چشتی)


حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان پڑھتے ہیں : حضرت سیّدنا علی بن طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : لَمَّا تُوُفِّيَ أَبِي أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ : إِنَّ عَمَّكَ قَدْ تُوُفِّيَ قَالَ : اذْهَبْ فَوَارِهِ ، قُلْتُ : إِنَّهُ مَاتَ مُشْرِكًا ، قَالَ : اذْهَبْ فَوَارِهِ وَلَا تُحْدِثَنَّ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي ، فَفَعَلْتُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَأَمَرَنِي أَنْ أَغْتَسِلَ ۔

ترجمہ : حضرت سیدنا مولا علی بن طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب میرے والد فوت ہوئے تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمہ کی خد مت میں حا ضر ہوا اور عرض کی : آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے چچا فوت ہو گئے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جا کر انہیں دفنا دیں ۔ میں نے عرض کی : یقیناً وہ تو مشرک ہونے کی حالت میں فوت ہوئے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جائیں اور انہیں دفنا دیں ، لیکن جب تک میرے پاس واپس نہ آئیں کوئی نیا کام نہ کریں ۔ میں نے ایسا ہی کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے غسل کرنے کا حکم فرمایا ۔ (مسند الطيالسي صفحہ نمبر 19 حدیث نمبر 120 ، وسنده ‘ حسن متصل،چشتی)

ایک روایت کے الفاظ ہیں : إِنَّ عَمَّكَ الشَّيْخَ الضَّالَّ قَدْ مَاتَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ : ‏‏‏‏ اذْهَبْ فَوَارِ أَبَاكَ ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ لَا تُحْدِثَنَّ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي، ‏‏‏‏‏‏فَذَهَبْتُ فَوَارَيْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَجِئْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَرَنِي ، ‏‏‏‏‏‏فَاغْتَسَلْتُ وَدَعَا لِي ۔

ترجمہ : حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گمراہ چچا فوت ہو گئے ہیں ان کو کون دفنائے گا ؟ ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جائیں اور اپنے والد کو دفنا دیں ۔ (مسند الامام احمد جلد 1 صفحہ 97)(سنن ابي داؤد : 3214) (سنن النسائي : 190 ، 2008 ، واللفظ لهٗ ، وسندهٗ حسن) ۔ اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمۃ اللہ علیہ نے الاصابته في تميز الصحابته لابن حجر جلد 7 صفحہ 114 اور امام ابنِ جارود رحمۃ اللہ علیہ 550ھ نے ”صحیح“ قرار دیا ہے ۔


حضرت امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : حضرت سیدنا مولا علی شیر خدا رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کی : ابوطالب فوت ہوگئے ہیں ، فرمایا : جاؤ انہیں زمین میں چُھپا دو ۔ عرض کی : وہ مشرک کی حیثیت سے مرے ہیں ، فرمایا : جاؤ انہیں چُھپا دو ، جب میں نے انہیں زمین میں چُھپا کر آیا تو مجھے فرمایا : غسل کرو ۔ (سنن نسائی صفحہ 30 حدیث 190 مطبوعہ دارطریق لنشروالتوزیع)(سنن نسائی مترجم جلد 1 صفحہ 102 حدیث 190 مطبوعہ ضیاء القرآن پبلیکیشنز لاہور)


اس روایت سے پتا چلا کہ خود مولا علی ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اپنے والد ابوطالب کو مشرک کہہ رہے ہیں ۔ یعنی آپ کے نزدیک ابوطالب کا ایمان لانا ثابت نہیں تھا ۔

اب پہلے تو اس شدت پسند ٹولے کو چاہیے کہ امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ پر بھی ویسے ہی لعن طعن کریں ، جیسا کہ اس زمانے کے عدم ایمان کے قائلین سُنّیوں پر کرتے ہیں ۔ کہ امام نسائی نے نہ صرف تائیداً ایسی روایت نقل کی بلکہ یہاں جو باب قائم کیا اس کا نام رکھا ۔

” الغسل من مواراة المشرک “ مشرک کو زمین میں چھپانے کے بعد غسل کرنا ۔

تو بتاؤ : کیا امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ ایسا عقیدہ رکھنے کے بعد بھی محب اہل بیت ہی کہلائیں گے ؟


اگر کہلائیں گے تو فی زمانہ ایسا عقیدہ رکھنے والے اہل سنت سے کیوں تکلیف ؟


اس روایت سے صاف پتا چلا کہ آج جمہور امت کا عدم ایمان کا جو عقیدہ و موقف ہے وہی حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کا تھا ۔ لہذا جمہور امت تو اپنے آقا و مولا سیدنا حضرت مولا علی شیر خدا رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہے ، تم کس کے ساتھ ہو ؟


نوٹ : تفضیلی ٹولے اور روافض کی طرف سے پھیلائی گئی گمراہانہ باتوں اور جارہانہ رویے نے مجبور کیا کہ اس موضوع پہ لکھوں ، ورنہ اللہ تعالی بہتر جانتا ہے کہ ہمارے لیے یہ موضوع خوش کن نہیں ہے ۔


مسئلہ ایمانِ ابوطالب کے بارے میں بعض لوگ قدر غلو سے کام لے رہے ہیں کہ اللہ کی پناہ ۔ سنی کہلانے والے بڑے بڑے پیر بھی اس مسئلے میں متبع روافض نظر آرہے ہیں ۔ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی وجہ سے ابو طالب کے متعلق خاموشی کو احوط سمجھتے ہیں ۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اجلہ صحابہ و اہل بیت رضی اللہ عنہم اور ائمہ و فقہا علیہم الرّحمہ کے خلافِ عمل ، ابوطالب کے قصیدے پڑھے جائیں اور ابوطالب کو مسلمان نہ سمجھنے والوں کے متعلق گندی زبان استعمال کی جائے ۔ قائلین ایمانِ ابوطالب ہوش کے ناخن لیں ، شاید انہیں معلوم نہیں کہ صحیح حدیث کے مطابق حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ فداہ ابی وامی بھی ابوطالب کو ” ضال “ سمجھتے تھے ۔ تو کیا ان رافضی ذہنیت والے پیرانِ فرتوت کی زد میں حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ بھی نہیں آجاتے ۔ ان باطنی رافضیوں اور ظاہری خارجیوں کی زد میں صرف حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ ہی نہیں دیگر اہل بیت واصحاب رسول رضی اللہ عنہم بھی آجاتے ہیں جو ایمانِ ابوطالب کے قائل نہیں تھے ۔


حضرت سیدنا غوث الاعظم شیخ سید عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : جب ابوطالب پر موت کا وقت آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا ! اے میر چچا ! لا الٰہ الا اللہ پڑھیے میں اس کلمہ کی وجہ سے اللہ کے پاس آپ کی شفاعت کروں گا ، تو ابوطالب نے کہا مجھے علم ہے کہ آپ سچے ہیں لیکن میں اس کو ناپسند کرتا ہوں کہ یہ کہا جائے کہ ابوطالب موت سے گھبرا گیا ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ابو طالب کی مغفرت طلب کرنے سے کرنے سے منع فرما دیا ۔ (تفسیر الجیلانی جلد نمبر 3 صفحہ نمبر 457 مطبوعہ المکتبۃ المعروفیہ کانسی روڈ کوئٹہ پاکستان،چشتی)


حضرت سیدنا غوث الاعظم شیخ سید عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ابو طالب کی ہدایت کی دعا کی مگر اللہ نے اس دعا کو قبول نہ فرمایا اور ابو طالب کو ہدایت نہ کی ۔ حضرت حمزہ کے قاتل وحشی (رضی اللہ عنہما) کو ہدایت عطاء کی گئی ۔ (الغنیۃ لطالبی طریق الحق صفحہ 287 ، 288 مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت لبنان)(غنیۃ الطالبین مترجم اردو صفحہ 495 مطبوعہ فرید بکسٹال اردو بازار لاہور)


محترم قارئینِ کرام : آج کل بعض لوگ کہہ رہے ہیں کہ : سیدنا ابوطالب علیہ السلام پہلا مسلمان اور پہلا صحابی اور کفیل رسول اللہ ہے ہمارے لیے ایمان آزمانے کےلیے ایمان کی کسوٹی ہے ، جو ابوطالب کو "علیہ السلام" کہے گا وہ ہمارا ہے جو ان کے بارے میں گندی زبان ہلائے ، وہ ہمارا نہیں ہے ۔ اس سے دور رہنا چاہیے ۔ جو علی کے باپ کو کافر کہے وہ مومن نہیں ۔۔۔ کبھی بھی نہیں ۔ وغیرہ ۔


ہمارا سوال یہ ہے کہ اگر ایسا ہی ہے جیسا کہ آپ لو کہہ رہے ہیں ، تو پھر ائمہ محدثین مفسرین علیہم الرّحمہ سے اتنی بڑی بات کیسے چُھپی رہ گئی اور انہیں علم کیوں نہ ہوسکا ؟


صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سوانح و تعارف پہ بڑی بڑی کتابیں محدثین علیہم الرّحمہ نے لکھیں ہیں ، تو جنابِ ابوطالب کا نام کیوں چھوڑ گئے ؟


حضرت سیدنا غوث الاعظم شیخ سیّد عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ جو امام الاولیاء ہیں ، جن کے نام پر آپ کے آستانے چل رہے ہیں ، کیا وہ بھی اس حقیقت سے ناآشنا رہے ؟ ، آخر وہ کون سی وجوہات تھیں ، کہ سلف صالحین علیہم الرّحمہ جناب ابوطالب کے نام کی کانفرنسیں منعقد کرنے کی سعادت سے محروم رہے ؟ ، آخر وہ کیا وجہ تھی کہ اسلاف علیہم الرّحہ آپ کے خود ساختہ معیار پر "علیہ السلام" لکھ کر پورا نہ اتر سکے ؟ ، اس وقت جتنے لوگ ایمان ابی طالب کے مسئلہ کو لے کر انتشار پھیلا رہے ہیں ، ان سب سے گزارش ہے کہ آخر آج وہ کون سی آفت آن پڑی ہے کہ اہل سنت کو روافض کی جھولیوں میں ڈالنے کی بھرپور کوششیں کی جارہی ہیں ، اور ایمان ابی طالب کے مسئلہ پر خاموشی توڑ کر اسے عوام میں یوں بیان کیا جارہا ہے ، جسے سُن کر بڑے بڑے اکابرینِ اہلسنّت پر لوگ انگلیاں اٹھانے لگ پڑے ہیں ؟ ، کیا آپ لوگ خود کو حضرت سیّدنا غوثُ الاعظم شیخ سیّد عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ سے بھی بڑے سید اور محب اہل بیت سجھتے ؟ اگر سجھتے تو بھی بتادیں اور اگر نہیں سمجھتے تو پھر کم از کم یہ سمجھنے کی کوشش کریں ، کہ انہوں نے جناب ابوطالب کے بارے میں آپ جیسا عقیدہ و نظریہ کیوں نہ رکھا ۔


شیعہ کتب کی روشنی میں : ⏬


محترم قارئینِ کرام : تعجب کی بات ہے کہ ایمان ابو طالب پر شیعہ کتب میں ایک ضعیف ترین روایت بھی موجود نہیں ہے ۔ تاریخ اسلام ، اہلسنت کتب حتی کہ شیعہ کتب کی کسی بھی روایت میں وہ اہم واقعہ بیان ہی نہیں ہوا کہ : جنابِ ابوطالب نے فلاں موقعہ پر توحید و رسالت کی گواہی دی ۔ جنابِ ابوطالب دائرہ اسلام میں داخل ہوئے ۔ جنابِ ابوطالب نے اسلامی شریعت پر عمل کیا ۔ جنابِ ابوطالب نے اپنے ایمان کا اعلان کیا ۔


جن آیات قرآنی سے شیعہ استدلال کرتے ہیں ان سے جنابِ ابو طالب کا ایمان ثابت ہی نہیں ہوتا اور کچھ احکامات تو جنابِ ابوطالب کی وفات کے بعد نازل ہوئے ۔


شیعوں کے ہاں کھینچ کھانچ کے اقوال معصومین پر ایمان ابوطالب تسلیم کیا جاتا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شیعہ کی اصول اربعہ کی اوّل نمبر کتاب اصول کافی میں ایک صحیح السند قول حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کا موجود ہے جو ان تمام اقوال معصومین کی نفی بیان کرتا ہے ، جو شیعہ حضرت ابوطالب کے ایمان کی تائید میں پیش کرتے ہیں :


شیعہ امام محمد بن یعقوب الکلینی نے اپنی کتاب الکافی میں ایک روایت نقل کی ہے جو اس طرح ہے : علي بن إبراهيم ، عن أبيه، عن ابن أبي عمير ، عن هشام بن سالم ، عن ابي عبدالله (عليه السلام) قال : إن مثل أبي طالب مثل أصحاب الكهف أسروا الايمان وأظهروا الشرك فآتاهم الله أجرهم مرتين ۔

ترجمہ : حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ ابو طالب علیہ السلام کی مثال اصحاب کہف کی سی ہے ، انہوں نے ایمان کو چھپایا اور شرک کو ظاھر کیا ، پس خدا نے ان کو دو اجر دیے ۔ (الاصول الكافی شیخ یعقوب الکینی اردو ترجمہ جلد ٣ کتاب الحجت باب مولد النبی صلى الله عليه وآله وسلم ووفاته صفحہ ٢٢ رقم ٢٨ طبع الھند،چشتی)


تحقیق السند : علي بن إبراهيم : یہ بالاتفاق ثقہ ہے ۔ شیخ نجاشی نے فرمایا : ” علي بن إبراهيم بن هاشم أبو الحسن القمي، ثقة ۔


ابراهيم بن هاشم : سيد الخوئی انکے بارے میں کہتے ہے : إبراهيم بن هاشم أبو إسحاق القمّى، أصله كوفي انتقل إلى قم، قال أبو عمرو الكشّى: تلميذ يونس بن عبدالرحمان، من أصحاب الرضا عليه السلام، وهذا قول الكشّى، وفيه نظر، …۔۔ تنظّر النجاشي في محلّه، بل لايبعد دعوى الجزم بعدم صحّة ماذكره الكشّي والشيخ۔ والوجه في ذلك إن إبراهيم بن هاشم مع كثرة رواياته،أقول: لاينبغي الشكّ في وثاقة إبراهيم بن هاشم، ويدلّ على ذلك عدّة أمور: : أنّ السيّد ابن طاووس إدّعى الاتفاق على وثاقته، حيث قال عند ذكره رواية عن أمالي الصدوق في سندها إبراهيم بن هاشم: (ورواة الحديث ثقات بالاتفاق)


ابن أبي عمیر : یہ بھی ثقہ الامامی ہے ۔


هشام بن سالم : یہ بھی ثقہ الامامی ہی ہے ۔


لہذا یہ روایت بلکل صحیح ہے ، اس میں کسی باشعور اہل علم شخص کو شک نہیں ہونا چاھیے ۔ اس روایت کو ان علماء نے بھی صحیح یا حسن قرار دیا ہے : الشيخ هادي النجفي نے اپنی کتاب موسوعته ج٥ ص٣٢١ میں اس کے بارے میں فرمایا : الرواية صحيحة الإسناد ۔ (اس روایت کی سند صحیح ہے )


السيد محمد علي الابطحي نے تهذيب المقال ج٥- ص٤٥٢ میں کہا : صحيح ۔


العلامة المجلسي نے الکافی کی شرح مرآة العقول في شرح أخبار آل الرسول، جلد 5، ص: 253 میں اس روایت کے بارے میں فرمایا : الحديث حسن ۔ ( یہ حسن حدیث ہے )


کم و بیش یہی روایت کئی اور شیعہ کتب میں بھی موجود ہے۔ مثال کے طور پر ۔ (البرهان في تفسير القرآن الجزء الثاني تأليف السيد هاشم بن سليمان البحراني)(وسائل الشیعہ جلد 16 صفحہ نمبر 225)


حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ سے منسوب یہ روایت اہل تشیع کے اصولوں کے مطابق ایک صحیح السند روایت ہے ۔ اس روایت میں دو نکات غور طلب ہیں ۔ جنابِ ابوطالب کی مثال اصحاب کہف جیسی ہے۔

جنابِ ابوطالب نے ایمان کو چھپایا اور شرک کو ظاہر کیا ۔


قرآن کریم میں اصحاب کہف کا قصہ سورت الکھف میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے : نَحۡنُ نَقُصُّ عَلَیۡکَ نَبَاَہُمۡ بِالۡحَقِّ ؕ اِنَّہُمۡ فِتۡیَۃٌ اٰمَنُوۡا بِرَبِّہِمۡ وَ زِدۡنٰہُمۡ ہُدًی (13) وَّ رَبَطۡنَا عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ اِذۡ قَامُوۡا فَقَالُوۡا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ لَنۡ نَّدۡعُوَا۠ مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اِلٰـہًا لَّقَدۡ قُلۡنَاۤ اِذًا شَطَطًا (14) ہٰۤؤُلَآءِ قَوۡمُنَا اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اٰلِہَۃً ؕ لَوۡ لَا یَاۡتُوۡنَ عَلَیۡہِمۡ بِسُلۡطٰنٍۭ بَیِّنٍ ؕ فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا ؕ(15) ۔

ترجمہ : ہم اُن کے حالات تم سے صحیح صحیح بیان کرتے ہیں ۔ وہ کئی جوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے تھے اور ہم نے ان کو اور زیادہ ہدایت دی تھی ۔ (13) ۔ اور ان کے دلوں کو مربوط (یعنی مضبوط) کردیا۔ جب وہ (اُٹھ) کھڑے ہوئے تو کہنے لگے کہ ہمارا پروردگار آسمانوں اور زمین کا مالک ہے۔ ہم اس کے سوا کسی کو معبود (سمجھ کر) نہ پکاریں گے (اگر ایسا کیا) تو اس وقت ہم نے بعید از عقل بات کہی ۔ (14) ۔ ان ہماری قوم کے لوگوں نے اس کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں ۔ بھلا یہ ان (کے خدا ہونے) پر کوئی کھلی دلیل کیوں نہیں لاتے ۔ تو اس سے زیادہ کون ظالم ہے جو خدا پر جھوٹ افتراء کرے ۔


ان آیات کے مطابق اصحاب کہف نے اپنے ایمان کو ہرگز نہیں چھپایا تھا بلکہ اللہ عزوجل پر ایمان کا برملا اظہار کرتے ہوئے بتوں سے بیزاری ظاہر کی تھی ۔ اسی لیے تو بادشاہ دقیانوس کے خوف سے غار میں چھپ گئے تھے ۔ اگر اصحاب کھف اپنا ایمان ظاہر نہ کرتے تو پھر انہیں غار میں چھپنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ؟


جنابِ ابوطالب نے بھی اگر اصحاب کہف کی طرح ایمان کا اظہار کیا ہوتا اور بتوں سے بیزاری ظاہر کی ہوتی تو اس روایت میں ان کے ایمان کو ظاہر کرنا ضرور بیان کیا گیا ہوتا ، لیکن اس کے بجائے روایت میں واضح الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ جنابِ ابوطالب نے ایمان کو چھپایا اور شرک کو ظاہر کیا ۔


یعنی روایت کے دونوں حصے نہ صرف ایک دوسرے سے متعارض ہیں بلکہ شیعہ کے عقیدے ایمان ابو طالب کو بھی جڑ سے اکھاڑ دیتے ہیں ۔ اہلسنت کے نزدیک یہ جھوٹی روایت ہے اور اس سے شان حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ بھی بری طرح مجروح ہوتی ہے۔کیا حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کو اتنا علم بھی نہ تھا کہ اصحاب کہف نے اپنا ایمان ظاہر کیا تھا اور اسی وجہ سے غار میں چھپ گئے تھے ، اور یہ مثال جنابِ ابو طالب کی زندگی سے مطابقت نہیں رکھتی ۔


روایت کے دوسرے حصے کے مطابق اہل تشیع کے ہاں جنابِ ابو طالب پوری زندگی شرک کرتے رہے یعنی بت پرستی کرتے رہے جبکہ اہلسنت کے ہاں جنابِ ابو طالب کو مشرک نہیں بیان کیا گیا بلکہ ان کا آخری گھڑی تک دین ابراہیمی پر قائم رہنا بیان ہوا ہے ۔


ایک طرف شیعہ اہلسنت پر جنابِ ابو طالب کی توہین کا الزام لگاتے ہیں تو دوسری طرف خود ان کی اوّل درجہ کی کتاب میں امام کے نام سے ایسی روایت موجود ہے جو جنابِ ابوطالب کو پوری زندگی شرک اور بت پرستی کرتے رہنا بیان کر رہی ہے ۔ حد تو یہ بھی ہے کہ شیعہ جیّد علماء امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب اس جھوٹی روایت کو صحیح تسلیم کرتے ہیں اور اس کی توثیق کر کے نہ صرف حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ بلکہ حضرت ابو طالب کی بھی توہین کرتے آ رہے ہیں ۔


آخری اہم بات : اہل تشیع کی صحیح السند روایت سے اہل سنت کا مؤقف ثابت ہوتا ہے کہ

جنابِ ابو طالب کا اسلام قبول کرنا ، اعلان کرنا ، اسلامی شریعت پر عمل کرنا وغیرہ کسی صحیح السند روایت سے ثابت نہیں ہے ۔ اس روایت میں اصحاب کہف کی مثال غلط دی گئی ہے ، کیونکہ قرآن سے متعارض ہے ۔


اب اہل تشیع کے پاس دو راستے ہیں ۔ اصحاب کہف کی طرح جنابِ ابوطالب کا ایمان قبول کرنا اور بتوں سے بیزاری ظاہر کرنا ثابت کریں ۔

یا روایت کے دوسرے حصہ کو تسلیم کریں کہ جنابِ ابوطالب نے پوری زندگی اسلام قبول نہیں کیا تھا جوکہ اہلسنت کا مؤقف ہے ۔


شیعہ عالم ابو جعفر محمد بن الحسن الطوسی متوفی ٠٦٤ ھ القصص : ٦٥ کی تفسیر میں لکھتے ہیں : حضرت ابن عباس (رضی اللہ عنہما) ‘ مجاہد ‘ حسن اور قتادہ وغیر ہم سے مروی ہے کہ یہ آیت ( القصص : ٦٥) ابو طالب کے متعلق نازل ہوئی ہے ‘ اور ابو عبداللہ اور ابو جعفر سے مروی ہے کہ ابو طالب مسلمان تھے اور اسی پر امامیہ کا اجماع ہے اور ان کا اس میں اختلاف نہیں ہے اور ان کے اس پر دلائل قاطعہ ہیں ‘ یہاں ان کو ذکر کا موقی نہیں ہے ۔ (البتیان ج ٨ ص ٤٦١‘ داراحیاء التراث العربی بیروت،چشتی)


شیعہ عالم ابو علی الفضل بن الحسن الطبرسی (من علماء القرن السادس) الانعم : ٦٢ کی تفسیر ہیں لکھتے ہیں : ابو طالب کے ایمان پر اہل بیت کا اجماع ہے اور ان کا اجماع حجت ہے کیونکہ وہ اس ثقلین میں سے ایک ہیں جن کے ساتھ تمسک کرنے کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا ہے ‘ آپ نے فرمایا اگر تم ان کے ساتھ تمسک کرو گے تو گمراہ نہیں ہو گے ‘ اور اس پر یہ بھی دلیل ہے کہ حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر (رضی اللہ عنہ) فتح مکہ کے دن اپنے والد ابو قحافہ کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے کر گئے ‘ وہ اسلام لے آئے ‘ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم اس بوڑھے کو کیوں لے کر آئے ‘ وہ نابینا تھے ‘ میں خود ان کے پاس آجاتا ‘ حضرت ابوبکر نے کہا میرا ارادہ تھا اللہ تعالیٰ ان کو اجر عطا فرمائے گا ‘ اور اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے مجھے اپنے باپ کے اسلام لانے سے زیادہ خوشی ابوطالب کے اسلام لانے سے ہوئی تھی جس کے اسلام لانے سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوئی تھیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے سچ کہا۔ ابوطالب کے وہ اقوال اور اشعار جن سے ان کے اسلام کا پتا چلتا ہے بہت زیادہ ہیں ‘ بعض اشعار یہ ہیں : ⏬


الم تعلموا اناوجد نا محمدا نبیا کموسی خط فی اول الکتب ۔

کیا تم کو معلوم نہیں کہ ہم نے محمد کو موسیٰ کی طرح نبی پایا ان کا ذکر پہلی کتابوں میں لکھا ہوا ہے ۔

الاان احمد قد جاء ھم بحق ولم یاتھم بالکذب ۔

سنو بیشک احمد ان کے پاس حق لے کر آئے ہیں اور وہ جھوٹ نہیں لائے ۔ (مجمع البیان جز ٤ ص ٥٤٤۔ ٤٤٤‘ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت)


شیعہ عالم محمد حسین الطباطبائی القصص : ٦٥ کی تفسیر میں لکھتے ہیں : ابوطالب کے ایمان کے متعلق ائمہ اہل بیت کی روایات مشہور ہیں اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق اور آپ کے دین کے برحق ہونے کے متعلق ان کے اشعار بہت زیادہ ہیں ‘ اور جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کمسن تھے توا نہوں نے ہی آپ کو پناہ دی تھی ‘ اور بعثت کے بعد ہجرت سے پہلے انہوں نے ہی آپ کی حفاظت کی تھی اور مہاجرین اور انصار نے ہجرت کے بعد دس سال تک جو آپ کی نصرت اور حفاظت کی ہے اس کے برابر ہجرت سے پہلے دس سال تک ابوطالب نے آپ کی حفاظت کی ۔ (المیزان ج ٦١ ص ٧٥‘ مطبوعہ دارالکتب الاسلامیہ ا ایران ‘ ٢٦٣١ ھ،چشتی)


شیخ طبرسی نے جو روایت پیش کی ہے اس کا کوئی حوالہ ذکر نہیں کیا ‘ اور نہ ان اشعار کی کوئی سند ہے ۔


ایمانِ ابو طالب کے متعلق ایک حدیث کی تحقیق : ⏬


حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : فلما رأی حرص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم علیه قال :یا ابن أخي! والله، لو لا مخافة السبة علیك وعلی بني أبیک من بعدي، وأن تظن قریش أني إنما قلتھا جزعا من الموت لقلتھا، لا أقولھا إلا لإسرک بھا ، قال: فلما تقارب من أبي طالب الموت قال: نظر العباس إلیه یحرک شفتیه، قال: فأصغی إلیه بأذنه، قال: فقال: یا ابن أخي ! واللہ، لقد قال أخي الکلمة التي أمرته أن یقولھا، قال: فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : لم أسمع ۔

ترجمہ : جب ابو طالب نے اپنے (ایمان کے) بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حرص دیکھی تو کہا : اے بھتیجے ! اللہ کی قسم ، اگر مجھے اپنے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بھائیوں پر طعن و تشنیع کا خطرہ نہ ہوتا ، نیز قریش یہ نہ سمجھتے کہ میں نے موت کے ڈر سے یہ کلمہ پڑھا ہے تو میں کلمہ پڑھ لیتا ۔ میں صرف آپ کو خوش کرنے کیلئے ایسا کروں گا ۔ پھر جب ابو طالب کی موت کا وقت آیا تو عباس نے ان کو ہونٹ ہلاتے ہوئے دیکھا ۔ انہوں نے اپنا کان لگایا اور (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ) کہا : اےبھتیجے ! یقیناً میرے بھائی نے وہ بات کہہ دی ہے جس کے کہنے کا آپ نے اُنہیں حکم دیا تھا ۔ (السیرۃ لابن ھشام: ۴۱۷/۱، ۴۱۸،چشتی)(المغازي لیونس بن بکیر: ص ۲۳۸)(دلائل النبوۃ للبیھقي: ۳۴۶/۲)


یہ روایت ضعیف ہے : ⏬


امام ابن عساکر رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : اس حدیث کی سند کا ایک راوی نا معلوم ہے ۔ اس کے برعکس صحیح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ابو طالب کفر کی حالت میں فوت ہوئے ۔ (تاریخ ابن عساکر: ۳۳/۶۶)


امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ھٰذا إسنادمنقطع ۔۔۔۔"الخ ، یہ سند منقطع ہے ۔۔۔۔۔ (تاریخ الاسلام: ۱۵۱/۲)


علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں : إن في السند مبھما لا یعرف حاله ، وھو قول عن بعض أھله، وھذا إبھام في الاسم و الحال، و مثله یتوقف فیه لو انفرد........ و الخبر عندي ما صح لضعف في سندہ" ۔

ترجمہ : اس کی سند میں ایک مبہم راوی ہے ، جس کے حالات معلوم نہیں ہوسکے ، نیز یہ اُس کے بعض اہل کی بات ہے جو کہ نام اور حالات دونوں میں ابہام ہے ۔ اس جیسے راوی کی روایت اگر منفرد ہو تو اس میں توقف کیا جاتا ہے ۔۔۔ میرے نزدیک یہ روایت سند کے ضعیف ہونے کی بنا پر صحیح نہیں ۔ (البدایة و النھایة لابن کثیر: ۱۲۳/۳ ۔ ۱۲۵)


امام ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : بسند فیه لم یسم ...... و ھذا الحدیث لو کان طریقه صحیحا لعارضه ھذا الحدیث الذی ھو أصح منه فضلا عن أنه لا یصح ۔

ترجمہ : یہ روایت ایسی سند کے ساتھ مروی ہے جس میں ایک راوی کا نام ہی بیان نہیں کیا گیا .... اس حدیث کی سند اگر صحیح بھی ہو تو یہ اپنے سے زیادہ صحیح حدیث کے معارض ہے ۔ اس کا صحیح نہ ہونا مستزاد ہے ۔ (فتح الباری لابن حجر: ۱۸۴/۷)


امام بدر الدین عینی حنفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : في سند ھذا الحدیث مبھم لا یعرف حاله، وھذا إبھام في الاسم و الحال، و مثله یتوقف فیه لو انفرد ۔

ترجمہ : اس حدیث کی سند میں ایک مبہم راوی ہے جس کے حالات معلوم نہیں ہوسکے۔ نام اور حالات دونوں مجہول ہیں۔ اس جیسے راوی کی روایت اگر منفرد ہو تو اس میں توقف کیا جاتا ہے ۔ (شرح ابي داؤد للعیني الحنفي: ۱۷۲/۶)


امام سید زینی دحلان مکی رحمۃ اللہ علیہ نے اس مسئلہ پر دو ٹوک موقف لکھا ہے آپ جناب ابوطالب کے اشعار نقل کرنے اور اس سے اسلام ثابت ہوتا ہے یا نہیں ، اس پر روشنی ڈالنے کے بعد لکھتے ہیں : خلاصہ یہ ہے کہ اہلسنت کے مذاہب اربعہ کا نقطہ نظر یہ ہے ، کہ جناب ابوطالب ایمان نہیں لائے تھے ، قرآن پاک کی آیات طیبہ اور احادیث اسی امر پر دلالت کرتی ہیں ، اگرچہ انہیں حضور علیہ السلام کی نبوت کی تصدیق قلبی حاصل تھی ، مگر انقیاد ظاہری کے بغیر وہ سود مند نہیں ۔ (لاسیرة النبویہ مترجم صفحہ 111 مطبوعہ ضیاء القرآن)


ایمانِ ابو طالب حضرت سیّد داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کی نظر میں : ⏬


حضرت سید علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : استدلال میں سے ابو طالب سے بڑھ کر کوئی نہ تھا اور حقانیت کی دلیل حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بزرگ تر کچھ نہیں ہو سکتی تھی ، ابو طالب کےلیے چونکہ بد بختی کا حکم جاری ہو چکا تھا ۔ (توفیق الٰہی اُن کے مقدر میں نہ تھی) ۔ لا محالہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اقدس بھی اُسے فائدہ نہ پہنچا سکی ۔ (توفیق الٰہی اُن کے مقدر میں نہ تھی) ۔ (یعنی ابو طالب ایمان کی دولت سے محروم رہے) ۔ (کشف المحجوب فارسی صفحہ نمبر 390 مطبوعہ ثمن پبلیکیشنز لاہور،چشتی)(کشف المحجوب مترجم قدیم صفحہ نمبر 432 مطبوعہ ناشرانِ قرآن لمیٹڈ اردو بازار لاہور)


دلائل لانے والوں میں سے ابو طالب سے بڑھ کر کوئی نہ تھا اور حقانیت کی دلیل حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بزرگ تر کچھ نہیں ہو سکتی تھی مگر جبکہ جریانِ حکمِ شقاوت ابو طالب پر ہو چکا تھا ۔ لا محالہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اقدس بھی اُسے فائدہ نہ پہنچا سکی ۔ (یعنی ابو طالب ایمان کی دولت سے محروم رہے) ۔ (کشف المحجوب مترجم صفحہ نمبر 448 مطبوعہ مکتبہ شمس و قمر جامعہ حنفیہ غوثیہ بھاٹی چوک لاہور،چشتی)


ایمانِ ابو طالب حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ کی نظر میں : ⏬


تاجدار گولڑہ حضرت سیّد پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچے اور پھوپھیاں حارث ، قثم ، حمزہ ، عباس ، ابوطالب ، عبدالکعبہ ، جحل ، ضرّار ، غیداق ، ابولہب ، صفیہ ، عاتکہ ، اروی ، اُمّ حکیم ، بّرہ ، امیمہ اس جماعت میں سے حضرت حمزہ و عباس و حضرت صفیہ رضوان اللہ علیہم اجمعین وعلیہن ایمان لائے ۔ اور حاشیہ میں لکھا ہے کہ حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے انہیں تین حضرات کے مشرف با اسلام ہونے کو جمہور علماء کا مذہب قرار دیا ہے ۔ (تحقیق الحق فی کلمة الحق صفحہ نمبر 153 مطبوعہ گولڑہ شریف)


محترم قارئینِ کرام : ان تمام دلائل کے باوجود بعض ناہنجاروں کی طرف سے صرف اکابرین اہلسنت میں سے بعض کو تنقید کا نشانہ بنانا ، سوقیانہ جملے کسنا اُن کے بغض باطن کی دلیل نہیں تو کیا ہے ؟ کبھی ان لوگوں نے سوچا کہ اِن کی نفرت و غلاظت کی زد میں کون کون آرہا ہے ؟ اللہ تعالیٰ جملہ اہلسنّت کو اِن فتنہ پروروں اور فتنوں سے محفوظ فرمائے آمین ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)












No comments:

Post a Comment

ایمانِ ابو طالب کتبِ شعیہ و اہلسنت اور حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کے ارشادت کی روشنی میں

ایمانِ ابو طالب کتبِ شعیہ و اہلسنت اور حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کے ارشادت کی روشنی میں محترم قارئینِ کرام : مسئلہ ایمانِ ابو طالب اور اس ج...