Saturday, 18 July 2026

شیعوں کی طرف سے بیت اللہ شریف کی توہین مع مدلل جواب

شیعوں کی طرف سے  بیت اللہ شریف کی توہین مع مدلل جواب


محترم قارئینِ کرام : شیعہ ملاباقر مجلسی کی کتاب لکھتا ہے : حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا : اے مفصل ! ایک مرتبہ زمین کے مختلف خطوں نے آپس میں تفاخر کیا ، چنانچہ کعبہ بیت الحرام نے سرزمین کربلا کی مقابلہ پر فخر کیا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی جانب وحی ہوتی کہ اے کعبہ بیت الحرام! چپ ہو جا ، کربلا کے مقابلے میں فخر نہ کر ۔ (بحارالانوار باب 28 صفحہ نمبر 489)


ملا باقر مجلسی شیعہ لکھتا ہے : ابوعبداللہ (امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے کعبہ کی طرف یہ وحی کی : اے کعبہ ، اگر کربلا کی مٹی نہ ہوتی تو میں تمہیں فضیلت نہ بخشتا اور اگر کربلا کی زمین کے لوگ نہ ہوتے تو میں تمہیں پیدا نہ کرتا اور نہ وہ گھر پیدا کرتا جس کی وجہ سے تو فخر کرتا ہے ۔ لہٰذا اسی فضیلت پر راضی ہوجا اور سکون کر اور رواضع اختیار کر ، ذلیل و رسوا ہوکر اور کربلا کی زمین کے سامنے فخر و غرور نہ کر ، وگرنہ میں تم پر ناراض ہوجاؤں گا اور تمہیں جہنم کی آگ میں جھونک دونگا ۔ (کامل الزیارات روایت نمبر 675 صفحہ نمبر 449 ، 450)


کیوں جناب پیرانِ عظام ، سجادہ نسینان ، ذیشان خطیب حضرات ، مفتیانِ کرام و نقیب حضرات یہ گستاخی نہیں ہے ؟


یہاں آپ کے قلم ، لب ، فتوے ، تقوے ، گھن گرج غریتِ ایمانی سب خاموش کیوں ؟


اس طرح کے عقائد رکھنے والوں کے خلاف آج تک کتنے مفتیوں نے ویڈیو بنا کر اپلوڈ کی ہیں اور کتنے مفتیوں کے فتوے جاری ہوئے ہیں ؟


اور کتنے پیروں کو اس پر درد ہوا ، تکلیف ہوئی اور انہوں نے ان گستاخیوں کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور احتجاجی جلسے جلوس کیے ؟


آخر ان مفتیوں اور پیروں کو اس طرح کے شیعوں کے غلیظ عقائد پر سانپ کیوں سونگھ جاتا ہے کہاں ہیں مفتیانِ کرام ؟


کہاں ہیں پیرانِ عظام ؟


کہاں ہیں نقیبانِ محافل ؟


کہاں ہیں ذیشان خطیب حضرات ؟


یہاں آپ کی غیرتِ ایمانی کہاں دفن ہو گئی ؟


کعبة اللہ کے فضائل : ⏬


اِنَّ اَوَّلَ بَيۡتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَـلَّذِىۡ بِبَكَّةَ مُبٰرَكًا وَّهُدًى لِّلۡعٰلَمِيۡنَ‌‌ۚ ۔ (سورہ آل عمران آیت نمبر 96)

ترجمہ : بے شک سب میں پہلا گھر جو لوگوں کی عبادت کو مقرر ہوا وہ ہے جو مکہ میں ہے برکت والا اور سارے جہان کا راہنما ۔


 یہودیوں نے کہا تھا کہ : ہمارا قبلہ یعنی بیتُ المقدس کعبہ سے افضل ہے کیونکہ یہ گزشتہ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا قبلہ رہا ہے، نیزیہ خانہ کعبہ سے پرانا ہے ۔ ان کے رد میں یہ آیتِ کریمہ اتری ۔(خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۹۶، ۱ / ۲۷۴)


 اور بتا دیا گیا کہ روئے زمین پر عبادت کیلئے سب سے پہلے جو گھر تیار ہوا وہ خانہ کعبہ ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ ’’کعبہ معظمہ بیتُ المقدس سے چالیس سال قبل بنایا گیا۔(بخاری، کتاب احادیث الانبیاء، ۱۱- باب، ۲ / ۴۲۷، الحدیث: ۳۳۶۶)


اور فرشتوں کا قبلہ بیتُ المعمور ہے جو آسمان میں ہے اورخانہ کعبہ کے بالکل اوپر ہے۔ (کنز العمال، کتاب الفضائل، باب فی فضائل الامکنۃ، ۷ / ۴۹، الجزء الرابع عشر، الحدیث: ۳۸۰۸۱)


امام محمد بن اسماعیل بخاری علیہ الرحمہ متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتح مکہ کے دن فرمایا : اس شہر کو اللہ نے حرم قرار دیا ہے ‘ اس کے کانٹوں کو (بھی) نہیں کاٹا جائے گا ‘ نہ اس کے جانوروں کو بھگایا جائے گا اور نہ اعلان کرنے والے کے علاوہ کوئی شخص اس کی گری ہوئی چیز اٹھائے گا۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٢١٦‘ مطبوعہ کراچی،چشتی)


حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک اور روایت میں ہے نہ اس کی گھاس کاٹی جائے گی نہ اس کے درخت کاٹے جائیں گے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ١٨٠‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)


ہر چند کہ اس حدیث میں مکہ مکرمہ کی فضیلت ہے لیکن مکہ مکرمہ کی یہ فضیلت کعبہ کی وجہ سے ہے اور کعبہ ہی کی وجہ سے مکہ کو حرم بنایا گیا ہے ۔


امام عبدالرزاق بن ہمام علیہ الرحمہ متوفی ٢١١ ھ روایت کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جس شخص نے بیت اللہ کا طواف کیا اور دو رکعت نماز پڑھی اور سوائے نیکی کے اور کوئی بات نہ کی تو اس کو ایک غلام آزاد کرنے کا اجر ملے گا۔ 

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ اگر لوگ ایک سال تک اس بیت کی زیارت نہ کریں تو وہ بارش سے محروم ہوجائیں گے ۔ سلیمان بن یسار بیان کرتے ہیں کہ کعب سے بیت المقدس کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے اس کی فضیلت کے متعلق احادیث بیان کیں ‘ شام کے ایک آدمی نے ان سے کہا : اے ابو عباس ! آپ بیت المقدس کا بہت ذکر کرتے ہیں اور بیت اللہ کا اتنا ذکر نہیں کرتے ؟ کعب نے ان سے کہا کہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں کعب کی جان ہے ! اللہ تعالیٰ نے تمام روئے زمین پر اس بیت سے افضل کوئی بیت پیدا نہیں کیا ‘ اس بیت کی ایک زبان ہے اور دو ہونٹ ہیں ‘ اور وہ ان سے کلام کرتا ہے ‘ اور اس کا ایک دل ہے جس سے وہ تعقل کرتا ہے یہ سن کر ابو حفص نام کے ایک شخص نے کہا کیا پتھر کلام کرتا ہے ‘ کعب نے کہا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے ! کعبہ نے اپنے رب سے یہ شکایت کی کہ میری زیارت کرنے والے اور میری طرف آنے والے کم ہوگئے ‘ اللہ تعالیٰ نے کعبہ کی طرف یہ وحی کی کہ میں تمہاری طرف ایک نئی تورات نازل کروں گا ‘ اور ایسے بندے بھیجوں گا جو رات کو جاگ کر سجدے کریں گے ‘ اور تمہارے فراق میں روئیں گے اور تمہاری طرف دوڑتے ہوئے آئیں گے ‘ اور جس نے تمہارے گرد سات طواف کیے اس کو ایک غلام آزاد کرنے کا اجر ملے گا اور جو اس بیت کے گرد سر منڈائے گا قیامت کے دن اس کو ہر بال کے بدلہ میں ایک نور حاصل ہوگا۔ (المصنف ج ٥ ص ١٤۔ ١٣ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت ‘ ١٣٩٠ ھ،چشتی)


امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی علیہ الرحمہ متوفی ٣٦٠ ھ روایت کرتے ہیں : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ ہر روز کعبہ کے گرد ایک سو بیس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ ساٹھ رحمتیں کعبہ کا طواف کرنے والوں کے لیے ‘ چالیس اعتکاف کرنے والوں کے لیے اور بیس رحمتیں کعبہ کو دیکھنے والوں کے لیے۔ (المعجم الکبیر ج ١١ ص ‘ ١٠٣‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت)


امام محمد بن اسماعیل بخاری علیہ الرحمہ متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میری مسجد میں نماز پڑھنا ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے ماسوا مسجد حرام (کعبہ) کے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ١٥٩ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)


امام ابن ماجہ علیہ الرحمہ روایت کرتے ہیں : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کسی شخص کا اپنے گھر میں نماز پڑھنا ایک نماز ہے اور محلہ کی مسجد میں نماز پڑھنا پچیس نمازوں کے برابر ہے ‘ اور جامع مسجد میں نماز پڑھنا پانچ سو نمازوں کے برابر ہے اور میری مسجد میں نماز پڑھنا پچاس ہزار نمازوں کے برابر ہے اور مسجد حرام میں نماز پڑھنا ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے۔ (سنن ابن ماجہ ص ١٠٢‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی ج ١ ص ٤٥٣‘ مطبوعہ بیروت)


حافظ ابو عمرو ابن عبدالبر مالکی علیہ الرحمہ متوفی ٤٦٣ ھ لکھتے ہیں : عام محدثین یہ کہتے ہیں کہ مسجد حرام میں نماز پڑھنارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مسجد سے سو گنا افضل ہے اور باقی مساجد سے ایک لاکھ گنا افضل ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مسجد میں نماز پڑھنا باقی مساجد سے ایک ہزار گنا افضل ہے ۔ (الاستذکار ج ٧ ص ٢٢٦‘ مطبوعہ مؤسسۃ الرسالتہ ‘ بیروت ‘ ١٤١٣ ھ)


امام محمد بن اسماعیل بخاری علیہ الرحمہ متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا صرف تین مساجد کی طرف سفر کیا جائے گا ‘ مسجد حرام ‘ مسجد رسول اور مسجد اقصی۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ١٥٨ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)


امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں : شہربن حوشب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے سامنے طور پر جا کر نماز پڑھنے کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کسی سفر کرنے والے کے لیے کسی مسجد میں نماز پڑھنے کےلیے سفر کرنا جائز نہیں ہے ماسوا مسجد حرام ‘ مسجد اقصی اور میری مسجد کے ‘ الحدیث (مسند احمد ج ٣ ص ٦٤‘ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ) ۔ حافظ ابن حجر عسقلانی اور حافظ بدرالدین عینی علیہما الرحمہ نے لکھا کہ اس حدیث کی سند حسن ہے ۔


حافظ ابن حجر عسقلانی شافعی اور حافظ بدرالدین عینی علیہما الرحمہ نے اس حدیث سے یہ استدلال کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان تین مسجدوں کے علاوہ مطلقا سفر کرنے سے منع نہیں فرمایا بلکہ کسی اور مسجد کی خصوصیت کی وجہ سے اس میں نماز پڑھنے کے قصد سے سفر کرنے سے منع فرمایا ہے ‘ اس لیے روز گار ‘ علم دین کے حصول اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر کی زیارت کے لیے سفر کرنا جائز ہے ۔


حافظ ابن حجر عسقلانی شافعی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : لہٰذا ان لوگوں کا قول باطل ہے جنہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر شریف اور دیگر صالحین کی قبروں کی زیارت کے لیے سفر کرنے سے منع کیا ہے ‘ نیز لکھا ہے کہ ابن تیمیہ سے جو مسائل منقول ہیں یہ ان میں سب سے قبیح مسئلہ ہے۔ (فتح الباری ج ٣ ص ٦٦‘ مطبوعہ دار نشر الکتب الاسلامیہ ‘ لاہور ١٤٠١ ھ)


علامہ بدرالدین محمودبن احمد عینی حنفی علیہ الرحمہ متوفی ٨٥٥ ھ لکھتے ہیں : طلب علم ‘ تجارت ‘ نیک لوگوں اور متبرک مقامات کی زیارت کے لیے سفر کرنا ممنوع نہیں ہے ‘ نیز لکھا ہے کہ قاضی ابن کج نے کہا ہے کہ اگر کسی شخص نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر کی زیارت کے لیے نذر مانی تو اس نذر کو پورا کرنا واجب ہے ۔ (عمدۃ القاری ج ٧ ص ٢٥٤‘ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٨ ھ،چشتی)


امام ملا علی قاری حنفی علیہ الرحمہ نے لکھا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر کی زیارت کےلیے سفر کو حرام کہنے کی وجہ سے شیخ ابن تیمیہ کی تکفیر کی گئی ہے اور یہ تکفیر صحت اور صواب کے زیادہ قریب ہے کیونکہ جس چیز کی اباحت پر اتفاق ہو اس کو حرام کہنا بھی کفر ہے تو جس چیز کے مستحب ہونے پر تمام علماء کا اتفاق ہے اس کو حرام کہنا بہ طریق اولی کفر ہوگا : (شرح الشفاء ج ٣ ص ١٦١۔ ١٦٠‘ مطبوعہ دار الفکر بیروت)


امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی علیہ الرحمہ متوفی ٣٦٠ ھ روایت کرتے ہیں : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص نیکی کرتا ہوا بیت اللہ میں داخل ہو وہ اپنے گناہوں سے بخشا ہوا بیت اللہ سے نکلے گا۔ (المعجم الکبیر ج ١١ ص ١٤٢ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت)


حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص بیت اللہ میں داخل ہوا وہ بخشا ہوا نکلے گا ۔


علامہ عز الدین بن جماعہ الکنانی علیہ الرحمہ متوفی ٧٦٧ ھ لکھتے ہیں : امام ابو سعید جندی فضائل مکہ میں اور امام واحدی اپنی تفسیر میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے بیت اللہ کے گرد سات طواف کئے اور مقام ابراہیم کے پاس دو رکعت نماز پڑھی ‘ اور زمزم کا پانی پیا اس کے گناہ جتنے بھی ہوں معاف کردیئے جائیں گے ۔


امام ازرقی علیہ الرحمہ نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب کوئی شخص بیت اللہ میں طواف کے ارادہ سے نکلتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کا استقبال کرتی ہے ‘ اور جب وہ بیت اللہ میں داخل ہوتا ہے تو اللہ کی رحمت اس کو ڈھانپ لیتی ہے ‘ اور اس کے ہر قدم کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ پانچ سو نیکیاں لکھ دیتا ہے اور اس کے پانچ سو گناہ مٹا دیتا ہے ‘ اور اس کے لیے پانچ سودرجات بلند کردیتا ہے اور جب وہ طواف سے فارغ ہو کر مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھتا ہے ‘ تو وہ گناہوں سے اسی طرح پاک ہوجاتا جیسے اپنی ماں کے بطن سے پیدا ہوا تھا اور اس کے لیے اولاد اسماعیل سے دس غلاموں کے آزاد کرنے کا اجر لکھ دیا جاتا ہے اور حجر اسود کے قریب ایک فرشتہ اس کا استقبال کرکے کہتا ہے تم اپنے پچھلے عملوں سے فارغ ہوگئے ‘ اب از سر نو عمل شروع کرو ‘ اور اس کو اس کے خاندان کے ستر نفوس کے حق میں شفاعت ۔


امام ابن ماجہ نے سند ضعیف کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے بیت اللہ کے سات طواف کئے ‘ اور اس نے ان کلمات کے سوا اور کوئی کلام نہیں کیا : سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر ولا حول ولا قوۃ الا باللہ “ اس کے دس گناہ مٹا دیئے جائیں گے اور اس کے لیے دس نیکیاں لکھ دی جائیں گی اور جس نے یہ کلمات پڑھتے ہوئے طواف کیا وہ اللہ کی رحمت میں ڈوبا ہوا طواف کرے گا ۔


امام فاکہی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ ستر ہزار فرشتوں نے کعبہ کا احاطہ کیا ہوا ہے وہ طواف کرنے والوں کے لیے استغفار کرتے رہتے ہیں۔ 

قاضی عیاض علیہ الرحمہ نے شفاء میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ جس شخص نے مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھی اس کے اگلے اور پچھلے گناہ معاف کردیئے جائیں گے اور قیامت کے دن اس کا امن والوں میں حشر کیا جائے گا ۔


امام ترمذی علیہ الرحمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے بیت اللہ کے گرد پچاس طواف کیے وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہوجائے گا جیسے وہ اپنی ماں کے بطن سے پیدا ہوا تھا ۔


اس حدیث سے مراد پچاس مرتب سات طواف کرنا ہے ‘ کیونکہ صرف ایک طواف کے ساتھ عبادت نہیں کی جاتی ‘ امام عبدالرزاق علیہ الرحمہ اور امام فاکہی نے یہ روایت کیا ہے کہ جس نے پچاس مرتبہ سات طواف کیے تو وہ اس دن کی طرح ہوجائے گا جس دن وہ اپنی ماں کے بطن سے پیدا ہوا ہو ‘ اور یہ مراد نہیں ہے کہ وہ پچاس مرتبہ سات طواف ایک ہی وقت میں کرے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ اس کے صحیفہ اعمال میں پچاس بار سات طواف کرنے کا عمل ہونا چاہیے ۔


امام سعید بن منصور علیہ الرحمہ نے سعید بن جبیر سے روایت کیا ہے کہ جس شخص نے بیت اللہ کا حج کیا اور پچاس مرتبہ سات طواف کیے وہ اس طرح پاک ہو کر لوٹے گا جس طرح اپنی ماں کے بطن سے پیدا ہوا تھا ۔


امام سعید بن منصور علیہ الرحمہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ جو شخص بیت اللہ میں آیا اور وہ اسی بیت کا ارادہ کر کے آیا تھا پھر اس نے طواف کیا تو وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہوجائے گا جس طرح اپنی ماں کے بطن سے پیدا ہوا تھا ۔


حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نزدیک آسمان پر اس کے سب سے معزز فرشتے وہ ہیں جو اس کے عرش کے گرد طواف کرتے ہیں اور زمین پر اس کے نزدیک سب سے معزز وہ انسان ہیں جو اس کے بیت کے گرد طواف کرتے ہیں۔ (ہدایہ السالک الی المذاہب الاربعہ ج ١ ص ٥٥‘ مطبویہ دارا الشائر الاسلامیہ بیروت)


نیز علامہ عزالدین بن جماعہ الکنانی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : بیت اللہ کی آیات میں سے یہ ہیں کہ دلوں میں اس کی ہیبت واقع ہوتی ہے اس کے پاس دل جھک جاتے ہیں ‘ اور آنکھوں سے آنسو جاری ہوتے ہیں ‘ پرندے اس کے اوپر نہیں اڑتے اور اس پر بیٹھتے نہیں ہیں ‘ البتہ اگر کوئی پرندہ بیمار ہو تو طلب شفاء کےلیے اس کے اوپر بیٹھ جاتا ہے ۔


حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں منی پر تعجب ہوتا ہے یہ بہت تنگ جگہ ہے لیکن جب لوگ یہاں آتے ہیں تو یہ وسیع ہوجاتی ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا منی رحم کی طرح ہے ‘ جب عورت کو حمل ہوتا ہے تو اللہ سبحانہ اس کو وسیع کردیتا ہے۔ (ہدایہ السالک الی المذاہب الاربعہ ج ١ ص ٣٩۔ ٣٧ مطبویہ دارا الشائر الاسلامیہ بیروت)


مکہ مکرمہ کو بکہ اور مکہ کہنے کی مناسبت : اس آیت میں فرمایا ہے ” لوگوں کے لیے سب سے پہلا گھر جو بنایا گیا وہ بکہ میں ہے “ بکہ اور مکہ ایک شہر کے دو نام ہیں ‘ اور چونکہ باء اور میم دنوں قریب المخرج ہیں اس لیے بکہ اور مکہ دونوں کہنا صحیح ہیں ‘ مکہ مکرمہ کو بکہ کہنے کی حسب ذیل وجوہ بیان کی گئی ہیں : ⏬


(١) بک کا معنی ہے ایک دوسرے کو دھکا دینا ‘ اور مکہ میں بہت رش اور ازدحام ہوتا ہے اس لیے لوگ ایک دوسرے کو دھکا دیتے ہیں۔ 

(٢) چونکہ مکہ مکرمہ بڑے جابر حکمرانوں کی گردنیں جھکا دیتا ہے اس لیے اس کو بکہ کہتے ہیں۔ 

(٣) یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ لفظ بکاء سے بنا ہو اور چونکہ یہاں آکر لوگ یاد خدا میں اور خوف خدا سے بہت روتے ہیں، اس لیے اس کو بکہ کہتے ہیں اور مکہ کہنے کی یہ وجوہ ہیں۔ 

(١) تمک الذنوب کا معنی ہے گناہوں کو زائل کرنا ‘ چونکہ اس شہر میں عبادت کرنے اور حج اور عمرہ کرنے سے گناہ زائل ہوجاتے ہیں اس لیے اس کو مکہ کہتے ہیں۔ 

(٢) تمک العظم کا معنی ہے ہڈی کے اندر جو کچھ ہو اس کو کھینچ لینا ‘ اور یہ شہر دوسرے شہروں کے لوگوں کو اپنے اندر کھینچ لیتا ہے اس لیے اس کو مکہ کہتے ہیں۔ 

(٣) اس شہر میں پانی کم ہے گویا اس کا پانی کھینچ لیا گیا اس لیے اس کو مکہ کہتے ہیں : 

بعض علماء نے کہا کہ مکہ پورے شہر کا نام ہے اور بکہ خاص مسجد حرام کا نام ہے کیونکہ بک کا معنی ازدحام ہے اور ازدحام اور ایک دوسرے کو دھکا دینا مسجد حرام میں طواف کے وقت ہوتا ہے ‘ اور بعض علماء نے اس کے برعکس کہا کیونکہ قرآن مجید میں ہے سب سے پہلا گھر جو بنایا گیا وہ بکہ میں ہے اس سے متبادر یہی ہوتا ہے کہ یہاں بکہ شہر کو فرمایا ہے ۔


بیت اللہ کے اسماء : ⏬


(١) بیت اللہ کا مشہور نام کعبہ ہے قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” جعل اللہ الکعبۃ البیت الحرام قیاما للناس “۔ (المائدہ : ٩٧) 

ترجمہ اللہ نے معزز بیت کعبہ کو لوگوں کے قیام کا سبب بنایا : 

کعبہ کا معنی شرف اور بلندی ہے ‘ اور بیت اللہ بھی مشرف اور بلند ہے اس لیے اس کو کعبہ کہتے ہیں : 

(٢) بیت اللہ البیت العتیق بھی کہتے ہیں ‘ قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” ولیطوفوا بالبیت العتیق “۔ (الحج : ٢٩) 

ترجمہ : اور وہ البیت العتیق کا طواف کریں۔ 

اس بیت کو عتیق اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ سب سے قدیم بیت ہے ‘ اور عتیق کا معنی قدیم ہے بلکہ بعض علماء کے نزدیک آسمان اور زمین سے پہلے اس بیت کو بنایا گیا ‘ عتیق کا دوسرا معنی ہے آزاد ‘ اور بعض روایات کے مطابق اللہ تعالیٰ نے اس بیت کو طوفان نوح میں غرق ہونے سے آزاد رکھا ‘ اور طوفان کے وقت اس کو اوپر اٹھا لیا گیا ‘ عتیق کا معنی قوی بھی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس بیت کو اتنا قوی بنایا ہے کہ جو شخص اس کو تباہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے اس کو خود تباہ کردیا جاتا ہے اور جو شخص اس بیت کی زیارت کے قصد سے آئے اللہ اس کو جہنم سے آزاد کردیتا ہے۔ 

(٣) بیت اللہ کو مسجد الحرام بھی کہتے ہیں ‘ قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” سبحان الذی اسری بعبدہ لیلا من المسجد الحرام “۔ (بنی اسرائیل : ١) 

ترجمہ : سبحان ہے وہ جو اپنے (مکرم) بندے کو رات کے قلیل حصہ میں مسجد حرام سے لے گیا۔ 

بیت اللہ کو مسجد حرام اس لیے کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مسجد کی حرمت کی وجہ سے اس شہر میں قتال کو حرام کردیا ہے اور یہ دائمی حرمت ہے ‘ نیز اس شہر میں شکار کو حرام کردیا ہے ‘ اس شہر کے درختوں کو اور اس کی گھاس کاٹنے کو حرام کردیا ہے ‘ اس شہر کے جانوروں کو ستانا اور پریشان کرنا حرام ہے۔ اس میں حدود کو جاری کرنا حرام ہے اور اس شہر کے یہ تمام احکام اس مسجد کی حرمت کی وجہ سے ہیں۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : برکت والا اور تمام جہان والوں کی ہدایت کا سبب ہے (آل عمران : ٩٦)


کعبہ کی برکت اور ہدایت کا معنی : ⏬


برکت کا ایک معنی ہے کسی چیز کا بڑھنا اور زائد ہونا ‘ اس لحاظ سے کعبہ اس لیے برکت والا ہے کہ کعبہ میں ایک نماز کا اجر دوسری مساجد کی نسبت ایک لاکھ درجہ زیادہ ہے ‘ جیسا کہ پہلے سنن ابن ماجہ اور الاستذکار کے حوالوں سے بیان کرچکے ہیں ‘ اور کعبہ میں حج کرنے کا اجر وثواب بہت زیادہ ہے ۔


امام محمد بن اسماعیل بخاری علیہ الرحمہ متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے اللہ کے لیے حج کیا اور اس میں جماع کیا نہ جماع کے متعلق کوئی بات کی اور نہ کوئی کبیرہ گناہ کیا وہ اس دن کی طرح (گناہوں سے پاک) لوٹے گا جس دن وہ اپنی ماں کے بطن سے پیدا ہوا تھا۔ ( صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٢٠٦ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)


امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ علیہ الرحمہ روایت کرتے ہیں : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ایک عمرہ سے دوسرے عمرہ تک کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے اور حج مبرور کی جزاء صرف جنت ہے۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ٤٣٦‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)


حج مبرور کی صحیح اور زیادہ مشہور تعریف یہ ہے کہ اس حج کے دروان کوئی گناہ نہ کیا ہو ‘ ایک قول یہ ہے کہ حج کرنے کے بعد انسان پہلے سے زیادہ نیک ہوجائے اور دوبارہ گناہوں کو نہ کرے ‘ دوسرا قول یہ ہے کہ جو حج ریاکاری کے لیے نہ کیا جائے ‘ تیسرا قول یہ ہے کہ جس حج کے بعد انسان گناہ نہ کرے ۔


علامہ سید امین ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ متوفی ١٢٥٢ ھ نے لکھا ہے کہ حدیث میں ہے جس نے حج کیا اور جماع یا اس سے متعلق باتیں نہیں کیں اور نہ کوئی کبیرہ گناہ کیا وہ اس طرح ہوجائے گا جس طرح اس دن تھا جس دن اپنی ماں کے بطن پیدا ہوا تھا ‘ اس سے مراد ہے کہ حج کے احرام سے لے کر حج مکمل ہونے تک۔ (رد المختار ج ٢ ص ‘ ١٦١ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)


برکت کا دوسرا معنی دوام اور بقاء ہے ‘ اور چونکہ روائے زمین پر ہر وقت کسی نہ کسی جگہ نما زکا وقت ہوتا ہے اس لیے ہر وقت کعبہ کی طرف توجہ کرکے عبادت کی جاتی ہے اور خود کعبہ میں بھی ہر وقت نماز پڑھی جاتی ہے اس لیے کعبہ کی طرف منہ کرکے اور خود کعبہ میں دائما عبادت کی جاتی ہے ۔


کعبہ تمام ” العلمین “ کےلیے ہدایت ہے اس کی حسب ذیل وجوہ ہیں : ⏬


(١) کعبہ تمام روئے زمین کے نماز پڑھنے والوں کے لیے قبلہ ہے اور وہ اس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے ہیں اس لیے کعبہ تمام جہان والوں کے لیے سمت قبلہ کی ہدایت ہے ۔ 

(٢) کعبہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور اس کی وحدانیت پر دلالت کرتا ہے اور کعبہ میں جو عجائب اور غرائب ہیں وہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صدق اور آپ کی نبوت پر دلالت کرتے ہیں اس اعتبار سے کعبہ تمام جہان والوں کے لیے ہدایت ہے ۔ 

(٣) کعبہ تمام جہان والوں کو جنت کی ہدایت دیتا ہے جو خلوص نیت سے کعبہ کی زیارت کرے ‘ کعبہ کا طواف کرے اور اس میں نمازیں پڑھے کعبہ ان کو جنت کی ہدایت دیتا ہے ۔ (مخوذ تفسیر تبیان القرآن) ۔ دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی ۔

No comments:

Post a Comment

شیعوں کی طرف سے بیت اللہ شریف کی توہین مع مدلل جواب

شیعوں کی طرف سے  بیت اللہ شریف کی توہین مع مدلل جواب محترم قارئینِ کرام : شیعہ ملاباقر مجلسی کی کتاب لکھتا ہے : حضرت امام جعفر صادق علیہ الس...