جو معاویہ رضی اللہ عنہ کے درپے ہوتا ہے تو وہ جمیع صحابہ رضی اللہ عنہم کے درپے ہوتا ہے
محترم قارئینِ کرام : رافضی اور اُن کے دلاّل نیم رافضی بغضِ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ میں اتنے اندھے ہوگئے ہیں کہ انہیں دن میں سورج نظر نہیں آرہا ایک پوسٹ رافضی اور اُن کے دلاّل نیم رافضیوں کی دیکھنے میں آئی حضرت امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب میں یہ رافضی اور اُن کے دلاّل نیم رافضی حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کا حوالہ دے رہا ہے جبکہ امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کا زمانہ اور شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے زمانے میں کم و بیش ایک ہزار سال کا فرق ہے حضرت امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 215 ہجری میں اور وفات 303 ہجری میں ہوئی اور حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1159 ہجری اور وفات 1239 ہجری میں ہوئی نہ جانے رافضیوں اور اُن کے دلاّل نیم رافضیوں کو امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب سے شاہ عبدالعزیز دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کا حوالہ کیسے مل گیا کہنا پڑے گا یہ بھی رافضیوں اور اُن کے دلاّل نیم رافضیوں کی مکاریاں ہیں جو عوامِ اہل سنت کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں جب حضرت امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کی بات آ ہی گئی ہے تو حضرت امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے تعلق سے عقیدہ بھی ملاحظہ کر لیجیے حضرت امام المزی رحمۃ اللہ علیہ حضرت امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کا قول نقل فرماتے ہیں : سئل أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ النَّسَائي عَنْ معاوية بْن أَبي سفيان صاحب رَسُول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَقَالَ : إنما الإسلام كدار لها باب ، فباب الإسلام الصحابة ، فمن آذى الصحابة إنما أراد الإسلام، كمن نقر الباب إنما يريد دخول الدار ، قال : فمن أراد معاوية فإنما أراد الصحابة ۔
ترجمہ : حضرت ابوعبدالرحمن المعروف امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ سے سیدنا معاویہ بن سفیان صحابی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم (رضی اللہ عنہما) کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : اسلام گویا ایک گھر ہے جس کے دروازے ہیں اسلام کے دروازے صحابہ رضی اللہ عنہم ہیں پس جس نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو اذیت دی گویا اس نے اسلام کو اذیت دینے کا ارادہ کیا کیونکہ جو دروازہ توڑنا چاہتا ہے وہ گھر میں داخل ہونا چاہتا ہے پس جو معاویہ رضی اللہ عنہ کے درپے ہوتا ہے تو وہ جمیع صحابہ رضی اللہ عنہم کے درپے ہوتا ہے ۔ (تہذیب الکمال جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 339 ، 340 مؤسسۃ الرسالہ)
حضرت امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی رافضیوں اور اُن کے دلاّل نیم رافضیوں کے منہ پر جوتا لگایا ہے لہٰذا رافضیوں اور اُن کے دلاّل نیم رافضیوں کو اب امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے غلط بیانی کرنے سے باز آجانا چاہیے اور کسی گندی نالی میں ڈوب کر مرجانا چاہیے ۔
معلوم ہوا صحابی رسول حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے سوء اعتقاد رکھنے والا صرف حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ہی کی تنقیص پر نہیں رکتا ہے بلکہ وہ جمیع اصحاب نبوی رضی اللہ عنہم پر تبراء سے بھی پھر باز نہیں آتا ہے جس کا بالکل آج کل مشاہدہ ہو رہا ہے ۔
یہ بھی معلوم ہوا امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے عقیدت رکھتے تھے امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کے واقعہ سے غلط مفھوم گھڑ کر جو حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی تنقیص کرتے ہیں وہ امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کے اس قول کو آنکھیں کھول کر پڑھیں شائد اگر ضمیر زندہ ہو تو توبہ رجوع کی توفیق مل جائے اللہ تعالی ہم سب کو آل و اصحاب کا ادب نصیب فرمائے آمین ۔
درج ذیل پیراگراف جناب ابنِ فاتح خیبر کے شکریہ کے ساتھ ۔ تفضیلی جلد ہی رافضی ہو جاتا ہے : ⏬
گمراہی کی سیڑھی یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اہلِ سنت سے نکل کر تفضیلی ہو جاتا ہے تو اس کےلیے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو گالیاں دینا کوئی بڑی بات نہیں رہتا ۔ علماء نے فرمایا ہے کہ امیر معاویہ شرم و حیاء کا پہلا پردہ ہیں ۔ جس نے اس پردے کو پھاڑ ڈالا اس کےلیے باقی صحابہ پر زبان درازی کرنا آسان ہو گیا اور واضح رافضی ہو گیا ۔ (البدایہ والنہایہ جلد 8 صفحہ 139 مطبوعہ مکتبة المعارف بیروت،چشتی)(البدایہ والنہایہ مترجم اردو جلد 8 صفحہ 182 مطبوعہ نفیس اکیڈمی کراچی)
اول تو تفضیلیوں کے دلائل سے رافضیت لازم آتی ہے ، پھر آج جو لوگ خود تفضیلی ہیں یا ان میں تفضیل کے جراثیم پائے جاتے ہیں کل اگر وہ خود نہیں تو ان کی اولادیں ضرور رافضی ہو جائیں گی ۔
ایسے لوگ رافضیوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتے ہیں ۔ ان کی محافل میں جاتے ہیں وہاں جا کر تقریریں کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت دے ورنہ ان شاء اللہ ان کا جنازہ رافضی ہی پڑھائیں گے اور ان کی موت کے بعد رافضیوںں کی طرف سے بیانات شائع ہوں گے کہ الحمد للہ فلاں صاحب اثنا عشری ہو کر مرے اور ان کا خاتمہ ایمان پر ہوا ۔ اس جملے میں ہم نے اپنے وسیع تاریخی تجربے کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ خرد باید ۔ کوفہ میں حضرت سیدنا امام ِحسین رضی اللہ عنہ کو دعوت دینے والے یہی غالی قسم کے عاشق تھے جو آپ رضی اللہ عنہ کو حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف بھی دعوت دے چکے تھے ۔ یہی لوگ بعد میں ترقی فرما کر ماتمی بنے اور تبرا کا تحفہ پہلے سے ہی ابنِ سبا نے تیار کر رکھا تھا جسے انہوں نے آسانی سے قبول کر لیا ۔
حضرت سید میر حامد بلگرامی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : حضرت عامر شعبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اَلرِّفْضُ سُلَّمُ الزَّنْدَقَۃِ فَمَا رَأَیْتُ رَافِضِیًّا اِلَّا وَرَأَیْتُہٗ زِنْدِیْقاً ۔
ترجمہ : رفض زندقہ کی سیڑھی ہے ۔ میں نے جس رافضی کو بھی دیکھا ہے وہ زندیق نکلا (سبع سنابل مترجم اردو صفحہ 87 ، 88 مطبوعہ حامد اینڈ کمپنی اردو بازار لاہور)
یہی وجہ ہے کہ عصرِ حاضر میں ہر حکیم و دانا عالم پر اس فتنے کا سنجیدگی سے نوٹس لینا لازم ہے ورنہ محافلِ نعت میں دھمال مار مار کر ، قلندری اور حب ِعلی (رضی اللہ عنہ) کا نام استعمال کر کر کے اور ہاضمے کے نام پر زہر کی گولیاں کھلا کھلا کر عوام کو زندقہ کی راہ پر ڈال دیا جائے گا ۔ حضرت سیدنا قطب الاقطاب غوث الاعظم حسنی حسینی سید شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ : یہ لوگ شعروں کو طریقت کا قرآن قرار دیتے ہیں ۔ خود کو قلندری اور حیدری کہتے ہیں اور اہلِ سنت ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں حالانکہ یہ اہلِ سنت نہیں ہیں ۔ وَیَقُوْلُوْنَ : اَلْقُرْآنَ حِجَابٌ ، وَالْاَشْعَارُ قُرْآنُ الطَّرِیْقَۃِ ۔۔۔ ثُمَّ انْتَسَبَ بَعْضُہُمْ اِلیٰ قَلَنْدَرَ وَ بَعْضُہُمْ اِلیٰ حَیْدَر الخ ۔ (سرالاسرار عربی صفحہ 141 ، 142 مطبوعہ دارالسنابل) ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)









No comments:
Post a Comment